نیرنگ خیال

لائبریرین
چونکہ اس دھاگے کا عنوان مجھے پسند نہیں آیا۔ سو میں نے اپنی لڑی الگ بنا لی۔ اگر منتظم اس دھاگے کا عنوان بدلیں، تو میری یہ روداد بھلے ہی اس میں ضم کر دیں۔۔۔۔ :devil3:

محفلی کافر سے ملاقات
گاہ یوں ہوتا ہے کہ انسان گوشہ نشینی کے دن گزار رہا ہوتا ہے۔ بیرونی دنیا سے اس کا رابطہ برائے نام رہ جاتا ہے۔ بقول جون ایلیا۔۔۔ "ہم نے سلام کر لیا، تم نے جواب دے دیا"۔ ایسے میں کئی ایک آوازیں جو بلاتی ہیں آپ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور کئی ایک آوازیں آپ کو بلاتی نہیں ہیں۔ پھر کوئی ایک صدا جو آپ کو نیند سے چونکا دے۔ روزمرہ کی لگی بندھی مصروفیات سے توجہ ہٹانے پر مجبور کرے۔ تو آپ سوچتے ہیں کہ ہاں! اب کچھ ایسا کر لینا چاہیے کہ یہ جو گرد ذہن و دل پر جمی جاتی ہے یہ ہٹ جائے۔ یہ جو دھند سماجی روابط پر چھائی ہوئی ہے اب چھٹ جائے۔ ایسا ہی ایک پیغام مجھے زیک کی طرف سے ملا۔ کہ وقت کی کمیابی و دیگر وجوہات کے باوجود کچھ احباب سے ملاقات کا ارادہ ہے۔ اگر آپ بھی اس مجلس کا حصہ بن سکیں؟ ہم نے اس سوال کو گزارش سمجھا اور اس پیغام کو دعوت نامہ۔ قدرت نے ہمارا بھرم رکھا اور باقاعدہ دعوت نامہ کچھ ہی دیر میں تابش کی طرف سے بھی موصول ہوا کہ اگر اراد ہ ہے اس مجلس کا حصہ بننے کا۔ تو بقیہ تفصیلات بتاتے ہیں۔ بصورت دیگر یہ راز افشا نہ کیا جائے گا۔ اب ہمیں کھدبد لگ گئی۔ کہ اگر نہیں جاتے تو یہ لوگ کیا باتیں کرنے والے ہیں۔ یہ ذہین اذہان مل کر جانے کیا گل کھلائیں گے۔ کیسی باتیں ہوں گی۔ جن سے ہم محروم ہو سکتے ہیں۔ سو فوراً سے پیشتر جواب دیا کہ ہم کو اس خفیہ ملاقات میں شامل رکھا جائے۔

قصہ مختصر قریب چھے بجے ہم متعین مقام ملاقات پر پہنچ گئے۔ اور پتا چلا کہ وقت سات سے ساڑھے سات کے درمیان کا ہے۔ جس جگہ ملاقات کرنی تھی، وہاں ڈھونڈے سے بھی کوئی دو مرد اکھٹے بیٹھے نظر نہیں آئے۔ اور اکیلے کھڑے یوں ہی ہنس پڑے کہ ابھی کچھ دیر بعد یہاں باجماعت مردوں کا اکٹھ ہوگا۔ اب چاہے تو م پر پیش پڑھیں اور چاہیں تو نہیں، کیوں کہ "پیش" ہماری گفتگو میں بھی شامل رہی تھی اور کیا خوب شامل رہی تھی۔ یہ الگ بات کہ وہاں "م" نہ تھا۔ خیر یہ رموز تو وہی سمجھیں گے جو مجلس کا حصہ تھے، میں ان تفصیلات میں نہیں جاتا بلکہ اپنے موضوع کی طرف واپس پلٹتا ہوں۔
ہاں تو وہاں کثیر تعداد میں صنف نازک موجود تھیں ، اور چند ایک کا دیدار کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ بات درست ہے کہ میں ایک "کافر" سے ملاقات کو آیا ہوں لیکن اگر مزید اسی حالت میں یہاں رہا تو خود بھی کافر ہوجاؤں گا۔ سو پاس ہی ایک مسجد میں نماز مغرب ادا کرنے جا پہنچا، اور اللہ توبہ میں مشغول ہوگیا۔ اسی دوران تابش کا فون آگیا اور کہنے لگے کہ آپ تشریف لائے تھے کہاں گئے۔ میں کیا بتاتا کہ ایمان کو جو خطرہ مجھ سے لاحق تھا اس کے سدباب میں مصروف ہوں۔ اور اس بات سے قطعی نا آشنا تھا کہ جو گفتگو آگے ہونے والی ہے اس کے بعد مجھے کئی نوافل ادا کرنے پڑیں گے تو ہی خلاصی ہوگی۔

