مرد و عورت کے بیچ یادداشت کی صلاحیت میں عدم فرق اور عورت کی ناقص العقلی کا معمہ

محمد سعد نے 'سائنس اور ٹیکنالوجی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 21, 2019

  1. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,399
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    بالکل! وہ اسلام والا حال تو نہیں کہ ابھی تک غلامی حلال کرتے پھر رہے ہیں
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,886
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    Women in Islamic Law: Examining Five Prevalent Myths | Yaqeen Institute for Islamic Research

    یہاں دو عورتوں کی گواہی پر بہت اچھا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مختلف علماء اور فقہاء کے یہاں اس سلسلے میں جو بھی نقطہ نظر پایا جاتا ہے، ان سب کو باری باری زیر بحث لایا گیا ہے۔

    پہلی تفہیم تو وہی ہے کہ عورتوں اور مردوں میں جسمانی لحاظ سے فرق ہے اسلئے دو عورتوں کی گواہی رکھی گئی ہے۔ کچھ معاملات میں عورتوں کی اکیلی گواہی ہی کافی سمجھی جاتی ہے جبکہ لین دین کے معاملات میں نہیں۔ رازی کی تحقیق کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ آؤٹ ڈیٹڈ ریسرچ ہے۔

    ایک اور تفہیم یہ بتائی گی ہے کہ عورتوں کے معاشرتی کردار اور گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے ایسا رکھا گیا ہے۔ مگر یہ قانون ہمیشہ عالمگیر نہیں رہا ہے۔ امیر معاویہ نے ام سلمہ کی گواہی کی بنیاد پر ایک رہائشی تنازعہ کا فیصلہ کیا تھا۔

    اب اگر احادیث کو روایت کرنے کے معاملے کو دیکھا جائے تو یہ زیادہ مشکل کام ہے۔ حدیث روایت کرنے کے لئے دو معیار رہے ہیں۔ ایک تو یاددشت کا اچھا ہونا (ضبط) اور دوسرا دیانت داری (عدالت)۔ اب اگر حدیث سائنس کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر عورت کی یادداشت کا کم ہونا کبھی بنیاد نہیں بنایا گیا۔ حضرت عائشہ کا شمار حدیث کے پانچ بڑے راویوں میں شمار ہوتا ہے۔ اکرم الندوی نے آٹھ ہزار سے زائد خواتین کی کہانیاں درج کی ہیں جنھوں نے ناصرف احادیث روایت کیں بلکہ نامور علماء کی استاد بھی رہی ہیں۔

    اسی بنیاد پر ابن تیمیہ اور ابن القیم نے دو عورتوں کی گواہی کو ضروری نہیں سمجھا ہے۔ ان کے نزدیک احادیث کو روایت کرنے میں ایسا کوئی فرق نہیں رکھا گیا حالانکہ حدیث روایت کرنے میں زیادہ احتیاط اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب عورتوں کی روایت کی گئی احادیث کو قابل قبول سمجھا جاتا ہے تو اگر عورت اپنے آپ کو دیگر معاشرتی معاملات میں گواہی دینے کے لئے اہل ثابت کر لیتی ہے تو عورت کی گواہی کو قبول کر لیا جانا چاہئے۔

    ابن القیم نے مذکورہ قرآن کی آیت پر یہ تفہیم لکھی ہے

    There is no doubt that the reason for a plurality [of women in the Qur’anic verse] is [only] in recording testimony. However, when a woman is intelligent and remembers and is trustworthy in her religion, then the purpose [of testimony] is attained through her statement just as it is in her transmissions [in] religious [contexts].[90]

    ابن القیم لکھتے ہیں کہ اگر ام سلمہ کی گواہی کو لیا جائے تو ان کی گواہی دیگر عام مرد گواہان سے زیادہ قابل اعتبار سمجھی جائے گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  3. عدیل عبد الباسط

    عدیل عبد الباسط محفلین

    مراسلے:
    142
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    چونکہ اسلام کی بنیاد وحی پر ہے، اس لئے اسلام کی تعلیمات عالمگیر اور ابدی ہیں۔
    سائنس سے متعلق یہ بات کہ
    اس سے مقصود سائنس کی تحقیر نہیں ہے، یہ ایک عظیم علم اور فن ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمایا ہے اور خود مسلمان سائنسدانوں نے اس کی بنیادیں فراہم کی ہیں (اگرچہ یہ اس دور کی بات ہے جب ’’اپنی اصلیت پہ قائم تھا تو جمعیت بھی تھی‘‘ اب تو ’’ تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من‘‘ والا حال ہے)۔ بہرحال، میں نے اپنی پوسٹ کے آخر میں اس اعتبار سے مغرب کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے اس علم و فن کو پروان چڑھایا اور انسانیت کے لئے سہولتوں کے دروازے کھول دئے۔ لیکن انسانی رویوں اور طرز ہائے عمل کے لحاظ سے صحیح اور غلط میں فرق، حق و باطل میں امتیاز اور اعلیٰ اخلاق و کردار کے جو پیمانے ہمیں اسلام نے فراہم کئے ہیں الحمد للہ وہ آج بھی ہمارے لئے کافی ہیں اور رہتی دنیا تک کافی رہیں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,886
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,399
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    Data Explorer

    گلوبل جینڈر رپورٹ میں
    149 ممالک میں پاکستان کا 148 نمبر ہے۔
     
    • غمناک غمناک × 3
  6. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,958
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    ایسی بات کر کے آپ صرف یہی ثابت کر رہے ہیں کہ آپ کو "کامن سینس" کی کمزوریوں اور سائنسی طریقہ تحقیق کے متعلق کچھ معلوم نہیں۔

    یہ رجحانات بدلتے بھی رہتے ہیں۔ ایک دور میں کمپیوٹر پروگرامنگ اور ناسا جیسے اداروں کے لیے بڑی بڑی کیلکولیشنز کرنا ایک طرح سے خواتین کا ہی شعبہ بنا ہوا تھا۔ شماریات یعنی سٹیٹسٹکس بھی خواتین کا شعبہ سمجھا جاتا تھا۔ آج ان تینوں شعبوں میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے۔ کیا اس وقت خواتین اس کام میں بہتر تھیں یا اب مرد اس کام میں بہتر ہیں یا یہ محض وقتی رجحانات اور تغیرات ہیں؟

    کیا آپ کو لگتا ہے کہ یادداشت کی کارکردگی کی پیمائش ایسا موضوع ہے کہ جس کا احاطہ سائنسی یا عقلی طریقے میں ممکن ہی نہیں؟

    بحیثیت مسلمان ہمارا دعویٰ ہے کہ ہمارے پاس اس سب کائنات کو بنانے والے خدا کا حقیقی پیغام موجود ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ کائنات کی جانچ پرکھ کے دیگر ذرائع سے ملنے والا علم، وحی کے بالکل مطابق ہونا چاہیے۔ ورنہ یہ دعویٰ تو ہندو بھی کر سکتے ہیں کہ عقل سے معلوم ہونے والی چیزیں غلط جبکہ ان کے مذہب میں موجود چیزیں حتمی سچائی ہیں۔

    ریسرچ پیپر کا حوالہ دے سکتے ہیں؟

    کیا آپ نے پیش کردہ ریسرچ پیپرز کا خلاصہ ہی پڑھ لیا ہے؟ یہ اسی سوال کے حوالے سے کی گئی تحقیقات ہیں کہ کیا مردوں اور خواتین میں مجموعی طور پر یادداشت کی صفت میں کوئی فرق ہے یا نہیں۔
    اگر آپ چاہیں تو آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ ان کی میتھڈالوجی میں کیا کمزوریاں ہیں اور اس کی "درست" تحقیق کیسے کی جانی چاہیے تھی۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  7. La Alma

    La Alma محفلین

    مراسلے:
    1,845
  8. La Alma

    La Alma محفلین

    مراسلے:
    1,845
    نوٹ: (یہ مراسلہ مختلف جگہوں سے کاپی پیسٹ کیا گیا ہے)

    “اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کرو ، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔
    انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ، ایسا کیوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو ، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے ، میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔
    عورتوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : کیا عورت کی گواہی ، مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا : جی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوچھا : کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے ، نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟ عورتوں نے کہا : ایسا ہی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی اس کے دین کا نقصان ہے.”


    ۲۳۵ ہجری سے پہلے وفات پانے والے محدثین کی کتب میں ان روایات میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بعد میں کہیں اضافہ ہوئے ہیں۔ مثلاً ابو داؤد طیالسی(متوفی ۲۰۴ ھ)۲۰؂ کی مسند، حمیدی (متوفی ۲۱۹ھ)۲۱؂ کی مسند، ابن الجعد (متوفی ۲۳۰ھ)۲۲؂ کی مسند، ابن ابی شیبہ (متوفی ۲۳۵ھ)۲۳؂ کی مصنف، وغیرہ میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں۔لگتا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ آہستہ آہستہ نبی اکرم سے نسبت پا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے سب سے پہلے یہ الفاظ سلمی۲۴؂ (متوفی ۲۳۸ھ) کی کتاب ''ادب النساء'' میں ملتے ہیں:

    حضرت زینب، یعنی زوجہ عبد اللہ ابن مسعود نے ناقصاتِ عقل والا جملہ نقل ہی نہیں کیا، جو براہ راست اس واقعہ کی شاہد تھیں۔ صحیح بخاری ومسلم کی مذکورہ بالا روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شایدنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ و خیرات پر ابھارنے کی یہ بات حضرت زینب ہی کو دیکھ کر شروع کی تھی، کیونکہ آپ صاحبِ ثروت خاتون تھیں۔اس لیے اگر وہ ناقصاتِ عقل والی بات کسی روایت میں نہیں بتاتیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ بات نبی پاک نے کی ہی نہیں

    ‎بعض راویوں نے 'قال عبد اللّٰہ' (حضرت عبد اللہ نے کہا) کو حکایت کے عام طریقے پر محض 'قال'( کہا) کردیا ہو گا، جب کہ ان کی نیت میں اس کا فاعل حضرت عبد اللہ ہی ہوں گے۔ لیکن سننے والے راوی نے اس 'قال' کی ضمیرِ فاعل کا مرجع (referent) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرار دے دیا ہوگا ، اور
    ‎اسی فہم کو آگے روایت کر دیا ہو گا۔

    ‎ناقصاتِ عقل و دین کی توضیح والا جملہ سیاق و سباق سے میل نہیں کھاتا۔ جب عورت کی تخلیق ہی اس طرح سے ہوئی ہے کہ وہ عقل میں ناقص ہے۔ وہ اس پیدایشی نقص کے سبب سے مرد کی عقل پر اثرانداز ہوتی ہے تو اس کا تو قصور ہی نہ ہوا، اس لیے کہ اس کا یہ پیدایشی نقص اس کے لیے عذر ہے۔اسے ایک چیز کی سمجھ ہی نہیں ہے ، تو وہ مجرم کس طرح سے ہوئی۔جرم تو تب تھا کہ وہ مکمل عقل و شعور کی مالک ہونے کے بعد ایسا کرتی۔ اس لیے دوزخ میں عورتوں کے زیادہ ہونے کی وجہ ناقابل فہم ہے۔

    ‎دین کے تمام احکام سے ثابت ہے کہ عورت مرد ہی کی طرح دین کی پوری پوری مکلف ہے۔ مثلاًدونوں ارتکابِ شرک پر دوزخ میں جائیں گے، اگر عورت کم عقل ہے تو اسے تو سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ شرک کیا ہے اور کیا نہیں ہے، پھر سزا کس بات کی؟ وغیرہ۔ لہٰذا حدیث کے متن پر یہ اضافہ دین کی باقی تمام تعلیمات کی نفی کرتا ہے۔جن کا مدارقطعی نصوص پر ہے۔ لہٰذا ادرست بات یہ ہے کہ ان کے زیادہ دوزخ میں جانے کا سبب یہی ہوناچاہیے کہ ان کو عقل و شعور تو پورا پورا ہے، لیکن اس کے ہوتے ہوئے وہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ گناہ کرتی ہیں ۔

    ‎واضح رہے کہ غلام عورت کو زنا کی آدھی سزا دی گئی ہے، اس لیے کہ معاشرے میں اس کے مقام کی وجہ سے اسے اس درجہ کا احصان۲۷؂ وتحفظ حاصل نہیں تھا جو آزاد عورت کو حاصل تھا۔ لہٰذا اس کی سزا تو کم ہو گئی، لیکن ایک عورت جو خدا کی طرف سے تھی ہی ناقصِ عقل ، اسے بعض چیزیں سمجھ ہی نہیں آسکتیں تو اس کی سزا کم کیوں نہ ہوئی؟ حد یہ ہے کہ تمام جرائم میں عورت کو مرد کے برابر سزا دی گئی ہے۔ مثلاً چوری کی سزا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے فاطمہ نامی عورت کے ہاتھ بھی کاٹے ہیں۔ کیوں یہ بات اس وقت پیش نظر نہ رہی کہ وہ ناقص العقل ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  9. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,907
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    روایات کی مد میں میری ریسرچ کچھ اس طرح ہے کہ یہ تمام کی تمام کتب ، اپنی اصل صورت میں دستیاب نہیں ہیں۔ لہذا یہ کہنا کہ اس میں کیا درست ہے اور کیا نہیں بہت ہی مشکل کام ہے۔ امام ابن الحجر العسقلانی لکھتے ہیں کہ ، احادیث یعنی روایات کے بہت سارے ورژن ہین، جو ورژن میں سمجھتا ہوں کہ درست ہے اور رسول اکرم نے ایسا کہا ہوگا، وہ میں نے فتح الباری ، صحیح البخاری میں درج کردئے ہیں۔ ( یہ ریفرنس بھی کتنا درست ہے، کہا نہیں جاسکتا ) ، گویا ، ان کتب کے نئے ایڈیشن، کوئی سات سو سال پرانے ہیں۔

    بنیادی سوال یہ ہے کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علی ہوسلم کی زبان سے قرآن مبارک ہم تک پہنچا، قرآن حکیم میں ایک بھی آیت عورتوں کی اس طرح تذلیل نہیں کرتی نظر آتی، تو کیا وجہ ہے کہ جو آیات خواتین کو عزت عطا کرتی ہیں، ان آیات کے مقابلے میں یہ روایات رکھی جائیں اور رسول اکرم سے منسوب کیا جائے کہ عورتیں ناقصات عقل کی نشانیاں رکھتی ہیں؟

    جو لوگ اپنی ہی ماؤں ، بہنوں ، بیویوں کو ناقص العقل قرار دیتے ہیں ، وہ بھول جاتے ہیں کہ رسول اکرم بھی کسی محترم خاتون کی اولاد تھے اور کسی محترم خاتون کے شوہر اور کسی محترم خاتون کے والد محترم۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ ان ناقص العقل خواتین کی فہرست میں حضرت آمنہ، حضرت ہاجرہ ، حضرت فاطمہ ، حضرت خدیجہ اور حضرت مریم بھی شامل ہیں؟ نعوذ باللہ ، کچھ اللہ تعالی کا خوف کیجئے اور ایسی روایات پرا ایمان رکھنے سے اجتناب کیجئے جو عقل کے کسی پیمانے پر پوری نہیں اترتی ہیں۔

    اللہ تعالی ، حضرت مریم کے بارے میں فرماتے ہیں

    سارے جہان کی عورتوں پراصطفی عطا کیا، پاکیزگی و بزرگی عطا فرمائی۔
    3:42 وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
    اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اﷲ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور تمہیں آج سارے جہان کی عورتوں پر برگزیدہ کر دیا ہے

    یہاں لفظ استعمال ہوا ہے "اصطفی" جس سے مصطفی بنا ہے۔

    یہ کیسے ممکن ہے کہ جن خواتین کو اللہ تعالی نے اصطفی عطا کیا ہو، ان کو کم تر خواتین کی لسٹ میں نبی اکرم اس طرح شامل کرسکتے ہیں؟


    یہی وہ روایات ہیں، جن کی مدد سے عورتوں کی تذلیل، مردوں کو غلامی پر مجبور کیا جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر، ان ہی کتب کی مدد سے، قرآن کی 20 فیصد زکواۃ کو ڈھائی فی صد قرار دے کر سارے عالم اسلام کی معیشیت تباہ و برباد کردی گئی ہے۔ ذرا آپ امریکہ ڈھائی فی صد ٹیکس کی مدد سے چلا کر دکھا دیجئے؟ وقت آگیا ہے کہ مسلمان بے مصرف روایات کے بارے میں یہ سوال کریں کہ آیا یہ روایت قرآن کریم سے ثابت ہے یا نہیں؟

    میری رائے میں قران حکیم کی آیات خواتین کو عزت عطا کرتی ہیں ، ان کی تدابیر کو سراہتی ہیں۔ ایس روایت بالکل بھی قرآن حکیم کے بنیادی پیغام کے خلاف ہے۔ چاہے وہ کسی بھی کتاب میں ہو۔ ان کتب پر ایمان رکھنے کا حکم نا تو نبی اکرم نے دیا تھا اور نا ہی اللہ تعالی نے دیا ہے۔ لہذا بہتر ہے کہ آیسی روایات کو شئر کرنے سے پہلے ، ان کو قرآن حکیم کی کسوٹی پر پرکھ لیا جائے۔


    خاتون کے دئے ہوئے "فتوی" کے ایک بہترین مثال قرآن حکیم سے ، حضرت صفیہ ، حضرت موس علیہ السلام کے بارے میں عقل و دانش سے بھرپور بیان دیتی ہیں۔ یہ دانش ، کم از کم قرآن حکیم میں کسی مرد کے حصے میں نہیں آئی۔ کیا سارے مرد ، ناقص العقل ثابت ہوتے ہیں؟

    28:26 قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ
    ان میں سے ایک (لڑکی) نے کہا: اے (میرے) والد گرامی! انہیں (اپنے پاس مزدوری) پر رکھ لیں بیشک بہترین شخص جسے آپ مزدوری پر رکھیں وہی ہے جو طاقتور امانت دار ہو (اور یہ اس ذمہ داری کے اہل ہیں)

    تو کن کتب پر ایمان رکھنا ہے، ؟؟
    2:136 (اے مسلمانو!) تم کہہ دو: ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس (کتاب) پر جو ہماری طرف اتاری گئی اور اس پر (بھی) جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب (علیھم السلام) اور ان کی اولاد کی طرف اتاری گئی اور ان (کتابوں) پر بھی جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیھما السلام) کو عطا کی گئیں اور (اسی طرح) جو دوسرے انبیاء (علیھم السلام) کو ان کے رب کی طرف سے عطا کی گئیں، ہم ان میں سے کسی ایک (پر بھی ایمان) میں فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی (معبودِ واحد) کے فرماں بردار ہیں
    3:84 آپ فرمائیں: ہم اﷲ پر ایمان لائے ہیں اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیھم السلام) اور ان کی اولاد پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ موسٰی اور عیسٰی اور جملہ انبیاء (علیھم السلام) کو ان کے رب کی طرف سے عطا کیا گیا ہے (سب پر ایمان لائے ہیں)، ہم ان میں سے کسی پر بھی ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے تابع فرمان ہیں

    معاف کیجئے گا بخاری اور ترمذی پر کچھ بھی نازل نہیں ہوا جس پر ایمان لانا ضروری ہو۔
    والسلام
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 29, 2019
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • زبردست زبردست × 1
  10. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,907
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    کیسے صحیح ہیں، کیا قرآن حکیم کی کسوٹی پر پوری اترتی ہیں؟
     
    • متفق متفق × 1
  11. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,886
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    اگر کاپی پیسٹ ہے تو حوالہ جات بھی شامل کر دیں تو اچھا رہے گا :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر