نوجوان نسل میں کتب بینی کو کیسے فروغ دیا جائے ؟

زونی نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 5, 2012

  1. زونی

    زونی محفلین

    مراسلے:
    4,268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    کتاب بہترین دوست ہوتی ھے یہ مقولہ ہم نے بارہا سنا ھے لیکن موجودہ دور میں جیسے جیسے عام آدمی کیلئے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ممکن ہوتی جا رہی ھےپاکستان میں کتب دوستی دم توڑتی جا رہی ھے ،،،کتابوں کی جگہ انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن معلومات کا فوری ذریعہ بن چکے ھے ،،،تفریح کے جدید ذرائع کی موجودگی میں کتب بینی صرف لائبریریوں یا چند اہل ذوق تک محدود ہو گئی ھے خاص طور پہ نوجوان نسل اور بچوں میں کتب بینی سے لا تعلقی اور غیر سنجیدہ رویہ پایا جاتا ھے ،،، میں اکثر سوچتی ہوں کہ کیا نوجوان نسل وقت کی کمی کے باعث اس لا تعلقی کا شکار ھے یا کتابوں سے دوری بھی اقدار سے دوری کی طرح ہمارا قومی رویہ بنتا جا رہا ھے ؟؟؟؟ اس ضمن میں آپ کی رائے درکار ھے کہ نوجوان نسل اور خصوصی طور پہ بچوں کو اس طرف لانے کے لیے کتب کو عملی زندگی کا جزو بنانے کیلئے کیا اقدامات کیے جائیں کہ انفرادی رویوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے ؟؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 13
    • زبردست زبردست × 4
  2. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    کتب بینی سے دوری علم سے دوری ہے فی زمانہ لوگ معلومات اور علم کے حصول کے لیے شارٹ کٹ چاہتے ہیں
    ٹی وی اور انٹر نیٹ کو کتاب کا متبادل سمجھا جانے لگا ہے - سب سے پہلا قدم کتاب کی اہمیت کو تسلیم کرنے کا ہے
    کتب میلے اور کتابوں کو بطور تحائف دوستوں اور بچوں کو دینا بھی کارآمد ثابت ہوسکتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
    • زبردست زبردست × 1
  3. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,171
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    زونی اس کا ایک بہترین حل تو ڈیجیٹل کتب ہیں اور اسی سلسلے میں اردو ویب پر لائبریری کا کام بھی ہوتا ہے اور اس میں دلچسپی لینے والوں کی تعداد دیکھ کر لگتا ہے کہ لوگوں کو کتابوں تک رسائی دی جائے تو ان میں شوق اب بھی موجود ہے۔

    اس کے علاوہ آپ سوشل میڈیا اور آن لائن سائٹس اور ایپ استعمال کرکے بھی یہ شوق پیدا کر سکتے ہیں یا پہلے سے موجود شوق کو مہمیز کر سکتے ہیں۔

    ایک بہت ہی عمدہ کتب بینی اور اس کے فروغ کی سائٹ کا پتہ درج کر رہا ہوں، اسے دیکھنا ذرا بلکہ رجسٹر کر لینا۔

    Good Reads
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • غیر متفق غیر متفق × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  4. ساجد

    ساجد محفلین

    مراسلے:
    7,113
    موڈ:
    Question
    کتب کی بہت زیادہ قیمتیں ایک بڑا سبب ہے۔
    ہم نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ تین دوستوں نے ایک گروپ بنایا ہوا ہے۔ جب کوئی کتاب بہت مہنگی ملتی ہے تو اپنی باری کے حساب سے ایک دوست اس کی قیمت ادا کرتا ہے اور باقی دونوں بھی اس سے مستفید ہوتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 11
    • زبردست زبردست × 4
    • متفق متفق × 1
  5. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یہاں میرا اور محب علوی کا نظریاتی اختلاف شروع ہوجائے گا :)
    کتابیں چھپنی چاہیں :)
    فروخت ہونی چاہیں اور پبلیشنگ کو فروغ ملنا چاہیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 3
    • غیر متفق غیر متفق × 2
    • زبردست زبردست × 1
  6. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    دل خوش کردیا آپ کے جواب اور جذبے نے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 3
    • زبردست زبردست × 1
  7. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,171
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اچھی چیز ہے اختلاف۔

    فروخت ہونی چاہیے اور شائع بھی ہونی چاہیے مگر کیا ضروری ہے کہ پیپر پرنٹ پر ہی شائع ہو۔

    میں سمجھتا ہوں اور حالیہ کتابی سرگرمیاں بتا رہی ہیں کہ الیکٹرونک کتابیں زیادہ مقبول اور فروخت ہوں گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 3
  8. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    لیکن موجودہ رجحان اردو ویب سائیٹس کے بلا اجازت اور مفت میں اشاعت نے قارئین کو مال مفت دل بے رحم کی طرف راغب کیا ہے
    اور پبلیشر کو نقصان سے دوچار کرنے کا پورا ہتمام و سامان بھی کیا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • متفق متفق × 1
  9. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    اچھا نکتہ اٹھایا ہے زونی بہنا، سلامت رہیں ۔۔ فی الوقت میں تیل اور تیل کی دھار دیکھنے میں منہمک ہوں ۔۔ بشرطِ فرصت مقدور بھر جہل سمیت کچھ کہنے کے قابل ہوسکوں گا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,774
    موڈ:
    Cheerful
    بات ایک بنیادی مسئلے کتب بینی پر ہو رہی تھی۔ کچھ دوست اسے ایک ذیلی موضوع پیپر پرنٹ اور ای پرنٹ پر لے گئے۔
    خیر ، خاکسار نے کچھ عرصہ قبل اسی قسم کے مسئلے پر خیال آرائی کی تھی۔ وہ تحاریر اس دھاگے کی نذر کر رہا ہوں:
    کتاب بیزاری
    کلچر آف لٹریسی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 9
    • متفق متفق × 1
  11. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,171
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    عثمان اسی طرح بات سے بات چل پڑتی ہے ویسے آپ کے دونوں دھاگے عنوان سے مفید لگ رہے ہیں۔

    زونی کا شکریہ کہ اس نے ایسا مفید دھاگہ شروع کیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  12. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,774
    موڈ:
    Cheerful
    ذیلی موضوعات پر آپ کی دلچسپی درست ہے۔ دراصل میرا کہنے کا مطلب ہے کہ قاری کو کتاب کی طرف لانے کے لئے بنیادی محرک محض ٹیکنالوجی نہیں ہوسکتی۔ قارئین بالخصوص ترقی پذیر دنیا کے قارئین میں کتاب بینی سے دوری کی وجوہات کافی گہری ہیں۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 4
  13. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,171
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    عثمان کی پوسٹس پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں جو نکتہ آتے آتے رہ گیا تھا اور جو میرے نظر میں سب سے بنیادی اور اہم نکتہ ہے وہ ہے

    لائبریریوں کا فقدان

    لائبریری کمیونٹی اور نوجوانوں میں کتب بینی اور ان کی تعلیمی ضروریات پورا کرسب سے اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس طرف ایک عرصہ دراز سے بالکل بھی توجہ نہیں دی گئی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  14. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,171
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    میرے ذہن میں یہ منصوبہ ہے کہ پاکستان میں ایک ماڈل لائبریری قائم کی جائے اور پھر اس کی تشہیر کرکے لوگوں کو اس طرف راغب کیا جائے۔

    یہ کام اتنا کٹھن نہیں اگر دو چار دوست جن کے پاس پچاس سے زائد کتابیں موجود ہوں ، اس منصوبہ پر متفق ہو جائیں اور اس پر منصوبہ بندی کے لیے تیار ہو جائیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • متفق متفق × 2
  15. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,774
    موڈ:
    Cheerful
    لائبریری کی کمی بنیادی مسائل میں سے یقیناً ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تاہم غور کیجیے گا ، کہ کالج یونیورسٹی میں لائبریری کی سہولت ہونے کے باوجود طلبا نصاب یا فکشن سے ہٹ کر اور کچھ بھی پڑھنے کی ترغیب نہیں پاتے۔
    میرے خیال میں پاکستان میں تعلیمی نظام کو ابھی کافی سفر طے کرنا ہے۔ پھر کہیں جا کر ایسی پختہ ذہنی بلوغت کی حامل تہذیب پیدا ہوگی جو اپنے معاشرے میں کتاب کو اس کا صحیح مقام دے سکے۔
     
