يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ۔ اے ایمان والو !!!

الشفاء نے 'قران فہمی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 23, 2018

  1. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    جہاد پہ جانے والوں کا درجہ رک جانے والوں سے زیادہ ہے چاہےوہ کسی مقصد کے لئے رکیں۔
    اللہ چاہے تو اپنے حقوق معاف کرسکتا ہے پر بندوں کے نہیں۔
    سماجی خدمات یعنی لوگوں کے دکھ درد دور کرنا بہترین عبادتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
    اب مجھے سمجھ نہیں آرہی۔
    الشفاء
    عبید انصاری
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 15, 2018 5:48 صبح
  2. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اللہ ہمیں اپنی رضا کی خاطر ہر کام کرنے کی توفیق اور آسانی عطا فرمائے۔آمین!
    جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
     
  3. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اللہ ہم سب کی حلال روزی میں برکت پیدا فرمائے۔ایسا ہی کرے جیسا وہ کہتا ہے۔آمین!
    جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اللہ عمل کی توفیق و آسانی عطا فرمائے۔آمین!
    جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اللہ ہر معاملہ میں ہمیں اپنا کہنا ماننے کی توفیق و آسانی عطا فرمائے!آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اللہ عمل لی توفیق اور آسانیاں عطا فرمائے۔آمین!
    جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اللہ عمل کی توفیق اور آسانی عطا فرمائے۔آمین!
    جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق و آسانیاں عطا فرمائے۔آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اللہ تعالی ہم سب کو شیطان کی شر انگیزیوں سے پناہ دے ہمیشہ۔اپنا لطف کرم اور فضل کرے ہم پہ۔ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔آمین!
    جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
     
    • متفق متفق × 1
  10. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    س
    سبحان اللہ!
    انتہائی حکمت۔
    اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق اور آسانیاں عطا فرمائے۔آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اللہ ہمیں عمل کی توفیق اور آسانیاں عطا فرمائے۔آمین!
    جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اللہ عمل کی توفیق اور آسانی دے۔آمین!
    جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اچھے کاموں میں اللہ ہماری ایسے ہی مدد کرے۔برے کاموں سے پناہ دے ۔کر بیٹھیں تو معاف فرمائے۔ہم پہ ہمیشہ پیار کی نگاہ ڈالے۔ہمیں ہمیشہ احساس دلائے رکھے کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے ۔آمین!
    جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  14. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,427
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    رکنے کے مقاصد مختلف ہو سکتے ہیں۔ اور اگر خود امیر کی طرف سے کسی مصلحت کی خاطر رکنے کا حکم ہو تو جہاد پر جانے کی بجائے رکنا اُولیٰ ہو گا۔۔۔
    اللہ عزوجل تو بہرحال ہر شے پر قادر ہے اور جب بندوں کے باہمی حقوق کی ادائیگی یا معافی کی بات آتی ہے تو ہمیں ہمیشہ یہ حدیث مبارکہ یاد آ جاتی ہے اور اللہ کے فضل سے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔
    بے شک یہ بہترین کاموں میں سے ایک ہے۔
    اگر آپ ان تمام باتوں یعنی جہاد، بندوں کے حقوق، سماجی خدمات کا موازنہ اقتباس میں لی گئی آیت کے تحت بیان کردہ ذکر الہٰی کی افضیلت کےساتھ کر رہی ہیں تو پیاری بہنا ، ان تمام عبادات کی جان اور روح اللہ عزوجل کا ذکر ہی تو ہے۔جذبہ جہاد کا محرک ، حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر اور لوگوں کے دکھ درد دور کرنے کے شوق کا محرک کیا ہے؟ اللہ عزوجل کی یاد اور اس کی رضا و خوشنودی کا حصول۔ کہ اس کے بغیر تمام عبادات بے جان ہیں۔ اور ذکر الٰہی تمام عبادات کی اصل ہے۔۔۔ ایک مرتبہ ہم نے ایک اللہ والے سے پوچھا تھا کہ اللہ عزوجل کی قربت کے حصول کا بہترین طریقہ کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا ، ذکر الٰہی۔۔۔
    واللہ ورسولہ اعلم۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    6,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    ہاں میری بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ سب کام صرف اللہ کے لئے کیے جائیں تو ذکر الہی ہی ہیں۔
    بہت شکریہ۔
    جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,427
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    سورۃ الحدید ۔ ۵۷

    ۷۴ ۔ سورۃ الحدید کی آیت نمبر ۲۸ میں اللہ عزوجل تقویٰ اختیار کرنے اور رسالت محمدی ﷺ کی تصدیق کرنے والوں کے لیے اپنی طرف سے دو خصوصی رحمتوں کی نوید سنا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌO
    اے ایمان والو! اللہ کا تقوٰی اختیار کرو اور اُس کے رسولِ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصّے عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے نور پیدا فرما دے گا جس میں تم (دنیا اور آخرت میں) چلا کرو گے اور تمہاری مغفرت فرما دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہےo
    سورۃ الحدید، آیت نمبر ۲۸۔​

    علمائے تفسیر نے اس آیت کے دو مفہوم بیان کیے ہیں: اہل کتاب میں سے جو لوگ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے صحیح دین پر قائم تھے ، انہیں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ تمہیں پہلے انبیاء پر ایمان لانے کی سعادت حاصل ہے۔ اب تم خاتم الانبیاء محمد مصطفےٰ ﷺ پر بھی ایمان لے آؤ جن پر ایمان لانے کی تاکید تمہارے انبیاء نے کی ہے اور جن کی آمد کی بشارتوں سے تمہاری آسمانی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ ان پر بھی سچے دل سے ایمان لاؤ تو تمہیں اس کی رحمت سے دوہرا حصہ ملے گا۔ قرآن کریم جو سراپا نور ہے اس کے انوار سے تمہاری دنیا اور آخرت جگمگانے لگے گی۔ تمہارے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔ دوسرے مفہوم کے مطابق مسلمانوں کو ہی تقویٰ کا حکم دیا جا رہا ہے اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام پر ایمان لانے کے تقاضوں کو پورا کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ اگلی آیت میں اہل ایمان پر اپنے اس فضل خاص کی وجہ یوں بیان فرمائی ہے کہ

    لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِّن فَضْلِ اللَّهِ وَأَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِO
    (تم پر یہ خصوصی کرم اِس لئے ہے) کہ اہلِ کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل پر کچھ قدرت نہیں رکھتے اور (یہ) کہ سارا فضل اللہ ہی کے دستِ قدرت میں ہے وہ جِسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ فضل والا عظمت والا ہےo سورۃ الحدید ، آیت نمبر ۲۹۔
    اہل کتاب اس زعم میں مبتلا تھے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر رسول اور کلیم کے امتی ہیں۔ انہیں اس نبی عربی کی اطاعت اور اس پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ساری رحمتیں اور انعامات ان ہی کے لیے مخصوص ہیں اور عرب کے بدؤوں کا رحمت الٰہیہ میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے ایمان والو ، تقویٰ کو اپنا شعار بنا لو اور میرے پیارے رسول پر ایمان لانے کا حق ادا کر دو اور اس کی غلامی پر فخر و ناز کرو تاکہ میں تم پر اپنی عنایات اور انعامات کی انتہا کر دوں جنہیں دیکھ کر اہل کتاب کو پتہ چل جائے کہ میری رحمت کے خزانے پر ان کا کوئی قابو نہیں ۔ میں جس کو چاہتا ہوں، جتنا چاہتا ہوں عطا فرماتا ہوں۔۔۔(ضیاء القرآن)۔

    ۔۔۔
     
  17. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,427
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    سورۃ المجادلہ ۔ ۵۸
    ۷۵ ۔ سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر ۹ میں اہل ایمان کی سرگوشیوں اور خفیہ مشوروں کے بارے میں رہنمائی فرمائی جا رہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَO
    اے ایمان والو! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو گناہ اور ظلم و سرکشی اور نافرمانئ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سرگوشی نہ کیا کرو اور نیکی اور پرہیزگاری کی بات ایک دوسرے کے کان میں کہہ لیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم سب جمع کئے جاؤ گےo
    سورۃ المجادلہ ، آیت نمبر ۹۔​

    ایسی سرگوشیاں ممنوع ہیں جن میں کسی گناہ کے بارے میں مشورے ہوں۔ لوگوں کو اذیت پہنچانے کے لیے تجویزیں سوچی جائیں یا اللہ کے رسول علیہ الصلاۃ والسلام کی نافرمانی اور مخالفت کے لیے سکیمیں تیار کی جائیں۔ مسلمانوں کو کسی ایسی میٹنگ میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ اگر کسی نیک کام کے لیے کسی مفید بات کے لیے باہم مل کر صلاح مشورہ کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔۔۔(ضیاء القرآن)۔

    ۔۔۔
     
  18. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,427
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ۷۶ ۔ سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر ۱۱ میں اہل ایمان کو مجلس کے آداب سکھائے جا رہے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا قِيلَ انشُزُوا فَانشُزُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌO
    اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ (اپنی) مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو کشادہ ہو جایا کرو اللہ تمہیں کشادگی عطا فرمائے گا اور جب کہا جائے کھڑے ہو جاؤ تو تم کھڑے ہوجایا کرو، اللہ اُن لوگوں کے درجات بلند فرما دے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم سے نوازا گیا، اور اللہ اُن کاموں سے جو تم کرتے ہو خوب آگاہ ہےo
    سورۃ المجادلہ ، آیت نمبر ۱۱۔
    اس آیت میں بھی مسلمانوں کو مل بیٹھنے کے ایسے آداب سکھائے جا رہے ہیں جن پر عمل کرنے سے باہمی محبت بڑھے اور ایک دوسرے کا احترام پیدا ہو۔ فرمایا اگر مجلس میں لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور باہر سے دوسرے حضرات آ جائیں تو پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کے لیے یہ مناسب نہیں کہ آنے والوں کی پروا تک نہ کریں کہ انہیں بیٹھنے کی جگہ ملی یا نہیں۔ بلکہ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ انہیں عزت سے بٹھائیں اور اگر بھیڑ بہت زیادہ ہو پھر بھی انہیں چاہیے کہ جتنا سکڑ سکتے ہیں سکڑیں اور آنے والوں کے لیے جگہ نکالیں۔ فرمایا اگر تم اپنے بھائیوں کے لیے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے رزق کو کشادہ کر دے گا بلکہ دنیا و آخرت میں تمہیں فراخی و کشادگی نصیب فرمائے گا۔ جو لوگ پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے ان کو تو یہ تعلیم دی کہ وہ آنے والوں کے لیے جگہ کشادہ کریں لیکن حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے آنے والوں کو بھی یہ ہدایت فرمائی کہ وہ ایسا نہ کریں کہ پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کو اٹھا دیں اور ان کی جگہ خود بیٹھ جائیں۔ وَإِذَا قِيلَ انشُزُوا فَانشُزُوا : جب حاضرین مجلس کو کہا جائے کہ اب آپ تشریف لے جائیں تو انہیں فوراً چلے جانا چاہیے، ورنہ اہل خانہ یا منتظمین مجلس کو بڑی کوفت ہو گی۔ سرور دوعالم ﷺ جب صحابہ کو اپنے گھر میں مدعو فرماتے تو کھانا کھالینے کے بعد بھی کہنے کے باوجود کئی لوگ وہاں سے اٹھنے کا نام نہ لیتے۔ ان کی تمنا یہ ہوتی کہ سب سے آخر میں اپنے آقا و مولیٰ سے مصافحہ کریں۔ انہیں بتایا گیا کہ تمہاری محبت بجا ، لیکن حضور کے آرام کا بھی تمہیں خیال رکھنا چاہیے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلندئ مراتب اور رفع درجات کا ذریعہ ایمان اور علم ہے۔ ایک ایمان دار شخص نادار و مفلس ہی کیوں نہ ہو، کافر رئیسوں سے اس کا درجہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بلند ہے۔علامہ مرحوم فرماتے ہیں
    قطرہء آبِ وضوءِ قنبرے
    خوب تر از خون نابِ قیصرے​
    یعنی قنبر جو سیدنا علی کا غلام تھا ، اس کے وضو کے پانی کا قطرہ قیصر کے خون سے زیادہ عزت والا ہے۔۔۔(ضیاء القرآن)۔

    ۔۔۔

     
  19. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,427
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ۷۷ ۔ سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر ۱۲ میں ارشاد ربانی ہے۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ذَلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌO
    اے ایمان والو! جب تم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی راز کی بات تنہائی میں عرض کرنا چاہو تو اپنی رازدارانہ بات کہنے سے پہلے کچھ صدقہ و خیرات کر لیا کرو، یہ (عمل) تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ تر ہے، پھر اگر (خیرات کے لئے) کچھ نہ پاؤ تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہےo
    سورۃ المجادلہ ، آیت نمبر ۱۲۔​

    صدرالافاضل نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کا شان نزول بیان فرماتے ہیں کہ جب سید دوعالم ﷺ کی بارگاہ میں اغنیاء نے عرض و معروض کا سلسلہ دراز کیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فقراء کو اپنی عرض پیش کرنے کا موقع کم ملنے لگا تو عرض پیش کرنے والوں کو عرض پیش کرنے سے پہلے صدقہ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور اس حکم پر حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عمل کیا۔ ایک دینار صدقہ کر کے دس مسائل دریافت کیے۔
    عرض کیا ، یا رسول اللہ ﷺ
    ۱۔ وفا کیا ہے ؟ فرمایا توحید اور توحید کی شہادت دینا۔
    ۲۔ عرض کیا فساد کیا ہے ؟ فرمایا کفر و شرک۔
    ۳۔ عرض کیا حق کیا ہے؟ فرمایا اسلام، قرآن اور ولایت جب تجھے ملے۔
    ۴۔ عرض کیا حیلہ (یعنی تدبیر) کیا ہے؟ فرمایا ترک حیلہ۔
    ۵۔ عرض کیا مجھ پر کیا لازم ہے؟ فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت۔
    ۶۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ سے کیسے دعا مانگوں؟ فرمایا صدق و یقین کے ساتھ۔
    ۷۔ عرض کیا کیا مانگوں؟ فرمایا عافیت۔ ایک روایت میں عاقبت کا لفظ ہے۔
    ۸۔ عرض کیا اپنی نجات کے لیے کیا کروں؟ فرمایا حلال کھا اور سچ بول۔
    ۹۔ عرض کیا سُرور کیا ہے؟ فرمایا جنت۔
    ۱۰۔ عرض کیا راحت کیا ہے؟ فرمایا اللہ کا دیدار۔

    جب حضرت علی رضی اللہ عنہ ان سوالوں سے فارغ ہو گئے تو یہ حکم منسوخ ہو گیا اور رخصت نازل ہوئی۔ اور سوائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اور کسی کو اس پر عمل کرنے کا وقت نہیں ملا۔۔۔
    (ضیاء القرآن)۔

    ۔۔۔​
     

اس صفحے کی تشہیر