شمشاد

لائبریرین
سچ ہے احسان کا بھی بوجھ بہت ہوتا ہے
چار پھولوں سے دبی جاتی ہے تربت میری
جلیل مانک پوری
 

سیما علی

لائبریرین
منور رانا نے جس کثرت سے اپنی شاعری میں لفظ ’’ماں‘‘ کا استعمال کیا ہے، ان کے معاصر شعرا میں کسی اور نے نہیں کیا ہے۔۔۔۔۔
بے لوث رشتوں کی خوبصورتی سے اپنے شعری کینوس کو سجانے والے منور رانا صاحب نے ’ماں‘ کے پاکیزہ موضوع کو اس قدر برتا ہے گویا انھوں نے اسے اپنے حق میں’ پیٹنٹ‘ کرالیا ہے۔ انھوں نے مختلف زاویوں اور پہلوئوں سے ماں پر اتنے اشعار کہے ہیں کہ ان کی الگ سے پوری ایک کتاب بن گئی۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ مالک انکے درجات بلند فرمائے آمین ۔۔
انکے ماں پر ہمارے پسندیدہ اشعار۔۔۔

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

میں نے روتے ہوئے پونچھے تھے کسی دن آنسو
مدتوں ماں نے نہیں دھویا وہ دوپٹا اپنا

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی

لبوں پہ اس کے کبھی بددعا نہیں ہوتی
بس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی
 

شمشاد

لائبریرین
لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہے
کون سے شہر میں ہوتا ہے کدھر ہوتا ہے
مصحفی غلام ہمدانی
 

سیما علی

لائبریرین
فنکار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
بجھتا ہوا دِیا نہ مقابل ہوا کے لا

دریا کا اِنتقام ڈبو دے نہ گھر تیرا
ساحِل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا

تھوڑی سی اور موج میں آ اے ہوائے گُل
تھوڑی سی اُس کے جسم کی خُوشبو چُرا کے لا


گر سوچنا ہے اہل مشیت کے حوصلے
میدان سے گھر میں اِک میت اُٹھا کے لا

محسن اب اُس کا نام ہے سب کی زبان پر
کِس نے کہا تھا اُس کو غزل میں سجا کے لا

محسن نقوی
 

سیما علی

لائبریرین
سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے
بقدرِ ظرف ہر اک آدمی سمندر ہے

ابھر کے ڈوب گئی کشتیِٔ خیال کہیں
یہ چاند ایک بھنور، چاندنی سمندر ہے

جو داستاں نہ بنے دردِ بیکراں ہے وہی
جو آنکھ ہی میں رہے وہ نمی سمندر ہے

نہ سوچیے تو بہت مختصر ہے سیلِ حیات
جو سوچیے تو یہی زندگی سمندر ہے

تو اس میں ڈوب کے شاید ابھر سکے نہ کبھی
مرے حبیب مری خامشی سمندر ہے
شکیب جلالی
 

شمشاد

لائبریرین
تلاش رزق کا یہ مرحلہ عجب ہے کہ ہم
گھروں سے دور بھی گھر کے لیے بسے ہوئے ہیں
عارف امام
 

شمشاد

لائبریرین
غم گساری کے لئے اب نہیں آتا ہے کوئی
زخم بھر جانے کا امکاں نہ ہوا تھا سو ہوا
اطہر نادر
 

سیما علی

لائبریرین
کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوریٔ بتاں سے
آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے
میر تقی میر
 

سیما علی

لائبریرین
میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا
وہ مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا
جاوید اختر
 

سیما علی

لائبریرین
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
مرزا اسد اللہ خان غالب
 
Top