وزیراعظم نے ملک سے برطانوی نظامِ تعلیم ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا

جاسم محمد نے 'تعلیم و تدریس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 3, 2019

  1. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,925
    عمران خان صاحب کے ہر طرح کے ارادے نیک ہیں تاہم محترم کے اس اعلان کو فی الوقت ہم ٹرک کی ایک اور بتی سے زیادہ اہمیت نہیں دے سکتے ہیں۔ویسے، نظامِ تعلیم ایک ہونا چاہیے اور ایسے قومی نصاب کی تشکیل، جس پر مدرسوں کو ایک طرف رکھ کر، تمام اسکول اپنا لیں، ایسا مشکل کام نہ ہے۔ البتہ، اس حوالے سے اساتذہ کی تربیت کا خصوصی اہتمام بھی کیا جائے۔ محض نصاب کی تشکیل سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ یقینی طور پر، نصاب کی تشکیل، اس کا نفاذ اور ٹیچرز کی ٹریننگ وغیرہ کے لیے خطیر بجٹ درکار ہوتا ہے، اور ہماری معاشی حالت سب کے سامنے ہے۔اس لیے ہمیں قریب قریب یقینِ کامل ہے کہ یہ بیان محض ایک نعرہ ہی ہے۔ خان صاحب کسی اسکول یا کالج گئے ہوں گے اور ایسا کوئی بیان داغ آئے ہوں گے یعنی کہ جہاں بھی گئے، ٹرک کی ایک آدھ بتی چھوڑ آئے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,697
    موڈ:
    Cheerful
    جو چھوٹ آپ نے مدارس کو دی ہے وہی بخشش آپ برطانوی/مغربی نظام تعلیم والوں کو بھی تو دے سکتے ہیں۔ کیا آئی بی یا اے لیول والوں نے بتایا کہ انہیں نصاب کے سلسلے میں مسائل درپیش ہیں اور مدد کا تقاضا ہے؟ جو مسئلہ جن لوگوں کو درپیش ہی نہیں انہیں زبردستی اس کا حل کیوں تھمایا جا رہا ہے؟
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 27, 2019
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  3. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,697
    موڈ:
    Cheerful
    کچھ دنوں پہلے ایک دھاگے میں ایک لنک لگایا تھا جس میں ایک معتبر اور معروف ادارے کا پاکستان کے اساتذہ اور طالبات کے توسط سے ایک سروے تھا کہ لڑکیاں تعلیم میں کیوں پیچھے ہیں؟
    اس رپورٹ کے مطابق زبان اور نصاب تعلیم حصول تعلیم کے راستے میں ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہیں۔ اس مسئلہ کی بنیاد نجی، معاشرتی اور سرکاری وسائل کی کمی ہے۔

    یہاں اصل اعتراض تعلیم کی بجائے طبقاتی تقسیم ہے۔ ایک فکر کے نزدیک مغربی طبقہ/ مغرب ان پر حاوی ہے اور اس کی تمام جزویات کو اپنے معاشرے سے مٹانا مقصود ہے کہ اس طرح معاشرہ اور مسائل سدھر جائیں گے۔ مغربی نظام، مغربی تعلیم، مغربی زبان، مغربی لباس، یا مغربی رسوم و رواج ۔۔۔ ان پر ہونے والے تنقید ایک ہی سلسلے کی کڑی ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,958
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    مغربی طبقہ؟ سمجھ نہیں آئی۔ جو حاوی ہیں، ہیں تو وہ بھی مقامی۔ سوچ کے لحاظ سے بھی ان میں کئی طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں، لازم نہیں کہ سب مغرب سے متاثر ہی ہوں۔
     
    • متفق متفق × 1
  5. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,925
    بہتر ہو گا کہ برطانوی اور مغربی نظام تعلیم سے ہی استفادہ کر لیا جائے۔ ہم یوں بھی جو نصاب ترتیب دیتے ہیں، اس سے کیا حاصل وصول ہوتا ہے؟
     
    • زبردست زبردست × 1
  6. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,908
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    موجودہ تعلیمی نظام انتہائی فرسودہ قسم کے نظریات کو فروغ دیتا ہے۔ اور توقع کرتا ہےکہ لوگ خود ہی درست ہوجائیں گے۔ مثلاً عورتوں کی ثانوی حیثیت، ضرورت سے زیادہ پردہ، عورتوں کی آزادانہ تعلیم حاصل کرنے پر، ملازمت کرنے پر اور کاروبار کرنے پر پابندی۔ ٹیکس کی مقدار ڈھائی فی صد، مردوں کی برتری، اسی طرح یہ نظام تعلیم یہ شعور نہیں دیتا کہ بزرگوں کی صحت اور سوشل سیکیورٹی اور بچوں کی صحت ، قوم بنانے کے لئے ضروری ہیں۔ یہ سب تو بہت ہی دور کی بات ہے، اس نظام تعلیم سے نکلے ہوئے لوگ، کہیں بھی ایک قطار بنائے نظر نہیں آتے۔

    کیوں؟
     
    • زبردست زبردست × 1
  7. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    جاسم محمد بھائی عنوان میں لفظ ’’برطانوی‘‘ شاید غلطی سے لکھ دیا گیا ہے، برائے مہربانی اسے حذف کروادیجیے!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  8. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    دوبارہ غور کرنے پر یہ دل خراش حقیقت ہم پر آشکار ہوئی کہ "برطانوی نظام" غلطی سے ٹائپ ہوگیا ہے۔ براہِ کرم ان دونوں الفاظ کو حذف کروادیجیے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  9. ابن جمال

    ابن جمال محفلین

    مراسلے:
    423
    اس بات سے بھرپور اتفاق ہے کہ اسٹیج کی مناسبت سے خان صاحب کی یہ تقریر ہے، لیکن سوال خان صاحب کی تقریر کا اوراس پر عمل پیراہونے یانہ ہونے کا نہیں ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ ایک ملک میں کیا کئی اسکولی نظام تعلیم ہونا اچھی بات ہے؟ خود یہاں ہندوستان میں سرکاری طورپر تین قسم کے نظام تعلیم رائج ہیں، ایک ریاستی اسکولوں کا نظام تعلیم ہے، ایک سی بی ایس ای ہے اورایک آئی سی ایس ای ہے، اس کے علاوہ پرائیویٹ اسکول کسی باہر کے کالج اوریونیورسٹی وغیرہ سے بھی لنک رہتے ہیں،یکساں نظام تعلیم کیوں ہوناچاہئے۔
    کیوں پورے اسکولی نظام کیلئے یکساں نصاب نہیں بنایاجاسکتاہے، جس میں پرائیویٹ اسکول اورسرکاری اسکول اسی نصاب کی پابندی کریں، کیوں ایساہے کہ ایک جانب انگلش میڈیم دوسری جانب اردو میڈیم اور تیسری جانب اورکچھ ہوتاہے، کم ازکم دس کلاس تک تو یکساں نصاب ہو، دنیا کے تمام ماہرین تعلیم مانتے ہیں کہ بچے کی سب سے بہتر تعلیم مادری زبان میں ہی ممکن ہے اوریہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام ترقی یافتہ قومیں اورممالک وہی ہیں،جنہوں نے ابتدائی تعلیم کا اپنی قومی اوربچوں کی مادری زبان میں نظم کیاہے،ہم برصغیر کے لوگ ہی عقل کے اندھے ہیں کہ بچے کیلئے ابتدا سے انگلش میڈیم اسکول کی چاہ میں خوار ہوتے پھرتے ہیں اورکمال یہ ہے کہ اس کے باوجود اس کو ہم مغرب کی ذہنی غلامی نہیں سمجھتے؟
    سچ کہاجس نے کہا کہ زیاں سے زیادہ زیاں احساس زیاں کےفناہوجانے میں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 1
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,378
    بالکل صحیح کہا۔ ملک کے تمام شہریوں کو ایک قوم بنانے کیلئے یہ لازمی ہے کہ کم از کم تعلیم کے پہلے دس سال یکساں اور قومی تعلیمی نصاب رائج ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  11. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,958
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    مجھے یاد ہے کہ چھوٹی عمر میں اپنے بڑے کزنوں کی اردو میڈیم سائنسی کتب سے خوب استفادہ کرتا تھا۔ مقامی زبان استعمال کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ آپ بنیادی تصورات سکھانے کے لیے کسی کی زندگی کے کئی سال بچا سکتے ہیں۔ نیز اگر اس وقت معیاری اردو کتابیں لکھنا ممکن تھا تو آج کے وسائل کے ساتھ اور بھی زیادہ آسان ہونا چاہیے۔
    نصاب کو اگر یوں تشکیل دیا جائے کہ کسی طرح سے طلباء ساتھ ساتھ انگریزی تکنیکی اصطلاحات بھی سیکھتے رہیں تو بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگریزی کی جانب منتقلی کی مشکلات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,958
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    اس میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے کہ ہم برطانوی سکولوں کے نصاب میں جو خوبیاں پائیں، ان کو اپنے مقامی سکولوں کے نصاب کا حصہ بنا دیں۔ اگر دنیا کے کسی حصے میں کسی نے تجربے سے کوئی اچھی بات سیکھی ہے تو اس سے استفادہ لازمی کرنا چاہیے۔
    جب ہم وسائل رکھنے والے طبقے کو کھینچ کر نیچے لانے کے بجائے کمزور طبقے کو اٹھا کر اس کے برابر پہنچائیں گے، تب ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم کمزوروں کے لیے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ ورنہ باقی سب ڈرامے بازی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  13. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,908
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    نیچرل جیو گرافک ایکسٹٰنشنز پہلے بہت قریب قریب واقع ہوتے تھے، آج انٹرنیٹ کی بدولت ، دنیا سمٹتی جارہی ہے۔ اندھے کنوئیں میں جھوٹ کی ناؤ کسی بھی شعاع سے تیز چلتی ہے، لیکن باہر کی یہ روشن دنیا، آپ کو سچ پہنچا کر اور سچ بلوا ہی دم لیتی ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ جدید تعلیم ہر اسکول مدرسے میں بہم پہنچائی جائے کہ کوئی بھی اس وجہ سے پیچھے نا رہ جائے کہ تعلیم اس تک نہیں پہنچی، علم ہی سب سے بڑا اوزار اور سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  14. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    377
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ایکسٹرا ٹیوشن کلاسس ہی نقصان دہ ہیں۔ بچے بھی اپنے والدین کی توجہ سے دور ہوجاتے ہیں۔ اور والدین کو معلوم بھی نہیں ہوپاتا کہ بچہ کس ڈگر جارہا ہے اور تعلیمی اعتبار سے کس مضمون میں کمزور ہے !
    مجھے اپنے مختصر تجربات کی روشنی میں ایسا لگتا ہے کہ آج کل والدین کی غلط عادات نے ٹیوشن کو رواج دیا ہے۔ جیسے ٹی وی سیریل اور فلموں کا جنون یا موبائل میں دن بھر سوشل میڈیا کا طواف۔ انھیں ایسا لگتا ہے کہ کچھ دیر کیلئے سکون سے ہم کچھ کرسکیں ۔ اور بچوں کو کہیں نہ کہیں ٹیوشن کلاس ، یا پڑوس کے گھروں میں بھیج دیتے ہیں۔
    یہ بہت کم ہوتا ہے کہ والدین خود توجہ نہ دے سکتے ہوں۔ ہاں یہ اور بات کہ ہر والدین کی تعلیمی لیاقت اس قدر نہیں ہوتی۔ لیکن ہم نے ایسے والدین کو اپنے آبزرویشن میں رکھ کر مکمل تعلیم دیتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  15. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,958
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    ٹیوشنوں کے رواج پانے کی اس سے بھی زیادہ بنیادی ایک وجہ ہے۔ جسے میرا بھائی کہتا ہے بٹیرے لڑانے کا شوق۔ :ROFLMAO:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  16. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,908
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    ٹیوشن سینٹرز صرف اس لئے ایجاد ہوئے تھے کہ مجھ جیسے گنوار، جن کی تعلیم دائرہ شرمندگی کے اندر اندر واقع ہوتی ہے، ان ٹیوشن سینٹرز میں پڑھا کر رائج الوقت تنخواہ سے 5 گنا زیادہ کما سکیں :)

    بالکل سچ
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  17. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,889
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    متفق۔

    تعلیمی لیاقت نہ ہو تو الگ بات ہے لیکن نرسری اور کنڈر گارٹن کے بچوں کا ٹیوشن پڑھنا تو واقعی سمجھ نہیں آتا ہے۔ میری خالہ نے تو رول بنایا ہوا ہے کہ اتنے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا ہی نہیں ہے بلکہ اکثر والدین کو ڈانٹ کر روانہ کرتی ہیں کہ اس کی پڑھائی ہی کتنی ہے جو پڑھوانے کے لئے لا رہے ہیں۔

    میرے والدین بھی ہمیں کسی کے گھر ٹیوشن پڑھنے کے لئے بھیجنے سے بہت گھبراتے تھے۔ سندھی میں بہت مشکل پیش آتی تھی لیکن میری والدہ دوسروں سے خود پڑھ لیتی تھیں اور پھر ہمیں پڑھا دیتی تھیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  18. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    377
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    ویسے ٹیوشن بھی بالعموم ذرائع روزگار ہوگئے ہیں۔ معدودے چند ہیں جن کو بچوں کی تعلیمی لیاقت کی فکر ہے۔ اگر کچھ فکر بھی ہے تو یہ کہ بس درجہ پاس کرلے۔
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 7, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  19. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,378
    ملتا جلتا ایک اور واقعہ

    سکول میں خاتون ٹیچر اور طالب علم کو رنگے ہاتھوں پکڑنا پرنسپل کو مہنگا پڑ گیا
    نوجوان طالب علم نے لیڈی ٹیچر کے پیار میں مبتلا ہو کر پرنسپل کو قتل کر دیا،ٹیچر نے مجھے ملاقات کا لالچ دیا تھا جس پر میں پگھل گیا۔ ملزم کا بیان
    [​IMG] مقدس فاروق اعوان جمعرات 7 نومبر 2019 16:38

    [​IMG]

    لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 نومبر 2019ء) : سکول میں چھٹی ہونے کے بعد نوجوان لڑکے اور سکول ٹیچر کے مابین کیا ہوتا تھا؟ رونگٹے کھڑے کر دینے والا واقعہ سامنے آ گیا۔تفصیلات کے مطابق ایک نوجوان طالب علم کا کہنا ہے کہ فائزہ نامی ٹیچر سکول میں نئی آئی تھی۔اس نے آہستہ آہستہ مجھے بلانا شروع کر دیا اور بعدازاں خط بھی بھیجنے شروع کر دئیے۔خطوط کے ذریعے وہ مجھے بتاتی تھی کہ وہ میرے ساتھ پیار میں مبتلا ہو گئی ہے۔ٹیچر کی پسندیدگی دییکھتے ہوئے میں نے بھی اس میں دلچسپی لینا شروع کر د ی۔ہمارے درمیان پیار محبت کا یہ سلسلہ ڈیڑھ ماہ تک چلتا رہا،بعدازاں یہ بات سکول کے سینئیر اساتذہ کو معلوم ہو گئی اور یوں بات پورے سکول میں پھیل گئی۔سکول سے چھٹی ہونے کے بعد ہم دونوں اکیلے بیٹھے تھے تو ایک خاتون ٹیچر نے دیکھ لیا اور معاملہ پرنسیپل تک پہنچ گیا۔

    فائزہ کی پرنسپل سے بھی لڑائی ہوئی۔پرنسپل نے اس واقعے کے بعد ہم دونوں کو سکول سے نکال دیا۔رضوان نامی طالب علم نے کہا کہ ایک روز مجھے فائزہ کا فون آیا اور اس نے کہا کیا تم میری خاطر پرنسپل کو مار سکتے ہو؟۔لیکن میں نے پرنسپل کو قتل کرنے سے انکار کر دیا۔تاہم بعد میں پرنسپل کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا اور میں اس نیت سے پرنسپل کے گھر میں داخل ہوا اور ان پر چھریوں سے حملہ کر دیا۔ملزم کا کہنا ہے کہ میں نے قتل کرتے ہوئے یہ نہیں سوچا تھا کہ میں پکڑا جاؤں گا۔لیکن واردات کے بعد جب میں بھاگنے لگا تو پاؤں پر چوٹ لگ گئی اور اس طرح پولیس نے مجھے گرفتار کر لیا۔ملزم کا کہنا ہے کہ مجھے ٹیچر نے رزلٹ والے دن ملاقات کا لالچ دیا تھا جس پر میرا دل پگھل گیا۔ملزم نے مزید کہاکہ ہمارے سکول میں ماحول بہت آزاد تھا۔ملزم نے کہا کہ پرنسپل کو قتل کرنے کا آئیڈیا بھارتی فلموں سے لیا۔ملزم کا مزید کہنا تھا کہ میں رہا ہونے کے بعد اُسی ٹیچر سے شادی کرنا چاہتا ہوں،جب کہ اس فائزہ نامی ٹیچر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اس نے یہ قدم میرے لیے نہیں اٹھایا اگر ایسا کیا ہوتا تو وہ کبھی بھی میرا نام نہ لیتا۔مجھے نہ تو سکول سے نکالا گیا اور نہ ہی میرا یہاں پر کسی سے جھگڑا ہوا یہاں تک کہ میرا تو رضوان سے رابطہ بھی ختم ہو گیا تھا۔جب کہ لڑکی کا کہنا تھا کہ میں اس لڑکے سے کبھی بھی شادی نہیں کروں گی کیونکہ اس نے مجھے بدنام کیا۔اس واقعے کی مزید تفصیلات اس ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے:
     
    • غمناک غمناک × 3

اس صفحے کی تشہیر