پاکستانی انجینئر نے پانی سے گاڑی چلا دی

میں یوسف ثانی صاحب کی بات سے سو فیصد متفق ہوں، مجھے بھی بیس سال ہوگئے ہیں انڈسٹری میں کام کرتے ہوئے، پوری دیانتداری سے عرض کر رہا ہوں کہ پاکستان کی انجینئرنگ یونیورسٹیز کے بی ایس سی انجینئرز کے مقابلے میں بی ٹیک آنرز کہیں زیادہ فعّال، سودمند اور تکنیکی طور پر زیادہ سمجھدار اور ماہر ہوتے ہیں۔ انجینئرز کے کئی لطیفوں کا عینی شاہد ہوں۔ چونکہ پاکستان میں انجینئرنگ نہیں ہورہی، چنانچہ یہ انجینئر صاحبان ڈپلومہ ہولڈرز اور بی ٹیک آنرز کے کرنے والی جابز پر محض اپنی انجینئرنگ ڈگری کے بل بوتے پر قابض ہوتے ہیں، لیکن چونکہ یہ انکے کرنے والا کام نہیں ہوتا، اسلئیے بی ٹیک آنرز اور کئی ڈپلومہ ہولڈرز سے کافی کم تر قابلیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اور انکا استحصال بھی کرتے ہیں۔ میں جب پٹاک PITAC میں کورسز کر رہا تھا تو ایسے کئی انجینئرز سے واسطہ پڑتا تھا جن میں انجینئرنگ کی فطری استعداد تک نہیں ہوتی تھی ۔۔۔تھری ایڈیٹس نای فلم دیکھ لیجئے، آپکو میری بات ی سمجھ آجائے گی۔ :)
 

محمد امین

لائبریرین
جی آپ کی بات اپنی جگہ سو فیصد درست ہے۔
ڈپلومہ ہولڈرز(ٹیکنیشینز) کا ذکر تو ضمناً آگیا تھا۔ ورنہ یہاں ذکر تھا بی ٹیک آنرز بمقابلہ انجئنئرز :D اب تک بی ٹیک آنرزکو پاکستان میں اس کا مقام نہیں مل پایا تھا۔ اوپر کے مبینہ خبر سے معلوم ہوا کہ اسے ”انجینئرنگ کے لیول کی ڈگری“ قرار دیدی گئی ہے۔ اگر ایسا ہے تو بہت اچھا ہے۔ پاکستان کے صنعتی اداروں میں انجینئروں کی بیشتر تعداد اپنا اصل کام یعنی ڈیزائننگ نہیں کر رہی (اس میں انجینئرز کا کوئی ”قصور“ نہین بلکہ یہ صنعتوں کی اپنی ضرورت ہے) بلکہ پراسس اور مینٹیننس کے شعبوں کو سپروائز کر رہی ہے۔ اور یہ کام انجیبئرز کے ساتھ ساتھ تجربہ کار نان انجینئرز بھی بخوبی کر رہے ہیں۔ میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ انجیئنرنگ ریسرچ ، ڈیزائننگ اور ماڈیفیکیشنز وغیرہ تو ظاہر ہے کہ انجیئنرز کا اپنا شعبہ ہے، اس شعبہ میں دوسرا کوئی دخل نہیں دے سکتا۔ لیکن جہاں انڈسٹریز میں پراسس، مینٹیننس، ایگزیکیوشن وغیرہ کو ”سپر وائز“ کرنے والی بات ہے (جو پاکستان کے پچاس فیصد سے زائد انجیئنرز کر رہے ہیں، اور بُرا نہیں بلکہ اچھا کر رہے ہیں) تو یہ کام بی ٹیک آنرز والے ان سے بہتر کر سکتے ہیں، اگر انہیں مساوی مواقع فراہم کئے جائیں۔
ایک لطیفہ سنئے۔ ہمارے ادارے میں سو کے قریب انجینئرزکام کرتے ہیں۔ ہائی مینجمنٹ کو چھوڑ کر مڈل لیول کے بیشتر انجینئرز مختلف ڈپارٹمنٹس میں یہی روٹین کام کررہے ہیں، ۔ ہمارے صرف ایک ڈپارٹمنٹ میں ”اصل انجینئرنگ“ (ڈیزائننگ، ماڈیفیکیشنز، پراجیکٹس پلاننگ وغیرہ) کا کام ہوتا ہے جس میں بمشکل درجن بھرکے قریب انجینئرز کام کرتے ہیں۔ ایک میٹنگ میں انہی میں سے ایک نے پروڈکشن میں کام کرنے والے انجینرز سے کسی بات پر کہا کہ آپ لوگوں کا ”انجینئرنگ“ سے کیا واسطہ؟ انجیئنرنگ تو ”ہمارا کام“ ہے۔ لہٰذا آپ ہمارے معاملہ میں مداخلت نہ کریں۔ ایک ہی گریڈ میں اور یکساں تجربہ کے حامل ایک انجینرنگ گریجویٹ کا دوسرے گریجویٹ کو یہ جملہ کہنا کہ آپ کا ”انجینئرنگ“ سے کیا واسطہ؟ کہنا اور دوسرے کا اس پر کوئی اعتراض نہ کرنا اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے ہاں بیشتر انجینئرز ”غیرانجیئنرنگ“ والا کام کر رہے ہیں، جو ایک بی ٹیک آنرز والا ان سے بہتر کرسکتا ہے ۔


میرے خیال میں پاکستان میں انجینئرنگ کو حد سے زیادہ روایتی طور پر ڈیل کیا جاتا ہے۔ بی ٹیک یا بی ای یا بی ایس۔۔۔ یہ سب کیا ہوتا ہے؟؟ ڈگری ڈگری ہوتی ہے۔۔ پنجاب میں بی ایس سی انجینئرنگ ہوتی ہے۔۔اسلام آباد جغرافیائی طور پر پنجاب میں ہے تو وہاں بھی بی ایس سی انجینئرنگ ہوتی ہے۔ کراچی میں بی ای ہوتا ہے۔ ایک ہوتا ہے بی ایس سی۔۔۔ایک ہوتا ہے بی ایس سی اونرز۔۔۔ایک ہوتا ہے بی ایس۔۔۔ایک ہوتا ہے بی ایس سوفٹ وئیر انجینئرنگ (یا کوئی اور سی انجینئرنگ) ۔۔۔۔سرسید یونیورسٹی بی ایس ان انجینئرنگ کرواتی ہے باقی جامعات بی ای کرواتی ہیں۔۔۔۔

بی ٹیک کا کام کولجز کو سونپ دیا گیا ہے جن کا کوئی معیار نہیں۔ پاکستان کا ڈپلوما تو ویسے ہی بدنام ہے حالانکہ یو کے کا ہائیر نیشنل ڈپلوما خاصی اہمیت رکھتا ہے۔

یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان میں انجینئرنگ نہیں ہورہی۔ ایک شخص بی ای (یا کوئی اور nomenclature) کر کے نکلتا ہے تو 90 فیصد کیسز میں مینٹیننس میں جاتا ہے۔ حالانکہ انجینئرز کے مینٹیننس اور ڈیویلپمنٹ کا تناسب کم از کم ا:ا تو ہونا ہی چاہیے۔

بہرحال یہ ڈیبیٹ ایسوسی ایٹ انجینئر بمقابلہ انجینئر نہیں تھی۔ یہ مباحثہ فقط اس بات پر تھا کہ جس شخص کو فزکس اور کیمسٹری کے بنیادی اصولوں کا علم نہیں اس کے انٹرنیٹ سے چھاپے گئے پروجیکٹ کو ایجاد قرار دیا جائے یا نہیں۔۔۔ اور پھر وہ شخص اگر روئل سوسائٹی اف لندن کے ایک معروف فیلو ڈوکٹر عطاالرحمٰن سے یہ کہے کہ آپ نے آج تک کیا ایجاد کیا تو اس کا منہ سیدھی طرف سے توڑا جائے یا الٹی طرف سے؟؟
 

محمد امین

لائبریرین
ویسے ایک مزے کی بات عرض کرتا چلوں۔۔۔ یہ بی ای اور بی ٹیک کا فرق صرف پاکستان میں ہے۔ ہمارے دوست ابن سعید صاحب انڈیا کی معروف جامعہ ملیہ دہلی کے گریجویٹ ہیں اور ان کی ڈگری کا عنوان بی ٹیک کمپیوٹر سائنس ہی ہے۔ پاکستانیوں کو روایتوں سے نکلنا پڑے گا۔۔
 

محمد امین

لائبریرین
اس کی کوئی تفصیل ، لنک وغیرہ موجود ہے ؟

ذیش بھائی نے جو وڈیوز شئیر کی تھیں اس کے حوالے سے کہا تھا میں نے۔ کیوں کہ ان کے سامنے جب کہا گیا کہ یہ کٹس بنی بنائی اسی قانون پر مبنی موجود ہیں تو وہ کہہ رہے تھے کوئی بات نہیں تحقیق ایسے ہی ہوتی ہے۔۔۔
 

محمد امین

لائبریرین
محمد امین آپ کی بات کچھ سمجھ نہیں آئی۔ کیا آپ اپنی بات کی وضاحت کرنا چاہیں گے۔ بی ٹیک آنرکو انجینئرنگ کے لیول کی ڈگری قرار دینا، انجینرنگ کے لئے اچھی خبر نہیں ہے یا انجینئرز کے لئے :D

یہ انجینئرنگ کے لیے ہی اچھی خبر نہیں ہے کیوں کہ جامعات کی انجینئرنگ کا معیار ہی اچھا نہیں ہے (سرکاری خاص طور پر) اور پھر کولجز کے بی ٹیک اس سے بھی گئے گزرے ہیں۔۔ عملی کام کرنے کے لیے ڈگری کی کیا ضرورت ہے؟ ووکیشنل اسکل ٹریننگ بھی چل سکتی ہے پھر تو؟ ڈگری کا مقصد غالباَ کچھ اور ہوتا ہے۔

میرے خیال میں ہمیں بی ٹیک اور باقی انجینئرنگ کے لیے یکساں نصاب اور یکساں سہولیاتِ تعلیم فراہم کرنی ہونگی۔ اور پھر یہ nomenclature کا فرق بھی واضح کرنا ہوگا۔
 

رانا

محفلین
۔۔۔ اور پھر وہ شخص اگر روئل سوسائٹی اف لندن کے ایک معروف فیلو ڈوکٹر عطاالرحمٰن سے یہ کہے کہ آپ نے آج تک کیا ایجاد کیا تو اس کا منہ سیدھی طرف سے توڑا جائے یا الٹی طرف سے؟؟

جب عقل جذبات اور خواہشات کے تابع ہوجائے تو جتنا بھی علم حاصل کرلیا جائے ایسی ہی باتیں منہ سے نکلتی ہیں۔ ایسے دانشوروں کےنزدیک ان کے کام سے پاکستان اور امت مسلمہ کو کوئی نفع اور جوئی خیر نہیں حاصل ہوتی لہذا یہ چاہے رائل سوسائٹی آف لندن کے فیلو ہی کیوں نہ ہوں ان کا کام ردی کی ٹوکری میں پھینک دینے کے لائق ہے۔ ہلاکو خان بھی شائد ایسے ہی خیالات کا حامی تھا لیکن بے چارے کو اتنی بڑی ڈسٹ بن نہیں ملی لہذا اس نے ایسی "فضول" تحقیقات سے دنیا کو نجات دلانے کے لئے آگ اور دریا کا سہارا لیا۔ ہلاکو خان تو چلا گیا لیکن اپنے خیالات کو پتہ نہیں کیسے اگلی نسلوں تک پھیلا گیا۔ لہذا آپ کا یہ سوال بالکل فضول ہے کہ اس کا منہ سیدھی طرف سے توڑا جائے یا الٹی طرف سے؟؟

ڈاکٹر عطاالرحمان کا یا ڈاکٹر سیلم الزماں صدیقی کا کام بھی کوئی کام ہے؟ کام صرف وہ ہوتا ہے جس سے پاکستان یا امت مسلمہ کو نفع حاصل ہو۔ جابر بن حیان نے شورے کا تیزاب ایجاد کرڈالا یا مسلمان سائنسدانوں نے زمین کا قطر معلوم کرلیا یا اور سینکڑوں کارہائے نمایاں انجام دے ڈالے تو یہ کوئی کام تونہیں۔ اس سے پاکستان کو یا امت مسلمہ کو کیا فائدہ حاصل ہوا؟ فائدہ البتہ حاصل ہوا لیکن غیر مسلموں کو کہ انہوں نے ہمارے اجداد کی ان ہی تحقیقات کو آگے بڑھا کر آج مریخ پر کیوروسٹی اتار دی۔ لیکن مسئلہ پھر وہی کہ کیوروسٹی کے مریخ پراترنے سے پاکستان اور امت مسلمہ کو کیا فائدہ حاصل ہوا؟ کیوروسٹی ہمارے ہاتھ تو آجائے ذرا اس کے لئے تو دریا کی بجائے لیاری ندی ہی کافی ہے۔ البتہ ان کی علم سے بھرپور بڑی بڑی لائبریریوں کا کچھ سوچنا پڑے گا کہ ہمارے دریاوں میں تو اتنا پانی ہی نہیں کہ اس فضول علم کے ڈھیر کو غرق کیا جاسکے؟؟؟
 

رانا

محفلین
ابھی کل ہی ایک صاحب بتا رہے تھے کہ قرآن کی سات سو کے قریب آیات ایسی ہیں جن میں اللہ نے کائنات پر غوروفکر کرنے کی طرف انسان کو بار بار توجہ دلائی ہے۔
 

سید ذیشان

محفلین
ایسے دانشوروں کےنزدیک ان کے کام سے پاکستان اور امت مسلمہ کو کوئی نفع اور جوئی خیر نہیں حاصل ہوتی لہذا یہ چاہے رائل سوسائٹی آف لندن کے فیلو ہی کیوں نہ ہوں ان کا کام ردی کی ٹوکری میں پھینک دینے کے لائق ہے۔

یہاں پر ڈاکٹر عطا الرحمٰن کی سی وی ہے۔ اس کو پڑھ کر آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے کچھ ایجاد کیا یا نہیں کیا۔ اور سائنس کی خدمت بذاتِ خود ملک و قوم کی خدمت ہے۔
 

سید ذیشان

محفلین
محترم آپ کے اس فقرے کا کیا مطلب ہے ۔
میں بذات خود ڈپلومہ ہولڈر ہوں مکینکل ٹیکنالوجی میں اس لئے پوچھ رہا ہوں۔

مطلب یہ ہے کہ ٹکنشن کا کام ڈیزائن کو امپلمنٹ کرنا یعنی اس کو فزکل شکل میں لانا ہے۔ اور مشینوں کو مینٹین کرنا ہے۔ ان کا کام انوویشن یا ڈیزائن نہیں ہے۔
 

وجی

لائبریرین
پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد ٹکنیشن والے کام بہت اچھی طرح ادا کرتے ہیں جناب
رہی بات کوئی انوویشن یا ڈیزائینگ کی تو اس میں بہت کم لوگ ہی اچھے نکلتے ہیں ۔
 

سید ذیشان

محفلین
پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد ٹکنیشن والے کام بہت اچھی طرح ادا کرتے ہیں جناب
رہی بات کوئی انوویشن یا ڈیزائینگ کی تو اس میں بہت کم لوگ ہی اچھے نکلتے ہیں ۔
پاکستان میں اس کے مواقع بہت کم ہیں ورنہ یہی انجنئرز ملک سے باہر جا کر ہر طرح کا انوویٹیئو کام کرتے ہیں۔
 

وجی

لائبریرین
جناب موقعے بھی ملتے ہیں مگر یہاں اس کی پڑھائی کا انداز کچھ الگ ہے جناب
 

رانا

محفلین
ابھی کل ہی ایک صاحب بتا رہے تھے کہ قرآن کی سات سو کے قریب آیات ایسی ہیں جن میں اللہ نے کائنات پر غوروفکر کرنے کی طرف انسان کو بار بار توجہ دلائی ہے۔
کامل خان صاحب اس پوسٹ کو پر مزاح ریٹ کرنے کے پیچھے کیا حکمت ہے؟ کہیں اوپر والی پوسٹ کا ریٹ غلطی سے نیچے تو نہیں کردیا آپ نے؟:)
 

شمشاد

لائبریرین
انہوں نے پانی "سے" گاڑی چلائی ہے، میں پانی "میں" گاڑی چلانے کا منصوبہ بنا رہا ہوں۔ پانی کے اندر پانی سے گاڑی چلے گی، کیا بات ہے میری۔ واہ واہ۔
 

نایاب

لائبریرین
اس ساری گفتگو کو پڑھ کر اک سوال ذہن میں ابھرا ہے کہ
1947 سے لیکر آج 2012 تک پاکستان نے کتنے انجینئرز پیدا کیئے ۔
اور ان انجینئرز نے پاکستان کے لیئے کیا کیا ایجادات کی ہیں ۔ ؟
عام مشاہدہ تو یہی ہے کہ یہ انجینئرز صرف مینٹی نینس اور پاکستان میں درآمد ہونے والی مشینز کی نقالی ہی میں مصروف رہتے ہیں ۔
ابھی ڈاکلٹر عطا الرحمن کا بائیو ڈاٹا دیکھا ۔
31 مرد اور 36 خواتین کو اپنی نگرانی میں پی ایچ ڈی کروانے کے ساتھ ساتھ کوئی بیرون ملک ستر کانفرنسوں میں شریک ہوئے ۔
کوئی ایجاد نظر سے نہیں گزری ۔
 

عثمان

محفلین
ابھی ڈاکلٹر عطا الرحمن کا بائیو ڈاٹا دیکھا ۔
31 مرد اور 36 خواتین کو اپنی نگرانی میں پی ایچ ڈی کروانے کے ساتھ ساتھ کوئی بیرون ملک ستر کانفرنسوں میں شریک ہوئے ۔
کوئی ایجاد نظر سے نہیں گزری ۔

لگے ہاتھوں آئن سٹائن ، نیوٹن اور دیگر اکثر و بیشتر سائنسدانوں اور ریاضی دانوں کا بائیو ڈاٹا بھی دیکھ لیجیے۔ آپ کو مزید مایوس ہوگی کہ کوئی ایجاد نظر سے نہیں گزرے گی۔ :)
محقق ضروری نہیں کہ موجد ہو تو تبھی کامیاب گنا جائے گا۔ :)
ڈاکٹر عطا الرحمن کا بین الاقوامی جرائد میں شائع شدہ تحقیقی مقالات کی تفصیل دیکھ لیجیے گا۔ ایک سائنسدان کا کام ، نصب العین اور کامیابی ان کی یہی تحقیق ہے۔
 

عسکری

معطل
ایک گلی میں بیٹھے مداری ٹائپ انجینیر کو کوئی حق نہیں کہ ڈاکڑ عطاالرحمن جیسے سائنسدان پر بکواس کرے
 

نایاب

لائبریرین
لگے ہاتھوں آئن سٹائن ، نیوٹن اور دیگر اکثر و بیشتر سائنسدانوں اور ریاضی دانوں کا بائیو ڈاٹا بھی دیکھ لیجیے۔ آپ کو مزید مایوس ہوگی کہ کوئی ایجاد نظر سے نہیں گزرے گی۔ :)
محقق ضروری نہیں کہ موجد ہو تو تبھی کامیاب گنا جائے گا۔ :)
ڈاکٹر عطا الرحمن کا بین الاقوامی جرائد میں شائع شدہ تحقیقی مقالات کی تفصیل دیکھ لیجیے گا۔ ایک سائنسدان کا کام ، نصب العین اور کامیابی ان کی یہی تحقیق ہے۔
محترم بھائی
ڈاکٹر صاحب کے کچھ دریافت کردہ قوانین سے آگہی مل جائے تو کیا ہی کہنے ۔
کیا ان کے تحقیقی مقالات سے کہیں پاکستان کا بھی بھلا ہوا ہے یا بین الاقوامی جرائد ہی مستفید ہوتے رہے ہیں ۔ ؟
پانی بجلی گیس پاکستان کے ہر شعبہ میں غیر ملکی انجینئرز کی تیارکردہ ایجادات استعمال ہو رہی ہیں۔
ہمارے انجینئرز نے صرف مقالات ہی لکھے کیا ۔ ؟
 

عثمان

محفلین
محترم بھائی
ڈاکٹر صاحب کے کچھ دریافت کردہ قوانین سے آگہی مل جائے تو کیا ہی کہنے ۔
کیا ان کے تحقیقی مقالات سے کہیں پاکستان کا بھی بھلا ہوا ہے یا بین الاقوامی جرائد ہی مستفید ہوتے رہے ہیں ۔ ؟
پانی بجلی گیس پاکستان کے ہر شعبہ میں غیر ملکی انجینئرز کی تیارکردہ ایجادات استعمال ہو رہی ہیں۔
ہمارے انجینئرز نے صرف مقالات ہی لکھے کیا ۔ ؟

محترم ، تحقیق و ایجاد کا سائنسی عمل اس قدر سطحی نہیں کہ روزمرہ کی مستعمل اشیاء کی بنا پر اس کی درجہ بندی کی جائے۔ میں آپ کو نیوٹن اور آئن سٹائن کی مثالیں دے چکا ہوں جن کے نام سے کوئی ایجاد منسوب نہیں لیکن جدید سائنس ان عظیم سائنسدانوں کی تحقیق و دریافت کی مرہون منت ہے۔ کوئی بھی ایجاد محض ایک شخص کے راتوں رات کئے گئے عمل کے نتیجہ میں آپ تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کے پیچھے سائنسی تحقیق و تشکیک کا ایک طویل عمل موجود ہوتا ہے۔
نیز کسی بھی محقق کا کام کسی قوم ، نسل یا مذہبی گروہ کی خدمت کرنا نہیں بلکہ ان کا نصب العین تخلیق علم اور اس کا فروغ ہے جس سے وہ بالواسطہ کل بنی نوع انسان کے اجتماعی حصول علم کو آگے بڑھانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ :)
 
Top