    • متفق متفق × 8
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  16. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    محب میں کچھہ کراچی کے احباب کو جانتا ہوں جو بک کلب کو متعارف کرارہے ہیں اپنے طور پر یا یوں کہہ لیں اپنی مدد آپ کے طورپر
    کچھہ معاشرتی مسائل ایسے بھی جو ہم ذاتی اور انفرادی سطح پر حل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں- کُتب بینی کے فروغ میں حکومت یا ارباب اقتدار
    کی طرف دیکھنا یا اُن سے کچھہ کرنے کی توقع رکھنا اس کا حل نہیں ہے
     
    • متفق متفق × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  17. ابوشامل

    ابوشامل محفلین

    مراسلے:
    3,253
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    اگر معاملہ صرف ’کتب بینی‘ کو فروغ دینے کا ہے تو ہمیں تھوڑی دیر کے لیے ناشرین کو ایک طرف رکھ دینا چاہیے :) اور اس وقت اس ذوق کو پروان چڑھانے کا صرف ایک راستہ ہے کہ نوجوان نسل جس طرف راغب ہے کتاب کو وہاں پہنچا دیا جائے یعنی موبائل اور انٹرنیٹ پر۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • متفق متفق × 4
  18. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,774
    موڈ:
    Cheerful
    گویا پیپر پرنٹ کی بجائے ای پرنٹ ، اور آپ کے خیال میں یہ بنیادی محرک ہوسکتا ہے ؟
    یا پھر آپ کے نزدیک بنیادی مسائل میں سے ایک مسئلہ کتاب کی عدم دستیابی ہے ، جو ای پرنٹ کی صورت میں آسان ہوسکتی ہے ؟ (متفق!)
    کتاب کو کاغذ کی بجائے سکرین پر پڑھنے کے لئے ای ریڈر ہیں۔ ای ریڈر کے خریدار سنجیدہ کتب بین ہیں۔ یعنی بات گھوم پھر کر کتاب سے وابستگی پر اتر آتی ہے نا کہ تیکنیک سے دلچسپی پر۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • متفق متفق × 1
  19. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    چھوٹے بچوں میں کتب بینی کے فروغ کیلیے والدین کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بچے لاشعوری طور پر اپنے والدین کی نقل کرتے ہیں، انہیں جو کچھ کرتے یا کہتے دیکھتے ہیں اسی کو نقل کرتے ہیں، اگر والدین گھر میں خود کتب بینی کریں اور بچوں کے ساتھ کتابوں پر بحث کریں تو ضرور بچوں میں بھی یہ عادت آئے گی اور جب کچھ ان کا دھیان اس طرف آئے تو ان کو دلچپسپ کتابیں دے کر اس شوق کو بڑھایا جا سکتا ہے (یہ اس خاکسار کا ذاتی تجربہ ہے)، لیکن افسوس وہی بات جو اوپر ایک دوست نے کہی، کتابیں بہت مہنگی ہو گئی ہیں اور اس پر ستم یہ کہ بچوں کی کتابیں اور زیادہ مہنگی ہیں، افسوس صد افسوس۔
     
    • متفق متفق × 9
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 3
  20. مہ جبین

    مہ جبین محفلین

    مراسلے:
    6,246
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اب تو والدین میں بھی کتب بینی کا شوق ختم ہوگیا ہے تو ظاہر ہے کہ بچوں میں بھی نہیں ہوگا، یہ واقعی ایک بہت گمبھیر مسئلہ ہے اس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے
     
    • متفق متفق × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4

اس صفحے کی تشہیر