جب میں اور تابش وہاں اکھٹے بیٹھے تو تابش بھی دائیں بائیں دیکھ کرکہنے لگے کہ میرے ایک دوست نے یہ مقام تجویز کیا تھا۔ میں پہلی بار ہی آیا ہوں۔ اس وقت تک ہم نے جو اندازے تابش کے مزاج بارے لگائے تھے ان کو تابش کے دوست کے کاندھے پر منتقل کر دیا۔ کہ اب اتنی سادگی سے کہہ رہا ہے تو کیا جھوٹ کہہ رہا ہوگا۔ تھوڑی دیر میں زیک بھی آگئے، لمبا قد، بڑے بال اور دائیں بائیں لوگوں کو "ایلینز" کی طرح دیکھتے ہوئے گزرے ، تو میں ایک جھلک میں ہی پہچان لیا کہ ہو نہ ہو، یہ وہی کافر ہے جس سے ملاقات کرنے کو آئے ہیں۔ اوپر سے زیک کی سادگی دیکھیے، کہ ہم کو ان میزوں پر دیکھ رہے جہاں لڑکیاں موجود ہیں۔ میاں! اردو محفل پر جو پاکستانی محفلین ہیں ان کے پاس سے کوئی خاتون گزر جائے تو یہ دو دن کانپتے رہتے ہیں کجا یہ کہ ان کو ان میزوں پر دیکھا جائے جہاں کوئی صنف مخالف موجود ہو۔ میں نے تابش سے کہا اس سے پہلے یہ راہی بھٹک کر کسی خاتون سے ہمکلام ہو اور کہے کہ آپ نے چار پانچ "لونڈے" تو اکھٹے بیٹھے نہیں دیکھے، ان کو بلا لائیں۔ کچھ دیر میں سعد بھی آگئے، اور پھر امجد میانداد بھی۔ فاتح نے دیر سے آنے کی روایت قائم رکھی۔

گفتگو ہوتی رہی اور ہنسی مذاق چلتا رہا۔ ہر قسم کے موضوعات زیربحث رہے، ہڑپا کے کھنڈرات سے لیکر اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کے جنگلات تک، پومپیئے کے مضافات سے لیکر امجد میانداد کی کرامات تک، سبھی کچھ موضوع کا حصہ رہا۔فاتح نے میر کے ابیات پر روشنی ڈالی تو امجد نے دور جدید کے رنگین جھنڈوں کے حق میں فتوے جاری کیے۔ کچھ ثقیل موضوعات بھی زیر بحث رہے ۔ سعد اس ساری محفل میں ایک مسکراہٹ سے آگے نہ بڑھ سکے۔ یوں بھی وہ زیک اور فاتح کے درمیان بیٹھے 101 کا منظر پیش کر رہے تھے۔ اطراف کی دونوں "بٹس" آن ہوں تو درمیان والی کا آف ہونا ہی بنتا ہے۔ کچھ گفتگو اشارتاً شامل کر دی ہے اور بقیہ احباب کے ذہن رسا کی فہم پر چھوڑ دی ہے۔ تاکہ باقی احباب بھی کچھ شامل کرنا چاہیں تو ان کے پاس کمی نہ ہو۔

سوائے زیک کے باقی سب سے ملاقات تھی، سو زیک کے بارے میں ہی یہاں اپنے تاثرات شامل کرنا چاہوں گا۔ زیک سے ملنے سے قبل میں زیک کو ایک خشک، بور اور اگر سچ کہوں تو باقاعدہ قنوطی سمجھتا تھا۔ میری یہ رائے تھی کہ زیک گھومنے پھرنے کے شوقین، اپنی روزمرہ اور صحت کے حوالے سے حساس، سائنسی موضوعات پر بوریت کی حد تک عبور رکھنے والے اور بذلہ سنجی میں مبتدی۔ لیکن یہ رائے بدل گئی۔ زیک ایک ہنس مکھ، مذاق کو سمجھنے والے اور خوش مزاج شخص ثابت ہوئے۔ ان کے ہاں گفتگو میں گہرائی بھی ہے اور مزاح کی چاشنی بھی۔ وہ موضوع پر گفتگو کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں اور احباب کی موجودگی میں مذاق کا فن بھی۔ اور مجھے خوشی ہے کہ میں زیک سے ملا اور مجھے ان کی شخصیت کے اس پہلو تک رسائی حاصل ہوئی۔ میری اس "محفلی کافر" سے ملاقات بہت دلچسپ رہی اور اگر وہ آئندہ بھی کبھی ملنا چاہیں تو مجھے ازحد خوشی ہوگی۔یوں یہ خوبصورت شام بہت سی یادیں سمیٹے سمٹنے لگی اور رات کی تاریکی اپنے پر پھیلانے لگی تو ہم بھی اس محفل سے شاداں و فرحاں لاہور واپسی کی راہ پر ہولیے۔

نوٹ: جو تصاویر میں نے کھینچی تھیں، وہ تابش پہلے ہی شامل محفل کر چکے ہیں۔
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
ہاں تو وہاں کثیر تعداد میں صنف نازک موجود تھیں ، اور چند ایک کا دیدار کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ بات درست ہے کہ میں ایک "کافر" سے ملاقات کو آیا ہوں لیکن اگر مزید اسی حالت میں یہاں رہا تو خود بھی کافر ہوجاؤں گا۔ سو پاس ہی ایک مسجد میں نماز مغرب ادا کرنے جا پہنچا، اور اللہ توبہ میں مشغول ہوگیا۔
:rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor:
 

جاسم محمد

محفلین
سعد اس ساری محفل میں ایک مسکراہٹ سے آگے نہ بڑھ سکے۔ یوں بھی وہ زیک اور فاتح کے درمیان بیٹھے 101 کا منظر پیش کر رہے تھے۔ اطراف کی دونوں "بٹس" آن ہوں تو درمیان والی کا آف ہونا ہی بنتا ہے۔
جیسے دو ملاؤں میں مرغی حرام ہوتی ہے۔ ویسے ہی دو ڈاکٹروں میں بیچارے ایک سائنسدان کی کہاں چلنی تھی :)
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
یار اک گل تے دس
"یہ قلمی بواسیر کیسے ہوتی ہے"
ہم تو ترستے ہیں اس طرح لکھنے کو اور جناب نے ایک دن میں نہ صرف اتنا کچھ سوچا بلکہ لکھ بھی لیا
آخیر ہے نینو اخیر ہے
محبت اے شاہ صیب۔۔۔ جو لکھیا۔۔۔ جیویں لکھیا۔۔۔ تسی ہمیشہ ہی مان ودھایا۔۔۔۔ :redheart:
 

جاسم محمد

محفلین
سوائے زیک کے باقی تمام دوستوں سے تو مل چکا تھا اور زیک کے متعلق میری بد گمانی یہ تھی کہ انتہائی خشک مزاج ہو ں گے لیکن ان کی علمی گفتگو کے ساتھ ساتھ قہقہوں کی آوازوں میں ان کی آواز ہرگز کہیں دبی ہوئی محسوس نہ ہوئی اور ہر قہقہہ مجھے میری بد ظنی پر شرمندہ کرتا رہا۔
سوائے زیک کے باقی سب سے ملاقات تھی، سو زیک کے بارے میں ہی یہاں اپنے تاثرات شامل کرنا چاہوں گا۔ زیک سے ملنے سے قبل میں زیک کو ایک خشک، بور اور اگر سچ کہوں تو باقاعدہ قنوطی سمجھتا تھا۔
کہیں آپ دونوں ایک دوسرے کا سرقہ تو نہیں کر رہے؟ :thinking:
 
بہت خوب حال سنایا اس ''کافر" کا!
زبردست
نہ صرف حال سنایا بلکہ اس کفر پر بیعت بھی ہو آئے ۔ :)
پہلی ملاقات میں نہ صرف سب چھاپ تلک چھن گئیں نین بھائی کی نیناں ملتے ہی بلکہ لگتا ہے کہ سہاگن بھی ہو گئے ۔ :)
نہ جانے کیا تھا اس پریم بھٹی کے مدھوے میں ۔ :)
ان ادھم باتوں کا اشتیاق ہو چلا کہ جن کا ایسا اثر ہوا رنگ رجوا نے اپنے رنگ میں رنگ ہی لیا ۔
 
ہاں تو وہاں کثیر تعداد میں صنف نازک موجود تھیں ، اور چند ایک کا دیدار کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ بات درست ہے کہ میں ایک "کافر" سے ملاقات کو آیا ہوں لیکن اگر مزید اسی حالت میں یہاں رہا تو خود بھی کافر ہوجاؤں گا۔

:thinking:

گو یہ کوئی بہت زیادہ ہوش ربا اور مردانہ وار قسم کا الزام نہیں لیکن پچھلے دس بارہ سال میں گزرے سینکڑوں محفلین کو ایک مشکل ترین سوال کا یک پہلوی جواب ضرور مل گیا ہو گا۔ :winking:
زیک ۔۔آئی ایم سوری:)
 
نہیں بھئی ایسی تحاریر الگ لڑی میں ہی اچھی لگتی ہیں۔
اور آپ نے صرف روداد لکھی ہی نہیں ہے، بلکہ روداد لکھنے کا حق ادا کر دیا ہے۔
اور شکر ادا کر رہا ہوں کہ مصروفیت کے سبب روداد نہ لکھ سکا۔ ایویں مارکیٹ ویلیو ڈاؤن ہو جانی تھی۔
 

جاسم محمد

محفلین
گو یہ کوئی بہت زیادہ ہوش ربا اور مردانہ وار قسم کا الزام نہیں لیکن پچھلے دس بار سال میں گزرے سیکنڑوں محفلین کو ایک مشکل ترین سوال کا یک پہلوی جواب ضرور مل گیا ہو گا۔ :winking:
کوئی تو وجہ ہوگی جو اس ’خفیہ ‘ ملاقات کی رپورٹ حساس اداروں تک پہنچ گئی۔ :sneaky:
Capture.jpg
 

محمداحمد

لائبریرین
زیک سے ملنے سے قبل میں زیک کو ایک خشک، بور اور اگر سچ کہوں تو باقاعدہ قنوطی سمجھتا تھا۔ میری یہ رائے تھی کہ زیک گھومنے پھرنے کے شوقین، اپنی روزمرہ اور صحت کے حوالے سے حساس، سائنسی موضوعات پر بوریت کی حد تک عبور رکھنے والے اور بذلہ سنجی میں مبتدی۔ لیکن یہ رائے بدل گئی۔ زیک ایک ہنس مکھ، مذاق کو سمجھنے والے اور خوش مزاج شخص ثابت ہوئے۔ ان کے ہاں گفتگو میں گہرائی بھی ہے اور مزاح کی چاشنی بھی۔ وہ موضوع پر گفتگو کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں اور احباب کی موجودگی میں مذاق کا فن بھی۔ اور مجھے خوشی ہے کہ میں زیک سے ملا اور مجھے ان کی شخصیت کے اس پہلو تک رسائی حاصل ہوئی۔ میری اس "محفلی کافر" سے ملاقات بہت دلچسپ رہی اور اگر وہ آئندہ بھی کبھی ملنا چاہیں تو مجھے ازحد خوشی ہوگی۔یوں یہ خوبصورت شام بہت سی یادیں سمیٹے سمٹنے لگی اور رات کی تاریکی اپنے پر پھیلانے لگی تو ہم بھی اس محفل سے شاداں و فرحاں لاہور واپسی کی راہ پر ہولیے۔

جو بھی ملا اُسی کا دل حلقہ بگوش یار تھا
اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا

فراز نے تو نہ جانے کس کے لئے کہا تھا لیکن زیک بھائی سے مل کر آنے والے سب کے سب لوگ اُن کے مداح نظر آتے ہیں۔

ہمیشہ کی طرح عمدہ تحریر اور جیتی جاگتی روداد !

بہت خوب نین بھائی!
 
Top