1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $418.00
    اعلان ختم کریں

فارسی شاعری مہی گذشت کہ چشمم مجالِ خواب ندارد ۔ خسرو (مع منظوم ترجمہ)

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 6, 2013

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,553
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    مہی گذشت کہ چشمم مجالِ خواب ندارد
    مرا شبی است سیہ رو کہ ماہتاب ندارد
    گیا وہ چاند نظر کو مجالِ خواب نہیں
    شبِ سیہ کے مقدر میں ماہتاب نہیں
    نہ عقل ماند نہ دانش نہ صبر ماند نہ طاقت
    کسی چنین دل بیچارہء خراب ندارد
    رہے نہ ہوش و خرد اور نہ ہی صبر و شکیب
    کسی کا دل بھی یوں بیچارہ و خراب نہیں
    تو ای کہ بامہ من خفتہ ای بناز، شبت خوش
    منم کہ روز مراد من آفتاب ندارد
    تُو مرے چاند سے شب بھر رہا ہے محوِ نیاز
    میں وہ ہوں جس کے مقدّر میں آفتاب نہیں
    چو گویمت کہ بخوابم خوش است دیدن رویت
    نخند بیہدہ پر بیدلی کہ خواب ندارد
    میں کیا کہوں کہ ترا خواب بھی ہے عید مجھے
    نہ ہنس تو اس پہ کہ مجھ کو نصیبِ خواب نہیں
    زحالِ خسرو پرُسی، چہ پرسی اش کہ ز حیرتے
    بپیش روی تو جز خامشی جواب ندارد
    ہمارے حال کا خسرو سے پوچھ حیرت سے
    کہ تیرے سامنے جز خامشی جواب نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر