پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد

سید عاطف علی

لائبریرین
کوئی دیکھے نہ دیکھے...
اس ایپ میں ٹکٹ کی جیو لوکیشن کا ریکارڈ اور گھرکی لوکیشن کا ریکارڈ ، لوٹنے کا متوقع وقت ، گھر چھوڑنے کا وقت متعلقہ ہسپتال یا منزل اور دیگر معلومات بھی شامل ہونی چا ہئیں ۔
 
آخری تدوین:

عدنان عمر

محفلین
اس ایپ میں ٹکٹ کی جیو لوکیشن کا ریکارڈ اور گھرکی لوکیشن کا ریکارڈ ، لوٹنے کا متوقع وقت ، گھر چھوڑنے کا وقت متعلقہ ہسپتال یا منزل اور دیگر معلومات بھی شامل ہونی چا ہئیں ۔
کیا ایسا کرنا آسان اور کم وقت طلب ہو گا؟
 

سید عاطف علی

لائبریرین
کیا ایسا کرنا آسان اور کم وقت طلب ہو گا؟
میرے خیال میں تو بہت آسان ہو گا۔ چند فیلڈس شاامل کرنی ہوں گی ۔ عین ممکن ہے کہ پہلے سے موجود بھی ہوں ۔
البتہ ان معلومات کی بنیاد پر تجزیہ کر کے جرمانے اور فیصلے موثر طریقے سے کیے جاسکیں گے ۔
 

عدنان عمر

محفلین
میرے خیال میں تو بہت آسان ہو گا۔ چند فیلڈس شاامل کرنی ہوں گی ۔ عین ممکن ہے کہ پہلے سے موجود بھی ہوں ۔
البتہ ان معلومات کی بنیاد پر تجزیہ کر کے جرمانے اور فیصلے موثر طریقے سے کیے جاسکیں گے ۔
پاکستانی کلچر اور پولیس کی قلیل نفری کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اس ایپ میں سادہ معلومات کا اندراج بھی مشکل ہو جائے گا۔:)
ویسے آپ کی تجویز زبردست ہے۔
 

فاخر رضا

محفلین
شکر ہے خدا کا. کورونا کا خاتمہ بالخیر ہوا

پاکستان میں اگر اسی طرح اجتماعات اور سب چلتا رہا تو ٤٧٠٠٠ سینتالیس ہزار سے زیادتی لوگ شکار ہوجائیں گے اور ان میں سے بیس فیصد کا. مطلب ہے نو ہزار چار سو. اور اگر اسپتال بھر گئے جو فوراً ہی بھر جائیں گے تو کم از کم چین جتنی تو ہلاکتیں ہوسکتی ہیں.
بوٹم لائن
گھر پر رہیں
بزرگوں کو بالکل آئیسولیٹ کردیں. کوئی ان کے پاس وائرس نہ پہنچاسکے
 

سید عاطف علی

لائبریرین
پاکستانی کلچر اور پولیس کی قلیل نفری کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اس ایپ میں سادہ معلومات کا اندراج بھی مشکل ہو جائے گا۔:)
ویسے آپ کی تجویز زبردست ہے۔
پاکستان کے کلچر کو اب تبدیل بھی ہونا چاہیئے ارے بھیا !! ۔ آخر کب تک ایسے ہی چلتا رہے گا ؟
ہر نظام میں بہتری لائی جانی چاہیئے اور اس کے لیے اقدامات بھی اسی طرح کرنے ہوں گے ۔پولیس اور ہر ادارے کے کارندوں کی تربیتی ورکشاپ وغیرہ کے انتظام کر کے تمام وسائل مؤثر طریقے سے بروئے کارلانا ہی اس وقت وطن عزیز کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
 

عدنان عمر

محفلین
پاکستان کے کلچر کو اب تبدیل بھی ہونا چاہیئے ارے بھیا !! ۔ آخر کب تک ایسے ہی چلتا رہے گا ؟
ہر نظام میں بہتری لائی جانی چاہیئے اور اس کے لیے اقدامات بھی اسی طرح کرنے ہوں گے ۔پولیس اور ہر ادارے کے کارندوں کی تربیتی ورکشاپ وغیرہ کے انتظام کر کے تمام وسائل مؤثر طریقے سے بروئے کارلانا ہی اس وقت وطن عزیز کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
سو فیصد متفق۔
اب دیکھتے ہیں کہ ان اصلاحات کا سہرا کس کے سر بندھتا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
ملک بھر کی تمام مسافر ٹرینیں بند کئے جانے کا امکان
ویب ڈیسک پير 23 مارچ 2020
2024684-train-1584979736-140-640x480.jpg

پاکستان ریلوے کی 34 ٹرینیں پہلے ہی بند کی جاچکی ہیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان ریلوے کی 104 تمام مسافر ٹرینوں کو آج بند کردیا جائے گا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق آج سے ملک بھر میں ریلوے کی تمام مسافر ٹرینیں بند کئے جانے کا امکان ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلوے کی 104 تمام مسافر ٹرینیوں کو آج بند کردیا جائے گا، اور جو ٹرینیں آج چلیں گی وہ اپنا روٹ مکمل کرکے بند کردی جائیں گی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: 25 مارچ سے مزید 22 ٹرینیں بند؛ بکنگ کے 8 کروڑری فنڈ کردیے

واضح رہے کہ پاکستان ریلوے کی 34 ٹرینیں پہلے ہی بند کی جاچکی ہیں، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کورونا وائرس کے پیش نظر مرحلہ وار 34 ٹرینیں بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور وزارت ریلوے نے کورونا وائرس کے خدشہ کے باعث دوسرے مرحلے میں 25 مارچ سے ملک بھر میں چلنے والی اپ اینڈ ڈاؤن کی مزید 22 ٹرینوں کوغیرمعینہ مدت کیلئے معطل کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔
 
ظاہر ہے جب آپ ایران سے وائرس لاکر پاکستان پر چاروں طرف سے تھوپ دیں گے تو اسے پھیلنا تو بنتا ہے۔
پاکستان میں یے وائرس سعودی عرب سے آیا ھے کیونکہ ایران سے جو لوگ آئے ھے وہ ابھی تک اپنے گھروں تک نھیں پنچھے ھے وہ سب ابھی تک پاکستان پولیس اور رینجرز کی حراست میں ھے
 

جاسم محمد

محفلین
وائرس کے خطرے کے باوجود تبلیغی اجتماعات کيوں منعقد ہوئے؟
پاکستان ميں ايک تبلیغی اجتماع سے لوٹنے والے کم از کم پانچ افراد میں نئے کورونا وائرس کی تشخیص سے ملک کے کئی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ناقدین اب تبلیغی اجتماعات کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں۔


تبلیغی جماعت نے دس سے بارہ مارچ تک لاہور میں ایک بین الاقوامی تبلیغی اجتماع منعقد کرايا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکیوں نے بھی شرکت کی۔ یہ اجتماع پندرہ مارچ تک جاری رہنا تھا لیکن بارش کی وجہ سے اسے جلد ختم کر ديا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق اجتماع میں شرکت کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ اجتماع میں شرکت کرنے والے ایک صومالی باشندے نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ شرکت کرنے والے غیر ملکیوں کی تعداد تقریباً پندرہ ہزار تھی۔

طبی ماہرین کا خیال ہے کہ مذہبی اجتماعات نئے کورونا وائرس کے وسيع پيمانے پر پھيلاو کا باعث بن سکتے ہیں۔ دارالحکومت اسلام آباد کے ايک علاقے بہارہ کہو کے محلے کوٹ ہتھیال میں ایک غیر ملکی اور چار پاکستانی شہريوں میں کووڈ انيس کی تشخیص ہوئی ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق بلال مسجد کوٹ ہتھیال میں تیرہ افراد رکے ہوئے تھے۔ مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، ''ان میں سے ایک ميں کورونا وائرس کی علامات ظاہر تھیں۔ ہم نے متعلقہ شخص کو فوری طور پر ٹيسٹ کے ليے حاجی کیمپ بھیجا۔ وہ افراد محلے میں تبلیغ بھی کرتے رہے اور اب ہم نے پورا علاقہ لاک ڈاون کیا ہوا ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کون کون ان سے رابطے میں رہا۔ ‘‘

دوسری جانب وفاقی وزارت صحت کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ''میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ بہارہ کہو کے علاقے سے کرغستان کے ايک باشندے ميں ہفتے کے دن وائرس کی تشخیص ہوئی۔ اس کے ساتھ رابطے میں آنے والے چھ افراد کا اتوار کو ٹیسٹ کرایا گیا، جن میں سے چار نئے کورونا وائرس کے شکار نکلے۔ اطلاعات ہیں کہ یہ افراد رائے ونڈ کے اجتماع میں شرکت کر کے یہاں آئے تھے۔‘‘

طبی ماہرین اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس اجتماع کے انعقاد اور اس میں شرکت کرنے والوں میں کورونا وائرس کی تشخیص سے متعلق پيش رفت پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ايشن کراچی کے سابق سیکریٹری جنرل ڈاکٹر بخش علی کا کہنا ہے، ''اگر ہم نے احتیاط نہیں کی، تو ہمارے ہاں صورتحال چین، اٹلی اور ایران سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔ اجتماع منعقد کرانے والوں کو کہا گیا تھا کہ ان حالات میں یہ اجتماع منعقد نہ کرائیں لیکن انہوں نے حکومت کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ خانہ کعبہ بند ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی مساجد بند ہیں۔ کربلا اور دوسرے اہم مقامات کو بند کر دیا گیا ہے۔ تو ایسے میں اس اجتماع کا ان حالات میں ہونا انتہائی پریشان کن بات ہے۔‘‘

ڈاکٹر بخش علی کا مزيد کہنا تھا کہ اب ان لاکھوں افراد کا، جنہوں نے اس اجتماع میں شرکت کی تھی، پتہ کیسے لگایا جائے گا۔ انہوں نے سوال اٹھايا کہ متعلقہ اشخاص کی اسکریننگ کیسے کرائی جائے گی اور کیسے معلوم کیا جائے گا کہ وہ کن کن افراد کے رابطے میں آئے۔ ''مجھے تو آنے والے دنوں میں بہت خطرناک منظر نامہ نظر آ رہا ہے۔‘‘


پنجاب کے شہر لیہ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن قمر شیرازی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باوجود تبلیغی جماعت نے اپنے تمام چھوٹے اور بڑے اجتماعات جاری رکھے۔ ''لیہ میں ان کا آخری شب جمعہ دو دن پہلے ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے سہ روزہ اجتماعات بھی مختلف شہروں میں ہوتے رہے۔ لیکن حکومت کے کسی اہلکار میں اتنی جرات نہیں کہ وہ انہیں روکے۔ ميری اطلاعات ہیں کہ دو لاکھ سے چھ لاکھ کے قریب افراد نے رائے ونڈ اجتماع میں شرکت کی اور مجھے خطرہ ہے کہ پنجاب میں ایک بڑی تعداد میں کورونا وائرس کے کیسز اسی اجتماع کی وجہ سے ہوں گے۔‘‘

ملک کے کئی لوگ اس اجتماع کے انعقاد اور اجازت دینے والے افسران کے فیصلوں پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ پی ٹی آئی کے کچھ رہنما بھی اس بات پر ناراض ہیں کہ حکومت نے اجتماع کے انعقاد کو کیوں نہیں روکا۔ پارٹی کے سینئر رہنما ظفر علی شاہ نے اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا، ''مجھے حیرت ہے کہ حکومت نے کیسے اتنی بڑی تعداد ميں افراد کی شرکت والے اجتماع کی اجازت دی، جس میں دنیا بھر سے لوگ آئے تھے؟ اور اب لوگوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو رہی ہے، جس سے نہ صرف ملک میں طبی بحران آئے گا بلکہ اگر غیر ملکی تبلیغیوں میں بھی یہ تشخیص ہوئی، تو ملک کے ليے بھی مسائل پیدا ہوں گے۔‘‘

واضح رہے کہ تبلیغی جماعت پورے ملک میں پھیلی ہوئی اپنی مساجد میں شب جمعے کے اجتماعات ہر جمعرات کی رات کو منعقد کراتی ہے جب کہ ہر بڑے شہر میں ایک سہہ روزہ اجتماع ہر مہینے منعقد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ رائے ونڈ میں ایک اجتماع سال میں سندھ اور بلوچستان کا ہوتا ہے جب کہ دوسرے سال پنجاب اور کے پی کے ليے رائے ونڈ میں اجتماع ہوتا ہے۔ بین الاقوامی اجتماع بھی سال میں ایک بار ہوتا ہے۔ ان تمام اجتماعات میں لاکھوں کی تعداد میں افراد شرکت کرتے ہیں۔ کے پی، سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں ذرائع کے مطابق ان میں سے کئی اجتماعات ایک ہفتے پہلے تک منعقد ہوتے رہے ہیں۔

ناقدین کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر ان اجتماعات کے انقعاد پر تنقید کرتے ہیں لیکن تبلیغی جماعت اس کا دفاع کرتی ہے۔ جماعت کی کراچی شوری کے رکن سید طارق ہاشمی نے اس مسئلے پر ڈی ڈبلیو کو اپنا موقف دیتے ہوئے سوال کیا، ''چین میں کورونا وائرس آیا، کیا وہاں کوئی تبلیغی اجتماع ہوا تھا؟ کیا ہم ایران میں کوئی تبلیغی اجتماع کر رہے تھے؟ کیا اٹلی والوں نے تبلیغیوں کا کوئی اجتماع منعقد کیا تھا۔ تو وبائی امراض قدرت کی طرف سے ہیں۔ اس پر کسی کا کوئی اختیار نہیں۔ لہذا تبلیغی جماعت اور اس کے اجتماعات کو ہدف تنقید بنانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘‘
 
اب دیکھتے ہیں کہ ان اصلاحات کا سہرا کس کے سر بندھتا ہے۔
جس دن یہ دیکھنا چھوڑ دیا، بہتری آنا شروع ہو جائے گی۔
حکومتیں جب تک اپنی ذمہ داریاں بغیر کسی واہ واہ کی تمنا کے ادا نہیں کریں گی، بہتری کی امید رکھنا عبث ہے۔ بہت سے عوامی فلاح کے کام صرف اس لیے پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتے کہ ان کا آغاز مخالف حکومت نے کیا ہوتا ہے تو سہرا کہیں مخالف کے سر نہ بندھ جائے۔
اب بھی بہت سے لوگ سیاسی اختلافات کو بھلا کر، کسی صلے کی تمنا کے بغیر مل کر اس آفت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، میرا تیرا کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ خدارا یہ وقت ستائش حاصل کرنے کا نہیں، اپنا اپنا کردار ادا کرنے کا ہے۔ جو اس میں جس حیثیت میں کردار ادا کر سکتا ہے، کرے۔ یہ سوچے بغیر کہ سہرا میرے سر بندھے گا یا نہیں۔
عدنان عمر بھائی! یہ صرف آپ کو نہیں کہا، بلکہ آپ کے اس کمنٹ سے ایک عمومی مسئلہ کی نشاندہی مقصود تھی۔ :)
 

عدنان عمر

محفلین
جس دن یہ دیکھنا چھوڑ دیا، بہتری آنا شروع ہو جائے گی۔
حکومتیں جب تک اپنی ذمہ داریاں بغیر کسی واہ واہ کی تمنا کے ادا نہیں کریں گی، بہتری کی امید رکھنا عبث ہے۔ بہت سے عوامی فلاح کے کام صرف اس لیے پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتے کہ ان کا آغاز مخالف حکومت نے کیا ہوتا ہے تو سہرا کہیں مخالف کے سر نہ بندھ جائے۔
اب بھی بہت سے لوگ سیاسی اختلافات کو بھلا کر، کسی صلے کی تمنا کے بغیر مل کر اس آفت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، میرا تیرا کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ خدارا یہ وقت ستائش حاصل کرنے کا نہیں، اپنا اپنا کردار ادا کرنے کا ہے۔ جو اس میں جس حیثیت میں کردار ادا کر سکتا ہے، کرے۔ یہ سوچے بغیر کہ سہرا میرے سر بندھے گا یا نہیں۔
عدنان عمر بھائی! یہ صرف آپ کو نہیں کہا، بلکہ آپ کے اس کمنٹ سے ایک عمومی مسئلہ کی نشاندہی مقصود تھی۔ :)
جزاک اللّہ تابش بھائی۔ بہترین نشان دہی فرمائی آپ نے۔
ویسے میری ذاتی رائے میں، موجودہ مرکزی یا صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرنے کی صلاحیت تو رکھتی ہیں لیکن تقریباً ہر سطح پر دیانت دار اور صاحبِ بصیرت قیادت کا فقدان ہے۔ بہر حال، مایوس نہیں ہونا چاہیے، رب تعالیٰ سے بہتری کی امید رکھنی چاہیے۔
 
Top