وزیراعظم نے ملک سے برطانوی نظامِ تعلیم ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا

جاسم محمد نے 'تعلیم و تدریس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 3, 2019

  1. ابن جمال

    ابن جمال محفلین

    مراسلے:
    421
    اس اقتباس میں سارا زور اس بات پر ہے کہ سرکاری اسکول خرابی کی بنیاد ہیں اورنجی اسکول سے ملک فلاح پارہاہے، حالانکہ اب بھی غریب بچے جو قابل اورباصلاحیت ہوتے ہیں، وہ سرکاری اسکولوں سے ہی پڑھ کر اپنااورملک کا بھلاکرتے ہیں،ان غریب بچوں کو کون سانجی اسکول تعلیم دینے پر آمادہ ہے، جب تک کہ لاکھوں کی فیس ان کی نذر نہ کی جائے، حقیقت یہ ہے کہ ایک نظام تعلیم ہونا بالکل صحیح بات ہے، جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ گویا ملک میں طبقاتی اجارہ داری کو باقی رکھناچاہتے ہیں، خواہ اس پر کسی بھی الفاظ سے پردہ ڈالاجائے، کون یہ کہتاہے کہ اسکولی معیار تعلیم کو درست نہ کیاجائے؛ لیکن اس کے نام پر ایک ہی ملک میں کئی نظام تعلیم کو جاری رکھنابچوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,161
    ایم اے او کالج: ہراسانی کے جھوٹے الزام پر ٹیچر کی خودکشی، قصور وار کون؟
    ترہب اصغر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
    • 19 اکتوبر 2019
    [​IMG]

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے ایم اے او کالج میں انگریزی پڑھانے والے لیکچرار افضل محمود نے ایک خاتون طالب علم کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزام اور تحقیقات کے بعد اس کے غلط ثابت ہونے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے تصدیقی خط جاری نہ کرنے پر خودکشی کر لی ہے۔

    ایم اے او کالج میں انگریزی کے استاد افضل محمود نے نو اکتوبر کو زہر کھا کر خودکشی کر لی تھی۔

    افضل محمود کی لاش کے ساتھ ان کی اپنی تحریر میں ایک نوٹ موجود تھا جس پر تحریر تھا کہ وہ اپنا معاملہ اب اللہ کے سپرد کر رہے ہیں اور ان کی موت کے بارے میں کسی کی نہ تفتیش کریں اور نہ ہی زحمت دیں۔

    پولیس اور میڈیکل رپورٹ سے ان کی خودکشی اور نوٹ لکھنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    محمد افضل کے ایک دوست نے ایک خط بی بی سی کو دکھایا جو اپنی موت سے ایک دن قبل انھوں نے اپنی سینیئر ساتھی پروفیسر ڈاکٹر عالیہ رحمان کو لکھا تھا۔ پروفیسر عالیہ محمد افضل کے خلاف ایک خاتون طالب علم کو ہراساں کرنے کی انکوائری کرنے والی کمیٹی کی سربراہ تھیں۔

    افضل محمود نے خودکشی کیوں کی؟
    خودکشی کرنے سے ایک روز قبل ڈاکٹر عالیہ کے نام اپنے خط میں افضل محمود نے شکایت کی کہ انھیں ہراس کرنے کے الزام سے بری الذمہ قرار دینے کے باوجود ابھی تک انھیں تحریری طور پر کمیٹی کی طرف سے اس فیصلے سے آگاہ کیوں نہیں کیا گیا ہے۔

    ’یہ بات ہر طرف پھیل چکی ہے جس کی وجہ سے میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوں اور جب تک کمیٹی مجھے تحریری طور پر اس الزام سے بری نہیں کرتی میرے بارے میں یہ تاثر رہے گا کہ میں ایک برے کردار کا شخص ہوں۔

    میری خواہش ہے کہ یا تو تحریری طور پر مجھے ان الزامات سے بری کرنے کا خط جاری کیا جائے یا انکوائری دوبارہ کر لی جائے تاکہ میرے علاوہ باقی اساتذہ جو طلبا کے ساتھ (پڑھائی کے معاملے میں) سختی کرتے ہیں یا انھیں امتحان میں کارکردگی کے مطابق نمبر دیتے ہیں نہ کہ دباؤ کے تحت، انھیں بھی مستقبل میں اس طرح کے الزامات سے بچایا جا سکے۔‘

    افضل محمود نے تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس جھوٹے الزام کی وجہ سے میرا خاندان پریشانی کا شکار ہے۔

    ’میری بیوی بھی آج مجھے بد کردار قرار دے کر جا چکی ہے۔ میرے پاس زندگی میں کچھ نہیں بچا۔ میں کالج اور گھر میں ایک بدکردار آدمی کے طور پر جانا جاتا ہوں۔ اس وجہ سے میرے دل اور دماغ میں ہر وقت تکلیف ہوتی ہے۔‘

    افضل محمود آخر میں لکھتے ہیں کہ ’اگر کسی وقت ان کی موت ہو جائے تو ان کی تنخواہ اور اس الزام سے بریت کا خط ان کی والدہ کو دے دیا جائے۔‘

    افضل محمود کے خلاف الزام جھوٹا ثابت ہو چکا تھا

    افضل محمود پر ایک خاتون طالب علم کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزام کی تفیتیش کرنے والی، ایم اے او ہراسمنٹ کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر عالیہ رحمان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ افضل محمود پر لگنے والا الزام دوران تفتیش جھوٹا ثابت ہوا تھا۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان تک ماس کمیو نیکشن ڈیپارٹمنٹ کی ایک طالب علم کی ایک درخواست پہنچی تھی جس میں لکھا تھا کہ سر افضل لڑکیوں کو گھور کر دیکھتے ہیں۔

    ’جب یہ کیس میرے پاس آیا تو میں نے اس لڑکی سے بات کی تو اس نے مجھے کہا کہ اصل میں سر ہمارے نمبر کاٹتے ہیں اور ہماری کلاس میں حاضری کم تھی اس لیے سر نے ہمارے نمبر کاٹ لیے۔‘

    ’میں نے ان سے کہا کہ اس بات کو سائیڈ پر کریں اور ان کے کریکٹر کی بات کریں اور یہ بتائیں کہ افضل نے ان کے ساتھ کبھی کوئی غیر اخلاقی بات یا حرکت کی؟

    جس پر الزام لگانے والی طالبہ نے جواب دیا کہ ’نہیں مجھے تو نہیں کہا لیکن میری کلاس کی لڑکیاں کہتی ہیں کہ وہ ہمیں گھورتے ہیں۔‘

    ڈاکٹر عالیہ کے مطابق انھوں نے انکوائری مکمل کرنے کے بعد انکوائری رپورٹ میں یہ لکھ دیا کہ افضل کے اوپر غلط الزامات لگائے گئے ہیں اور وہ معصوم ہیں۔ میں نے اپنی انکوائری رپورٹ میں یہ لکھا تھا کہ افضل بے قصور ہیں اور اس لڑکی کے کو وارننگ جاری کی جائے اور اسے سختی سے ڈیل کیا جائے۔

    ڈاکٹر عالیہ نے بتایا کہ انھوں نے افضل سے بھی انکوائری کی اور اپنی تمام تر تحقیقات فائنڈنگز میں لکھ دی تھیں۔

    ’ساتھ ہی ساتھ میں نے یہ بھی لکھا کہ اس معاملے کو خصوصی طور پر دیکھا جائے تاکہ آئندہ کوئی طالبہ کسی بھی استاد پر غلط الزام نہ لگائے۔‘

    پھر افضل کو بری الذمہ قرار کیوں نہیں دیا گیا؟
    ڈاکٹر عالیہ نے اس سوال پر کہا کہ ان کا مینڈیٹ اس معاملے کی تفتیش کر کے رپورٹ کالج پرنسپل کے حوالے کرنا تھا۔

    ’ہم نے اپنی رپورٹ مکمل کر کے تین ماہ قبل پرنسپل صاحب کو بھجوا دی تھی۔ اگلے مرحلے میں پرنسپل صاحب نے افضل کو ایک کلیئرنس لیٹر جاری کرنا تھا جس میں یہ لکھا جاتا کہ افضل بے قصور ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔‘

    ڈاکٹر عالیہ نے کہا کہ افضل نے مجھ سے جس سرٹیفیکٹ کا مطالبہ مرنے سے ایک دن پہلے کیا وہ جاری کرنا میرے اختیار میں نہیں تھا۔ ایسا صرف کالج پرنسپل ہی کر سکتے تھے۔ بی بی سی نے کالج کے پرنسپل فرحان عبادت سے اس حوالے سے دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’افضل میرے پاس آیا ہی نہیں اگر وہ آتا تو میں اسے لیٹر جاری کر دیتا۔‘

    ڈاکٹر فرحان نے کہا کہ انکوائری رپورٹ مکمل ہونے کے بعد سے افضل نے ان سے کبھی بات نہیں کی جبکہ کہ افضل کو زبانی بتا دیا گیا تھا کہ وہ بے قصور ہیں اور ان کو کلیئر کیا جا چکا ہے۔

    تاہم ڈاکٹر فرحان عبادت کے مطابق ’یہ معاملہ ڈاکٹر عالیہ نے حل کرنا تھا میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔‘

    ڈاکٹر فرحان کا کہنا ہے مجھے ڈاکٹر عالیہ نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ان بچوں کے خلاف بھی ایکشن لینا ہے۔

    کیا ایک خط افضل کی جان بچا سکتا تھا؟
    ڈاکٹر عالیہ رحمان کے مطابق ’میں نے افضل سے کہا کہ آپ ایک درخواست دے دیں کہ مجھے خط جاری کیا جائے میں وہ آگے تک پہنچا دوں گی۔‘

    ’8 اکتوبر کی دوپہر افضل میرے پاس آئے اس وقت میں کالج گیٹ سے گھر کے لیے نکل رہی تھی۔ انھوں نے مجھے ایک لیٹر دیا میں نے اس لیٹر کی پہلی تین چار لائنیں پڑھیں جس میں لکھا تھا کہ آپ مجھے کلیرنس لیٹر جاری کردیں میں نے وہ اپنی فائل میں رکھا اور میں چلی گئی۔‘تاہم اگلے دن جب میں کالج پہنچی تو مجھے پتا چلا کہ افضل نے خودکشی کرلی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میری غلطی ہے کہ میں نے وہ لیٹر پورا نہیں پڑھا کیونکہ لیٹر کی آخری لائنوں میں لکھا تھا کہ میری تنخواہ میری والدہ کو دے دی جائے۔ میں اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ افضل کھبی اپنی جان بھی لے سکتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ ہنستا کھیلتا رہتا تھا۔‘

    ڈاکٹر عالیہ کا کہنا ہے کہ ’افضل کی موت کے بعد میں نے پرنسپل صاحب کو وہ ایپلیکیشن دکھائی جو افضل نے مجھے دی تھی۔ انھوں نے مجھے کہا کہ یہ تو افضل نے آپ کو لکھا ہے تو آپ اس کو دیکھیں جبکہ میں نے ان سے کہا کہ سر میں کیسے دیکھ سکتی ہوں جب تک آپ مجھے اجازت نہیں دیتے لکھ کر۔ انھوں نے جواب دیا کہ چھوڑ دیں جب تک ضرورت نہیں پڑتی آپ صرف اپنے کاغذات مکمل رکھیں، جب آپ سے کوئی مانگے تو دے دیجیے گا۔‘

    تاہم ڈاکٹر فرحان نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ ڈاکٹر عالیہ کا لیٹر افضل محمود کی موت کے بعد ان کے پاس لے کر آئیں۔

    کیاانتظامیہ ہراس کے خلاف اقدامات کے طریقہ کار سے لا علم ہے؟

    ایم اے او کالج کے پرنسپل فرحان عبادت نے دعویٰ کیا کہ انھیں ہراس کے خلاف اقدامات کا اختیار تو دیا گیا ہے لیکن اس بارے میں کوئی تربیت یا آگاہی نہیں دی گئی۔

    ’ہمیں حکومت کی جانب سے کسی قسم کی ٹریننگ یا تربیت نہیں دی جاتی کہ ہم نے ایسے معاملات کو کیسے دیکھنا ہے۔‘

    بی بی سی کی نامہ نگار کی جانب سے ڈاکٹر فرحان سے سوال کیا گیا کہ ’کیا تین مہینے میں میں آپ نے اس کیس کو فالو اپ کیا یا ان سٹوڈنٹس کے خلاف ڈسپلن کے تحت کوئی کارروائی کی یا افضل کی موت کے بعد آپ نے معاملے کی چھان بین کی؟ تو ڈاکٹر فرحان نے جواب دیا کہ ’نہیں یہ بات میرے ذہن ہی میں نہیں آئی کہ ایسا کرنا چاہیے۔‘

    کالج پرنسپل ڈاکٹر فرحان عبادت نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ میں نے کلیئرنس خط افضل کو جاری نہیں کیا کیونکہ میں سمجھا کہ ڈاکٹر عالیہ نے افضل کو بتا دیا ہے۔ پرنسپل سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ تین ماہ کا وقت گزرنے کے بعد آپ نے اس کیس میں کیا؟ جس پر وہ کسی قسم کا جواب نہ دے سکے۔
     
    • غمناک غمناک × 4
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,161
    یکساں نصاب کا فائدہ؟
    فیصل باری20 اکتوبر 2019

    مجھے مختلف ذرائع سے جو کچھ سننے پڑھنے یا دیکھنے کو ملا ہے اس کے مطابق یہ تاثر کافی عام ہے کہ یکساں تعلیم/ نصاب/ کتابوں/ امتحانی عمل کے ذریعے ملک کے بچوں کے درمیان تفریقات میں کمی یا سرے سے ہی خاتمہ لائے جاسکے گی۔ تمام صوبوں، شہروں اور دیہی علاقوں کے بچے بلا صنفی، سماجی و معاشی امتیاز کم و بیش یکساں کورس پڑھیں گے اور ان کا امتحان بھی یکساں انداز میں لیا جائے گا۔ کئی لوگ یہ مانتے ہیں کہ اس طرح بچوں میں پائی جانے والی تفریقات کو ختم کیا جاسکے گا اور ’مساوی مواقع‘ کی دستیابی ممکن ہوسکے گی۔

    تاہم مسئلہ یہ ہے کہ یکساں نصاب پر اگر عمل درآمد ہوا تو اس سے تفریقات میں کمی لانے میں مدد نہیں ملے گی۔ پاکستان میں بچوں کا تعلق مختلف سماجی و اقتصادی طبقات اور مختلف تعلیمی پس منظر رکھنے والے خاندانوں سے ہے۔ بچوں کی تعلیم پر کہیں زیادہ سرمایہ مختص کیا جاتا ہے اور کہیں کم، تمام بچے زبان پر یکساں انداز میں عبور نہیں رکھتے ہیں، ان کا تعلق مختلف ثقافتی و مذہبی پس منظر سے ہے جبکہ یہ الگ الگ جغرافیائی ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ یکساں نصاب، ایک جیسی کتابوں یا یکساں امتحانی عمل سے تفریقات میں کمی واقع نہیں ہوگی الٹا اس طرح تفریقات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    اگر امتحانات بہت ہی مشکل ہوئے تو ان میں کامیابی حاصل کرنے والوں اور ناکام ہوجانے والوں کے درمیان تفریق پیدا ہوگی۔ کسے ملازمتوں تک رسائی مل سکتی ہے اور کسے نہیں اس تناظر میں جب میٹرک پاس اور میٹرک فیل کے درمیان فرق کو ادارتی صورت دی جائے گی تو تفریقات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگا۔

    یکساں تعلیمی زبان (مثال کے طور پر اردو) کا نفاذ عمل میں لانے سے اگر گھر میں بولی جانے والی یا مادری زبان نظر انداز ہوجائے تو یوں ہم درحقیقت سیکھنے کے عمل میں بچوں کے لیے مشکلات کر رہے ہوتے ہیں۔

    اگر نصاب اور کتب یکساں ہوں تو سندھ میں رہنے والے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے بچوں کو یکساں کتابیں پڑھنی ہوں گی اور یوں ان کی علاقائی ثقافتیں، روایات، تاریخ اور ادب نظر انداز ہوجائے گا (اب کیا بلھے شاہ کا کلام سرے سے نہ پڑھایا جائے یا پھر سب کو لازماً پڑھایا جائے؟)

    چند روز قبل وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں ’ایک قوم‘ وجود میں لانے کے لیے یکساں نصاب ضروری ہے۔ اگرچہ یہ تو واضح نہیں کہ وہ حقیقی معنوں میں کیا کہنا چاہ رہے تھے، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ قوم میں اتحاد و اتفاق کے پہلو کا تعلق صرف غیر مساوات کے خاتمے سے ہی ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے نظریاتی یکسانیت کے تصور کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

    مجھے کوئی ایک بھی ایسا ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ یکساں نصاب، کتب اور امتحانی طریقہ کار نے ایک بڑے اور گونا گونیت سے بھرپور لوگوں کے گروہ کو نظریاتی طور پر زیادہ یکسانیت یا ہم آہنگی سے بھرپور گروہ بنانے کی راہ ہموار کی ہو۔ کیا اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے لازمی مضامین نے اس حوالے سے مدد فراہم کی؟ کیا اس حوالے سے کوئی ثبوت دستیاب ہے؟ آخر وہ کون سی بات ہے کہ جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ یکساں نصاب سے ہمیں ’ایک قوم‘ بننے جیسے مشکل مقصد کا حصول ممکن ہوگا؟ جس کے نفاذ کی ہم زیادہ صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔

    اس قسم کے تجربے پر بھی ایک بڑی لاگت آئے گی۔ ہم یہ تو بڑی آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ اس نوعیت کے تجربے میں کوئی حرج نہیں کہ اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ یکساں نصاب، مجوزہ علمی کتابوں اور طے شدہ امتحانی نظام کو تمام اسکولوں میں متعارف کروانے میں ڈھیر سارا پیسہ اور سیاسی سرمایہ خرچ کرنا پڑے گا۔ ان وسائل کو اگر شعبہ تعلیم میں دیگر جگہوں پر خرچ کیا جائے تو زیادہ اچھی بات ہوگی۔ ہمیں اپنی توجہ ان متعدد اصلاحات پر مرکوز کرنی چاہیے جن کی تعلیمی شعبے میں اشد ضرورت ہے۔ کیا ہمیں اس فرضی ’یکساں نصاب‘ متعارف کروانے سے زیادہ ان اصلاحات کو ترجیح نہیں دینی چاہیے؟

    پاکستان میں کم و بیش 2 کروڑ 20 لاکھ 5 سے 16 برس کے بچے اسکول سے باہر ہیں۔ سرکاری یا کم فیس کے لینے والے نجی اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی اکثریت غیر معیاری تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ ان مسائل کو چھوڑ کر ہم اپنے وسائل، وقت اور سیاسی سرمایہ یکسانیت کے معاملات پر لگانے پر تُلے ہیں۔

    ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یکساں نصاب، علمی کتب اور امتحانی عمل، کا نفاذ اگر ممکن بھی ہوتا تو بھی اس سے اسکولوں تک رسائی اور معیار جیسے اہم مسائل حل نہیں ہوں گے۔ یکساں نصاب کس طرح 2 کروڑ 22 لاکھ کو اسکول میں داخل کروانے میں مددگار ثابت ہوگا؟

    بچوں کے اسکول میں داخلے کی شرح بڑھانے کے لیے زیادہ اسکولوں، اساتذہ، ٹرانسپورٹ کی سہولیات اور اسکولوں میں داخلے کا رجحان بڑھانے کی خاطر خصوصی مراعات دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ نصاب کی یکسانیت سے ان میں سے کسی ایک معاملے پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ معیارِ تعلیم کا بڑی حد تک تعلق کتب، اساتذہ کے فن تدریس اور نصابی علم، ٹیچر میں ترغیب پیدا کرنے، اور تعلیم کی صورتحال کا تعین کرنے کے معیاری طریقے درکار ہوتے ہیں لیکن ان شعبوں میں سدھار لانے کے لیے یکسانیت کون سا کردار ادا کرسکتی ہے؟

    حکومت یکسانیت کو برابری (equity) سے جڑے مسائل ختم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ تاہم میں یہاں بھی یہی کہوں گا کہ یکسانیت کے ذریعے برابری قائم نہیں کی جاسکتی۔ بچوں کے حالات، ان کی ضروریات، صلاحیتوں اور خواہشات کی گونا گونیت پر مبنی فریم ورک کی حدود میں رہتے ہوئے برابری سے جڑے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ اس حوالے سے یکساں نصاب سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا اُلٹا برابری سے جڑے مسائل بد سے بدتر ہوں گے۔

    برابری، اسکولوں تک رسائی اور معیار سے جڑے مسائل کے حل کے لیے شعبہ تعلیم کو متعدد اور بنیادی نوعیت کی اصلاحات درکار ہیں۔ تاہم یکساں نصاب، کتب اور/یا امتحانی نظام کے نفاذ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس عمل سے کوئی ایک بھی ایسا مسئلہ حل نہیں ہوگا جسے ہم حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر یکساں نصاب سے متعلق اس اصلاحاتی عمل کا نفاذ ممکن ہو بھی جاتا تو اس کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے پڑیں گے جبکہ اس کے نتیجے میں تعلیم سے جڑے دیگر شعبوں کو ٹھیس بھی پہنچے گی۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  4. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,886
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    افسوسناک! اسٹوڈنٹس کو ایسی نیچ حرکتیں کرتے دیکھا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ زیادہ تر ان کی جانب سے دیکھنے میں آتا ہے جو سخت ماحول اور محنت کا مقابلہ نہیں کر پاتے ہیں۔

    ہمارے معاشرے میں بچوں کو مارکس حاصل کرنے کے معاملے میں بہت حساس بنا دیا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ صحتمند مقابلے کی فضا پیدا ہو اور ہر کوئی اپنی محنت کے بل بوتے پر آگے بڑھے۔ ہر شاگرد پوری ایمانداری سے اپنی کمزوریوں کو مانے اور ان کو سدھارنے کی کوشش کرے نہ کہ دوسروں کو کچل کر آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔ اس سوچ کے بعد ہی کوئی بہتری دیکھنے میں آسکتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,426
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    انتہائی افسوسناک خبر ہے۔ قصور وار اللہ ہی جانے کون ہے:

    کیا وہ لڑکی جس نے غلط الزام لگایا؟

    کیا کالج کی انتظامیہ جنہوں نے بریت کا تحریری ثبوت نہ دیا؟ (کالج والوں کا کہنا ہے کہ کالج کو لکھے گئے خط اور خود کشی میں صرف ایک دن کا وقفہ ہے۔ لیکچرار نے کالج کو خط لکھ کر جواب کا انتظار نہیں کیا)۔

    کیا لیکچرار کے گھر کی دو عورتیں؟ لیکچرار نے لکھا کہ والدہ شدید ناراض ہیں اور بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ (اگر لیکچرار کی والدہ اور بیوی اس مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیتیں اور اسکی بات کا یقین کر کے اس کو ثابت قدم رہنے کا کہتیں تو شاید لیکچرار یہ انتہائی قدم نہ اٹھاتا)۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  6. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,958
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    حقیقی دنیا کے زیادہ تر مسائل اسی طرح پیچیدہ ہوتے ہیں۔ ہمارا reductionist طرز فکر ہمارے لیے ان واقعات سے سیکھ کر آئندہ ان سے بچنے کی تدبیر کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  7. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,958
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    عمدہ مضمون اور اچھے دلائل۔ تعلیمی نصاب، مختلف علاقوں اور ڈیموگرافکس کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہوئے بھی ایسا ترتیب دیا جا سکتا ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام بچوں کو اپنے اچھے برے حالات کے باوجود زندگی میں آگے بڑھنے کی صلاحیت کم و بیش یکساں طور پر دے سکے۔
    ساری دنیا پر ایک فارمولے کا اطلاق کم ہی کامیاب ہوتے دیکھا ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  8. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,353
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    نصاب کی ترامیم سے کہیں زیادہ (فی الحال) اس بات کی اہمیت ہے کہ نظام تعلیم کے موجودہ معیارات کو ہی کتنا قائم رکھا جاتا ہے ۔
    (اساتذہ کی اہلیت اور تعلیمی نظام کی ملک گیر پیمانے پر پابندی وغیرہ ۔)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  9. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,907
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    جو نظام تعلیم ااور جو کتب، عورتوں کی تذلیل، مردوں کی غلامی اور ٹیکس (زکواۃ) کی مقدار کٓو بیس فی صد سے کم کرکے ڈھائی فی صد کرکے 55 ممآلک کی معیشیت اور سماجی ڈھانچا تباہ کرچکی ہیں، اس نظام تعلیم اور کتب کو بغداد شریف سے امپورٹ کرٓنا ایک نئے دارالعلوم بریلی اورٓ ایک نئے دارالعلوم دیوبند کی بناد ڈالنے کے مساوی ہے جہاں صرف خالص ذاتوں کے افراد ہی تعٓلیم حاصلٓ کرسکیں گے۔

    اچھا ہے ، تباہی ان قوموں کا مقدر بن چکی ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • غمناک غمناک × 1
  10. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,907
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    ٓٓ
    بالکل درست فرمایا آپ نے، ملاء ازم بنتا ہٓی ایسے ہے کہ بدمعاشوں کے گروہ کا راج ، قانون کےراج سے اوپر ہوتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  11. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,907
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    ٹیٓکس دیا جائے گا تو ان سب مدوں پر خرٓچ کرنے کے لئے رقم آئے گی ۔ ورنہ کچھ بھی نہیں
     
    • متفق متفق × 1
  12. ابن جمال

    ابن جمال محفلین

    مراسلے:
    421
    پوری بحث پڑھنے کے بعد یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یکساں نظام تعلیم سے خطرہ کیاہے، کیا کچھ لوگ جوخود کواشرافیہ یابرہمن سمجھتے ہیں ان کو ڈر ہے کہ ان کو یکساں نظام تعلیم میں اچھوتوں اورہریجنوں کے برابر لاکھڑاکیاجائے گا اور برسوں سے ان کی جو برہمنیت قائم ہے وہ ختم ہوجائے گی، یکساں نظام تعلیم پر ہونے والے تمام اعتراضات لچرپوچ اورفالتو عقل کی پیداوار ہیں اورکسی میں کوئی معقولیت نہیں ہے۔
    معیار تعلیم اچھاکرنے اورزیادہ سے زیادہ بچے تعلیم حاصل کریں ،اس سے انکار کس کو ہے، لیکن یہ کام یکساں نظام تعلیم کے دائرے میں بھی توہوسکتاہے کیوں اس بات کی ضرورت ہے کہ ملک میں برہمن ،چھتری ،ویش اور اچھوتوں کیلئے الگ الگ نظام تعلیم قائم کیاجائے۔ایک نظام تعلیم ہوناچاہئے، چاہئے پرائیویٹ اسکول ہوں،یاپھر سرکاری اسکول نظام تعلیم ایک ہی رہناچاہئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  13. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,796
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    اپنے وزیرِ اعظم کے بچوں کو بھی پاکستان بلوالیجیے گورنمنٹ اسکول میں پڑھنے کے لئے، یا پاکستان میں صرف وہی برہمن ہیں؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  14. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,426
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    صرف برہمن؟ دیوتا کہیے دیوتا حضرت! وہ نہ صرف لکھ پڑھ چکے بلکہ اربوں کھربوں کے مالک بھی ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ ان کا والد جس ملک کا وزیر اعظم کہلواتا ہے اس ملک کے وہ شہری ہی نہیں!

    بوجھو تو جانیں! :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    اس لڑی میں اصل موضوع پر کافی کم بات ہوئی ہے اور ذیلی موضوعات نے زیادہ جگہ لے لی۔
     
    • متفق متفق × 2
  16. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ویسے پاکستان میں اندازاً کتنے فیصد بچے برطانوی تعلیمی نظام کے تحت پڑھتے ہوں گے؟
     
    • متفق متفق × 1
  17. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,426
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    مجھے اچھی طرح یاد ہے، اور میری طرح جو احباب گورنمنٹ کے اسکولوں کالجوں میں پڑھتے رہے ہیں ان کو بھی یاد ہوگا کہ بارہویں چودہویں کی جماعتوں میں جو انگریزی مضمون لکھنا ہوتا تھا اس میں ایک "ہاٹ ٹاپک" طبقاتی نظامِ تعلیم کی برائیاں اور اس کا خاتمہ ہوتا تھا اور اس کو ہم خوب رٹا مارتے تھے کہ مشہور تھا کہ اس موضوع پر تو مضمون لازمی آتا ہے۔ اللہ جانے وہ رٹا مار دلائل جن سے ہم صفحات سیاہ کیا کرتے تھے کیا ہوئے؟ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,796
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    متفق۔ یہی بات ہم نے بھی کہی تھی کہ ایلیٹ کلاس کے لیے تو کوئی مشکل ہی نہیں، ذوالفقار علی بھٹو کے بچے ہوں، نواز شریف کے بچے ہوں یا عمران خان کے بچے۔ یہ تو باہر ہی پڑھیں گے۔

    ہم اپنے بچوں کو اپنا پیٹ کاٹ کر بھی اچھی تعلیم دلانا چاہیں تو یہ بات لغو اور لچر گردانہ جاتی ہے۔ دنیا ٹوٹیلیٹیرین ازم سے دور بھاگ رہی ہے اور ہم ٹوٹیلیٹیرین نظام کی جانب دوڑتے ہوئے چلے جارہے ہیں۔
     
    • متفق متفق × 3
  19. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ہمارے باقی ماندہ سیاستدانوں کو دیکھ کر لگتا تو نہیں ہے کہ وہ کسی بھی تعلیمی نظام سے گزر کر آئے ہیں۔

    عمران خان کو تو اقتدار میں آئے ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے کون سے کمی کمین ہم پر حکمران تھے۔

    ہمارے ہاں کوئی مخصوص تعلیمی طبقہ برسر اقتدار نہیں رہتا۔ بلکہ استحصالی طبقہ برسرِ اقتدار رہتا ہے چاہے وہ کسی بھی نظامََ تعلیم کی پیداوار ہو۔
     
    • متفق متفق × 2
  20. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,958
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    میں تو اس مخمصے میں پڑا ہوا ہوں کہ یکساں نظام تعلیم سے یہاں مراد کیا ہے۔ کسی کے نزدیک یکساں نظام یہ ہے کہ سب بچے سرکاری سکولوں میں داخل کیے جائیں، کسی نے نزدیک یہ ہے کہ سب کو نصاب ایک ہی پڑھایا جائے جس میں علاقائی اور کلچرل تغیرات کی بھی گنجائش نہ ہو، کسی کے نزدیک یہ ہے کہ جو گنے چنے ادارے کچھ ایسی تعلیم دے رہے ہیں جو طلباء کو کچھ فائدہ پہنچا سکتی ہے انہیں ہی دیس نکالا دے دیا جائے اور سب کو کمتر درجے کے اداروں میں تعلیم حاصل کرنا لازم ٹھہرے۔ ان تینوں میں سے تو ایک بھی صورت کام نہیں کرتی۔ کسی ایسی یکسانیت پر بات کریں جو معاشرے کو بحیثیت مجموعی کچھ فائدہ تو دے۔
     
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر