محفلین میری نظر میں

لاریب مرزا

محفلین
بہت خوب لکھا!!
ہماری تعارفی پوسٹ پر بھی عارف کریم بھائی نے ہی حملہ کر کے ہمیں خوش آمدید کہنے کی بجائے ایک تاریخی مراسلہ ارسال کیا تھا۔ اور یہ تاریخ آپ نے بھی دوہرا دی.. :)
 
بہت خوب لکھا!!
ہماری تعارفی پوسٹ پر بھی عارف کریم بھائی نے ہی حملہ کر کے ہمیں خوش آمدید کہنے کی بجائے ایک تاریخی مراسلہ ارسال کیا تھا۔ اور یہ تاریخ آپ نے بھی دوہرا دی.. :)
اتنی پرانی بات ابھی تک یاد ہے :heehee:
 

لاریب مرزا

محفلین
نیرنگ خیال بھائی!! سب سے پہلے تو یہ کہ آپ کا نام لکھتے ہوئے گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ کسی نے تنگ آ کر ہی آپ کے نام کا مخفف ڈھونڈا ہے۔ :D لہذا اب سے ہم بھی وہی مخفف استعمال کریں گے۔ :)
اور جملہ ادھورا کیوں چھوڑ دیا؟؟ پورا کریں۔
 
پچھلے کچھ دنوں سے سوچ رہا تھا کچھ نا کچھ لکھ کر اپنی اردو اچھی کر لینی چاہیے۔ پھر خیال آیا کیوں نا محفلین کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار ہی کیا جائے ۔ اس سے محفل اور محفلین کے متعلق میری محبت کا اظہار بھی ہو جائے گا اور اسی طرح آپ بھی جان سکیں گے کہ میں آپ کے متعلق کتنا جانتا ہوں اور کیا رائے رکھتا ہوں۔ اس مقصد کے تحت ہاتھ میں لیپ ٹاپ لے کر لکھنے بیٹھ گیا ہوں۔

گوکہ 2011 سے محفل پر ہوں ، لیکن میں مسلسل ایکٹیو نہیں رہا، محفلین کے متعلق میرا مشاہدہ محفل پر اپنےمختصر دورانیے پرمقیط ہے ۔ اپنی ناقص معلومات پر مبنی رائے اور اردو سے کم واقفیت ہونے کے باعث لکھی گئی بہت سی چیزیں غیر درست ہو سکتی ہیں۔ فہرست تیار کرنے میں کسی قسم کا امتیاز نہیں ، جیسے جیسے نام یاد آتے گئے میں لکھ رہا ہوں۔

1. الف عین : اعجاز صاحب محفل پر 2005 سے ہیں۔ غالباً محفل کے بانیوں میں سے ہیں۔ان کا تعلق انڈیا سے ہے، ہندوستان کے مختلف علاقوں میں رہے ہیں۔ اب زیادہ وقت دکن کے حیدرآباد میں رہتے ہیں ۔ فی الحال سمت میگزن چلاتے ہیں ۔ اردو زبان سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔ اردو کی انٹرنٹ پر ترویج میں ان کا اہم حصہ رہا ہے۔ تجربے اور عمر میں ہم سب سے بہت بڑے ہیں ۔محفلین انہیں انکل کہتے ہیں بعض محبت سے چاچو کہتے ہیں ۔ محفلین کے کلام کی اصلاح کرتے ہیں۔ امید ہے آپ کا سایہ شفقت ہم محفلین پر ہمیشہ قائم دائم رہے گا۔

2. محمد یعقوب آسی : پاکستان کے ٹیکسلا علاقے سے ہیں۔ بزرگ ہستی ہیں ۔ حال ہی میں عمرہ کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔ محفلین کے کلام کی اصلاح کرتے ہیں۔ اردو ادب میں بہت ماہر ہیں۔ آج کل آنا بہت کم کردیا ہےمحفل پر۔ ان سے گزارش ہے آتے رہا کریں تاکہ ہم آپ سے کچھ سیکھ سکیں۔

3. سارہ خان : پروفائل کے مطابق ، آپی تقریباً نو سال پہلےمحفل پر اپنا اکاؤنٹ بنائیں تھیں۔ شاید کچھ عرصہ محفل پر غیر فعال رہیں۔ اس کے بعد اب دوبارہ محفل پر نظر آ رہی ہیں۔ مجھے ان کے مراسلے بہت دلچسپ لگتے ہیں ۔ حا ل ہی میں 15000 مراسلوں کا سنگ میل عبور کیا ہے۔ان سے ایک گزارش ہے کہ آپ محفل سے کھبی دور نا ہوں۔

4. حمیرا عدنان : کویت کی اس خاتون نے محفل پر آخر اپنا سکہ جمع لیا ہے۔ کون ہے جو ان صاحبہ سے واقف نہیں ۔ گپ شپ کے علاوہ تکنیکی امور میں نا صرف دلچسپی رکھتی ہیں، بلکہ محفلین کے موبائل فون کے سافٹ ویر مسائل بخوبی حل کر لیتی ہیں۔ محفل پر روزانہ کچھ نا کچھ لکھتی رہتی ہیں لیکن کہتی ہیں، آتا جاتا مجھے ککھ نہیں! حمیرہ آپی محفل کی اتنی عادی ہو چکی ہیں کہ ان کے مراسلے پڑھے بغیر ہم بھی محفل کی زیارت نامکمل سمجھنے لگے ہیں۔

5. نور سعدیہ شیخ : پروفائل کے مطابق مئی 2014 میں محفل جوائن کیا ہے۔میرا ماننا ہے یہ شاعری کے نام پر نثر لکھتی رہی ہیں،اور نثر کے نام پر پتا نہیں کیا لکھتی رہی ہیں ۔ فلسفہ ، منطق سائنس ، تاریخ اور نا جانے کن کن موضوعات میں محترمہ کی دلچسپی ہے ۔پرسوں، انہوں نے مغلیہ دور کی فیس بک ٹائم لائن بنائی ہے ۔ کافی دلچسپ انداز میں تاریخ سمجھائیں ہیں۔ ویسے میں ان کی تعریف کرنےکے بجائے طنز ہی کرتا رہا ہوں ، اس لیے اوپر لکھی باتوں پر یقین مت کیجیے گا۔

6. تجمل حسین : بیس بائیس سال کے نوجوان لڑکے ہیں۔ دن بھر کچھ جاب کرتے ہیں لیکن وقت ملتے ہی محفل پر آجاتے ہیں۔ اچھی چیزوں کی تعریف کرتے ہیں بری چیزوں سے دور رہتے ہیں۔ پنجاب کے ساہیوال نامی شہر میں رہتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے کہا تھا ، آپ کے شہر کا نام مجھے سننے میں اچھا لگتا ہے تو یہ جناب نے پوچھ لیا، کیا صرف سننے میں اچھا ہے، دیکھنے میں اچھا نہیں لگتا ؟ اب میں کیا جواب دیتا ، جبکہ میں نے ساہیوال کبھی دیکھا ہی نہیں ۔ لیکن اتنا ضرور ہے، جہاں تجمل حسین جیسے اچھے دوست بستے ہیں وہ جگہ دیکھنے میں بھی اچھی ہی ہوگی۔

7. مقدس : میں نے جب محفل جوائن کی تھی تو یہ محترمہ نے محفل پر دھوم مچا رکھی تھیں۔ میں دیکھتا رہا ،کتنی آسانی سے انہوں نے تمام محفلین کا دل جیت لیا ہے ۔ اور محفلین انہیں پسند کیوں نا کرے ؟ یہ اتنی اچھی اچھی باتیں جو کرتی رہتی ہیں۔ جب بھی کوئی مراسلہ نظر سے گزرے تو ایسا لگتا ہے کہ کوئی ننھی بچی ہنستی ہوئی بات کر رہی ہے ۔ کچھ عرصے سے محفلین کو شکوہ رہا ہے کہ محفل سے غائب ہو چکی ہیں۔ شاید دیگر ذمہ داریاں بڑھنے کی وجہ سے یہ پہلے جیسا وقت نا دے سکی ہوں۔ لیکن خوش کی بات یہ ہے کہ سارہ آپی کی طرح، اب دوبارہ محفل پر نظر آ رہی ہیں۔ امید کرتے ہیں محفل پر آکر اپنے ساتھ ساتھ ہم سب کا دل بہلاتی رہیں گی۔

8. ابن سعید : سعود بھائی یہاں کے ایڈمن ہیں ۔ خود کو خادم کہلوانا پسندکرتے ہیں۔ دلی کے جامعہ ملی اسلامیہ سے انجینیرنگ کی ہے۔ جہاں اردو نے جنم لیا، اس سرزمین سے ان کا تعلق ہے۔ انہیں اردو پر جو گرفت ہے ، اس بات کا اندازہ آپ اتنی بات سے لگا سکتے ہیں کہ جو بھی جملہ لکھتے ہیں ، وہ معیار بن جاتا ہے ہم جیسوں کے لیے۔ کمپیوٹر سائنس انجینیر ہونے کی وجہ سے تکنیکی چیزوں میں بہت ایکس پرٹ ہیں۔ فی الحال شمالی امریکہ کے ورجینا میں رہتے ہیں۔پوری محفل کو انہوں نے سنبھال رکھا ہے۔ میری خواہش ہے کہ بھیا ایسا منصوبہ تیار کریں کہ انڈیا کے وہ لوگ، جو کمپیوٹر پر اردو نہیں لکھ سکتے ، وہ بھی اردو لکھنا شروع کردیں۔ کیوں کہ انڈیا میں اردو بول چال عام ہے لیکن بہت لوگوں کو اردو رسم الخط میں لکھنا نہیں آتا۔

9. محمد وارث : اردو محفل کے منتظم ہیں۔ سیالکوٹ پاکسان سے تعلق ہے۔ آپ کا لکھا پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ لکھائی پر آپ بہت گرفت رکھتے ہیں۔ کافی وسیع مطالعہ ہے۔فارسی کلام مع ترجمہ نام کی لڑی ہے، وہاں روزانہ فارسی کلام اردو زبان کے ترجمے کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ پتا نہیں مجھ جیسوں کو کتنے برس لگیں ان صاحب جتنا وسیع مطالعہ کرنے میں۔ سنجیدہ ہیں اور رعب دار ہیں۔ ان تمام خوبیوں کے مالک ہیں جو اس عمر کے آدمیوں میں پائی جاتی ہیں۔

10. محمد احمد : اردو محفل کے شاعر ہیں۔ غالباً کراچی سے ہیں۔ محمد احمد صاحب اردو محفل کے بہت پرانے شاعر ہیں ۔ میں نے ان کی شاعری ریختہ پر بھی دیکھی ہے۔ ان کی تحریر بہت متاثر کن ہوتی ہے۔ حا ل ہی میں ایک تحریر پڑھا میں جس میں انہوں نے حجام کو زلف تراش کہا ہے۔ بہت خوب لکھتے ہیں۔ محمد احمد صاحب کی ہر پوسٹ مجھے اچھی لگتی ہے۔ شاعری اور نثر میں بیک وقت گرفت ہے۔ میں زیادہ محفلین کو نہیں جانتا جو شاعری کے ساتھ اچھا لکھ سکتے ہوں۔

11. محمد خلیل الرحمٰن : سر محفل کی بڑی دلچسپ شخصیت ہیں۔ کسی بھی قسم کی شاعری کی پیروڈی بنا لیتے ہیں۔ اراکین کے سفر ناموں میں کچھ روز قبل سفر منطقہ غربیہ نام سے اپنا ایک سفر محفلین کے ساتھ شیر کیا ہے۔ سفر نامے کا عنوان کافی مشکل سا لگا لیکن تحریر بہت دلچسپ اور مزاحیہ رہی۔ان انہیں پڑھنے کے بعد لگتا ہے وقت نکال کر پڑھنا نقصان دہ نہیں یا دیگر الفاظ میں کہ سکتے ہیں کہ پورے پیسے وصول ہوئے !

12. نیرنگ خیال : اصل نام ذولقرنین ہے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے ہیں۔ مجھے ان کی حس مزاح کا پہلو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔ خوب تحریر لکھتے ہیں بھیا۔ ان کی ایک تحریر سے پتا چلا محمد احمد صاحب اور ذولقرنین بھیا میں کافی اچھی دوستی ہے۔ عید کے دن لیٹ کر ریموٹ تک ہاتھ پہنچانے کی تحریر اور مسجد کے باہر جوتیوں کا جس طرح تذکرہ کیا ابھی تک یاد ہے ، ہر چیز میں مزاح بکھیرتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ان کی طرح لکھ سکوں۔

13. باباجی : فراز بھائی لاہور سے ہیں۔کچھ دنوں پہلے ایک دھاگہ کھول کر تمام محفلین کا شکریہ ادا کیا، پڑھ کر معلوم ہوا محفل اور محفلین سے کتنی محبت ہے فراز بھائی کو۔ ہم جیسوں کی ہمت افزائی کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ انہیں محفل میں دیکھ کر اچھا لگتا ہے۔

14. افضل حسین : ہندوستان کے مشہور معروف شہر کلکتے سے ہیں۔ مزاحیہ کمنٹس زبردست کرتے ہیں۔ میرے اچھے تعلقات ہیں ان سے۔بہت عزت کرتا ہوں اور کافی کچھ سیکھتا رہتا ہوں۔

15. فرخ منظور : یہ صاحب مجھے نہیں جانتے لیکن میں انہیں ان کے کلام کے انتخاب سے پہچانتا ہوں اور عزت کرتا ہوں۔ عمدہ ذوق کے مالک ہیں۔ یوں ہی ہمارے ساتھ اچھی اچھی شاعری شیئر کرتے رہیے فرخ صاحب۔اور ہو سکے تو وقت نکال کر کچھ لکھتے بھی رہا کیجیے گا۔

16. فاتح : محفل کے شاعر ہیں ۔ سائنس میں بے حد دلچسپی ہے۔ ہر چیز کے لیے ثبوت مانگتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر مجھے بھی عادت پڑ گئی ثبوت مانگنے کی۔ حال ہی میں انہوں نے سگریٹ کا نیا ورژن محفلین سے شیر کیا ہے جو مجھے بھی پسند آیا ۔ اینڈرائیڈ فون استعمال کرتے ہیں ، ایپل کی مارکٹنگ انہیں پسند نہیں۔ کہتے ہیں ، ایپل والے سستا مال مہنگے میں بیچتے ہیں ۔ جس دن اچھا مال کم قیمتوں میں بیچنے لگیں گے تب یہ بھی خریدیں گے۔ ویسے میں بھی ان کی بات سے اتفاق کرتا ہوں، لیکن مشکل ہے کہ ایپل کم قیمتوں پر اچھی چیزیں بیچے۔تکنیکی چیزوں میں دلچسپی کے علاوہ ، اردو زبان کی باریکیوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کے تبصرے، دوسروں کی طرح میں بھی بڑی دلچسپی سے پڑھتا ہوںَ۔

17. سید ذیشان : لوگ انہیں عروض سافٹویر کے خالق کہتے ہیں۔ محفل پر اکثر آن لائین ہوتے ہیں۔شاعری بھی کر لیتے ہیں۔ حال ہی میں، عارف صاحب کے ساتھ مل کر جمیل نستعلیق کا تیسرا ورژن جاری کیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ، اپنے پیارے بچے کو نمائدہ تصویر میں لگایا تھا، مجھے اتنی پسند آئی کہ تصویر کو اپنے ڈسکٹاپ پر محفوظ کیا ہے۔

18. زیک : آپ سوچ رہے ہوں گے زیک کیسا نام ہے۔ میں بھی سوچتا تھا یہ بندہ انگریز تو نہیں۔ لیکن انگریز اتنی اچھی اردو تو نہیں بولتے ۔ بعد میں پتا چلا ، ان کا اصل نام زکریا ہے، نبیل بھائی کے علاوہ یہ بھی اردو محفل کے بانی ہیں۔عمراور تجربے میں ہم سے بہت بڑے ہیں۔ یہ رننگ کرنے میں، سائیکل چلانے میں ، کار چلانے میں بہت متحرک ہیں۔ زندگی گزارتے نہیں بلکہ جیتے ہیں۔ امریکہ اور یوروپ کے کئی مقامات کی سیر کر چکے ہیں۔ محفل پر ایک یا دو جملے کا تبصرہ کرتے ہیں۔ شاید وقت کی کمی کے باعث ایسا کرتے ہیں۔ کوئی مذہب کے نام پر سائنس کو بیچ میں گھسیٹتا ہے تو ان کی راڈار میں آجاتا ہے۔

19. @arifkareem سب سےپہلے تو یہ کہوں کہ انہیں ٹیگ کرنا واقعی مشکل کام ہے۔ حال ہی میں جمیل نستعلیق کا تیسرا ورژن محمد ذیشان بھائی کے ساتھ مل کر جاری کیا ہے۔ پرانے رکن ہیں محفل کے۔ سائنس میں کافی دلچسپی ہے۔ اکثر زکریا بھائی سےمختلف موضوعات پر انہیں تبادلہ ئے خیال کرتے پایا گیا ہے ۔ کسی لڑی پر حملے کردیں تو پوری لڑی پر ریٹنگ اور تبصرہ فرما کر دم لیتے ہیں۔ یہ اردو زبان کی بہتری کے لیے اپنا بہت وقت نکالتے ہیں ان کی اردو سے محبت دیکھ کر ہم جناب کو آداب کرتے ہیں ۔

20. محمد تابش صدیقی : اسلام آباد سے ہیں۔ اینڈرائیڈ ایپ ڈیو لپر ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک اینڈرائیڈ سافٹ ویر علامہ اقبال پر بنا کر محفلیکن سے شیئر کیا، مجھے بہت پسند آیا۔ فی الحال محفل پر متحرک نظر آتے ہیں۔ اچھے کلام کی داد دیتے ہیں۔ اپنے دادا حضرت کی شاعری محفل پر شیر کرتے ہیں۔محفل کے شاعر ظہیر احمد ظہیر صاحب کی شاعری میری طرح یہ بھی بہت پسند کرتے ہیں۔ویسے میں تو ظہیر احمد ظہیر صاحب کا ذکر کرنا ہی بھول گیامیں :پی

21. راحیل فاروق: یہ بھی بڑی دلچسپ شخصیت ہیں۔ محمد احمد صاحب کی طرح، بزم سخن کے علاوہ جہان نثر میں بھی پائے جاتے ہیں۔ مراسلوں کی مقدار سے زیادہ معیار پر یقین رکھتے ہیں۔ انجناب کچھ عرصے سے محفل پر زیادہ فعال نہیں۔امید کرتے ہیں ایک دفعہ پھر محفل پر نظر آنے لگیں گے۔

22. نایاب : محفل کی واحد شخصیت ہیں جو اتنے پیار و محبت سے پیش آتے ہیں۔ سب محفلین کے لیے ان کے پاس دعائیں ہوتی ہیں۔ان کو اپنے کسی دھاگے میں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ یہ سب کو اتنی اچھی دعائیں دیتے ہیں ، اللہ سے دعا ہے وہ تمام دعائیں سب سے پہلے ان کے حق میں قبول ہوں۔

23. محمود احمد غزنوی : دبئی سے ہیں۔ ان کی چھوٹی موٹی مختصر تحریریں پڑھنے میں دلچسپ ہوتی ہیں۔ آج کل محفل پر زیادہ متحرک نہیں ہیں ۔

24. عثمان : کینڈا میں مقیم ہیں۔ بحری جہاز پر سفر کرنا شاید ان کا پیشہ ہے۔ ایک بار بالوں کا ذکر چلا تو میری ان سے گفتگو ہوئی تھی۔ کہہ رہے تھے بال چھوٹے رکھتے ہیں کیوں کہ ان کی جاب میں ٹوپی پہنا ہوتا ہے اس لیے۔ یہ ریشنل باتیں کرتے ہیں اس لیے میں ان کی پوسٹ بڑی دلچسپی سے پڑھتا ہوں ۔

25. حسان خان : کراچی سے ہیں۔ فارس اور فارسی دونوں میں کافی دلچسپی ہے۔ اکثر تصاویر کے سیکشن میں عمدہ تصاویر شیر کرتے رہتے ہیں اور فارسی شاعری میں بھی کچھ نا کچھ لکھتے رہتے ہیں۔

26. لاریب مرزا : ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ۔ کچھ اس طرح ہے ان کے تعارفی دگھاگے کا عنوان۔ کافی لمبا سلسلہ چلا ہے ان کے تعارفی دھاگے کا۔لاہور ، پنجاب سے ہیں اور پیشے سے شاید ٹیچر ہیں۔ سنیما کہانی سنائی تھی ایک دفعہ۔اچھا لکھتی ہیں ۔آج کل محفل پر متحرک ہیں۔

27. نمرہ : محفل کی پرانی ممبر ہیں، پرسوں ان کی تحریر 'سردیوں کی شاموں میں' نظر سے گزری ، بہت خوب لکھا ہے۔ مزید تحریریں پڑھنے کی خواہش ہے۔

28. عمر سیف : شاید پہلے محفل پر ضبط نام سے پائے جاتے ہیں۔ اب عمر سیف سے پہچانے جاتے ہیں۔ بھائی محفل کے پرانے رکن ہیں ، اور بہت پوسٹ کر چکے ہیں۔ شکوہ بس یہ ہے کہ آج کل پہلے جیسے متحرک نظر نہیں آتے ۔

29. عائشہ عزیز : محفل کی چھوٹی بلی۔ مجھے یاد ہے جب میں محفل جوائن کیا تو انہوں نے بہت اچھا استقبال کیا تھا۔ اپنے بھائیوں سے شکایت کرتی ہوئی اردو محفل کی باردہ دری میں کبھی کبھار پائی جاتی ہیں۔

30. فہیم : محفل پر ایک پرانے رکن ہیں فہیم نام کے۔ ان کی پرانے پروفائل پک دیکھا تھا میں نے بڑے بالوں والی۔ ان کے مراسلے نظر سے گزرتے رہتے ہیں۔ امید ہے اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر محفل پر نظر آئیں گے۔

31. ناعمہ عزیز : یہ عائشہ عزیز کے تعارف میں لکھا ہے کہ ناعمہ عزیز ان کی بڑی بہن ہیں۔ کچھ زیاد ہ نہیں جاتنا ان کے متعلق میں۔ تحریریں لکھتی ہے فرصت کے لمحات میں۔ ان کی ایک تحریر ، بچپن کی کھٹی میٹھی یادیں پڑھا تھا۔ اچھا لکھتی ہیں ۔

32. سیدہ شگفتہ : محفل کی پرانی رکن ہیں شگفتہ آپی۔ ان سے ایک دو لڑیوں میں بات ہوئی تھی ۔ زین بھائی کی بچی کی پیدائش پر میں نے مبارک باد دینے کے بجائے فقط اتنا لکھا کہ بچی مبارک ہوتی ہے ، اس لیے مجھے مبارک باد دینی کی ضرورت نہیں۔ اس بات پر شگفتہ آپی نے کلاس لی تھی میری۔

33. محمد امین : ان کی پروفائل کے مطابق امین بھائی شمالی کراچی سے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کراچی کے لوگوں کا اردو سے ایک خاص رشتہ ہے۔ یہ محفل کے کافی پرانے رکن ہیں۔ مجھے یاد ہے بہت پیار سے استقبال کیا تھا میرا۔

34. اوشو : میں نے کبھی آپ سے بات نہیں کی۔ لیکن ایک سوال ہمیشہ ذہن میں مسلسل آتا ہے آپ نے بھگوان رجنیش کے نام سے کیوں جوائن کیا اور ان کی تصویر کیوں لگاتے ہیں۔

35. قیصرانی : قیصرانی بھائی کا اصل نام منصور ہے۔ بہت اچھے محفلین ہیں۔ سب لوگ ان کی تعریف کرتے نہیں تھکتے ۔ کچھ دن پہلے بہت شاندار استقبال کیا گیا ان کا ۔ لیکن اس کے باؤجود پہلے جیسے متحرک نہیں ہیں۔ میری ان سے گزارش ہے کہ محفل پر آتے رہا کریں تاکہ ہمیں بھی آپ سے کچھ سیکھنے ملے ۔

36. ایچ اے خان :پرانے اور قابل رکن ہیں محفل کے۔ کثیر منفی درجات میں سب سے اول مقام حاصل ہےجناب کو۔انہوں نے کہیں کہا ہے کہ کسی نے ان سے ریٹنگ دینے کے اختیارات چھین لیے ہیں ورنہ یہ بھی سب کو اپنی پوزیشن تک لا کھڑا کرتے ۔

37. ناصر رانا : حال ہی میں محفل جوائن کیا ہے۔کھیلوں میں بڑی دلچسپی ہے جناب کو۔ ان کی پرانی نمائندہ تصویر میں نے دیکھ رکھی ہے۔ ایسا لگتا تھا جیسے کام کے وقت چپکے سے محفل میں وقت گزارنے آ جاتے ہیں۔پتا نہیں کیا ہے حقیقت۔ بہر حال محفل میں خوب صورت اضافہ ہیں۔

جن محفلین کا میں نے ذکر نہیں کیا ، وہ یہ نا سمجھیں کہ میں نے یاد نہیں رکھا، بس فہرست اتنی لمبی ہوگئی ہے کہ ایک پوسٹ میں سب کچھ لکھنا مشکل ہے۔ میں کوشش کروں گا باقی محفلین جنہیں میں جانتا ہوں ان کا ذکر خیر بھی جلد کروں ۔


محفلین کو مبارک باد کہ یکم ستمبر سن دوہزار پندرہ سے انہیں ایک انتہائی فعال ممبر میسر ہوئے اور ان پانچ ساڑھے پانچ ماہ میں کشتوں کے پشتے لگاتے ہوئے اپنے محفل کے ساڑھے آٹھ سو ٹوٹل مراسلوں میں سے ساڑھے پانچ سو مراسلے لکھ ڈالے۔ نہ صرف یہ بلکہ پروگرامنگ جیسے خشک دھاگوں کے علاوہ محفل کے سوشل ٹاک کے دھاگوں، شاعری کے دھاگوں (خصوصاً ہماری پیروڈیوں اور ہمارے سفرنامے کے دھاگے میں خوب روز وشور سے حصہ لیا۔

سن دوہزار گیارہ کے آخری پندرھواڑے میں اردو محفل میں شمولیت اختیار کی۔ سوتے جاگتے محفل کا حصہ بنے رہے یہاں تک کہ سن دوہزار چودہ میں مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ دوبارہ جوش آیا تو دوہزار پندرہ میں پھر سے لکھنا شروع کیا۔

یکم ستمبر سے جانے کیا ہوا، ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ تبصرے لکھے۔ یہ مراسلہ تو کمال ہے ۔ یہ بتارہا ہے کہ کس دلچسپی کے ساتھ اردو محفل میں حصہ لے رہے ہیں کہ محفلین کی تحاریر کا مطالعہ کرکے اس میں سے ان کی شخصیات کو ڈھونڈ نکالا ہے۔

ہمیں بھی خاص مبارک ہو کہ ہمیں اپنی پیروڈیوں اور سفر ناموں کے لیے ایک اور مخلص پڑھنے والے دستیاب ہوئے۔خوش رہئے ظہیر بھائی ( عرف) الہلال بھائی۔

برسبیل تذکرہ ہم اپنے دو پچھلے سفرناموں کے لنک بھی دے رہے ہیں تاکہ پڑھ کر اپنی قیمتی رائے سے مطلع فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔

جیون میں ایک بار آنا سنگاپور۔ قسط نمبر ۲

سنگا پور کے شب و روز
محمد خلیل الرحمٰن​
اگلی صبح جب ہم نہا دھوکر تیار ہوچکے تو ہوٹل کے ریسٹورینٹ میں ناشتے کے لیے پہنچے۔ چودھری صاحب بھی ابھی کچھ ہی دیر پہلے پہنچے تھے۔ ہم دونوں نے ایک اچھی سے میز تلاش کی جہاں سے ہر طرف نظر رکھ سکتے، اور اس پر براجمان ہوکر دہن و نظر کا ناشتہ شروع کیا۔ لذتِ کام و دہن کے ساتھ ساتھ لذت ذہن و نظر کا بھی وافر مقدار میں انتظام ہو تو کیا کہنے ۔ہوٹل دنیاء بھر کے سیاحوں سے بھرا ہوا تھا۔ پاکستان سے باہر کی حوریں اعضا ء کی فی البدیہہ شاعری میں درجہء کمال کو پہنچی ہوئی ہوتی ہیں۔ان کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، ہنسنا بولنا سب شاعرانہ انداز میں ہوتا ہے۔ھائے! نہ ہوئے ہم نقاد، ورنہ کیسے کیسے بخیے اُدھیڑ تے۔ اِدھر چودھری صاحب نے ہمیں ایک فارمولے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ چونکہ ناشتہ ہوٹل کی جانب سے فری ہے اور ساتھ ہی یہاں پر حلال اشیا ( صرف ناشتے کے لیے) وافر مقدار میں موجود ہیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ڈٹ کر ناشتہ کریں ، خدا جانے دوپہر کے کھانے کے لیے کچھ میسر آئے نہ آئے۔ تجویز چونکہ معقول تھی اس لیے ہم نے جلدی جلدی ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا، لیکن دو انڈوں کے آملیٹ کے ساتھ ڈبل روٹی کے صرف دو ہی سلائیس کھا سکے البتہ آرینج جوس کے ساتھ خوب دشمنی نبھائی اور کئی گلاس بغیر ڈکار لیے ہضم کرگئے۔ ادھر چودھری صاحب بات کے پکے نکلے اور انھوں نے ناشتے کے لیے موجود تمام اشیاءکے ساتھ خوب انصاف کیا۔
دورانِ ناشتہ وہ ترنگ میں آکر کچھ اور کھُلے اور بتایا کہ کل رات انھوں نے ایک مساج سنٹر فون بھی کھڑکایا تھا اور بھاو تاو وغیرہ کے تمام مراحل بحسن و خوبی سر کرلیے تھے۔ ہم نے انھیں معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے ان سے سوال کیا‘‘ ذرا بتانا تو! اپنے کمرے کا کیا نمبر تم نے انھیں لکھوایا تھا؟’’ اب تو وہ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے لہٰذا شرماتے ہوئے اعتراف کیا کہ انھوں نے ہمارے کمرے کا ہی نمبر لکھوا دیا تھا۔البتہ اس بات نے ان کی حیرت اور خوشی کو دوبالا کردیا کہ ان کی فون کال کا نتیجہ اتنی جلد نکل آیا تھا۔ اب انھوں نے راز دارانہ انداز میں ہمیں تاکید کی کہ آئندہ اگر فون آیا تو ہم انھیں بلا لائیں اور ان کی بات کروا دیں۔
ناشتے سے فارغ ہوئے تو پتہ چلا کہ کرائے کی ایک ویگن ہمیں ٹریننگ سینٹر تک چھوڑنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ اور اس طرح ایک نہایت خشک قسم کی تربیت کا آغاز ہوا، جو ہر روز صبح ساڑھے آٹھ بجے سے لے کر سہہ پہر پانچ بجے تک جاری رہتی۔ سوائے اسکے کہ یہی تربیت ہمارے سنگاپور آنے اور اس سفر نامے کے لکھنے کا سبب بنی تھی کوئی اور قابلِ ذکر بات اس میں نہیں تھی جس کا ذکر کرکے ہم اپنے قارئین کو بور کرسکیں۔ہاں البتہ ایک واقعہ ایسا بھی گزرا جس کا ذکر کیے بغیر آگے بڑھ جانا نری زیادتی ہوگی۔ایک دن ہم اپنے ٹریننگ سنٹر میں اپنی معمول کی تربیتی سر گرمیوںمیں مصروف تھے کہ اچانک ہماری تجربہ گاہ میں بہار آگئی۔ ایک خوبصورت سی چینی نژاد سنگاپوری حسینہ اس خشک ماحول میں چودھویں کے چاند کی مانند طلوع ہوئی۔ ہم حیران تھے کہ
یا الٰہی یہ کیا ماجرا ہوگیا
کہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیا​
ہم نے مشینوں پر خاک ڈالی اور اِس حسن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اُس کے گرد جمع ہوگئے۔ اس حسینہ نے اطمینان کے ساتھ اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا چپٹا بکس میز پر رکھ دیا اور اسے کھول کر ہمارے معائنے کے لیے پیش کردیا۔ اس بکس میں قسم قسم کی خوبصورت گھڑیاں موجود تھیں۔ ہم نے گھڑیاں دیکھیں تو میکانیکی انداز میں پیچھے ہٹ گئے۔ یہ گھڑیاں یقیناً قیمتی ہوں گی، اور ہم انھیں خریدنے کی سکت نہ رکھتے تھے۔ چند لمحے ہمیں سنجیدگی کے ساتھ دیکھتے رہنے کے بعد وہ حسینہ ہنس پڑی۔ ہمیں اسکے یکایک ہنسنے کی وجہ تو بعد میں پتہ چلی لیکن اُس وقت اس کے ہنسنے کا یہ انداز بہت پیارا لگا۔ ہم نے بھی جواباً مسکراکے اس کو دیکھا اور منتظر رہے کہ دیکھیں دستِ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔ پتہ چلا کہ یہ سب گھڑیاں نقلی تھیں۔ پھر کیا تھا۔ ہم سب ہم جماعت اس قیمتی مجموعے پر ٹوٹ پڑے اور سب دوستوں کی طرح ہم نے بھی دو گھڑیاں مول لے لیں۔ وہاں بھاو، تاو کیا کرتے، جو اس نے کہا مان لیا اور فوراً جیب سے پرس نکال کر مطلوبہ ڈالر اس کے ہاتھ میں تھمادیے۔
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
یاں آپڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں​
یہ وہ زمانہ تھا جب نقلی گھڑیاں ابھی نئی نئی آئی تھیں، لہٰذا ایک انوکھی شے سمجھ کر ہم خریدلائے اور گھر والوں نے ہاتھوں ہاتھ لیں۔پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو شو کیسوں میں سجی گھڑیوں کو گھنٹوں تکا کرتے لیکن خریدنے کی سکت اپنے اندر نہ پاتے تھے۔اب جو یہ نقلی گھڑیاں ہاتھ آئیں تو گویا وارے نیارے ہوگئے۔ خیر صاحب یہ تھی ہماری ٹریننگ کی داستان۔ شام کو تربیتی مرکز سے نکلتے، سرکاری ویگن ہمیں سیدھے ہوٹل لیجاتی، جہاں پر ہم اپنا بیگ کمرے میں پھینکنے کے بعد فوراً ہوٹل سے باہر نکل جاتے، رات دس گیارہ بجے تک سڑکوں اور شاپنگ سنٹرز کے چکر لگاتےاور جب تھک کر چور ہوجاتے تو واپس ہوٹل کی راہ لیتے۔ ہفتے کے اختتامیے ( ویک اینڈز) ہم نے مشہور سیر گاہوں کی سیر کے لیے مخصوص کردیے تھے۔
سنگا پور استوائی خطے میں واقع ہے لہٰذا اس کی آب و ہوا گرم مرطوب ہے۔بارشیں خوب ہوتی ہیں ۔ دن کا اوسط درجہ حرارت تقریباً تیس درجے سنٹی گریڈ ہوتا ہے۔ہر یا لی خوب ہے۔سال کے بارہ مہینے آپ ایک عدد ٹی شرٹ میں گزارہ کرسکتے ہیں ، بشرطیکہ ہر روز ایک ہی ٹی شرٹ نہ ہو۔یہاں آپ کو گرم کپڑوں کی بالکل ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ہاں البتہ یہاں پر گرمی کی وجہ سے تمام دفاتر ، زیادہ تر شاپنگ سنٹر اور ہوٹل وغیرہ ائر کنڈیشنڈ ہوتے ہیں ، جسے یہاں ائر کون کہا جاتا ہے، کسی بھی بلڈنگ کے اندر آپ کو گرم سوئٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے لہٰذا حفظ، ماتقدم کے طور پر سنگاپور آتے ہوئے ایک عدد سوئٹر ضرور رکھ لینی چاہیے۔
سنگاپور میں کئی قومیتوں اور رنگ و نسل کے لوگ بستے ہیں۔ سب سے زیادہ چینی نژاد ہیں جو آبادی کا تقریباً پچھتر فیصد ہیں۔ باقی پچیس فیصد میں ملایئن، ہندوستانی، پاکستانی، سری لنکن عرب وغیرہ ہیں۔ بڑے مذاہب میں بدھ ازم، ہندومت، اسلام اور عیسائیت ہیں جن کے عبادت خانے بھی نظر آتے ہیں۔ حکومت کا انداز جمہوری ہے لیکن کسی بھی شخص کو دوسرے کے مذہب پر تنقید کا حق نہیں ہے۔ ملک میں سیاحت ایک انڈسٹری کی حیثیت رکھتی ہے۔ سیاحوں کی دلچسپی کی ہر شے وہاں موجود ہے اور سستی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں سیاح سنگاپور آئیں اور زرِ مبادلہ کمایا جاسکے۔ پورا سنگاپور ایک بہترین تفریح گاہ، ایک سیاحتی مرکز اور ایک بہت بڑا اور اعلیٰ درجے کا بازار ہے۔ ابھی حال ہی میں( ۲۰۱۰) سنگاپور کے تفریحی جزیرے سینٹوسا آئی لینڈ میں بھی ایک عدد کسینو بنایا گیا ہے جہاں پر سیاحوں کا داخلہ مفت ہے جبکہ سنگاپوری شہریوں کیلیے داخلہ فیس ہی ایک سو ڈالرہے۔
سنگاپور کا جو انداز سب سے پہلے آنکھوں کو بھاتا ہے وہ یہاں کی صفائی ستھرائی ہے۔ہمیں تو سنگاپور یورپ سے بھی زیادہ صاف و شفاف نظر آیا، جس کی تائید ہمارے جرمن انسٹرکٹر نے بھی کی۔ صاف، شفاف، چمکتی ہوئی سڑکیں ، عمارتیں اور پارک دل کو بھاتے ہیں۔ سنگاپوری شہریوں کے بقول ان کا ملک ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہے، جس پر وہ بجا طور پر فخر کرتے ہیں۔یہاں پر کوڑا کرکٹ پھیلانے پر سخت سزا اور جرمانے کا رواج ہے۔ یہ جرمانہ ۵۰ سے ۵۰۰ ڈالر تک ہوسکتا ہے۔ ہم نے اپنے معاشرے کے متعلق سوچا جہاں پر اس حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارا ایمان ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے، لیکن اس صفائی سے مراد ہم گھر کی صفائی لیتے ہیں اور اس کا اطلاق اپنے گھر کی دہلیز سے باہر نہیں کرتے۔ ہمارے گھر سےباہر دراصل ہماری ذمہ داری ہی نہیں ہے بلکہ حکومتِ وقت کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ ہم نے پہلے دن کے اختتام پر اپنی قمیص کی کالر کی حالت دیکھنی چاہی ، وہ بالکل صاف تھی۔ اسی طرح ان تین ہفتوں میں ہمیں اپنے جوتوں پر پالش کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ، وہ اسی طرح چمکتے ہوئے ہی ملے، جس طرح پہلے روز نظر آئے تھے۔اب جب ۲۰۱۰ میں، اتنے سالوں بعد ہم دوبارہ سنگاپور پہنچے تو پتا چلا کہ سگریٹ اور چیونگم پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ دراصل ایم آر ٹی کے چلنے کے بعد ایک مرتبہ سنا کہ کسی نے چیونگم کو چبا کر ٹرین کے آٹو میٹک دروازےمیں چپکا دیا تھا جو دروازہ کھلنے میں تاخیر کا سبب بنا، لہٰذا چیونگم کے خلاف یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔سگریٹ سنگاپور میں بہت مہنگی ہے ، البتہ چنگی ائر پورٹ کے انٹر نیشنل لاونج میں سستی۔ دفتروں، شاپنگ سنٹرز اور بس اسٹاپوں، ریلوے اسٹیشن وغیرہ پر سگریٹ نوشی کی سختی سے ممانعت ہے۔ سگریٹ کے دھویں کو بھی وہ آلودگی تصور کرتے ہیں۔
لاہور سے ہمارے ایک سینئر انجینیر نے ایک صاحب کا نام اور ٹیلیفون نمبر دیا تھا کہ ان سے رابطہ قائم کرکے سلام کہہ دینا۔ ہم نے انھیں کال کیا اور اپنے لاہوری دوست کا سلام و پیغام پہنچایا تو وہ بہت خوش ہوئے اور ہمیں لینے کے لیے ہوٹل آگئے۔ یہ صاحب پاکستانی تھے لیکن ایک سنگاپوری حور پر دل ہار بیٹھے تھے۔ اب اس سے شادی رچا کر گزشتہ سالہا سال سے سنگاپوری شہریت اختیار کرکے یہیں بس گئے تھے۔ اب تو ان کا ایک جوان بیٹا بھی تھا۔ انھوں نے ہمیں اپنے گاڑی میں بٹھایا اور ایک لمبی ڈرائیو پر نکل گئے۔ ہائی وے پر پہنچے اور ہمیں سنگاپور سے متعلق بتاتے ہوئے سنگاپور کی ہوائی سیر کروائی۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں کے قوانین بہت سخت ہیں اور غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کے بیٹے نے کہیں اپنی یونیورسٹی کےکسی اخبار میں اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں ایک مضمون لکھ مارا تھا۔ اس کی پاداش میں اسے مسجد کمیٹی کی اپنی رکنیت سے مستعفی ہوجانا پڑا تھا۔ صحیح یا غلط، ان کا مطمحِ نظر یہ تھا کہ کسی کی بھی مخالفت نہیں کرنی چاہے ۔ اس ملٹی ایتھنک ملٹی ریشیل قسم کے ملک کے لیے یہی پالیسی بہتر ہے ورنہ ہر روز کوئی نہ کوئی گروہ جذبات میں آکر اور مشتعل ہوکر ہنگامہ آرائی پر آمادہ ہوسکتا ہے۔اس دنیا میں بہت سی باتیں غلط ہورہی ہیں ، لیکن ان کی وجہ سے ہم جوش میں آکر اپنے ہی سکون کو کیوں غارت کرلیں۔ ان صاحب نے ہمیں گھر لے جاکر چائے وغیرہ پلوائی اور پھر ہوٹل چھوڑ دیا۔
ان دنوں ہم ہوٹل سے باہر نکلتے تو زیادہ تر بس میں سفر کرتے تھے، اس لیے کہ ٹیکسی مہنگی پڑتی تھی اور ایم آر ٹی ابھی بنی نہیں تھی۔ سنگاپور میں آج تک ڈبل ڈیکر بسیں چلتی ہیں۔ ہم بس اسٹاپ پر آکر کھڑے ہوجاتے اور ڈبل ڈیکر کا انتظار کرتے اور جوں ہی ڈبل ڈیکر بس میسر آتی ، فوراً اس میں سوار ہوکر اوپر کی منزل کی جانب لپکتے۔ اوپر جاکر وہاں سے سنگاپور کا نظارہ کرتے تھے، یعنی ایک ٹکٹ میں دو مزے۔ ہمیں اپنے بچپن میں کراچی کی سڑکوں پر چلتی ہوئی ڈبل ڈیکر بسوں کابھی ہلکا سا دھیان ہے۔ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا۔ اسی یاد کو تازہ کرنے کے لیے ہم نے سنگاپور کی ڈبل ڈیکر میں خوب سفر کیا اور خوب مزے لے لے کر کیا۔ اس زمانے میں انڈر گراونڈ ٹرین کی تیاری اور سرنگوں کی تعمیر چپکے چپکے کی جارہی تھی، البتہ کہیں کہیں اس کے اسٹیشن ابر تے ہوئے نظر آتے تھے۔ اس بارے میں مقامی لوگوں سے خاصا سننے کو مل جاتا تھا ۔۱۹۹۵ ء میں جب ہم تیسری بارسنگاپور پہنچے تو یہی انڈرگراونڈ ٹرین بن کر تیار ہوچکی تھی اور اس نے اپنا کام بھی شروع کردیا تھا لیکن ہمیں اسے دیکھنے اور اس میں سفر کرنے کا اتفاق ۲۰۱۰ء میں ہوا ۔
ہم نے سنگاپور پہنچتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ کاغذ پینسل سنبھال کر بیٹھ گئے اور ایک مکمل بجٹ بنا لیا کہ ہمیں جو زرِ مبادلہ دیا گیا تھا، اس میں سے ہمارا اصل حصہ کتنا ہے اور کس قدر رقم ہمیں واپس لوٹا دینی ہے۔ پھر اپنے حصے میں سے ہم نے ہوٹل اور ٹیکسی کا حساب علیحدہ کرلیا تاکہ کھانے کے لیے اپنی ذاتی رقم کا اندازہ ہوسکے۔ ذاتی یوں کہ اسی میں سے ہم کچھ رقم پس انداز کرسکتے تھے اور اپنی ذاتی خریداری کرسکتے تھے۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو اسی طرح ہم نے اپنے کھانے میں سے کافی رقم پس انداز کی تھی اور ایک عدد کمپئیوٹر خریدا تھا۔ یہاں سے بھی ہم نے ایک عدد کمپئیوٹر خریدنے کا پروگرام بنا لیا ۔ سنگاپور میں یوں تو ساری دنیا کی طرح اچھے ریسٹورینٹ کافی مہنگے ہیں لیکن حکومت کی طرف سےیہاں پر جگہ جگہ کھانے کے سستے اسٹال لگائے گئے ہیں۔ جہاں پر درمیان میں ایک مناسب بیٹھنے کی جگہ کا انتظام کیا گیا ہے اور چاروں جانب کھانے کے اسٹال ہیں جہاں سے کھانے والے اپنی مرضی کی اشیاء خرید کر کھاتے ہیں۔ یہاں پر بیرے ( ویٹرز) نہیں ہوتے بلکہ لوگ خود اپنی مدد آپ( سیلف سروس) کے تحت اپنا کھانا خود ہی اپنی میز تک لے آتے ہیں۔ یہ بندوبست فاسٹ فوڈ ریسٹورینٹوں یعنی میکڈانلڈ اور کے ایف سی سے بھی سستا ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جگہ جگہ انڈین مسلمانوں یا ملاین مسلمانوں کے حلال کھانے کے ڈھابے بھی نظر آجاتے ہیں ۔ اسی طرح ہماری دو عدد ترکیبیں ایسی تھیں جو ہماری بچت میں سراسر اضافے کا باعث تھیں۔ پہلی ڈٹ کر ناشتہ کرنا اور دوسری چودھری صاحب کے لائے ہوئے فوڈ کینز سے فائدہ اٹھانا۔ پہلی ترکیب پر ہم سے زیادہ چودھری صاحب عمل کر پاتے تھے اور دوسری ترکیب پرعمل پیرا ہونے میں ہم چودھری صاحب کے شانہ بشانہ شریک ہوتے تھے۔
ہماری دوسری لسٹ خریداری کی تھی ۔ اس دوسری لسٹ میں سرِ فہرست تو جیسا کہ ہم نے ابھی عرض کیا ایک عدد کلون کمپئیوٹر تھا۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو ایک عدد کموڈور ۶۴ کمپیوٹر مول لے آئے تھے۔ ادھر کچھ ماہ سے آئی بی ایم کلون کمپئیوٹر عام ہوگئے تھے اور سستے ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی پہنچ میں تھے۔باقی اشیاء کا دارومدار اس بات پر تھا کہ کمپیوٹر خریدنے کے بعد ہمارے پاس کتنی رقم بچ رہتی ہے۔ اس میں ہمارے اپنے کپڑوں کے علاوہ گھر والوں کے لیے کچھ تحفے تحائف وغیرہ شامل تھے۔ روزآنہ رات کو سونے سے پہلے ہم ان دونوں لسٹوں کو بلا ناغہ اپڈیٹ کرلیتے تھے۔ تاکہ ہر وقت ہمیں اپنی جیب کی حیثیت کا احساس رہے اور ہم اپنے بجٹ سے زیادہ خرچ نہ کرسکیں۔(جاری ہے)

المانیہ او المانیہ۔ جرمنی کی سیر
محمد خلیل الرحمٰن
ہمیں کالے پانی کی سزا ہوگئی۔ یہ وہی سزا ہے جسے منچلے پردیس کاٹنا کہتے ہیں۔ سنتے ہیں کہ قسمت والوں ہی کے مقدر میں یہ سزا ہوتی ہے۔ عرصہ ایک سال ہم نے بڑی کٹھنائیاں برداشت کیں اور یہ وقت کاٹا۔ پھر یوں ہوا کہ ہمارے لیے اس علاقے ہی کو جنت نظیر بنادیا گیا۔پھر تو پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں اور سر کڑھائی میں۔ پھر ہمیں یہ مژدہ جاں فزاء سننے کو ملا کہ ہمیں جرمنی میں پانچ ہفتے کی تربیت یا جبری مشقت کے لیے چن لیا گیا ہے۔ ہم خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ اپنا سفری بیگ اٹھایا اور کراچی کے لیے روانہ ہوگئے۔ گھر پہنچ کر گھر والوں کو بھی یہ خوشخبری سنائی۔ وہ بھی بہت خوش ہوئے اور جواب مضمون کے طور پر ہمیں ایک اور خوشخبری سنادی۔
’’ تمہارے چھوٹے بھائی کا تبادلہ بھی اسلام آباد کردیا گیا ہے اور اب وہ بھی تمہارے ساتھ ہی رہے گا۔‘‘
ابھی یہ بم ہمارے سر پر اچھی طرح پھٹنے بھی نہیں پایا تھا کہ بھائی نے گرینیڈ سے ایک اور حملہ کردیا۔
’’ بھائی! یہ بتائو کہ کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے اسلام آباد ائر پورٹ پر کسٹم پہلے ہوتا ہے یا پھر امیگریشن؟‘‘
ہم نے خون کے گھونٹ پی کر اس حملے کو بھی برداشت کیا اور سفر کی تیاریوں میں لگ گئے۔ اگلے روز کمپنی کے صدر دفتر پہنچے تو پرِ پروانہ اور دیگر ضروری دستاویزات کے ساتھ ایک عدد لمبی چوڑی فہرستِ اشیائے ضروریہ ہمارے حوالے کی گئی جن کا بہم پہنچایا جانا ہماری ہی صحت کے لیے بہت ضروری تھا۔
بڑے بھائی ( مر حوم ) کو ساتھ لیا اور بھاگے بھاگے لنڈا بازار پہنچے اور وہیں سے یہ تمام اشیاء بصد شوق خریدیں جن میں ایک عدد گرم سوئٹر، گرم واٹر پرف دستانے ، ایک جوڑی لمبے جوتے، اندر پہننے کے لیے گرم پائجامےاور ایک عدد لانگ اوور کوٹ شامل تھے۔
اس اوور کوٹ کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔جب ہم فخر سے اسے پہن کر باہر نکلتے تو گورے اور گوریاں ہمیں حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے تھے۔ بقول جناب مختار مسعود:۔
’’ چلتے چلتے کسی نے نگاہِ غلط انداز ڈالی اور کسی نے نظر انداز کیا۔ نظر بھر کر دیکھنے والے بھی گو دوچار سہی، اس بھیڑ میں شامل تھے۔( برف کدہ۔ سفر نصیب)
واپسی پر اندازہ ہوا کہ ہم نےغلطی سے زنانہ اوور کوٹ مول لے لیا تھا۔ جس کے بٹن الٹی جانب تھے۔ ہم نے چونکہ زرِ کثیر صرف کرکے یہ قیمتی اوور کوٹ مول لیا تھا، لہٰذا اب اس کا استعمال ترک نہیں کرسکتے تھے۔ ہم نے اسے عرصہ کئی سال تک یورپ کے اکثر سفروں میں استعمال کیا یہاں تک کہ بیگم نے اسے سیلاب فنڈ میں دیدینے کا اعلان کردیا اور ہم اس قیمتی اوور کوٹ سے جبراً محروم کردئیے گئے۔
ہماری پہلی منزل فرینکفرٹ ائر پورٹ تھی، جہاں سے ہمیں جہاز تبدیل کرکے نورمبرگ کی فلائٹ لینی تھی۔ ہمیں تجربہ کار دوستوں نے اس ائر پورٹ سے متعلق پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ یہ ائر پورٹ بہت بڑا ہے اور کئی طویل راستے اس میں طے کرنے پڑیں گے لہٰذا دیکھ بھال کر چلنا۔مزید یہ کہ اس ائر پورٹ پر تمہیں چہرے جتنی چوڑائی والی بندکھڑکیاں بھی نظر آئیں گی ۔ یہ وہاں کا مشہور تانک جھانک شو ( پیپ شو) ہے۔ سکہ ڈالتے ہی شیشے کی کھڑکی پر سے پردا چند منٹ کے لیے سرک جائے گا۔ مزے سے نظارہ کرو۔ اور دیکھو‘‘ انھوں نے تاکیداً کہا۔’’ اس چند منٹ کے عرصے کو پلکیں جھپکانے میں نہ گزار دینا۔غور سے دیکھنا اور ایک ایک تفصیل کا دھیان رکھنا۔‘‘ گویا ہمیں واپسی پر اس تانک جھانک ہی کا تو تجزیہ لکھ کر کمپنی میں پیش کرنا تھا۔
فرینکفرٹ ائر پورٹ ٹرمنل کی عمارت واقعتاً ہمارے قیاس سے بھی بڑی تھی ، لہٰذا ہم ھیبت کے مارے بھاگتےہی چلے گئے اور نورمبرگ کی فلائٹ کی روانگی کے ہال پر جاکر ہی دم لیا اور وہاں پر اطمینان کے ساتھ بیٹھ کر گورے گورے چہروں والی حسینائوں کے سردی سے تمتمائے حسین چہروں کو تکتے رہے۔ ہمارے لیے یہی تانک جھانک بہت تھی۔
نورمبرگ ائر پورٹ سے ٹیکسی لی اور ڈرائیور کو چھپا ہو اکاغذ دکایا جس پر ہماری منزل کا پتا لکھا ہوا تھا۔ اس نے کچھ آئیں بائیں شائیں کی اور ایک نقشہ نکال کر اس پر جھک گیا۔ پھر اس نے وائر لیس ریڈیو پر کسی سے پشتو یا اس قبیل کی کچھ آوازیں نکال کر کچھ گپ شپ کی ، دو منٹ بعد اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور ہمیں منزل مقصود تک پہنچا کر ہی دم لیا۔
ارلانگن ہمارا مستقر دراصل ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس کا اپنا کوئی ائر پورٹ نہیں ہے۔ نورمبرگ ائر پورٹ جو تاریخی شہر نورمبرگ اور ارلانگن کے درمیان واقع ہے، دو نوں شہروں کے لیے ائر پورٹ کاکام دیتا ہے۔ قارئین کو علم ہوگا کہ نورمبرگ جرمنی کے جنوبی صوبے بویریا کا ایک تاریخی شہر ہے ۔ ہٹلر کے زمانے میں اس شہر کے قلعے میں اس نے گسٹاپو کا عقوبت خانہ بھی بنوایا تھا۔
اس صوبے کا سب سے بڑا اور مشہور شہر میونخ ہے جسے جرمن میونچن کہتے ہیں۔
گھر پہنچے تو صرف ایک بزرگ جوڑ ہی گھر پر ملا۔ دونوں ہمیں دیکھ کر نہال ہوگئے اور مسلسل جرمن زبان میں استقبالیہ کلمات کہتے رہے جو ہمارے لیے آواز کی کرختگی کے لحاظ سے پشتو ہی تھے۔ انھوں نے گھر کے پچھواڑے ہمیں ایک کمرے تک پہنچا دیا جس کا دروازہ اور ایک کھڑکی صحن میں کھلتے تھے۔ کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی ایک جانب ایک گوشے میںچھوٹے سے کچن کا بندو بست تھا اور دوسری جانب ایک باتھ روم تھا۔
ہم بھی ان بڑے میاں اور بڑی بی سے مل کر بہت خوش ہوئےاور اگلے پانچ ہفتوں تک مہ وشوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے رہے، فارسی کا یہ شعر پڑھتے رہے اور جرمن زبان کا مزہ اپنے منہ میں محسوس کرتے رہے۔
زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم
چہ خوش بودی اگر بودی زبانِ خوش دہانِ من​
اب ہم نے کھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ آرام اور حوائجِ ضروریہ سے فارغ ہونے کے بعد باہر نکلنے کا ارادہ کیا تاکہ ابھی سے بس میں جاکر تربیتی مرکز دیکھ آئیں اور اگلے روز وقتِ مقررہ پر تربیت گاہ پہنچ سکیں۔
باہر سردی مزاج پوچھ رہی تھی ۔ ہم نے دستانے چڑھائے، اوور کوٹ کو اچھی طرح اپنے جسم کے ارد گرد لپیٹ لیا اور بس اسٹاپ پرآکر کھڑے ہوئے اور اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تاکہ اس جگہ کو پہچان کر واپسی کا راستہ متعین کر سکیں۔ پہلے تو ارد گرد کے ماحول کی تفصیلات کو ذہن میں بٹھایا، پھر اس بس اسٹاپ اور اس محلے کا نام معلوم کرنے کی دھن ہمارے دل میں سماگئی۔ یہ ایک چھوٹا سا بس اسٹینڈ تھاجہاں پر بس کا انتظار کرنے کے لیے ایک لکڑی کی بنچ لگائی گئی تھی ۔اسی طرح ایک کونے میں دوتین نوٹس بھی نظر آئے، دیکھنے پر پتہ چلا کہ یہاں پر آنے والی بسوں کے روٹس اور اوقات ہیں۔ ساتھ ہی اوپر کی جانب ایک چھوٹے سے بورڈ پر ایک نام لکھا ہوا تھاجسے ہم نے ذہن میں بٹھا لیا۔
اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک گول مٹول، خوبصورت سی ، مائل بہ فربہی، پیاری سے حسینہ ہمارے برابر آکر کھڑی ہوگئی اور سامنے لگے ہوئے نوٹس کو غور سے پڑھنے لگی۔
ہم نے سوچا کہ اب ہمیں اس مظہرِ حسن کے ساتھ بات چیت کا آغاز کردینا چاہیے، تاکہ اپنی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ کرسکیں۔ یہ سوچتے ہی پہلے تو پانچ منٹ تک اپنے حواس مجتمع کرتے رہے، پھر ہمت کرکے کھنکارے اور بھررائی ہوئی آواز میں یوں گویا ہوئے۔
’’ معاف کیجیے گا؟‘‘
اللہ جانے یہ سردی کا اثر تھا یا رعبِ حسن کا دبدبہ کہ ہمیں اپنی کپکپاتی ہوئی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی معلوم ہوئی۔
’’ جی فرمایئے؟‘‘ وہ حسینہ فوراً ہماری جانب متوجہ ہوگئی اور اپنی کوئل جیسی آواز میں انگریزی میں گنگنائی۔
’’ کیا اس جگہ کا نام نیو مالے ہے؟‘‘ ہم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
’’جی؟‘‘ اس نے غور سے سننے کی کوشش کی اور پھر ایک خوبصورت اندازِ پریشانی میں کندھے اچکائے۔ جرمنوں کا یوں کندھے اچکانے کا یہ انداز بھی ہمیں بہت پیارا لگا۔ جرمنوں کو جب بھی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی، وہ اسی طرح اپنے کندھے اچکا دیتے ہیں۔
ہم نے کچھ دیر سوچا، اس صورتحال کا ادراک کیا اور پھر فوراً اپنی جیب سے ٹشو پیپر نکال کر اس پر اس جگہ کا نام لکھ دیا۔ جیسے اُس بورڈ پر لکھا ہوا تھا۔
’’ اوہ! نائے میوہلے۔ نائے میوہلے۔‘‘ وہ بیچاری کھل اٹھی۔
پھر ہم نے اسکی آواز کی نغمگی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنا تعارف کروایا اور اسے بتایا کہ ہم ابھی ابھی اس کے ملک میں وارد ہوئے ہیں اور یہ ہمارا اپنے ملک سے باہر کوئی پہلا سفر ہے۔
’’ میرا نام فاطمہ ہے۔ فاطمہ کیتی سی اوغلو!‘‘ اس نے بتایا۔
وہ ایک ترک مسلمان لڑکی تھی اور اپنی پیدائش سے ہی یہاں رہتی تھی۔ یعنی پیدایشی طور پر جرمن تھی۔ پھر کیا تھا۔ ہم نے اس کے ساتھ گپ شپ شروع کردی۔ اسے اس جگہ کا پتہ بتلایا جہاں ہمیں جانا تھا۔ ورنافان سیمنز اسٹراسے کا نام سنتے ہی وہ دوبارہ کھل اٹھی اور اس نے بتایا کہ وہ بھی اسی جانب جائے گی، لہٰذا ہم دونوں کی بس ایک ہی ہے۔
بس آئی تو ہم دونوں اس میں سوار ہوگئے اور ایک ہی سیٹ پر بیٹھ کر ایک دوسرے سے متعلق معلومات بہم پہنچاتے رہے۔ سنٹرم پہنچ کر وہ بس سے اتر گئی اور ہمیں بتلا دیا ہمیں اب سے کوئی تین چار اسٹاپ بعد میں ورنافان سیمنز اسڑاسے پر اترنا ہے اور بس ڈرائیور کو بھی اس بارے میں واضح ہدایات دیتی ہوئی وہ ہم سے رخصت ہوئی۔ ہم نے بھی اس کا بہت بہت شکریہ ادا کیا۔
ایک جگہ بس ڈرائیور نے ہمیں تار دیا جہاں سے ورنافان سیمنز اسٹراسے شروع ہورہی تھی۔ سڑک کے گرد ڈھیروں برف پڑی ہوئی تھی۔ ہم نے اس برف میں چلنا شروع کردیا۔ کافی دور تک اور دوایک چوراہوں کو عبور کرنے کے بعد ہم اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ گئے۔ ہمارا ٹریننگ سنٹر ایک چھوٹی سی عمارت تھی۔ اس عمارت کو اچھی طرح دیکھنے کے بعد ہم واپس مڑے۔ راستے میں سنٹرم پر اترے میکڈانلڈ سے فش فلے اور گرم گرم کافی کا لنچ کیا اور گھر واپس آگئے۔
شام تک بوڑھے میزبانوں کے بیٹی اور داماد بھی آگئےجو ہفتے کا اختتامیہ ( ویک اینڈ) گزارنے کے لیے کہیں گئے ہوئے تھے۔ دونوں انگریزی جانتے تھے اور ہم سے بہت گرم جوشی کس ساتھ ملے۔ ان دونوں سے مل کر ہم نے کافی معلومات بہم پہنچائیں۔
دراصل جرمن بزرگ حضرات انگریزی بالکل نہیں جانتے، جبکہ نوجوان نسل انگریزی سیکھتی ہے۔ جہاں تک بولنے کا معاملہ ہے، اکثر نوجوان واجبی ہی بولنا جانتے ہیں، جبکہ کچھ بہت اچھی طرح بول سکتے ہیں۔ انگریزی بولنے کا رواج بالکل نہیں ہے۔ صرف غیر ملکیوں کے ساتھ انگریزی بولی جاتی ہے۔ چونکہ مشکل سے بولتے ہیں، لہٰذا ہر لفظ صاف صاف ادا کرتے ہیں اور ہمارے لیے ان کی کہی ہوئی بات کا سمجھنا قدرے آسان ہوجاتا ہے۔
جرمن لوگوں کو بات کرتے ہوئے سنیں تو وہ مزاج کے بہت اکھڑ لگتے ہیں۔ لیکن ان سے بات کیجیے تو وہ بہت خوش مزاج، مہربان اور مدد کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ہمارے ساتھ اکثر یہ ہوا کہ جب بھی ہم کسی لائن میں لگ کر کائونٹر تک پہنچے اور کائونٹر والی خاتون کے ساتھ بات چیت شروع کی اور مشکل میں پھنسے، پیچھے کوئی لڑکی فوراً نکل کر آئی اور ہماری مشکل آسان کردی۔ اسی طرح جہاں پر کسی کو روک کر کوئی سوال پوچھا، انھوں نے بہت خوش مزاجی کے ساتھ جواب دیا اور صحیح رہنمائی کی۔
سفر کی تھکن بہت زیادہ تھی اس لیے ہم سرِ شام ہی سو گئے اور اگلے دن صبح کی خبر لائے۔
 
آخری تدوین:

تجمل حسین

محفلین

نیرنگ خیال

لائبریرین
نیرنگ خیال بھائی!! سب سے پہلے تو یہ کہ آپ کا نام لکھتے ہوئے گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ کسی نے تنگ آ کر ہی آپ کے نام کا مخفف ڈھونڈا ہے۔ :D لہذا اب سے ہم بھی وہی مخفف استعمال کریں گے۔ :)
اور جملہ ادھورا کیوں چھوڑ دیا؟؟ پورا کریں۔
کون سا مخفف۔۔۔۔ جملہ تو تھا ہی نہیں۔۔۔۔ ہم تو یہی کہہ رہے تھے کہ یہ داستاں بچے بچے کی زباں پر ہے۔۔۔ لیکن لوگ مان کر نہیں دے رہے۔۔۔ :)
 

اکمل زیدی

محفلین
بہت خوب..بھئی ...خوب کھلے آپ ...تحریر میں ...اتنا اچھا لکھا ....:)....بس کچھ کمی سی لگی ۔۔چونکے آپنے لکھا اس لئے زیادہ لگی .:unsure:.. ( جو سینتیس یعنی 37 تک بھی پوری نہ ہوسکی ):quiet:۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:

ناصر رانا

محفلین
37. ناصر رانا : حال ہی میں محفل جوائن کیا ہے۔کھیلوں میں بڑی دلچسپی ہے جناب کو۔ ان کی پرانی نمائندہ تصویر میں نے دیکھ رکھی ہے۔ ایسا لگتا تھا جیسے کام کے وقت چپکے سے محفل میں وقت گزارنے آ جاتے ہیں۔پتا نہیں کیا ہے حقیقت۔ بہر حال محفل میں خوب صورت اضافہ ہیں۔​

بہت بہت شکریہ کہ اس ناچیز کو آپ نے قابلِ ذکر سمجھا۔
کافی حد تک حقیقت پر مبنی ہے آپ کا تبصرہ۔ اس کو معیار بنا کر باقی محفلین کو بھی آپ کے مشاہدے کی رو سے پرکھا جا سکتا ہے۔​
 

لاریب مرزا

محفلین
کون سا مخفف۔۔۔۔ جملہ تو تھا ہی نہیں۔۔۔۔ ہم تو یہی کہہ رہے تھے کہ یہ داستاں بچے بچے کی زباں پر ہے۔۔۔ لیکن لوگ مان کر نہیں دے رہے۔۔۔ :)
:D:D:D
نین بھائی!! داستان تو چونکہ ہم نے خود سنائی ہے تو بچے بچے کی زبان پر تو ہو گی۔ :) باقی ہمارے سینما جانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم فلموں کے شوقین ہیں تو کیوں مان لیں ہم؟؟ :)
 
پچھلے کچھ دنوں سے سوچ رہا تھا کچھ نا کچھ لکھ کر اپنی اردو اچھی کر لینی چاہیے۔ پھر خیال آیا کیوں نا محفلین کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار ہی کیا جائے ۔ اس سے محفل اور محفلین کے متعلق میری محبت کا اظہار بھی ہو جائے گا اور اسی طرح آپ بھی جان سکیں گے کہ میں آپ کے متعلق کتنا جانتا ہوں اور کیا رائے رکھتا ہوں۔ اس مقصد کے تحت ہاتھ میں لیپ ٹاپ لے کر لکھنے بیٹھ گیا ہوں۔

گوکہ 2011 سے محفل پر ہوں ، لیکن میں مسلسل ایکٹیو نہیں رہا، محفلین کے متعلق میرا مشاہدہ محفل پر اپنےمختصر دورانیے پرمقیط ہے ۔ اپنی ناقص معلومات پر مبنی رائے اور اردو سے کم واقفیت ہونے کے باعث لکھی گئی بہت سی چیزیں غیر درست ہو سکتی ہیں۔ فہرست تیار کرنے میں کسی قسم کا امتیاز نہیں ، جیسے جیسے نام یاد آتے گئے میں لکھ رہا ہوں۔

1. الف عین : اعجاز صاحب محفل پر 2005 سے ہیں۔ غالباً محفل کے بانیوں میں سے ہیں۔ان کا تعلق انڈیا سے ہے، ہندوستان کے مختلف علاقوں میں رہے ہیں۔ اب زیادہ وقت دکن کے حیدرآباد میں رہتے ہیں ۔ فی الحال سمت میگزن چلاتے ہیں ۔ اردو زبان سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔ اردو کی انٹرنٹ پر ترویج میں ان کا اہم حصہ رہا ہے۔ تجربے اور عمر میں ہم سب سے بہت بڑے ہیں ۔محفلین انہیں انکل کہتے ہیں بعض محبت سے چاچو کہتے ہیں ۔ محفلین کے کلام کی اصلاح کرتے ہیں۔ امید ہے آپ کا سایہ شفقت ہم محفلین پر ہمیشہ قائم دائم رہے گا۔

2. محمد یعقوب آسی : پاکستان کے ٹیکسلا علاقے سے ہیں۔ بزرگ ہستی ہیں ۔ حال ہی میں عمرہ کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔ محفلین کے کلام کی اصلاح کرتے ہیں۔ اردو ادب میں بہت ماہر ہیں۔ آج کل آنا بہت کم کردیا ہےمحفل پر۔ ان سے گزارش ہے آتے رہا کریں تاکہ ہم آپ سے کچھ سیکھ سکیں۔

3. سارہ خان : پروفائل کے مطابق ، آپی تقریباً نو سال پہلےمحفل پر اپنا اکاؤنٹ بنائیں تھیں۔ شاید کچھ عرصہ محفل پر غیر فعال رہیں۔ اس کے بعد اب دوبارہ محفل پر نظر آ رہی ہیں۔ مجھے ان کے مراسلے بہت دلچسپ لگتے ہیں ۔ حا ل ہی میں 15000 مراسلوں کا سنگ میل عبور کیا ہے۔ان سے ایک گزارش ہے کہ آپ محفل سے کھبی دور نا ہوں۔

4. حمیرا عدنان : کویت کی اس خاتون نے محفل پر آخر اپنا سکہ جمع لیا ہے۔ کون ہے جو ان صاحبہ سے واقف نہیں ۔ گپ شپ کے علاوہ تکنیکی امور میں نا صرف دلچسپی رکھتی ہیں، بلکہ محفلین کے موبائل فون کے سافٹ ویر مسائل بخوبی حل کر لیتی ہیں۔ محفل پر روزانہ کچھ نا کچھ لکھتی رہتی ہیں لیکن کہتی ہیں، آتا جاتا مجھے ککھ نہیں! حمیرہ آپی محفل کی اتنی عادی ہو چکی ہیں کہ ان کے مراسلے پڑھے بغیر ہم بھی محفل کی زیارت نامکمل سمجھنے لگے ہیں۔

5. نور سعدیہ شیخ : پروفائل کے مطابق مئی 2014 میں محفل جوائن کیا ہے۔میرا ماننا ہے یہ شاعری کے نام پر نثر لکھتی رہی ہیں،اور نثر کے نام پر پتا نہیں کیا لکھتی رہی ہیں ۔ فلسفہ ، منطق سائنس ، تاریخ اور نا جانے کن کن موضوعات میں محترمہ کی دلچسپی ہے ۔پرسوں، انہوں نے مغلیہ دور کی فیس بک ٹائم لائن بنائی ہے ۔ کافی دلچسپ انداز میں تاریخ سمجھائیں ہیں۔ ویسے میں ان کی تعریف کرنےکے بجائے طنز ہی کرتا رہا ہوں ، اس لیے اوپر لکھی باتوں پر یقین مت کیجیے گا۔

6. تجمل حسین : بیس بائیس سال کے نوجوان لڑکے ہیں۔ دن بھر کچھ جاب کرتے ہیں لیکن وقت ملتے ہی محفل پر آجاتے ہیں۔ اچھی چیزوں کی تعریف کرتے ہیں بری چیزوں سے دور رہتے ہیں۔ پنجاب کے ساہیوال نامی شہر میں رہتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے کہا تھا ، آپ کے شہر کا نام مجھے سننے میں اچھا لگتا ہے تو یہ جناب نے پوچھ لیا، کیا صرف سننے میں اچھا ہے، دیکھنے میں اچھا نہیں لگتا ؟ اب میں کیا جواب دیتا ، جبکہ میں نے ساہیوال کبھی دیکھا ہی نہیں ۔ لیکن اتنا ضرور ہے، جہاں تجمل حسین جیسے اچھے دوست بستے ہیں وہ جگہ دیکھنے میں بھی اچھی ہی ہوگی۔

7. مقدس : میں نے جب محفل جوائن کی تھی تو یہ محترمہ نے محفل پر دھوم مچا رکھی تھیں۔ میں دیکھتا رہا ،کتنی آسانی سے انہوں نے تمام محفلین کا دل جیت لیا ہے ۔ اور محفلین انہیں پسند کیوں نا کرے ؟ یہ اتنی اچھی اچھی باتیں جو کرتی رہتی ہیں۔ جب بھی کوئی مراسلہ نظر سے گزرے تو ایسا لگتا ہے کہ کوئی ننھی بچی ہنستی ہوئی بات کر رہی ہے ۔ کچھ عرصے سے محفلین کو شکوہ رہا ہے کہ محفل سے غائب ہو چکی ہیں۔ شاید دیگر ذمہ داریاں بڑھنے کی وجہ سے یہ پہلے جیسا وقت نا دے سکی ہوں۔ لیکن خوش کی بات یہ ہے کہ سارہ آپی کی طرح، اب دوبارہ محفل پر نظر آ رہی ہیں۔ امید کرتے ہیں محفل پر آکر اپنے ساتھ ساتھ ہم سب کا دل بہلاتی رہیں گی۔

8. ابن سعید : سعود بھائی یہاں کے ایڈمن ہیں ۔ خود کو خادم کہلوانا پسندکرتے ہیں۔ دلی کے جامعہ ملی اسلامیہ سے انجینیرنگ کی ہے۔ جہاں اردو نے جنم لیا، اس سرزمین سے ان کا تعلق ہے۔ انہیں اردو پر جو گرفت ہے ، اس بات کا اندازہ آپ اتنی بات سے لگا سکتے ہیں کہ جو بھی جملہ لکھتے ہیں ، وہ معیار بن جاتا ہے ہم جیسوں کے لیے۔ کمپیوٹر سائنس انجینیر ہونے کی وجہ سے تکنیکی چیزوں میں بہت ایکس پرٹ ہیں۔ فی الحال شمالی امریکہ کے ورجینا میں رہتے ہیں۔پوری محفل کو انہوں نے سنبھال رکھا ہے۔ میری خواہش ہے کہ بھیا ایسا منصوبہ تیار کریں کہ انڈیا کے وہ لوگ، جو کمپیوٹر پر اردو نہیں لکھ سکتے ، وہ بھی اردو لکھنا شروع کردیں۔ کیوں کہ انڈیا میں اردو بول چال عام ہے لیکن بہت لوگوں کو اردو رسم الخط میں لکھنا نہیں آتا۔

9. محمد وارث : اردو محفل کے منتظم ہیں۔ سیالکوٹ پاکسان سے تعلق ہے۔ آپ کا لکھا پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ لکھائی پر آپ بہت گرفت رکھتے ہیں۔ کافی وسیع مطالعہ ہے۔فارسی کلام مع ترجمہ نام کی لڑی ہے، وہاں روزانہ فارسی کلام اردو زبان کے ترجمے کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ پتا نہیں مجھ جیسوں کو کتنے برس لگیں ان صاحب جتنا وسیع مطالعہ کرنے میں۔ سنجیدہ ہیں اور رعب دار ہیں۔ ان تمام خوبیوں کے مالک ہیں جو اس عمر کے آدمیوں میں پائی جاتی ہیں۔

10. محمد احمد : اردو محفل کے شاعر ہیں۔ غالباً کراچی سے ہیں۔ محمد احمد صاحب اردو محفل کے بہت پرانے شاعر ہیں ۔ میں نے ان کی شاعری ریختہ پر بھی دیکھی ہے۔ ان کی تحریر بہت متاثر کن ہوتی ہے۔ حا ل ہی میں ایک تحریر پڑھا میں جس میں انہوں نے حجام کو زلف تراش کہا ہے۔ بہت خوب لکھتے ہیں۔ محمد احمد صاحب کی ہر پوسٹ مجھے اچھی لگتی ہے۔ شاعری اور نثر میں بیک وقت گرفت ہے۔ میں زیادہ محفلین کو نہیں جانتا جو شاعری کے ساتھ اچھا لکھ سکتے ہوں۔

11. محمد خلیل الرحمٰن : سر محفل کی بڑی دلچسپ شخصیت ہیں۔ کسی بھی قسم کی شاعری کی پیروڈی بنا لیتے ہیں۔ اراکین کے سفر ناموں میں کچھ روز قبل سفر منطقہ غربیہ نام سے اپنا ایک سفر محفلین کے ساتھ شیر کیا ہے۔ سفر نامے کا عنوان کافی مشکل سا لگا لیکن تحریر بہت دلچسپ اور مزاحیہ رہی۔ان انہیں پڑھنے کے بعد لگتا ہے وقت نکال کر پڑھنا نقصان دہ نہیں یا دیگر الفاظ میں کہ سکتے ہیں کہ پورے پیسے وصول ہوئے !

12. نیرنگ خیال : اصل نام ذولقرنین ہے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے ہیں۔ مجھے ان کی حس مزاح کا پہلو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔ خوب تحریر لکھتے ہیں بھیا۔ ان کی ایک تحریر سے پتا چلا محمد احمد صاحب اور ذولقرنین بھیا میں کافی اچھی دوستی ہے۔ عید کے دن لیٹ کر ریموٹ تک ہاتھ پہنچانے کی تحریر اور مسجد کے باہر جوتیوں کا جس طرح تذکرہ کیا ابھی تک یاد ہے ، ہر چیز میں مزاح بکھیرتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ان کی طرح لکھ سکوں۔

13. باباجی : فراز بھائی لاہور سے ہیں۔کچھ دنوں پہلے ایک دھاگہ کھول کر تمام محفلین کا شکریہ ادا کیا، پڑھ کر معلوم ہوا محفل اور محفلین سے کتنی محبت ہے فراز بھائی کو۔ ہم جیسوں کی ہمت افزائی کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ انہیں محفل میں دیکھ کر اچھا لگتا ہے۔

14. افضل حسین : ہندوستان کے مشہور معروف شہر کلکتے سے ہیں۔ مزاحیہ کمنٹس زبردست کرتے ہیں۔ میرے اچھے تعلقات ہیں ان سے۔بہت عزت کرتا ہوں اور کافی کچھ سیکھتا رہتا ہوں۔

15. فرخ منظور : یہ صاحب مجھے نہیں جانتے لیکن میں انہیں ان کے کلام کے انتخاب سے پہچانتا ہوں اور عزت کرتا ہوں۔ عمدہ ذوق کے مالک ہیں۔ یوں ہی ہمارے ساتھ اچھی اچھی شاعری شیئر کرتے رہیے فرخ صاحب۔اور ہو سکے تو وقت نکال کر کچھ لکھتے بھی رہا کیجیے گا۔

16. فاتح : محفل کے شاعر ہیں ۔ سائنس میں بے حد دلچسپی ہے۔ ہر چیز کے لیے ثبوت مانگتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر مجھے بھی عادت پڑ گئی ثبوت مانگنے کی۔ حال ہی میں انہوں نے سگریٹ کا نیا ورژن محفلین سے شیر کیا ہے جو مجھے بھی پسند آیا ۔ اینڈرائیڈ فون استعمال کرتے ہیں ، ایپل کی مارکٹنگ انہیں پسند نہیں۔ کہتے ہیں ، ایپل والے سستا مال مہنگے میں بیچتے ہیں ۔ جس دن اچھا مال کم قیمتوں میں بیچنے لگیں گے تب یہ بھی خریدیں گے۔ ویسے میں بھی ان کی بات سے اتفاق کرتا ہوں، لیکن مشکل ہے کہ ایپل کم قیمتوں پر اچھی چیزیں بیچے۔تکنیکی چیزوں میں دلچسپی کے علاوہ ، اردو زبان کی باریکیوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کے تبصرے، دوسروں کی طرح میں بھی بڑی دلچسپی سے پڑھتا ہوںَ۔

17. سید ذیشان : لوگ انہیں عروض سافٹویر کے خالق کہتے ہیں۔ محفل پر اکثر آن لائین ہوتے ہیں۔شاعری بھی کر لیتے ہیں۔ حال ہی میں، عارف صاحب کے ساتھ مل کر جمیل نستعلیق کا تیسرا ورژن جاری کیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ، اپنے پیارے بچے کو نمائدہ تصویر میں لگایا تھا، مجھے اتنی پسند آئی کہ تصویر کو اپنے ڈسکٹاپ پر محفوظ کیا ہے۔

18. زیک : آپ سوچ رہے ہوں گے زیک کیسا نام ہے۔ میں بھی سوچتا تھا یہ بندہ انگریز تو نہیں۔ لیکن انگریز اتنی اچھی اردو تو نہیں بولتے ۔ بعد میں پتا چلا ، ان کا اصل نام زکریا ہے، نبیل بھائی کے علاوہ یہ بھی اردو محفل کے بانی ہیں۔عمراور تجربے میں ہم سے بہت بڑے ہیں۔ یہ رننگ کرنے میں، سائیکل چلانے میں ، کار چلانے میں بہت متحرک ہیں۔ زندگی گزارتے نہیں بلکہ جیتے ہیں۔ امریکہ اور یوروپ کے کئی مقامات کی سیر کر چکے ہیں۔ محفل پر ایک یا دو جملے کا تبصرہ کرتے ہیں۔ شاید وقت کی کمی کے باعث ایسا کرتے ہیں۔ کوئی مذہب کے نام پر سائنس کو بیچ میں گھسیٹتا ہے تو ان کی راڈار میں آجاتا ہے۔

19. @arifkareem سب سےپہلے تو یہ کہوں کہ انہیں ٹیگ کرنا واقعی مشکل کام ہے۔ حال ہی میں جمیل نستعلیق کا تیسرا ورژن محمد ذیشان بھائی کے ساتھ مل کر جاری کیا ہے۔ پرانے رکن ہیں محفل کے۔ سائنس میں کافی دلچسپی ہے۔ اکثر زکریا بھائی سےمختلف موضوعات پر انہیں تبادلہ ئے خیال کرتے پایا گیا ہے ۔ کسی لڑی پر حملے کردیں تو پوری لڑی پر ریٹنگ اور تبصرہ فرما کر دم لیتے ہیں۔ یہ اردو زبان کی بہتری کے لیے اپنا بہت وقت نکالتے ہیں ان کی اردو سے محبت دیکھ کر ہم جناب کو آداب کرتے ہیں ۔

20. محمد تابش صدیقی : اسلام آباد سے ہیں۔ اینڈرائیڈ ایپ ڈیو لپر ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک اینڈرائیڈ سافٹ ویر علامہ اقبال پر بنا کر محفلیکن سے شیئر کیا، مجھے بہت پسند آیا۔ فی الحال محفل پر متحرک نظر آتے ہیں۔ اچھے کلام کی داد دیتے ہیں۔ اپنے دادا حضرت کی شاعری محفل پر شیر کرتے ہیں۔محفل کے شاعر ظہیر احمد ظہیر صاحب کی شاعری میری طرح یہ بھی بہت پسند کرتے ہیں۔ویسے میں تو ظہیر احمد ظہیر صاحب کا ذکر کرنا ہی بھول گیامیں :پی

21. راحیل فاروق: یہ بھی بڑی دلچسپ شخصیت ہیں۔ محمد احمد صاحب کی طرح، بزم سخن کے علاوہ جہان نثر میں بھی پائے جاتے ہیں۔ مراسلوں کی مقدار سے زیادہ معیار پر یقین رکھتے ہیں۔ انجناب کچھ عرصے سے محفل پر زیادہ فعال نہیں۔امید کرتے ہیں ایک دفعہ پھر محفل پر نظر آنے لگیں گے۔

22. نایاب : محفل کی واحد شخصیت ہیں جو اتنے پیار و محبت سے پیش آتے ہیں۔ سب محفلین کے لیے ان کے پاس دعائیں ہوتی ہیں۔ان کو اپنے کسی دھاگے میں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ یہ سب کو اتنی اچھی دعائیں دیتے ہیں ، اللہ سے دعا ہے وہ تمام دعائیں سب سے پہلے ان کے حق میں قبول ہوں۔

23. محمود احمد غزنوی : دبئی سے ہیں۔ ان کی چھوٹی موٹی مختصر تحریریں پڑھنے میں دلچسپ ہوتی ہیں۔ آج کل محفل پر زیادہ متحرک نہیں ہیں ۔

24. عثمان : کینڈا میں مقیم ہیں۔ بحری جہاز پر سفر کرنا شاید ان کا پیشہ ہے۔ ایک بار بالوں کا ذکر چلا تو میری ان سے گفتگو ہوئی تھی۔ کہہ رہے تھے بال چھوٹے رکھتے ہیں کیوں کہ ان کی جاب میں ٹوپی پہنا ہوتا ہے اس لیے۔ یہ ریشنل باتیں کرتے ہیں اس لیے میں ان کی پوسٹ بڑی دلچسپی سے پڑھتا ہوں ۔

25. حسان خان : کراچی سے ہیں۔ فارس اور فارسی دونوں میں کافی دلچسپی ہے۔ اکثر تصاویر کے سیکشن میں عمدہ تصاویر شیر کرتے رہتے ہیں اور فارسی شاعری میں بھی کچھ نا کچھ لکھتے رہتے ہیں۔

26. لاریب مرزا : ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ۔ کچھ اس طرح ہے ان کے تعارفی دگھاگے کا عنوان۔ کافی لمبا سلسلہ چلا ہے ان کے تعارفی دھاگے کا۔لاہور ، پنجاب سے ہیں اور پیشے سے شاید ٹیچر ہیں۔ سنیما کہانی سنائی تھی ایک دفعہ۔اچھا لکھتی ہیں ۔آج کل محفل پر متحرک ہیں۔

27. نمرہ : محفل کی پرانی ممبر ہیں، پرسوں ان کی تحریر 'سردیوں کی شاموں میں' نظر سے گزری ، بہت خوب لکھا ہے۔ مزید تحریریں پڑھنے کی خواہش ہے۔

28. عمر سیف : شاید پہلے محفل پر ضبط نام سے پائے جاتے ہیں۔ اب عمر سیف سے پہچانے جاتے ہیں۔ بھائی محفل کے پرانے رکن ہیں ، اور بہت پوسٹ کر چکے ہیں۔ شکوہ بس یہ ہے کہ آج کل پہلے جیسے متحرک نظر نہیں آتے ۔

29. عائشہ عزیز : محفل کی چھوٹی بلی۔ مجھے یاد ہے جب میں محفل جوائن کیا تو انہوں نے بہت اچھا استقبال کیا تھا۔ اپنے بھائیوں سے شکایت کرتی ہوئی اردو محفل کی باردہ دری میں کبھی کبھار پائی جاتی ہیں۔

30. فہیم : محفل پر ایک پرانے رکن ہیں فہیم نام کے۔ ان کی پرانے پروفائل پک دیکھا تھا میں نے بڑے بالوں والی۔ ان کے مراسلے نظر سے گزرتے رہتے ہیں۔ امید ہے اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر محفل پر نظر آئیں گے۔

31. ناعمہ عزیز : یہ عائشہ عزیز کے تعارف میں لکھا ہے کہ ناعمہ عزیز ان کی بڑی بہن ہیں۔ کچھ زیاد ہ نہیں جاتنا ان کے متعلق میں۔ تحریریں لکھتی ہے فرصت کے لمحات میں۔ ان کی ایک تحریر ، بچپن کی کھٹی میٹھی یادیں پڑھا تھا۔ اچھا لکھتی ہیں ۔

32. سیدہ شگفتہ : محفل کی پرانی رکن ہیں شگفتہ آپی۔ ان سے ایک دو لڑیوں میں بات ہوئی تھی ۔ زین بھائی کی بچی کی پیدائش پر میں نے مبارک باد دینے کے بجائے فقط اتنا لکھا کہ بچی مبارک ہوتی ہے ، اس لیے مجھے مبارک باد دینی کی ضرورت نہیں۔ اس بات پر شگفتہ آپی نے کلاس لی تھی میری۔

33. محمد امین : ان کی پروفائل کے مطابق امین بھائی شمالی کراچی سے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کراچی کے لوگوں کا اردو سے ایک خاص رشتہ ہے۔ یہ محفل کے کافی پرانے رکن ہیں۔ مجھے یاد ہے بہت پیار سے استقبال کیا تھا میرا۔

34. اوشو : میں نے کبھی آپ سے بات نہیں کی۔ لیکن ایک سوال ہمیشہ ذہن میں مسلسل آتا ہے آپ نے بھگوان رجنیش کے نام سے کیوں جوائن کیا اور ان کی تصویر کیوں لگاتے ہیں۔

35. قیصرانی : قیصرانی بھائی کا اصل نام منصور ہے۔ بہت اچھے محفلین ہیں۔ سب لوگ ان کی تعریف کرتے نہیں تھکتے ۔ کچھ دن پہلے بہت شاندار استقبال کیا گیا ان کا ۔ لیکن اس کے باؤجود پہلے جیسے متحرک نہیں ہیں۔ میری ان سے گزارش ہے کہ محفل پر آتے رہا کریں تاکہ ہمیں بھی آپ سے کچھ سیکھنے ملے ۔

36. ایچ اے خان :پرانے اور قابل رکن ہیں محفل کے۔ کثیر منفی درجات میں سب سے اول مقام حاصل ہےجناب کو۔انہوں نے کہیں کہا ہے کہ کسی نے ان سے ریٹنگ دینے کے اختیارات چھین لیے ہیں ورنہ یہ بھی سب کو اپنی پوزیشن تک لا کھڑا کرتے ۔

37. ناصر رانا : حال ہی میں محفل جوائن کیا ہے۔کھیلوں میں بڑی دلچسپی ہے جناب کو۔ ان کی پرانی نمائندہ تصویر میں نے دیکھ رکھی ہے۔ ایسا لگتا تھا جیسے کام کے وقت چپکے سے محفل میں وقت گزارنے آ جاتے ہیں۔پتا نہیں کیا ہے حقیقت۔ بہر حال محفل میں خوب صورت اضافہ ہیں۔

جن محفلین کا میں نے ذکر نہیں کیا ، وہ یہ نا سمجھیں کہ میں نے یاد نہیں رکھا، بس فہرست اتنی لمبی ہوگئی ہے کہ ایک پوسٹ میں سب کچھ لکھنا مشکل ہے۔ میں کوشش کروں گا باقی محفلین جنہیں میں جانتا ہوں ان کا ذکر خیر بھی جلد کروں ۔

شاندار :)
ماشاءاللہ بہت اچھے انداز میں محفلین کا تعارف کروایا
حقیقت ہی حقیقت رتی برابر بھی مبالغہ نہیں
اللہ کرے زور قلم زیادہ
 
Top