لیتا ہے خبریں غیر سے اپنے شکار کی

عاطف ملک نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 24, 2019

  1. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,143
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    لیتا ہے خبریں غیر سے اپنے شکار کی
    دیکھو مزاج پرسی ذرا میرے یار کی

    نکلی جو آج آہ دلِ دل فگار کی
    پہنچے گی گونج عرش تلک اس پکار کی

    تو پاس ہو تو سال ہے خوشیوں کی اک گھڑی
    اور دور ہو تو پل ہے صدی اضطرار کی

    جو بات ناگوار ہو ان کے مزاج کو
    لگتی ہے ان کو بات وہی انتشار کی

    پہچان لیں جو حق کو تو دیتے ہیں اس کا ساتھ
    ہم کو طلب ہے جاہ کی نے اقتدار کی

    کیونکر مرے قلم سے نہ نکلے تمہارا عشق
    خوشبو تو اپنے آپ خبر ہے بہار کی

    مانا کہ ناگزیر نہیں ہے یہاں کوئی
    عاطفؔ مگر ہے بات فقط اختیار کی

    عاطفؔ ملک
    نومبر ۲۰۱۹

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 4
  2. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    482
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    مطلع بہت خوب ہے، بھئی واہ!

    باقی کی غزل بھی بہت عمدہ ہے، بس مقطعے سے قبل کا شعر غزل کے عمومی میعار سے کچھ کم لگا۔

    ’’جو بات ناگوار ہو ان کے مزاج کو
    لگتی ہے ان کو بات وہی انتشار کی‘‘

    یہ شعر پڑھ کر بے اختیار آج کل کی سیاسی صورتحال یاد آگئی اور ایک بے ساختہ سی ہنسی چھوٹ گئی :)

    اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!

    دعاگو،

    راحلؔ
     
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    8,676
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    کیا بات ہے ڈاکٹر صاحب! واہ
     
  4. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,143
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    بہت شکریہ:)
    :)
    بہت نوازش،بہت شکریہ:):):)
    شکریہ خلیل سر:)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,993
    بہت خوب
    مقطع کا مطلب بتا دیجیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,143
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    کچھ لوگوں کو ہم ناگزیر سمجھ لیتے ہیں،یہ جانتے ہوئے بھی کہ کوئی کسی کیلیے ناگزیر نہیں،کیونکہ ان کے حوالے سے خود پر اختیار نہیں ہوتا۔
    کچھ ایسا خیال تھا۔
     
  7. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,725
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    واہ! بہت خوب ! اچھے اشعار ہیں عاطف!
    دوسرے شعر کو دیکھ لیجئے ۔ آہ کو پکار کہنا اچھا نہیں لگ رہا ۔ ایک چھوٹا سا نکتہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو متروکہ الفاظ کے استعمال سے بچنا چاہئے ۔
    "ہم کو طلب ہے جاہ کی نے اقتدار کی" ۔ آج کل تو "نے" کوئی بھی استعمال نہیں کرتا ۔ اسے یوں کرلیجئے: "ہے جاہ کی طلب نہ ہمیں اقتدار کی"
    عاطف بھائی ، آپ کی شاعری میں امکانات ہیں ۔ سہل پسندی سے بچئے ۔ غزل لکھ کر رکھ دیجئے اور جب بھول جائے تو پھر سے اٹھا کر دشمن کی نظر سے دیکھئے ۔ ذرا سی محنت اور نظرِ ثانی سے مصرعے سنور جاتے ہیں ۔ اپنے تجربے کی بات بتارہا ہوں آپ کو۔ برا لگے تو معذرت ۔ بتادیجئے گا آئندہ نہیں کہوں گا۔ :):):)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,143
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    بہت شکریہ
    اس کو دیکھتا ہوں محترم،
    آہ بے آواز ہوتے ہوئے بھی عرش تک پہنچے گی،ایسا کچھ کہنا چاہ رہا تھا۔
    جی بہتر،
    ویسے "نے" دانستہ استعمال کیا تھا(n)
    بہت خوشی ہوتی ہے آپ کے تبصروں سے۔آپ جیسے اہلِ علم سے ہی تو سب کچھ سیکھا ہے۔ضرور تبصرہ کیا کریں تاکہ ہمارا کلام بھی کسی قابل ہو سکے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر