يَا أَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُوا ۔اے انکار کرنے والو !!!

الشفاء نے 'قران فہمی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 1, 2019

  1. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,197
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    وہ کون کون سے اہم نکات ہیں، جن کے نا ماننے سے ایک فرد "نا ماننے والا" کافر قرار پائے گا؟ ایسے امور کی لسٹ بنانے میں مدد فرمائیے۔ قرآن حکیم سے ریفرنس بھی فراہم کیجئے۔ٓ
    1۔ اللہ تعالی کا اللہ ہونے اور رب العالمٓین ہونے سے انکار
    2۔ رسول اکرم ، اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، اس کا انکار
    ٓ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. الشفاء

    الشفاء لائبریرین

    مراسلے:
    2,838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    15- اللہ کےرسول اور اجماع امت کی مخالفت کرنے والے لوگ ۔

    وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًاO
    اور جو شخص رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرے اس کے بعد کہ اس پر ہدایت کی راہ واضح ہو چکی اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ کی پیروی کرے تو ہم اسے اسی (گمراہی) کی طرف پھیرے رکھیں گے جدھر وہ (خود) پھر گیا ہے اور (بالآخر) اسے دوزخ میں ڈالیں گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
    (سورۃ النساء ، آیت نمبر 115)​

    فرمایا جا رہا ہے کہ جو شخص حق واضح ہو جانے کے بعد بھی مخالفت رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کر کے مسلمانوں کی صاف روش سے ہٹ جائے تو ہم بھی اسی ٹیڑھی اور بری راہ پر ہی اسے لگا دیتے ہیں۔ اور اسے وہی غلط راہ اچھی اور بھلی معلوم ہونے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ بیچوں بیچ جہنم میں جا پہنچتا ہے۔ مؤمنوں کی راہ کے علاوہ راہ اختیار کرنا دراصل رسول سے مخالفت کرنا ہی ہے۔ لیکن کبھی تو شارع علیہ السلام کی صاف بات کا خلاف ہوتا ہے، کبھی اس چیز کا خلاف ہوتا ہے جس پر ساری امت محمدیہ متفق ہے، جس میں اللہ نے بوجہ ان کی شرافت و کرامت کے محفوظ کر رکھا ہے۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے غورو فکر کے بعد اس آیت سے اتفاق امت کی دلیل ہونے پر استدلال کیا ہے۔ غرضیکہ ایسا کرنے والے کی رسی اللہ تعالیٰ بھی ڈھیلی چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم ان کی بے خبری میں آہستہ آہستہ مہلت بڑھاتے رہتے ہیں، ان کے قدم بہکتے ہی ہم بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیتے ہیں اور انہیں ان کی سرکشی میں حیران چھوڑ دیتے ہیں۔ بالآخر ان کا ٹھکانہ جہنم بن جاتا ہے۔ (ابن کثیر)
    علامہ بیضاوی نے اس جملے کا معنی لکھا ہے کہ جس کفر و گمراہی کی طرف وہ دانستہ پھر گیا ہے ہم اس میں حائل نہ ہوں گے اور اسے ادھر ہی پھرنے دیں گے۔ یہی معنی زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ اس بدنصیب کا کیا حال ہو گا ، رحمت و توفیق الہٰی نے جس کی دستگیری چھوڑ دی ہو۔ اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت اور اجماع امت کی مخالفت سے انسان توفیق الہٰی سے محروم ہو جاتا ہے اور شیطان کے ہاتھ میں محض ایک کھلونا بن کر رہ جاتا ہے۔ (ضیاء القرآن)۔

    ۔۔۔​
     
    • زبردست زبردست × 1
  3. الشفاء

    الشفاء لائبریرین

    مراسلے:
    2,838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    16-قیامت کے دن کفار کے چہرے سیاہ ہوں گے۔

    وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌO ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌO وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌO تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌO أُوْلَئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُO
    اس دن بہت سے چہرے (ایسے بھی ہوں گے جو نور سے) چمک رہے ہوں گے۔(وہ) مسکراتے ہنستے (اور) خوشیاں مناتے ہوں گے۔ اور بہت سے چہرے ایسے ہوں گے جن پر اس دن گرد پڑی ہوگی۔ (مزید) ان (چہروں) پر سیاہی چھائی ہوگی۔ یہی لوگ کافر (اور) فاجر (بدکردار) ہوں گے۔
    سورۃ عبس، آیت نمبر 42-38۔​

    قیامت کے اس ہولناک دن بھی بعض چہرے ایسے ہوں گے جو چمک رہے ہوں گے۔ خوشی سے ہنس رہے ہوں گے اور ان کے چہروں پر مسرت و فرحت کے آثار نمایاں ہوں گے۔ انہیں کوئی اندیشہ اور فکر نہ ہو گا۔أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ کا منظر ساری دنیا دیکھ رہی ہو گی۔ لیکن وہ بد نصیب جنہوں نے سرکشی اور سرتابی کرتے کرتے اپنی عمریں برباد کر دی تھیں ان کے چہروں پر خاک اڑ رہی ہو گی، ان کے چہروں پر سیاہی چھائی ہو گی۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو ساری عمر کفر کرتے رہے اور فسق و فجور میں مبتلا رہے۔ (ضیاء القرآن)۔

    الٰلھم انت ربنا وانت الرحمٰن الرحیم اجعل وجوھنا یومئذ مسفرہ ضاحکۃ مستبشرہ بجاہ حبیبک المکرم ورسولک المعظم الذی ارسلتہ رحمۃ اللعالمین۔ آمین۔۔۔
     
  4. الشفاء

    الشفاء لائبریرین

    مراسلے:
    2,838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    17- مقبول دین بس اسلام ہی ہے جو یہ رسول صادق صل اللہ علیہ وسلم لائے ہیں۔

    وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَO كَيْفَ يَهْدِي اللّهُ قَوْمًا كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُواْ أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَO أُوْلَئِكَ جَزَآؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللّهِ وَالْمَلآئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَO خَالِدِينَ فِيهَا لاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَO إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ مِن بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُواْ فَإِنَّ الله غَفُورٌ رَّحِيمٌO إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُواْ كُفْرًا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الضَّآلُّونَO
    اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ اﷲ ان لوگوں کو کیونکر ہدایت فرمائے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے حالانکہ وہ اس امر کی گواہی دے چکے تھے کہ یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح نشانیاں بھی آچکی تھیں، اور اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا۔ ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اﷲ کی اور فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت پڑتی رہے۔ وہ اس پھٹکار میں ہمیشہ (گرفتار) رہیں گے اور ان سے اس عذاب میں کمی نہیں کی جائے گی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گے۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کر لی اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ بیشک جن لوگوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا پھر وہ کفر میں بڑھتے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گے، اور وہی لوگ گمراہ ہیں۔
    سورۃ آل عمران ، آیت نمبر 90-85
    دین اسلام جو سب انبیاء کا دین ہے اور جس کو لے کر اب حضرت محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں، اب اگر کوئی شخص اس دین کو قبول نہیں کرتا اور کسی اور دین کی پیروی کرتا ہے تو اس کا وہ دین اللہ تعالیٰ کی جناب میں مردود ہے۔ وہ گمراہ جو جہالت کی وجہ سے قبول حق سے انکار کرتے ہیں ان کے ہدایت پانے کی توقع ہو سکتی ہے کہ جب جہالت کا پردہ اٹھ جائے گا اور حقیقت کا روشن چہرہ انہیں دکھائی دے گا تو وہ اسے پہچان کر پروانہ وار اس پر قربان ہونے لگیں گے ، لیکن جو حق کو پہچانتے ہیں اور اپنی خاص محفلوں میں حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کو تسلیم بھی کرتے ہیں اور پھر دشمنی پر کمر بستہ ہیں ان کے راہ پانے کی توقع عبث ہے کہ ان بدنصیبوں نے اپنی فطرت سلیمہ کو بگاڑ دیا۔
    اسلام نے رحمت الہٰی سے مایوس ہو جانے کی سخت مذمت کی ہے۔ اور سب گمراہوں کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ جب وہ سچے دل سے اپنے گناہوں پر نادم ہوں ، تو آئیں اور اس کے در رحمت پر دستک دیں، ان کے گناہ بخش دیے جائیں گے اور انہیں ایک اور زریں موقع مل جائے گا کہ وہ از سر نو ایک پاکیزہ زندگی کا آغاز کر سکیں۔ البتہ وہ لوگ جو کفر و طغیان کے راستہ پر گامزن رہے اور باز آنے اور نادم ہونے کی بجائے اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے، ان کی بخشش کی کوئی صورت نہیں۔ (ضیاء القرآن)۔

    ۔۔۔
     
  5. الشفاء

    الشفاء لائبریرین

    مراسلے:
    2,838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    18- اسلامی تعلیمات میں کمزوریاں تلاش کرنے والے لوگ۔

    اللّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَوَيْلٌ لِّلْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدٍO الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا أُوْلَئِكَ فِي ضَلاَلٍ بَعِيدٍO

    وہ اﷲ کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے، اور کفّار کے لئے سخت عذاب کے باعث بربادی ہے۔ (یہ) وہ لوگ ہیں جو دنیوی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں زیادہ پسند کرتے ہیں اور (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس (دینِ حق) میں کجی تلاش کرتے ہیں۔ یہ لوگ دور کی گمراہی میں (پڑ چکے) ہیں۔
    (سورۃ ابراھیم، آیت نمبر 4-3)​

    یعنی کوئی سلیم الطبع انسان اس پیغام کو قبول کرنے سے انکار نہیں کر سکتا۔ صرف وہی لوگ اس کا انکار کر رہے ہیں جو دنیوی زندگی پر فریفتہ ہیں۔ اسی کو زیادہ سے زیادہ آرام دہ بنانا، اسی میں زیادہ سے زیادہ ناموری حاصل کرنا ان کا مقصد حیات ہے۔ آخرت کی ابدی زندگی کو خوشگوار بنانے اور اس میں سرخرو اور آبرومند ہونے کا جنہیں کبھی خیال ہی نہیں آیا۔ خود بھی راہ حق سے گریزاں ہیں اور انہیں یہ بھی گوارا نہیں کہ کوئی دوسرا اس شاہراہ ہدایت پر گامزن ہو۔ لوگوں کو اسلام سے بدظن کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات کو اس رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ سننے والا اس سے دور رہنے میں ہی اپنی عافیت یقین کرنے لگتا ہے۔ (ضیاءالقرآن)

    ۔۔۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  6. الشفاء

    الشفاء لائبریرین

    مراسلے:
    2,838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    19- کافر آرزو کریں گے کہ کا ش وہ مسلمان ہوتے۔

    رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَوْ كَانُواْ مُسْلِمِينَO ذَرْهُمْ يَأْكُلُواْ وَيَتَمَتَّعُواْ وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَO

    کفار (آخرت میں مومنوں پر اللہ کی رحمت کے مناظر دیکھ کر) بار بار آرزو کریں گے کہ کاش! وہ مسلمان ہوتے۔ آپ (غمگین نہ ہوں) انہیں چھوڑ دیجئے وہ کھاتے (پیتے) رہیں اور عیش کرتے رہیں اور (ان کی) جھوٹی امیدیں انہیں (آخرت سے) غافل رکھیں پھر وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گے۔
    (سورۃ الحجر، آیت نمبر 3-2)​

    آج تو کفار اسلام کا نام سننا بھی گوارا نہیں کرتے ، اور اگر اس کی طرف بلایا جائے تو بڑی نفرت و حقارت کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ وقت آنے والا ہے جب یہ صدق دل سے اس بات کی آرزو کریں گے کہ کاش وہ اس دین کے پیروکار ہوتے۔ کاش انہوں نے اس دعوت کو قبول کیا ہوتا۔ علامہ ابو حیان اندلسی نے لکھا ہے کہ یہ اظہار حسرت کسی ایک وقت نہیں ہوگا بلکہ کئی مواقع جبکہ کفار کو ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور مسلمانوں کو سربلند کیا جائے گا خواہ وہ دنیا میں اسلام کی فتح اور کفار کی شکست کا وقت ہو ، خواہ موت کا وقت ہو ، خواہ حشر میں ۔ ایسے تمام مواقع پر کفار اظہار حسرت کریں گے۔ پھر اللہ عزوجل اظہار غضب کرتے ہوئے فرماتا ہیں کہ اے میرے محبوب ان احمقوں کو اسی حالت میں رہنے دیجیے ، یہ ہدایت کے طلب گار ہی نہیں۔ ان کی صرف ایک ہی خواہش ہے کہ یہ خوب کھائیں پیئیں اور عیش و عشرت کریں۔ انہیں اسی میں مگن رہنے دیجیے۔ یہ لمبی آسیں لگائے بیٹھے ہیں۔ جب موت کا وقت آئے گا انہیں خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے اپنے اوپر کتنا ظلم کیا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نے فرمایا، بدبختی کی چار نشانیاں ہیں، آنکھوں سے آنسوؤں کا نہ آنا، دل کا سخت ہونا، طول امل یعنی لمبی امیدیں اور حرص دنیا۔۔۔ (ضیاءالقرآن)۔
     
  7. الشفاء

    الشفاء لائبریرین

    مراسلے:
    2,838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    20- اے کاش کہ میں فلاں شخص کو دوست نہ بناتا۔

    الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًاO وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًاOيَا وَيْلَتَى لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًاO لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًاO

    اس دن سچی حکمرانی صرف (خدائے) رحمان کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر سخت (مشکل) ہوگا۔اور اس دن ہر ظالم (غصہ اور حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کھائے گا (اور) کہے گا: کاش! میں نے رسولِ (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیّت میں (آکر ہدایت کا) راستہ اختیار کر لیا ہوتا۔ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔بیشک اس نے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس سے بہکا دیا، اور شیطان انسان کو (مصیبت کے وقت) بے یار و مددگار چھوڑ دینے والا ہے۔
    سورۃ الفرقان، آیت نمبر 29-26​

    ہر اس بد نصیب کہ یہی حال ہو گا جو اس قسم کی روش اختیار کرے گا کہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنگت کو چھوڑ کر غیروں کی دوستی کا دم بھرے گا۔ بارگاہ رسالت میں گستاخی کر کے اپنے شیطانوں کو راضی کرنا چاہے گا۔ قیامت کے دن یہ سب ندامت سے اپنے ہونٹ چبائیں گے اور اپنی نالائقی اور کج فہمی پر پھٹکار بھیجیں گے۔۔۔ (ضیاءالقرآن)۔

    ۔۔۔​
     
    • زبردست زبردست × 1
  8. الشفاء

    الشفاء لائبریرین

    مراسلے:
    2,838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    21- صرف نام کے مسلمان (منافق)۔

    أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيدًاO
    کیا آپ نے اِن (منافقوں) کو نہیں دیکھا جو (زبان سے) دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ اس (کتاب یعنی قرآن) پر ایمان لائے جوآپ کی طرف اتارا گیا اور ان (آسمانی کتابوں) پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئیں (مگر) چاہتے یہ ہیں کہ اپنے مقدمات (فیصلے کے لئے) شیطان (یعنی احکامِ الٰہی سے سرکشی پر مبنی قانون) کی طرف لے جائیں حالانکہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ اس کا (کھلا) انکار کر دیں، اور شیطان تویہی چاہتا ہے کہ انہیں دور دراز گمراہی میں بھٹکاتا رہے۔
    سورۃ النساء، آیت نمبر 60۔​

    ان آیات کے شان نزول کے متعلق علماء تفسیر و حدیث نے یہ واقعہ ذکر کیا ہے کہ ایک یہودی اور ایک منافق کے درمیان جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا کرتا تھا ، تنازعہ ہو گیا۔ یہودی حق پر تھا۔ اس نے اس بظاہر مسلمان کو رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس فیصلہ کرانے کے لیے کہا۔ اس منافق کے دل میں چور تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہاں تو نہ سفارش چلے گی اور نہ رشوت سے کام بنے گا اس لیے اس نے کہا کہ تمہارے عالم کعب بن اشرف کے پاس چلتے ہیں۔ یہودی اس بات پر رضامند نہ ہوا۔ چنانچہ چاروناچار حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہودی حق پر تھا فیصلہ بھی اسی کے حق میں ہوا۔ منافق کو پسند نہ آیا تو وہ یہودی کو لے کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ وہاں سے بھی وہی حکم ملا لیکن اس کو بھی تسلیم کرنے آمادہ نہ ہوا۔ آخر دل میں سوچا کہ میں بظاہر تو مسلمان ہوں اور یہ یہودی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں وہ یقیناً میرے اسلام کا پاس کرتے ہوئے میرے حق میں فیصلہ دیں گے۔ چنانچہ اس نے یہودی کو بھی اس پر رضامند کر لیا۔ جب وہاں پہنچے تو یہودی نے عرض کی کہ پہلے حضور علیہ الصلاۃ والسلام اور حضرت ابوبکر اس مقدمہ کا فیصلہ میرے حق میں کر چکے ہیں اب یہ مجھے آپ کے پاس لایا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، میرے واپس آنے تک یہیں ٹھہرو۔ چنانچہ آپ گھر تشریف لے گئے ، تلوار بے نیام کیے واپس آئے اور اس منافق کا سر قلم کر دیا اور فرمایا ، ھکذا اقضی علی من لم یرض بقضاءاللہ وقضاء رسولہ۔ یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کرتا میں اس کا یوں فیصلہ کیا کرتا ہوں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اس دن حضرت عمر کو "الفاروق" (حق و باطل میں فرق کرنے والا) کے لقب سے سرفراز فرمایا۔
    یہاں طاغوت سے مراد وہ حاکم اور عدالت ہے جو احکام الہٰی کے خلاف مقدمات کا فیصلہ کیا کرے۔۔۔ آج بھی بعض لوگ ایسے امور میں تو شریعت کے مطابق فیصلہ کرانے پر بڑے مصر ہوتے ہیں جہاں انہیں فائدہ کی توقع ہو اور جہاں یہ خیال ہو کہ شریعت کا قانون ان کے خلاف ہے تو اس وقت دوسرے قوانین اور رسم و رواج وغیرہ کی آڑ لیتے ہیں اور شریعت کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ ان کے درمیان اور عہد رسالت کے منافقین کے درمیان پھر کیا فرق ہوا۔۔۔ (ضیاءالقرآن)۔

    ۔۔۔​
     
    • زبردست زبردست × 1
  9. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,848
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ماشاء اللّہ ماشاء اللّہ
    جزاک اللّہ خیرا کثیرا۔
    سلامت رہیے بہت ڈھیر ساری دعائیں۔
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 18, 2020
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. الشفاء

    الشفاء لائبریرین

    مراسلے:
    2,838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت بہت شکریہ۔
    دعاؤں کے لیے ممنون ہوں۔ اللہ عزوجل آپ کو صحت و عافیت سے رکھے۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر