سیما علی

لائبریرین
بہار ہو چکی اور شور بلبلو کا گیا
مرے دماغ سے اس گل کی ہائے بو نہ گئی

جعفر علی حسرتؔ
 

سیما علی

لائبریرین
وے صورتیں الہی کس ملک بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
سوداؔ دہلوی
 

شمشاد

لائبریرین
تیری صورت پر گمان دشت و صحرا ہائے ہائے
تیرے قدموں میں بہاریں زندگی اے زندگی
جلیل حشمی
 

سیما علی

لائبریرین
میں نیکی ہوں بُرائی کی جزاہوں
ہوں پانی، آگ کی لیکن سزا ہوں
قناعت کی ہے اطلس زیر خرقہ
میں اندر شاہجہاں بار گدا ہوں
میں چپ ہوں غنچہ صد لب کی مانند
میں مثل بوُ خموشی میں صدا ہوں
صداقت سے درازی عمر کی ہے
مثالِ سرو میں دائم ہرا ہوں
ہو مژدہ بھولے بھٹکے عاشقوں کو
کہ میں رحمان اُن کا رہنما ہوں
رحمان باباؒ ؒ
 

سیما علی

لائبریرین
فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

عدیم ہاشمی
 

سیما علی

لائبریرین
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جائوں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جائوں گا

احمد ندیم قاسمی
 

شمشاد

لائبریرین
یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو
یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں
خمارؔ بارہ بنکوی
 

سیما علی

لائبریرین
جہاں جہاں بھی ملے خار چُن لیے میں نے
کہاں کہاں پہ مرا ذوقِ غم پناہ نہ تھا
پہنچ کے یوں سرِ منزل بھلا دیا تم نے
میں ہم سفر تھا تمہارا غبارِ راہ نہ تھا
محسن بھوپالی
 

سیما علی

لائبریرین
تمہارا ہاتھ جو آیا ہے ہاتھ میں میرے
اب اعتبار کا موسم ہرا سا لگتا ہے

نکل کے دیکھو کبھی نفرتوں کے پنجرے سے
تمام شہر کا منظر کھلا سا لگتا ہے
منظر بھوپالی
 
Top