نظر لکھنوی نذرانۂ عقیدت --- علامہ اقبالؒ

مجھے اندازہ ہوگیا آپ کو کون کون سے شعر نہیں ملینگے ۔ لیکن حیرت اس پر ہے کے یہ اشعار علامہ اقبال کے نام سے زبان زد عام اشعار ہیں کسی کو تو یہ نکتہ منظر پر لانا چاہیے....کچھ اور مشہور اشعار پیش خدمات ہیں ...ذرا فرمایے گا ...علامہ صاحب سے سرزد ہوئے ہیں یا نہیں ...
ایسے بےشمار نکات اہل فکر اپنی بساط کے بقدر منظر عام پر لاتے رہتے ہیں۔مگر کس کس کی زبان و قلم کوروکیے گا اس دنیائے کنٹرول سی کنٹرول وی میں ۔
 

اکمل زیدی

محفلین
ایسے بےشمار نکات اہل فکر اپنی بساط کے بقدر منظر عام پر لاتے رہتے ہیں۔مگر کس کس کی زبان و قلم کوروکیے گا اس دنیائے کنٹرول سی کنٹرول وی میں ۔
سرکار ...میرا مقصد نہ روکنا تھا نہ ٹوکنا ...بہرحال ... اقبال کا شعر نہیں تھا مگر شعر سے شاعر کا اقبال بلند لگ رہا ہے ...:)
 

x boy

محفلین
بھائی صاحب ..یہ بات معنوی اعتبار سے کہی گئی ہے ...اور ان کے اچھے مسلمان ہونے کا یه شعر بھی پتا دے رہا ہے ....دوسری بات یہ کے کسی بات پر اعتبار کرنے کے لئے اس زمانے میں موجود ہونا ملاقات یا مہمان نوازی کا تجربہ ضروری نہیں ...یقین یا کسی یقین والی سورسز کافی ہوتی ہیں ..اس اعتبار پھر آپ یہ کیسے سمجھو گے کے ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ........اس اعتبار سے تو آپ ذائقے اور چکھنے میں ہے الجھ جاؤگے ...امید ہے مطالب پہنچ گئے ..ہونگے ....
مجھے ایسا لگا ہے اسلئے کہہ رہا ہوں،،، اب آپکو بھی پتا لگ گیا ہوگا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال رحمہ اللہ علیہ کی طرف سے یہ اشعار نہیں ہیں۔۔۔
شخصیت کو میں اسطرح جانتا ہوں ،،،
میڈیا کی باتیں سورسس ، ریسورسس وقت کے ساتھ ساتھ اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اس لئے باخبر ذرائع پر بھی اس وقت تک اعتبار نہیں کرسکتے جب تک
اس بات کو دل و جان اور معاشرے کے حساب سے بیٹھ جائے۔ انتھی
بہت شکریہ
 
۔
مجھے اندازہ ہوگیا آپ کو کون کون سے شعر نہیں ملینگے ۔ لیکن حیرت اس پر ہے کے یہ اشعار علامہ اقبال کے نام سے زبان زد عام اشعار ہیں کسی کو تو یہ نکتہ منظر پر لانا چاہیے....کچھ اور مشہور اشعار پیش خدمات ہیں ...ذرا فرمایے گا ...علامہ صاحب سے سرزد ہوئے ہیں یا نہیں ...

حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے دابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات

-------------------------------------------------

اک فقر سکھاتا ہے صیاد کو مخچیری
اک فقر سے کھلتے ہیں اسرار جہانگیری
اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری
اک فقر سے مٹی میں خاصیت اکسیری
اک فقر ہے شبیری اس فقر میں ہے میری
میراث مسلمانی، سرمایہ شبیری
------------------------------------------------
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ دلگیری
(ارمغان حجاز)
-----------------------------------------
دیث عشق دو باب است کربلا و دمشق
یک حسین رقم کرد و دیگر زینب

تہران ہو گر عالم مشرق کا جنینوا
شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
-------------------------------------------

عجب مذاق ہے اسلام کی تقدیر کے ساتھ
کٹا حسین (ع) کا سر نعرہ تکبیر کے ساتھ
------------------------------------

جس طرح مجھ کو شہید کربلا سے پیار ہے
حق تعالیٰ کو یتیموں کی دعا سے پیار ہے

رونے والا ہوں شہید کربلا کے غم میں
کیا دُر مقصود نہ دیں گے ساقی کوثر مجھے
----------------------------

آں امام عاشقان پسر بتول (س)
سرد آزادے زبستان رسول (ص)
اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر
معنی ذبح عظیم آمد پسر
-----------------------
وسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید

زندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است
----------------------------------------
غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین (ع)، ابتدا ہے اسماعیل (ع)

صدق خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشق
معرکہ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق
ک فقر سکھاتا ہے صیاد کو مخچیر

نخچیری ہے
 
عجب مذاق ہے اسلام کی تقدیر کے ساتھ
کٹا حسین کا سر نعرہ تکبیر کے ساتھ
یہ شعر کس کا ہے اور کیا حقیقت ہے اس کے پیچھے؟؟
 
Top