1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $420.00
    اعلان ختم کریں
  2. اردو محفل سالگرہ چہاردہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی چودہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُوا ۔اے انکار کرنے والو !!!

الشفاء نے 'قران فہمی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 1, 2019

  1. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,591
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔

    وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍO
    اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہےo
    سورۃ القمر ، آیت نمبر 17 ۔​
    خاتم الانبیاء ﷺ کا فرمان جنت نشان ہے

    " خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ "
    تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔۔۔
    ( صحیح بخاری، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
    جن دنوں لڑی "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ۔ اے ایمان والو !!!" کا سلسلہ چل رہا تھا اسی دوران کئی مرتبہ اس خیال نے سر ابھارا کہ ایک لڑی " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُوا ۔اے انکار کرنے والو !!!" کے موضوع پر بھی ہونی چاہیے کہ جس میں قرآن مجید کی ان آیات کا ذکر ہو جن میں کفر اور اس کے متعلقات کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ جو کہ نہ صرف انکار کرنے والوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کا سامان مہیا کرے بلکہ ہم جیسے عام مسلمانوں کی قرآنی معلومات سے آگاہی کا کام بھی دے۔ کیونکہ کئی مرتبہ اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہم میں سے بہت سے مسلمانوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے کما حقہ آگاہی حاصل نہیں۔ جس کے نتیجے میں ذرا سے پراپیگنڈہ سے متاثر ہو کر کئی مسلمانوں کا کفر و زندقہ کے گڑھے میں گرنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ کامل مؤمنین اور منکرین کے علاوہ ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی موجود ہے جو قرآن کی بعض تعلیمات کو تو مانتا ہے لیکن بعض کا انکار کر دیتا ہے۔ یعنی کہ قرآن کے ہی الفاظ میں "نؤمن ببعض ونکفر ببعض" کا عملی پیکر بن کر مؤمنین و منکرین کے مابین کہیں جا ٹکتا ہے۔ اس لحاظ سے امید ہے کہ قرآن مجید کی یہ آیات مؤمنین ، منکرین اور مابین، ہر ایک کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنیں گی۔
    یہاں یہ بات واضح کرتے چلیں کہ چونکہ عمومی طور پر کفر سے مراد اسلامی تعلیمات یا احکامات کو نہ ماننا یا ان کا کلی یا جزوی طور پر انکار کرنا ہے۔ لہٰذا مختلف اشخاص کے کفریہ عقائد یا اعمال کے حساب سے مختلف درجات ہو سکتے ہیں۔ جن کا کسی فرد، گروہ یا فرقے کے حوالے سے تعین کرنا اس دھاگے کا مقصد ہر گز نہیں، اور نہ ہی ہم اس کے اہل ہیں۔ بلکہ موضوع کے حوالے سے قرآنی آیات کو حسب ضرورت سیاق و سباق کے ساتھ بیان کرکے اس سے وعظ و نصیحت حاصل کرنا ہمارا مقصد ہے۔ اور ویسے بھی قرآن کریم کی آیات کا علم حاصل کرنے کی فضیلت تو قرآن و حدیث کے حوالے سے ثابت شدہ ہے۔ جیسا کہ
    ایک مرتبہ آقا علیہ الصلاۃ والسلام اصحاب صفّہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا :" تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ صبح کو وادی بطحان یا عقیق جائے اور وہاں سے موٹی تازی خوبصورت دو اونٹنیاں لے آئے اور اس میں کسی گناہ وقطع رحمی کا مرتکب بھی نہ ہو ؟" صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم سب یہ چاہتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :" تمہارا ہر روز مسجد جاکر دو آیتیں سیکھ لینا دو اونٹنیوں کے حصول سے بہتر ہے اور تین آیتیں سیکھ لینا تین اونٹنیوں سے بہتر ہے اسی طرح جتنی آیتیں سیکھو گے اتنی اونٹنیوں سے بہتر ہے"{ صحیح مسلم و ابو داؤد }
    اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اخلاص کی توفیق عنایت فرماتے ہوئے اس سلسلے کو سب کے لیے مفید اور نافع بنائے۔ آمین۔۔۔

    یہی ہے آرزو تعلیم ِ قرآں عام ہو جائے
    ہر اک پرچم سے اونچا پرچمِ اسلام ہو جائے


    ---​
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,591
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    پکے کافر
    إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُواْ بَيْنَ اللّهِ وَرُسُلِهِ وَيقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُواْ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاًO أُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًاO
    جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں ، اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں، اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے، اور کفر وایمان کے بیچ میں ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ سب پکے کافر ہیں۔ اور ایسے کافروں کے لیے ہم نے وہ سزا مہیّا کر رکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کر دینے والی ہو گی۔ (تفہیم القرآن)
    سورۃ النساء ، آیت نمبر 151،150۔​
    اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو ایک نبی کو بھی نہ مانے کافر ہے۔ یہودی سوائے حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہما کے باقی تمام نبیوں کو مانتے تھے۔ نصرانی افضل الرسل خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفےٰ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا اور انبیاء پر ایمان رکھتے تھے۔ سامری یوشع علیہ السلام کے بعد کسی کی نبوت کے قائل نہ تھے۔۔۔ پس یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کی یعنی کسی نبی کو مانا، کسی سے انکار کر دیا، کسی الہٰی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض اپنی نفسانی خواہش، جوش، تعصب اور تقلید آبائی کی وجہ سے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک نبی کو نہ ماننے والا اللہ کے نزدیک تمام نبیوں کا منکر ہے، اس لیے کہ اگر اور انبیاء کو بوجہ ان کے نبی ہونے کے مانتا تو اس نبی کو ماننا بھی اسی وجہ سے اس پر ضروری تھا۔ پس ان کی شریعت ماننے، نہ ماننے کے درمیان کی ہے۔ یہ یقینی اور حتمی کافر ہیں۔ کسی نبی پر ان کا شرعی ایمان نہیں، بلکہ تقلیدی اور تعصبی ایمان ہے جو قابل قبول نہیں۔ پس ان کفار کو اہانت اور رسوائی والے عذاب ہوں گے۔۔۔ پھر اگلی آیت میں امت محمدیہ کی تعریف ہو رہی ہے کہ یہ اللہ پر ایمان رکھ کر تمام انبیاء علیہم السلام کو اور تمام آسمانی کتابوں کو بھی خدائی کتابیں تسلیم کرتے ہیں۔ پھر ان کے لیے جو اجر جمیل اور ثواب عظیم اس نے تیار کر رکھا ہے اسے بھی بیان فرما دیا کہ ان کے ایمان کامل کے باعث انہیں اجر و ثواب عطا ہوں گے۔ اگر ان سے کوئی گناہ بھی سرزد ہو گیا تو اللہ عزوجل اسے معاف فرما کر ان پر اپنی رحمت کی بارش برسائے گا۔۔۔(تفسیر ابن کثیر)

    وَالَّذِينَ آمَنُواْ بِاللّهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّقُواْ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ أُوْلَئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ وَكَانَ اللّهُ غَفُورًا رَّحِيمًاO
    اور جو لوگ اﷲ اور اس کے (سب) رسولوں پر ایمان لائے اور ان (پیغمبروں) میں سے کسی کے درمیان (ایمان لانے میں) فرق نہ کیا تو عنقریب وہ انہیں ان کے اجر عطا فرمائے گا، اور اﷲ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo
    سورۃ النساء، آیت نمبر 152۔​

    ۔۔۔​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. عدیل عبد الباسط

    عدیل عبد الباسط محفلین

    مراسلے:
    57
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    بہت عمدہ کاوش ہے۔ اللہ تعالیٰ قبولیت اور جزائے خیر سے نوازیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,591
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    2- لوگوں کو گمراہ کرنے والے قیامت کے دن اپنے عمل سے مکر جائیں گے۔

    وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَن نُّؤْمِنَ بِهَذَا الْقُرْآنِ وَلَا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَO قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَى بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَO وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَO
    اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس قرآن پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس (وحی) پر جو اس سے پہلے اتر چکی، اور اگر آپ دیکھیں جب ظالم لوگ اپنے رب کے حضور کھڑے کئے جائیں گے (تو کیا منظر ہوگا) کہ ان میں سے ہر ایک (اپنی) بات پھیر کر دوسرے پر ڈال رہا ہوگا، کمزور لوگ متکبّروں سے کہیں گے: اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آتے۔متکبرّ لوگ کمزوروں سے کہیں گے: کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی، بلکہ تم خود ہی مُجرم تھے۔پھر کمزور لوگ متکبرّوں سے کہیں گے: بلکہ (تمہارے) رات دن کے مَکر ہی نے (ہمیں روکا تھا) جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور ہم اس کے لئے شریک ٹھہرائیں، اور وہ (ایک دوسرے سے) ندامت چھپائیں گے جب وہ عذاب دیکھ لیں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے، اور انہیں اُن کے کئے کا ہی بدلہ دیا جائے گاo
    سورۃ سبا، آیت نمبر 33-31

    کافروں کی سرکشی اور باطل ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گو قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے۔ بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے کھڑے چھوٹے بڑوں کو اور بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتےتو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے، وہ ان کو جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا؟ تم جانتے تھے کہ یہ سب بے دلیل ہے اور دوسری جانب دلیلوں کی برستی بارش تمہاری آنکھوں کے سامنے تھی۔ پھر تم نے اس کی پیروی چھوڑ کر ہماری کیوں مان لی۔ یہ تو تمہاری اپنی بے عقلی تھی۔ پھر یہ انہیں جواب دیں گے کہ تمہاری دن رات کی دھوکے بازیاں ، جعل سازیاں، فریب کاریاں ہی ہمارے ایمان سے رک جانے کا سبب ہوئیں۔ تم ہی آ آ کر ہمیں عقلی ڈھکوسلے سنا کر اسلام سے روگرداں کرتے تھے۔ دونوں الزام بھی دیں گے، براءت بھی کریں گے۔ لیکن دل میں اپنے کئے پر پچھتا رہے ہوں گے۔ ان سب کے ہاتھوں کو گردن سے ملا کر طوق و زنجیر سے جکڑ دیا جائے گا۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گمراہ کرنے والوں کے بھی اور گمراہ ہونے والوں کے بھی۔ ہر ایک کو پورا پورا عذاب ہو گا۔۔۔(ابن کثیر)۔
    ---
     
    • زبردست زبردست × 1
  5. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,591
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    3- قرآن کی آیات کا انکار کرنے اور مذاق اڑانے والوں کے پاس مت بیٹھو۔

    بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًاO الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ لِلّهِ جَمِيعًاO وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ إِنَّ اللّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًاO
    منافقوں کو یہ خبر سنا دیں کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (یہ) ایسے لوگ (ہیں) جو مسلمانوں کی بجائے کافروں کو دوست بناتے ہیں، کیا یہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ پس عزت تو ساری اللہ (تعالٰی) کے لئے ہے۔ اور بیشک (اللہ نے) تم پر کتاب میں یہ (حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو تم ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو یہاں تک کہ وہ (انکار اور تمسخر کو چھوڑ کر) کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں۔ ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔ بیشک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں جمع کرنے والا ہے۔
    سورۃ النساء ، آیت نمبر 140-138​
    منافقوں کے دلوں پر آخرکار مہر لگ جاتی ہے۔ پھر وہ مؤمنوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں۔ اللہ عزوجل ان کے مقصود اصلی کو بیان فرماتا ہے کہ تم چاہتے ہو ان کے پاس تمہاری عزت ہو، یہ تمہیں دھوکا ہوا ہے اور تم غلطی کر رہے ہو۔بگوش ہوش سنو کہ عزتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے۔ یعنی اگر حقیقی عزت چاہتے ہو تو خدا کے نیک بندوں کے ساتھ مل جاؤ۔ مسند امام حنبل کی یہ حدیث اس جگہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا جو شخص فخر و غرور کے طور پر اپنی عزت ظاہر کرنے کے لیے اپنا نسب اپنے کفار باپ دادوں سے جوڑے اور نو تک پہنچ جائے، تو وہ بھی ان کے ساتھ دسواں جہنمی ہوگا۔ پھر فرمان ہے جب میں تمہیں منع کر چکا کہ جس مجلس میں اللہ کی آیتوں سے انکار کیا جا رہا ہو، اس میں نہ بیٹھو۔ پھر بھی اگر تم ایسی مجلسوں میں شریک ہوتے رہو گے تو یاد رکھو میرے ہاں تم بھی ان کے شریک کار سمجھے جاؤ گے۔ جیسے ایک حدیث میں ہے کہ جس دسترخوان پر شراب نوشی ہو رہی ہو اس پر کسی ایسے شخص کو نہ بیٹھنا چاہیے جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمام منافقوں اور سارے کافروں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔۔۔(ابن کثیر)

    ۔۔۔​
     
    • زبردست زبردست × 1
  6. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,591
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    4- قیامت کے دن کفار کا کوئی عذر کام نہ آئے گا۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَO
    اے کافرو! آج کے دن کوئی عذر پیش نہ کرو، بس تمہیں اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو کرتے رہے تھے۔

    سورۃ التحریم، آیت نمبر 7۔
    قیامت کے دن کفار سے فرمایا جائے گا کہ آج تم بے کار عذر پیش نہ کرو۔ کوئی معذرت ہمارے سامنے نہ چل سکے گی۔ تمہارے کرتوت کا مزہ تمہیں چکھنا ہی پڑے گا۔(ابن کثیر) یعنی قیامت کے دن جب جہنم کا عذاب سامنے ہو گا، اس وقت منکروں سے کہا جائے گا کہ حیلے بہانے مت بتلاؤ۔ آج کوئی بہانہ چلنے والا نہیں۔ بلکہ جو کچھ کرتے تھے اس کی پوری پوری سزا بھگتنے کا دن ہے۔ ہماری طرف سے کوئی ظلم و زیادتی نہیں۔ تمہارے ہی اعمال ہیں جو عذاب کی صورت نظر آ رہے ہیں۔۔۔(تفسیر عثمانی)​

    ۔۔۔​
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر