نوجوان نسل میں کتب بینی کو کیسے فروغ دیا جائے ؟

arifkarim

معطل
ای کتاب سستی اور قابلِ رسائی ضرور ہے لیکن اس کے مطالعے میں وہ لطف نہیں جو اصل کتاب کو ہاتھوں میں تھام کر پڑھنے میں ہے۔ ہمیں تو استادِ محترم ابھی تک ای کتا ب پڑھنے کی عادت ہی نہیں ہوپارہی۔
متفق۔ میرا بھی یہی مشاہدہ ہے۔ خاکسار نے کنڈل، آئی پیڈ اور دیگر ٹیبلٹس پر کافی کوشش کی کہ ای بکس پڑھ سکوں لیکن جو اسکون اصلی کتاب ہاتھ میں لیکر پڑھنے میں ہے۔ وہ وہاں نہیں آتا۔
 

arifkarim

معطل
۔۔۔۔
کتاب کی صورت بدل گئی ہے! وہ پہلے والا رسمی کتب خانہ اب "ای۔لائبریری" بن چکا ہے۔
اس کے مثبت پہلوؤں کو کام میں لایا جائے تو ماننا پڑے گا کہ ای۔لائبریری کہیں زیادہ سستی اور قابلِ رسائی ہے۔
۔۔۔
آنے والی نسلوں کیلئے شاید یہ عام بات ہو کہ انکی پیدائش ہی اس ڈیجیٹل زمانہ میں ہوئی۔ ہم قدیم انسان کیا کریں جنہیں کتب ہاتھ میں لیکر پڑھنے کی عادت ہے :(
 

قیصرانی

لائبریرین
مطالعے کی عادت کا بھلا ہو، میں کہیں دو منٹ بھی فری ہو جاؤں تو کوئی نہ کوئی کتاب شروع کر لیتا ہوں۔ اب تو اتنی عادت ہو چلی ہے کہ سیل فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر، کنڈل، عام کتاب، غرض جو بھی ہاتھ آ جائے، چاہے کتنی بار پڑھ چکا ہوں کتاب کو، پھر بھی پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کئی بار تو بینک یا ٹکٹ کی لائن میں لگے ہوئے کئی صفحات پڑھ لیتا ہوں :)
 
مطالعے کی عادت کا بھلا ہو، میں کہیں دو منٹ بھی فری ہو جاؤں تو کوئی نہ کوئی کتاب شروع کر لیتا ہوں۔ اب تو اتنی عادت ہو چلی ہے کہ سیل فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر، کنڈل، عام کتاب، غرض جو بھی ہاتھ آ جائے، چاہے کتنی بار پڑھ چکا ہوں کتاب کو، پھر بھی پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کئی بار تو بینک یا ٹکٹ کی لائن میں لگے ہوئے کئی صفحات پڑھ لیتا ہوں :)

سر جی تسیں تے گریٹ او
جیندے رؤ خوش رؤ
 

زیک

تکنیکی معاون
متفق۔ میرا بھی یہی مشاہدہ ہے۔ خاکسار نے کنڈل، آئی پیڈ اور دیگر ٹیبلٹس پر کافی کوشش کی کہ ای بکس پڑھ سکوں لیکن جو اسکون اصلی کتاب ہاتھ میں لیکر پڑھنے میں ہے۔ وہ وہاں نہیں آتا۔
جو بات پتھر پر لکھی تحریر کی ہے وہ پرنٹڈ کتاب میں کہاں!
 
۔
مطالعے کی عادت کا بھلا ہو، میں کہیں دو منٹ بھی فری ہو جاؤں تو کوئی نہ کوئی کتاب شروع کر لیتا ہوں۔ اب تو اتنی عادت ہو چلی ہے کہ سیل فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر، کنڈل، عام کتاب، غرض جو بھی ہاتھ آ جائے، چاہے کتنی بار پڑھ چکا ہوں کتاب کو، پھر بھی پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کئی بار تو بینک یا ٹکٹ کی لائن میں لگے ہوئے کئی صفحات پڑھ لیتا ہوں :)
اللہ ہمیں بھی بزرگوں کی نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔
:)
 

arifkarim

معطل
جو بات پتھر پر لکھی تحریر کی ہے وہ پرنٹڈ کتاب میں کہاں!
نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں اسکرین پر بہت زیادہ مطالعہ کا عادی ہوں جیسے بلاگز، میگزینز، اخبارات وغیرہ۔ البتہ کتب بینی کیلئے ایک خاص قسم کا ماحول چاہئے جو شاید آپکو کنڈل پر میسرہو۔ مجھے بہرحال لائبریری سے کتاب لیکر یا بازار سے خریدکر پڑھنے ہی میں لطف آتا ہے۔
 

mfdarvesh

محفلین
میرے خیال میں معیاری کتب کی فراہمی بھی ایک مسئلہ ہے اور بہت سارے مسائل کے ساتھ ساتھ
ہمارے یہاں اکثر کتب جانبداری سے لکھی گئیں ہیں اور درست معلومات تک رسائی ممکن نہیں ہے، کاپی رائٹ منسوخ کا قانون بھی نہیں ہے اور ساتھ میں کتب کی قیمتیں ایک اور بڑا مسئلہ ہیں
میرے خیال میں اچھے ادب کی مقامی زبان میں فراہمی بھی ایک مسئلہ ہے۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن اس سلسلے میں اچھا کام کر رہا ہے ۔۔
 

محمداحمد

لائبریرین
اب تک کی گفتگو بڑی دلچسپ رہی۔

کتاب کا اپنا ایک لطف ہے اور ای بکس کا بھی اپنا لطف ہے تاہم ہم اور ہمارے جیسے بہت سے لوگوں کے لئے پہلی شناسائی کاغذ پر شائع شدہ کتابوں سے ہی ہوئی سو ہمارے لئیے وہی مقدم ہے تاہم ای بکس بھی کسی حد تک نعم البدل کا کام تو کرتی ہیں۔

ہمارے ہاں کتاب لکھنا بہت کم ہوگیا ہے۔ پڑھنا اُس سے بھی کم ہو گیا ہے۔

پھر کچھ ماحول اور کتب کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث بہت سی کتابوں تک رسائی بھی نہیں ہو پاتی۔

میرے خیال میں معیاری کتب کی فراہمی بھی ایک مسئلہ ہے اور بہت سارے مسائل کے ساتھ ساتھ
ہمارے یہاں اکثر کتب جانبداری سے لکھی گئیں ہیں اور درست معلومات تک رسائی ممکن نہیں ہے، کاپی رائٹ منسوخ کا قانون بھی نہیں ہے اور ساتھ میں کتب کی قیمتیں ایک اور بڑا مسئلہ ہیں
میرے خیال میں اچھے ادب کی مقامی زبان میں فراہمی بھی ایک مسئلہ ہے۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن اس سلسلے میں اچھا کام کر رہا ہے ۔۔

کاپی رائٹ کا واقعی ایک باقاعدہ قانون ہونا چاہیے اور ناشر کی طرف سے مصنفین کو ملنے والے معاوضے کا بھی باقاعدہ اور طے شدہ طریقہ کار ہونا چاہیے۔

نئے لکھنے والوں کو ناشر نہیں ملتے کہ وہ نئے لوگوں پر اپنا سرمایہ لگانا نہیں چاہتے۔

اور پرانے لکھنے والوں کی کتابیں یہی ناشر بارہا چھاپتے ہیں اور مصنفین کو نہ ہونے کے برابر رائلٹی ملتی ہے۔

پھر کاپی رائٹ بھی اکثر ناشر اپنے نام کرلیتے ہیں جو کہ مصنفین کے نام ہونے چاہیے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
قارئین میں
ایک طبقہ طالبان کا ہے جو کتاب کو پڑھتا ہے اور پھر کتاب سے کتاب نکلتی ہے۔
دوسرا شائقین کا ہے جو کتاب کو پڑھتا ضرور ہے
اور
تیسرا طبقہ اشرافیہ ہے جس کو اپنے ڈرائنگ روم کی شیلف کے لئے کتاب چاہئے۔
ایسا لگتا ہے فی زمانہ کہ کتابیں چھپتی ہی اشرافیہ کے لئے ہیں۔​
۔۔۔

محمد وارث

یہ اشرافیہ والی بات آپ نے کتابوں کی قیمت کے حوالے سے کی ہے یا اُن کی خوش پیراہنی کی وجہ سے (گو کہ اس بھی سے قیمتیں ہی بڑھتی ہیں)؟
 

محمداحمد

لائبریرین
کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اگر بچپن سے یہ باور کرایا جائے کہ مطالعہ کی اہمیت کیا ہے، تو ضرور خاطرخواہ فائدہ ہوگا۔ اس کے لئے موضوعات دینا بھی ضروری ہے۔ اگر آپ صرف یہ کہہ دیں کہ کوئی سی بھی کتاب پڑھو تو بہت سے لوگ اسی تذبذب کا شکار رہیں گے کہ کون سی کتاب پڑھوں۔۔۔؟
نصابی موضوعات، ملکی تاریخ اور اپنے اسلاف (ہر علاقہ اور مذہب کےلحاظ سے) جلد توجہ حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اساتذہ بچوں کے رجحان کے مطابق انفرادی موضوعات بھی دے سکتے ہیں۔
اس کا طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ 50 نمبر کی ایک پریزنٹیشن رکھی جائے جس میں کسی ایک موضوع پر لکھی گئی کتابوں کا مختصر تعارف کروانا اور ایک کتاب کے متعلق سوالوں کے جواب دینا لازم ٹہرایا جائے۔
اس جیسے کئی اقدام ہیں جو نظام تعلیم کی بہتری سے تعلق رکھتے ہیں۔

اچھا خیال ہے۔
 

فہد اشرف

محفلین
15578593_1134773206636626_6619723509819430907_n.jpg
 

حماد علی

محفلین
مختلف لوگوں کی مختلف آراء پڑھی یہاں اور ان سے کسی حد تک متفق بھی ہوں ۔ بات اگر نوجوان نسل کو کتابوں کی طرف مائل کرنے کی ، کی جائے تو میں یہی کہوں گا کے انسان فطرتاً آسانی پسند ہی جس کام میں اسے آسانیاں نظر آتی ہیں وہ اسی کی طرف راغب ہو جاتا ہے میرا ماننا تو یہی ہے کے آج کے دور میں کتب بینی کو اس حد تک مشکل عمل بنا دیا گیا ہے کے جو اس طرف راغب ہوتے ہیں انہیں بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں ذاتی طور پر اگر اپنی مشکلات بتاؤں تو ان میں سرِ فہرست کتب کی قیمتیں ہیں یعنی ایک طرح سے کتب کی عدم دستیابی بھلا ہو اس انٹرنیٹ کا کہ یہاں مطالعہ کے شوق کی کسی قدر تسکین ہو جاتی ہے ، اگر بات کالج اور سکولوں کی لائبریری کی کی جائے تو یقین جانیے ہائ سکول میں دو سال گزارے ، وہ عرصہ جہاں سے کتب بینی کا شوق بڑھا، وہاں لائبریری تو تھی پر اس میں لائبریرین کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایک بڑا سا تالا ان دو سالوں میں ایک لمحے کے لیے بھی دروازے سے نہ ہٹا ۔ کالج کی بات کی جائے تو اکثر یہاں بھی تالا ہی نظر آتا ہے مگر کبھی کبھی لائبریری کھلی بھی مل جاتی ہے پر اب اس مسئلہ کا کیا جائے کے لائبریری میں کتب کا فقدان ہے؟
ایک اور مسئلہ جو ہے تو وہ لوگوں کا رویہ ہے اگر آپ خود کتب نہیں پڑھتے تو کم از کم دوسروں کی حوصلہ شکنی تو مت کیجیے ۔ مختلف قسم کے القابات سے نوازتے ہیں لوگ ، اپنے آس پاس موجود لوگوں کو جب گفتگو کرتے ہوے سنتا ہوں تو یقین جانیے شرم سے زمین میں گڑ جانے کو جی چاہتا ہے کیونکہ آج کل کوئ چھوٹا کیا بڑا کیا کسی کی بات بھی فحش گالیوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی حتہٰ کے اساتذہ کی بھی زبان کسی قدر نا مناسب ہو چکی ہے بتا نہیں سکتا، لوگوں کی ایسی نیچر جہاں مجھے اپنے روابط بڑھانے سے روکتی ہے تو وہیں مطالعہ کی عادت پر بھی ایسے اثر انداز ہوتی ہے کہ جب آپ کے لوگوں سے روابط ہوں گے تو مختلف موضوعات جاننے کو ملیں گے اور آپ ان کا مطالعہ کریں گے ، اپنی پسند کی کتابوں کو انٹرنیٹ پر ڈھونڈنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ، انٹرنیٹ پر اپنے منتخب کردہ موضوع پر کتاب ڈھونڈنا از حد مشکل ہے یہ نہیں کے کتابیں موجود نہیں بلکہ معیاری کتابیں حاصل کرنا مشکل ہے۔
 

سیما علی

لائبریرین
میرے دفتر سے گھر کے راستے میں ایک جگہ کتابوں کے اسٹالز کیلیے مخصوص ہے، سال میں چھ آٹھ ماہ وہاں کوئی نہ کوئی کتابوں کا اسٹال لگا ہی رہتا ہے، ابھی چند دن پہلے نیا اسٹال لگا تھا، وہاں رکا، آٹھ دس کتابیں پسند کیں، ان کا ٹوٹل کیا تو بیوی کی شکل اور اسکے طعنے اور کوسنے یاد آگئے، دل پر پتھر رکا، بچوں کیلیے ٹافیاں خریدیں اور چلا آیا، روز گزرتا ہوں ادھر دیکھتا بھی نہیں :)
جناب !
کبھی کبھی اپنے شوق کے لیے ناراضگی مول لینے میں کوئی حرج بھابھی کے لیے اچھا سا تحفہ لے لیا کریں سب بھول جائیں گی انشاء اللہ۔
 

سیما علی

لائبریرین
متفق۔ میرا بھی یہی مشاہدہ ہے۔ خاکسار نے کنڈل، آئی پیڈ اور دیگر ٹیبلٹس پر کافی کوشش کی کہ ای بکس پڑھ سکوں لیکن جو اسکون اصلی کتاب ہاتھ میں لیکر پڑھنے میں ہے۔ وہ وہاں نہیں آتا۔
جناب سب سے بڑا سکون کتاب کو محسوس کرنا ہے ۔سرورق سے لیکر آخری صفحہ تک اور پھر اپنی ہو توُ لطف دُگنا -اتنی تقویت ہے کتاب کو ہاتھ میں لیکر پڑھنے میں۔۔۔اور انکا کوئی بدل نہیں۔۔۔۔۔۔
 

عمار نقوی

محفلین
جناب سب سے بڑا سکون کتاب کو محسوس کرنا ہے ۔سرورق سے لیکر آخری صفحہ تک اور پھر اپنی ہو توُ لطف دُگنا -اتنی تقویت ہے کتاب کو ہاتھ میں لیکر پڑھنے میں۔۔۔اور انکا کوئی بدل نہیں۔۔۔۔۔۔
درست فرمایا آپ نے۔ناچیز نے بھی موبائل اسکرین پر سیکڑوں کتابیں پڑھ ڈالی۔لیکن میرا ذاتی تجربہ بھی یہی کہتا ہے کہ جو بات اصل کتاب میں ہے وہ ای بک میں کہاں !!
 

عمار نقوی

محفلین
درست فرمایا آپ نے۔ناچیز نے بھی موبائل اسکرین پر سیکڑوں کتابیں پڑھ ڈالی۔لیکن میرا ذاتی تجربہ بھی یہی کہتا ہے کہ جو بات اصل کتاب میں ہے وہ ای بک میں کہاں !!
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر میں مطالعہ کے لئے صرف اصلی کتابوں پر منحصر رہوں گا تو پرھنے کی میری پیاس کبھی نہیں بجھ سکے گی اس لئے میں ای بک کواپنے لئے نعمت غیر مترقبہ سمجھتا ہوں۔
 
Top