پولیو ویکسین

سین خے نے 'طب اور صحت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 29, 2019

  1. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,487
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    ارے بھائی یہ تیسرے عوامی درجے کی باتیں ہیں ۔جیسے شام کے چھوٹے اخبار کی خبریں ہوتی ہیں ۔ بقول شخصے پاکستان کے شام کے اخبار پڑھیں تو لگتا ہے کہ پاکستان اگلی صبح تک ہی چلے گا۔
    آپ یہ بتائیں کہ کیا پولیو کی ٹیموں کے علاوہ کسی ویکسین کی ٹیم یا ہسپتال پر کوئی تشدد کا واقعہ پیش آیا جس کا پولیو والی ٹیموں کے متعدد واقعات سے مقابلہ ہو ؟ کب سے دوسرے امراض کی ویکسین بچوں کو لگائی جارہی ہے ۔ میرے بچپن میں چھے بیماریوں کے اکثر ٹیکے لگا کرتے تھے دو سال کی عمر تک ۔ اب تو شاید پانچ سال یا زیادہ عمر تک لگتے ہیں ۔۔۔ لیکن ایسے واقعات تو نہ کبھی دیکھے نہ سنے۔
    ہمارے ایک رشتہ دار انہی واقعات میں چہرے پر گولی کھا چکے ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,948
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جاسم بھائی کیا پچھلے سالوں کے سٹیٹس مل سکتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ پولیو کیسز میں اضافہ ہوا ہے یا کمی ہوئی ہے۔ ویسے یہ اضافہ ہی محسوس ہو رہا ہے۔

    ٹائپ ٹو کے دوبارہ کیسز سامنے آنا انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔ ہونا تو یہی چاہئے کہ انکوائری کی جائے اور متعلقہ افسران کا ٹرائل ہو۔ لیکن لگتا نہیں ہے کہ ایسا ہوگا۔

    اس سارے نظام کو از سر نو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک مجرمانہ غفلت اور کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا تو چاہے عوام کے خدشات جتنے بھی دور کرنے کی کوشش کر لی جائے پولیو کا خاتمہ واقعی ممکن نہیں سکے گا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,784
    میں جھوٹ نہیں بولتا اور یہ کہانی نہیں حقیقت ہے. کوئی بھی میرے پاس آکر دیکھ سکتا ہے
    میرے آئی سی یو میں ایک تیرہ سال کا بچہ داخل ہے. وہ وینٹیلیٹر پر ہمارے پاس آپریشن ٹھیٹر سے شفٹ ہوا. بیماری، ٹائیفائیڈ بگڑ گیا اور آنت میں کئی جگہ سوراخ ہوگئے. ایک آپریشن ہوا پھر دوسرا. اج اللہ کا شکر ہے بہتر ہے. مشین سے باہر آگیا ہے مگر آنت کے دو حصے پیٹ سے باہر نکال دیئے گئے ہیں. خوراک ابھی خون کے ذریعے ڈرپ لگا کر دے رہے ہیں.
    ہر سال پاکستان میں ہزاروں ایسے کیس ہوتے ہیں اور بیشمار بچے مر جاتے ہیں.
    علاج اگر بروقت بھی کیا جائے تو کم از کم پندرہ ہزار کا خرچہ ہے اور اگر خطرناک قسم کا مرض ہو تو تقریباً ایک لاکھ اور اگر آپریشن کی نوبت آجائے تو کچھ نہ پوچھیے.
    بچاؤ ممکن ہے ایک انجیکشن کے ذریعے اور وہ بھی فری لگایا جارہا ہے
    جب قوم عقل کے پیچھے لٹھ لے کر پڑی ہو تو کوئی حال نہیں ہے.
    اس میں گورنمنٹ کا failure یہ ہے کہ وہ صاف پانی جس میں گٹر کے پانی کی ملاوٹ نہ ہو فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے. ہم چھوٹے تھے تو نلکے سے منہ لگا کر پانی پیتے تھے اب ایسا سوچ بھی نہیں سکتے. ہر ماہ سترہ سو روپے پینے کے پانی کا بل دیتے ہیں. میں نے اپنے تین بچوں کو انجیکشن لگوائے ہیں.
    یہی کہانی ہر ویکسین کی ہے اگر کہیں گے تو پولیو کی بھی سنا سکتا ہوں اپنے گھر کی
    کیا پولیو ہونے کے بعد انسان میں چاہے مرد ہو یا عورت تولید نسل کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے. خدا سے توبہ کریں کہ کسی کے گھر میں کوئی پولیو کی بچی یا بچہ ہو. تولید نسل تو دور کی بات وہ بیچارے چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتے
    ایک argument یہ ہوتا ہے کہ اگر ملیریا ہوجائے تو دوا کھالیں وہ ٹھیک ہوجائے گا، یہ صورت حال پولیو کی نہیں ہے. جسے ہوجاتا ہے اسے ہوجاتا ہے
    علاج کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی رعایت دی ہے. کچھ کینسر اور دیگر امراض میں خواتین کی بچہ دانی آپریشن کرکے بکال دی جاتی ہے اور اسی طرح کا ملتا جلتا عمل مردوں میں بھی ہوتا ہے تاکہ کینسر نہ پھیل سکے. اس کے لئے تو تمام لوگ راضی ہیں مگر ایک بے ضرر ویکسین لگوانے کے لئے نہیں ہیں.
    ایسے لوگوں کی عقل پر دونوں ہاتھوں سے ماتم کرنا چاہیے
    وما علینا الا البلاغ
     
    • زبردست زبردست × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,829
    موڈ:
    Dead
    آپ نے بہت جامع اور زبردست بات کہی۔ جزاک اللہ!
     
    • متفق متفق × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,829
    موڈ:
    Dead
    پاکستانی علماء کی اکثریت نے خود تو اس دنیا میں کوئی مثبت کنٹریبیوشن کی نہیں اور جنہوں نے کی ہے اس کے پیچھے بھی بغض و عناد میں لٹھ لے کے پڑی ہے، ایسا شاید اس لیے ہے کہ اپنے اندر چھپے احساس کمتری کو کم کرنے اور ظاہری برتری کو مینٹین رکھنے کے لیے دوسروں پر اللہ اور شریعت کا نام لے کر کیچڑ اچھالتے رہو، یعنی خود کچھ نہیں کرنا بلکہ جو کرے اس کی بھی ٹانگیں کھینچے رکھو تاکہ اپنی ظاہری 'پھوں پھاں' برقرار رہے۔ پاکستان میں اسلام کو بدنام کرنے اور لوگوں کو دہریت کی طرف راغب کرنے میں ان کا کردار نمایاں ہے، یہ تو کل جب رب کے روبرو حساب دینا پڑے گا تب سمجھ میں آئے گا۔ ابھی فتوے جاری رکھیں لوگوں میں جھوٹ، شدت، بغض اور بدگمانی کے جذبات کوٹ کوٹ کر بھرے رکھیں اور ان کی جانوں سے کھیلے رکھیں لیکن یہ قطعی نہ بھولیں کہ آخرت برحق ہے جہاں ان کے اعمال کا ان کو پورا پورا صلہ دیا جائے گا اور یہ میرے رب کا وعدہ ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 30, 2019
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • غمناک غمناک × 1
  6. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,784
    ایک مفتی یا مجتہد کا کام کسی ویکسین کے بارے میں تحقیقی رپورٹ پیش کرنا نہیں ہے، نہ ہی وہ اس علم میں ماہر ہے. وہ کسی نہ کسی تحقیق کی بنیاد پر فتویٰ یا اجتہاد کرسکتا ہے. ایسے میں وہ خود صرف اصولی بات کرسکتا ہے. مثلاً اگر کوئی دوا یا ویکسین انسان کی تولید کی قوت ختم کردے تو سوائے جان بجانے کی صورت کے اسکا استعمال جائز نہیں. یہ ایک عمومی statement ہوگا نہ کہ پولیو ویکسین کا نام لیکر کوئی فتویٰ
    ایسے فتاویٰ کی علمی حیثیت کم ہوتی ہے اور ویسے بھی یہ وقتی قسم کے ہوتے ہیں جیسے ایک زمانے میں لاؤڈ-اسپیکر کے خلاف فتوے آئے تھے. بعد میں عقل آنے پر سب استعمال کرنے لگے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 1
  7. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,784
    پولیو کے قطرے آج شروع نہیں ہوئے اور نہ کسی وجہ سے انہیں روکا جائے گا سوائے اسکے کہ دنیا سے پولیو ختم ہو جائے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  8. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,487
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    پولیو کی ویکسین انجکشن کی صورت میں تیس چالیس سال سے موجود تھی ۔ پھر یہ اورَل قطروں کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ کیا سہولت کے پیش نظر ایسا ہوا یا یہ زیادہ مؤثر ہیں ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,784
    پولیو کے اورل قطرے کم از کم بیس سال سے موجود ہونگے۔ اصل تاریخ اجرا بھی ڈھونڈی جاسکتی ہے۔
    ضرورت ہمیشہ مریض کی آسانی دیکھ کر پیدا کی جاتی ہے۔ کون ماں اپنے بچے کو رلا کر خوش ہوتی ہے۔ سوئی کا خوف بڑے بڑوں کو ہوتا ہے۔
    جب قطرے پلانا بھی موثر ہو تو پھر کیوں کسی ماں کو مجبور کیا جائے کہ وہ ٹیکہ لگوائے۔
    دوا کی کمپنیاں آپس میں مقابلے پر ہوتی ہیں کہ دوا کو اورل فارم میں پلانے کا انتظام کیا جائے
    امید ہے اب یہ کنفیوژن دور ہو گئی ہوگی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  10. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,487
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    جی ہاں ۔ شکریہ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,991
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    سہولت بنیادی وجہ نہیں ہے۔ مراسلہ نمبر 7 میں کچھ تفصیل موجود ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  12. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,487
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    جی بہتر ۔آپ کا بھی شکریہ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  13. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,948
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    اورل قطرے اصل میں opv ویکسین ہے۔ یہ لائیو ویکسین ہے۔ اس میں وائرس زندہ استعمال کیا جاتا لیکن یہ کمزور وائرس ہوتا ہے۔ چونکہ پولیو وائرس کا روٹ منہ کے ذریعے ہے تو متعلقہ قوت مدافعت حاصل کرنے کے لئے اسے وہی راستہ دیا جاتا ہے۔

    پولیو وائرس کا اصل ٹارگٹ انسانی آنتیں ہوتی ہیں ۔ یہ آنتوں میں پہنچ کر لاکھوں کی تعداد میں اپنی کاپی بنا لیتا ہے۔ opv کے ذریعے mucosal immunity حاصل ہو جاتی ہے جبکہ ipv یعنی انجیکشن والی ویکسین سے نہیں حاصل ہوتی ہے۔ ipv میں مردہ وائرس استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ قطروں کی صورت میں نہیں دی جا سکتی ہے۔

    اس پر تفصیلی طور پر شروع کے مراسلوں میں لکھا ہے۔ مراسلہ نمبر 4 سے لے کر مراسلہ نمبر 10 تک opv اور ipv کے مابین فرق اور ان دو سے پیدا ہونے والی قوت مدافعت کے بارے میں لکھا ہوا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,948
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جھوٹ کی کیا بات ہے فاخر بھائی۔ ایک دن انسان ہسپتال چلا جائے زندگی اور دنیا کی حقیقت بڑے بھیانک طریقے سے سمجھ آجاتی ہے۔

    اور صفائی کی طرف آپ نے بالکل ٹھیک اشارہ کیا ہے۔ ہمارے یہاں چونکہ نکاسی کا نظام اتنا ابتر ہے وائرس چونکہ باآسانی حملہ آور ہو سکتا ہے اور چونکہ پولیو کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا ہے اسی لئے ہمارے یہاں سے آج تک opv ختم نہیں کی جا سکی ہے۔

    باہر کے ممالک ipv کی طرف اسی لئے چلے گئے کیونکہ ان کے یہاں وائرس کی گندگی کے ذریعے انسانوں تک رسائی نہیں ہے اور ان کے یہاں پولیو کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ ipv mucosal immunity چونکہ پیدا نہیں کر سکتی ہے تو ان کے یہاں ہیومرل قوت مدافعت بھی وائرس سے بچاؤ کے لئے کافی سمجھی جاتی ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 30, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  15. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,948
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    opv اور ipv پچاس کی دہائی میں بنائی گئی تھیں۔ ان کے بنانے والے سائنسدان البرٹ سیبن اور جونس سالک ہیں۔ جونس سالک کی مردوہ وائرس کی ویکسین سے البرٹ سیبن اختلاف کرتے تھے کہ طویل مدتی قوت مدافعت اس سے حاصل نہیں کی جا سکتی ہے۔ سیبن کی زندہ وائرس کی ویکسین کا ٹرائل سالک کی ویکسین کے ٹرائل کے بعد ہوا تھا۔

    ان دونوں سائنسدانوں نے کبھی اپنی ویکسین پیٹنٹ نہیں کروائیں۔ انھوں نے یہ ویکسین انسانیت کے نام تحفہ کر دی تھیں۔

    ان کی تفصیلی تاریخ یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

    NMAH | Polio: Two Vaccines
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • زبردست زبردست × 1
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    ایک اور اہم وجہ قیمت ہے۔ مغربی ممالک سنہ 2000 سے پولیو کیلئے انجکشن پر منتقل ہو چکے ہیں۔ کیونکہ وہ اس کی قیمت ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں یہ سب ممکن نہیں ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,948
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ملائیشیا کی تیس سالہ تاریخ میں پہلا پولیو وائرس کا کیس سامنے آیا ہے۔ ملائیشیا کو 1992 پولیو سے آزاد قرار دیا گیا تھا۔

    ستمبر 2019 میں فلپائن میں بھی پولیو کا آؤٹ بریک ہوا ہے۔ لیب ٹیسٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ملائیشیا کے پولیو وائرس کا جنیاتی تعلق فلپائن کے پولیو وائرس سے ہے۔

    حالیہ سالوں میں ملائیشیا میں بھی ویکسین کے خلاف منظم تحریک دیکھنے میں آئی ہے۔ بحث وہی حلال اور حرام کی ہے۔ ملائیشیا میں لوگ پولیو ویکسین کے ساتھ ایم ایم آر ویکسین کروانے سے بھی اب کترانے لگے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں inoculation rate اب 95 فیصد سے 89 فیصد پر آچکا ہے جو کہ ماس پروٹیکشن کے لئے ناکافی ہے۔

    WHO, Unicef: Sabah polio outbreak a rare strain, genetically confirmed from Philippines | Malay Mail
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 10, 2019 8:15 صبح
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • غمناک غمناک × 1
  18. عباس اعوان

    عباس اعوان محفلین

    مراسلے:
    2,222
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Amused
    اس وقت عالمی منظرنامے پر ملک سموا، اینٹی ویکسی نیشن کے حوالے سے ایک ٹیسٹ کیس کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
    بحرالکاہل میں موجود دو جزیروں پر مشتمل ملک سموا(Samoa) میں اس وقت خسرہ وبائی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کی وجہ ویکسی نیشن کی شرح میں کمی بتائی جا رہی ہے۔ ویکسی نیشن میں کمی کا یہ رجحان اس وقت دیکھنے میں آیا جب 2018 میں خسرہ کی ویکسین دیے جانے کے بعد 2 شیر خوار بچوں کی موت واقع ہو گئی تھی۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ ٹیکہ لگانے والی 2 نرسوں نے ویکسین کو غلط طریقے سے تیار کیا، انہوں نے ویکسین پاؤڈر میں مجوزہ رقیق کنندہ مادہ (Diluent) کی بجائے ایکسپائر شدہ بے حس کر دینے والی دوا (Anaesthetic)کا استعمال کیا۔
    سموا میں 9دسمبر 2019تک خسرہ سے 70 اموات واقع ہو چکی ہیں۔ملک کی کل آبادی قریباً 2 لاکھ ہے۔
    مزید:
    https://www.washingtonpost.com/opin...0d9274-183a-11ea-9110-3b34ce1d92b1_story.html
    2019 Samoa measles outbreak - Wikipedia
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 10, 2019 10:35 صبح
    • معلوماتی معلوماتی × 5
    • غمناک غمناک × 1

اس صفحے کی تشہیر