اقتباسات مرد کا کام عورت کو سمجھنا نہیں

محمد فہد

محفلین
مرد کا کام عورت کو سمجھنا نہیں ، اس کو محسوس کرنا ، اس کی حفاظت کرنا ، اس سے محبّت کرنا ہے -

عورت کو اگر اس بات کا علم ہو جائے کہ مرد اس کو سمجھنے لگا ہے ، یا اس کے جذبات کو جانچنے کا راز پا گیا ہے تو وہ فوراً تڑپ کر جان دے دی گی -

آپ عورت کیساتھ کتنی بھی عقل و دانش کی بات کریں ، کیسے بھی دلائل کیوں نہ دیں ، اگر اس کی مرضی نہیں ہے تو وہ اس منطق کو کبھی نہیں سمجھے گی -

اس کے ذہن کے اندر اپنی منطق کا ایک ڈرائنگ روم ہوتا ہے ، جسے اس نے اپنی مرضی سے سجایا ہوتا ہے -
اور وہ اسے روشن کرنے کے لیے باہر کی روشنی کی محتاج نہیں ہوتی .

اس لیے وہ کسی عقل ودانش اور دلائل کے معاملے میں مانگے کی روشنی پر ایمان نہیں رکھتی -

اس نے جو فیصلہ کر لیا ہوتا ہے وہی اس مسئلے کا واحد اور آخری حل ہوتا ہے -

از اشفاق احمد سفر در سفر صفحہ ١٤٥
 

زیک

تقریباً غائب
نقطہ نظر سے اختلاف کریں اور دلائل دیں۔ آپ نے سیدھا مصنف کو ہی رگڑا دے دیا۔:) جو اپنے دفاع کے لیے بھی ہم میں موجود نہیں۔
یہ لیں جواب آں غزل:

عورت کا کام مرد کو سمجھنا نہیں ، اس کو محسوس کرنا ، اس کی حفاظت کرنا ، اس سے محبّت کرنا ہے -

مرد کو اگر اس بات کا علم ہو جائے کہ عورت اس کو سمجھنے لگی ہے ، یا اس کے جذبات کو جانچنے کا راز پا گئی ہے تو وہ فوراً تڑپ کر جان دے دے گا -

آپ مرد کیساتھ کتنی بھی عقل و دانش کی بات کریں ، کیسے بھی دلائل کیوں نہ دیں ، اگر اس کی مرضی نہیں ہے تو وہ اس منطق کو کبھی نہیں سمجھے گا -

اس کے ذہن کے اندر اپنی منطق کا ایک ڈرائنگ روم ہوتا ہے ، جسے اس نے اپنی مرضی سے سجایا ہوتا ہے -
اور وہ اسے روشن کرنے کے لیے باہر کی روشنی کی محتاج نہیں ہوتا .

اس لیے وہ کسی عقل ودانش اور دلائل کے معاملے میں مانگے کی روشنی پر ایمان نہیں رکھتا -

اس نے جو فیصلہ کر لیا ہوتا ہے وہی اس مسئلے کا واحد اور آخری حل ہوتا ہے -
 

عرفان سعید

محفلین
دلائل سے اسے غلط ثابت کریں
میں تو آپ کے جواب سے بہت محظوظ ہوا۔ اس لیے مذاق میں یہ تبصرہ کیا۔
میرے محدود مشاہدات اور مطالعے کی روشنی میں انسان اور اس کے رویوں کو سمجھنے کے لیے Behavioral Sciences میں جتنی ٹھوس تحقیق ہوئی ہے اس کی روشنی میں مرد اور عورت کی تقسیم کے تحت انسانی رویوں کا مطالعہ غلط نتائج تک لے جاتا ہے۔ انسانی رویوں کی تفہیم کے لیے بہتر اور حقیقی ماڈل موجود ہیں۔ مرد و زن کی تفریق بے معنی ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
مرد کو اگر اس بات کا علم ہو جائے کہ عورت اس کو سمجھنے لگی ہے ، یا اس کے جذبات کو جانچنے کا راز پا گئی ہے تو وہ فوراً تڑپ کر جان دے دے گا -
اس جملے کو ثابت کرنے کے لیے حق الیقین ہونا لازمی ہے بصورت دیگر محض لفاظی ہے۔ اور اگر حق الیقین ہوتا تو مصنف اس جملے کو تحریر کرنے کے لیے زندہ نہ ہوتا! :)
 
دلائل فطرت ہے مرد کو جیسے دی گئی ہے ویسے عورت کو نہیں سوال یہ ہے ہم اسکی کس ادا پہ فدا ہوتے ہیں جواب یہ ہے اسکی نازک پن اسکی حسن اسکی ادائیں اسکی خواہشات اب ایک مرد ہوکر ہم اگر سوچیں عورت کو مرد کی پسندیدگی کیا ہوتا ہے جواب یہ ہے مختلف کوئی مخلص چاهتی ہے جیسے اسکی فطرت ہو
تو ضروری ہے اسے سمجها جائے اگر آپکی نزدیک وہ اہمیت رکهتا ہے حالات بدلتے رہتے ہیں وقت اور بدلتے حالات اور زمانے کے ساتھ نقطہ نگاہ اور نظریہ بهی مر جاتا ہے یہ اهم ہے آپ اسے سمجهو یہ بھی سہی ہے اپنی نظر آپ کے تحت انکی اپنی دنیا ہے
 
بائیسویں گریڈ کے "بابے" تھے مرحوم۔ "بیورو کریٹ صوفیوں" میں اعلیٰ درجہ ہے ان کا! :)
بایں ہمہ ، ان کی تحریریں غیر منظم گنجلکوں پر منحصر ہوتی ہیں جس میں مصنف چھوٹے چھوٹے حقائق اور قاری کی فکری سطحیت سے کھیلتے ہیں ۔ جس کی ایک مثال یہ اقتباس ہے ۔
اب دیکھیے ۔
یہ بات جو اقتباس کی بنیاد ہے عورت کو (سو کالڈ)سمجھے بغیر کہی جاسکتی ہے ؟ (خواہ اس سے کوئی متفق ہو یا نہیں کم از کم میں تو نہیں)
یقینا یہ نتیجہ موصوف نے عورت کو (اپنی دانست)سمجھ کر ہی اخذ کیا ہے ۔
 
ویسے میں اپنی رائے میں مندرجہ بالا دونوں عظیم مفکروں یعنی زیک اور موصوف مصنف سے متفق ہوں ۔ :)
جب کہ وہ آپس میں دست و گریباں ہیں ۔ دراصل زیک نے اس اقتباس کو سنجیدہ موقف سمجھ لیا ۔
موصوف نے پہلی غلط بات اپنے باقی ( خیلالات کی ) وضاحت کے لیے کہی ہے اور بس ۔
 

ہادیہ

محفلین
بائیسویں گریڈ کے "بابے" تھے مرحوم۔ "بیورو کریٹ صوفیوں" میں اعلیٰ درجہ ہے ان کا! :)
ایک بات کہوں بھائی۔۔
میں نے آپ کا تبصرہ بہت بار پڑھا۔۔ مگر مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ آپ نے اشفاق احمدمرحوم کے حق میں بات کی یا خلاف؟:confused2::noxxx:
 
Top