نوجوان نسل میں کتب بینی کو کیسے فروغ دیا جائے ؟

زونی نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 5, 2012

  1. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    متفق۔ میرا بھی یہی مشاہدہ ہے۔ خاکسار نے کنڈل، آئی پیڈ اور دیگر ٹیبلٹس پر کافی کوشش کی کہ ای بکس پڑھ سکوں لیکن جو اسکون اصلی کتاب ہاتھ میں لیکر پڑھنے میں ہے۔ وہ وہاں نہیں آتا۔
     
    • متفق متفق × 3
    • زبردست زبردست × 1
  2. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    آنے والی نسلوں کیلئے شاید یہ عام بات ہو کہ انکی پیدائش ہی اس ڈیجیٹل زمانہ میں ہوئی۔ ہم قدیم انسان کیا کریں جنہیں کتب ہاتھ میں لیکر پڑھنے کی عادت ہے :(
     
    • متفق متفق × 4
  3. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    مطالعے کی عادت کا بھلا ہو، میں کہیں دو منٹ بھی فری ہو جاؤں تو کوئی نہ کوئی کتاب شروع کر لیتا ہوں۔ اب تو اتنی عادت ہو چلی ہے کہ سیل فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر، کنڈل، عام کتاب، غرض جو بھی ہاتھ آ جائے، چاہے کتنی بار پڑھ چکا ہوں کتاب کو، پھر بھی پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کئی بار تو بینک یا ٹکٹ کی لائن میں لگے ہوئے کئی صفحات پڑھ لیتا ہوں :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  4. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    12,747
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    سر جی تسیں تے گریٹ او
    جیندے رؤ خوش رؤ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,749
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    جو بات پتھر پر لکھی تحریر کی ہے وہ پرنٹڈ کتاب میں کہاں!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 5
  6. محمد علم اللہ

    محمد علم اللہ محفلین

    مراسلے:
    5,832
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Daring
    ۔
    اللہ ہمیں بھی بزرگوں کی نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔
    :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں اسکرین پر بہت زیادہ مطالعہ کا عادی ہوں جیسے بلاگز، میگزینز، اخبارات وغیرہ۔ البتہ کتب بینی کیلئے ایک خاص قسم کا ماحول چاہئے جو شاید آپکو کنڈل پر میسرہو۔ مجھے بہرحال لائبریری سے کتاب لیکر یا بازار سے خریدکر پڑھنے ہی میں لطف آتا ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,884
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    تو آپ کی پہنچ موسس کے ٹیبلٹس تک بھی ہے؟:)
     
    • زبردست زبردست × 1
  9. mfdarvesh

    mfdarvesh محفلین

    مراسلے:
    6,524
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    میرے خیال میں معیاری کتب کی فراہمی بھی ایک مسئلہ ہے اور بہت سارے مسائل کے ساتھ ساتھ
    ہمارے یہاں اکثر کتب جانبداری سے لکھی گئیں ہیں اور درست معلومات تک رسائی ممکن نہیں ہے، کاپی رائٹ منسوخ کا قانون بھی نہیں ہے اور ساتھ میں کتب کی قیمتیں ایک اور بڑا مسئلہ ہیں
    میرے خیال میں اچھے ادب کی مقامی زبان میں فراہمی بھی ایک مسئلہ ہے۔

    نیشنل بک فاؤنڈیشن اس سلسلے میں اچھا کام کر رہا ہے ۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  10. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,395
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    اب تک کی گفتگو بڑی دلچسپ رہی۔

    کتاب کا اپنا ایک لطف ہے اور ای بکس کا بھی اپنا لطف ہے تاہم ہم اور ہمارے جیسے بہت سے لوگوں کے لئے پہلی شناسائی کاغذ پر شائع شدہ کتابوں سے ہی ہوئی سو ہمارے لئیے وہی مقدم ہے تاہم ای بکس بھی کسی حد تک نعم البدل کا کام تو کرتی ہیں۔

    ہمارے ہاں کتاب لکھنا بہت کم ہوگیا ہے۔ پڑھنا اُس سے بھی کم ہو گیا ہے۔

    پھر کچھ ماحول اور کتب کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث بہت سی کتابوں تک رسائی بھی نہیں ہو پاتی۔

    کاپی رائٹ کا واقعی ایک باقاعدہ قانون ہونا چاہیے اور ناشر کی طرف سے مصنفین کو ملنے والے معاوضے کا بھی باقاعدہ اور طے شدہ طریقہ کار ہونا چاہیے۔

    نئے لکھنے والوں کو ناشر نہیں ملتے کہ وہ نئے لوگوں پر اپنا سرمایہ لگانا نہیں چاہتے۔

    اور پرانے لکھنے والوں کی کتابیں یہی ناشر بارہا چھاپتے ہیں اور مصنفین کو نہ ہونے کے برابر رائلٹی ملتی ہے۔

    پھر کاپی رائٹ بھی اکثر ناشر اپنے نام کرلیتے ہیں جو کہ مصنفین کے نام ہونے چاہیے۔
     
  11. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,395
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    یہ اشرافیہ والی بات آپ نے کتابوں کی قیمت کے حوالے سے کی ہے یا اُن کی خوش پیراہنی کی وجہ سے (گو کہ اس بھی سے قیمتیں ہی بڑھتی ہیں)؟
     
  12. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,395
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    اچھا خیال ہے۔
     
  13. محمد مبین امجد

    محمد مبین امجد محفلین

    مراسلے:
    315
    جھنڈا:
    Pakistan
  14. عباس اعوان

    عباس اعوان محفلین

    مراسلے:
    2,448
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Cool
  15. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,842
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    [​IMG]
     
    • زبردست زبردست × 2
  16. حماد علی

    حماد علی محفلین

    مراسلے:
    544
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    مختلف لوگوں کی مختلف آراء پڑھی یہاں اور ان سے کسی حد تک متفق بھی ہوں ۔ بات اگر نوجوان نسل کو کتابوں کی طرف مائل کرنے کی ، کی جائے تو میں یہی کہوں گا کے انسان فطرتاً آسانی پسند ہی جس کام میں اسے آسانیاں نظر آتی ہیں وہ اسی کی طرف راغب ہو جاتا ہے میرا ماننا تو یہی ہے کے آج کے دور میں کتب بینی کو اس حد تک مشکل عمل بنا دیا گیا ہے کے جو اس طرف راغب ہوتے ہیں انہیں بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں ذاتی طور پر اگر اپنی مشکلات بتاؤں تو ان میں سرِ فہرست کتب کی قیمتیں ہیں یعنی ایک طرح سے کتب کی عدم دستیابی بھلا ہو اس انٹرنیٹ کا کہ یہاں مطالعہ کے شوق کی کسی قدر تسکین ہو جاتی ہے ، اگر بات کالج اور سکولوں کی لائبریری کی کی جائے تو یقین جانیے ہائ سکول میں دو سال گزارے ، وہ عرصہ جہاں سے کتب بینی کا شوق بڑھا، وہاں لائبریری تو تھی پر اس میں لائبریرین کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایک بڑا سا تالا ان دو سالوں میں ایک لمحے کے لیے بھی دروازے سے نہ ہٹا ۔ کالج کی بات کی جائے تو اکثر یہاں بھی تالا ہی نظر آتا ہے مگر کبھی کبھی لائبریری کھلی بھی مل جاتی ہے پر اب اس مسئلہ کا کیا جائے کے لائبریری میں کتب کا فقدان ہے؟
    ایک اور مسئلہ جو ہے تو وہ لوگوں کا رویہ ہے اگر آپ خود کتب نہیں پڑھتے تو کم از کم دوسروں کی حوصلہ شکنی تو مت کیجیے ۔ مختلف قسم کے القابات سے نوازتے ہیں لوگ ، اپنے آس پاس موجود لوگوں کو جب گفتگو کرتے ہوے سنتا ہوں تو یقین جانیے شرم سے زمین میں گڑ جانے کو جی چاہتا ہے کیونکہ آج کل کوئ چھوٹا کیا بڑا کیا کسی کی بات بھی فحش گالیوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی حتہٰ کے اساتذہ کی بھی زبان کسی قدر نا مناسب ہو چکی ہے بتا نہیں سکتا، لوگوں کی ایسی نیچر جہاں مجھے اپنے روابط بڑھانے سے روکتی ہے تو وہیں مطالعہ کی عادت پر بھی ایسے اثر انداز ہوتی ہے کہ جب آپ کے لوگوں سے روابط ہوں گے تو مختلف موضوعات جاننے کو ملیں گے اور آپ ان کا مطالعہ کریں گے ، اپنی پسند کی کتابوں کو انٹرنیٹ پر ڈھونڈنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ، انٹرنیٹ پر اپنے منتخب کردہ موضوع پر کتاب ڈھونڈنا از حد مشکل ہے یہ نہیں کے کتابیں موجود نہیں بلکہ معیاری کتابیں حاصل کرنا مشکل ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  17. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,878
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جناب !
    کبھی کبھی اپنے شوق کے لیے ناراضگی مول لینے میں کوئی حرج بھابھی کے لیے اچھا سا تحفہ لے لیا کریں سب بھول جائیں گی انشاء اللہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,878
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جناب سب سے بڑا سکون کتاب کو محسوس کرنا ہے ۔سرورق سے لیکر آخری صفحہ تک اور پھر اپنی ہو توُ لطف دُگنا -اتنی تقویت ہے کتاب کو ہاتھ میں لیکر پڑھنے میں۔۔۔اور انکا کوئی بدل نہیں۔۔۔۔۔۔
     
  19. عمار نقوی

    عمار نقوی محفلین

    مراسلے:
    78
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Bookworm
    درست فرمایا آپ نے۔ناچیز نے بھی موبائل اسکرین پر سیکڑوں کتابیں پڑھ ڈالی۔لیکن میرا ذاتی تجربہ بھی یہی کہتا ہے کہ جو بات اصل کتاب میں ہے وہ ای بک میں کہاں !!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  20. عمار نقوی

    عمار نقوی محفلین

    مراسلے:
    78
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Bookworm
    لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر میں مطالعہ کے لئے صرف اصلی کتابوں پر منحصر رہوں گا تو پرھنے کی میری پیاس کبھی نہیں بجھ سکے گی اس لئے میں ای بک کواپنے لئے نعمت غیر مترقبہ سمجھتا ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر