میرے والد صاحب سید خورشید علی ضیاء عزیزی جے پوری کی ایک غزل احباب کے لیے۔ضیائے خورشید سے انتخاب۔پھول سا کوئی ہم زباں اچھا

میرے والد صاحب سید خورشید علی ضیاء عزیزی جے پوری کی ایک غزل احباب کے لیے۔ضیائے خورشید سے انتخاب۔

پھول سا کوئی ہم زباں اچھا
پھول اچھے نہ گلستاں اچھا

غم نصیبوں کا ایک ہی آنسو
بلبل و گل کے درمیاں اچھا

کل نئی سوچ کی سحر ہوگی
آج وہ ہم سے بدگماں اچھا

ریگزاروں میں یا گلستاں میں
آپ کہیے کہ میں کہاں اچھا

منزلیں تو ہزار ملتی ہیں
اک مسافر رواں دواں اچھا
 
کل نئی سوچ کی سحر ہوگی
آج وہ ہم سے بدگماں اچھا

ریگزاروں میں یا گلستاں میں
آپ کہیے کہ میں کہاں اچھا

منزلیں تو ہزار ملتی ہیں
اک مسافر رواں دواں اچھا

یہ اشعار خاص طور سے پسند آئے ، بہت بہت داد قبول کیجیے
 
Top