فونٹ بنانے سے متعلق معلومات اکٹھی کریں!

ایک جگہ پر آپ نے یہ تحریر فرمایا تھا:


اس میں لفظ کے محفوظ ہونے کا جو ذکر ہے اس کی بھی کچھ مزید وضاحت فرمادیں۔ خاص طور پر اس جملہ کی کہ:

بہت آسان ہے:
دیکھیں آپ لفظ ":شمع" لکھ رہے ہیں۔ تو آپ کونسے کیریکٹرز داخل کریں گے؟ کی بورڈ پر پریس کریں

ش م ع :‌بس یہ تین حرف محفوظ ہونگے۔ کسی اسے پروگرام سے دیکھیں جو اردو نسخ‌کی لاجک نا جانتا ہو تو صرف 3 "کوڈ پوائینٹ" نظر ائیں گے۔ اگر فائل ASCII میں ہے تو ہر کیریکٹر 1 بائٹ کا ہوگا۔ اور اگر UTF8 ہے تو 2 بائٹ تک کا۔ اور UTF16 ہے تو پھر 16 بائٹ تک کا ہوگا۔ لیکن ہونگے صرف 3 کیریکٹرز اور یہ تبدیل نہیں ہونگے ڈسک پر
یہ ہوا کوڈ پیج جو کی بورڈ سے جنیریٹ ہوتا ہے اور ڈسک پر محفوظ ہوتا ہے۔

اب اس کو دکھانے کی لئے آپ دیکھٰیں کے آپ فونٹ سے ش کا Beg Shape لیتے ہیں
یہ صرف ڈسپلے پر تبدیل ہوتا ہے۔ محفوظ نہیں ہوتا ہے۔ جی؟ تو یہ تمام مختلف شیپس فونٹ پیج میں ہونگے۔

مزید ایسے سمجھیں کے جو حروف کی بورڈ پر ہیں صرف وہی محفوظ کیے جاسکتے ہیں تاکہ سورٹنگ انڈیکسنگ میں‌آسانی رہے۔

ڈسپلے کرنے والے حروف فونٹ پیج کہلاتے ہیں اور مختلف شیپس ہو سکتے ہیں
 
اب میں کچھ چھوٹے چھوٹے سے سوالات کرنا چاہتا ہوں جو میری عقل میں سما نہیں سکے۔
یہ ٹیبل بنانے کا تذکرہ کئی بار ہوا ہے۔ یہ ٹیبل کہاں بنے گا؟ فونٹ ایڈیٹر میں یا پھر صدف کے سورس کوڈ میں جو C files اور H files موجود ہیں، ان کو کسی طرح بنانا ہوگا۔۔۔؟

کل میرا ارادہ کسی ایک شکل یا شیپ کو لے کر اس کے تمام Parameters بتانے کا ہے۔ اس کے بعد آپ کی سمجھ میں آجائے گا کہ ٹیبل میں ہوگا کیا۔
اب یہ ٹیبل کہاں بنے گا؟ جب صدف لکھا گیا تو TrueType میں نستعلیق کو ہینڈل کرنے کی لاجک نہیں تھی۔ تو میں نے یہ صدف میں لکھ دی۔ اب OpenType فونٹ میں یہ لاجک شامل ہی کی حروف کی مزید attribute ہو سکتے ہیں ، تو ان attributes کو ہینڈل کرنے کا ظریقہ موجود ہے۔ آپ تفصیلات کے لئے یہ پڑھ لیں
http://en.wikipedia.org/wiki/OpenType
سوال کتنے بھی چھوٹے ہو جاری رکھئے میری بہت ہی مدد ہوتی ہے خیالات یکجا کرنے میں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ تمام کی تمام ٹکنالوجی کھول دوں تمام تر خلوص کے ساتھ۔
 
آج میں نے بھی صدر ڈاؤن لوڈ کر لیا لیکن بعد میں یہاں دیکھنے سے معلوم ہوا کہ فانٹ انسٹال کرنے کے بعد یہ کام کرتا ہے، سو ابھی اسے کام کرتا بھی دیکھ لیا ہے۔ ان پیج کے صوتی سے مختلف کی بورڈ ہے۔ اب اس رعنا فانٹ کے ساتھ کل دو دو لہاتھ کر کے دیکھتا ہوں۔

جی۔ ہمارا ٹارگٹ تو صرف ایک OpenType فونٹ بنانے کا ہے۔ یہ سب ، صدف، اس کے فونٹ وغیرہ صرف مدد کے لئے ہیں۔ تاکہ لوگ مثالوں کو سمجھ سکیں۔
 
فاروق، پاک نستعلیق کا وولٹ سورس ابھی عام دستیاب نہیں ہے۔ اس پر محسن حجازی کام کر رہے ہیں اور یہ کام مقتدرہ کے مرکز فضیلت میں ہو رہا ہے۔ میں محسن حجازی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ آپ سے رابطہ کریں تاکہ کوئی مفید معلومات کا تبادلہ ہو سکے۔

کیا کسی اور نستعلیق فونٹ کا volt work ہے۔ پرانا بھی چلے گا۔ اس سے ہم ریسرچ کرنے سے بچ جائیں گے کہ کون کون سے سٹرکچرز کو بھرنا ہے۔ اگر نہ ہوا تو بھی کوئے فرق نہیں پڑتا
 
ایک بات اور جو مجھے اب سمجھ آئی، وہ یہ کہ نستعلیق فونٹ بنانے کے لیے ہلکی پھلکی پروگرامنگ اور کوڈنگ کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ نسخ کی طرح کسی فونٹ ایڈیٹر پر صرف شکلیں اٹھانے کا کام نہیں کرنا پڑتا۔۔۔ ٹھیک؟

جی۔ یہ بات درست تھی جب Open Type نہیں آیا تھا۔ اب OpenType میں یہ سپورٹ موجود تو ہے لیکن صدف کی طرح تیز رفتار نہیں۔ ایک فائدہ ضرور ہے کہ فونٹ بناکر نستعلیق استعمال کرلیں ہر پروگرام میں۔ کسی پروگرامنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ساتھ رہئے - سوالات کرتے رہیے۔ میرا خیال ہے کہ ائندہ دو دنوں میں سب تھیوری مکمل کرلوں گا۔ پھر کسی فونٹ ایڈیٹر کی مدد سی سٹیپ بائی سٹیپ پہلے کسی فونٹ ایڈیٹر سے فونٹ بنائیں گے اور اس کی بعد volt کی مدد سے ضروری ٹیبل بنائیں گے۔ اس کی تفصیل ائندہ دو دنوں میں آنے والی ہے۔ سوالات ضرور پوچھتے رہیں۔ معمولی سے معمولی سوال کو بھی نظر انداز نہ کریں۔ سب کے کام آئے گا۔
 
صاحبو ایک ساتھی نے کچھ اچھی اور کچھ تنقیدکی ہے۔ ان میں سے ایک سوال یہ ہی کہ یہ جو آپ بار بار لکھتے ہیں۔ کہ "‌میں نے یہ کیا، میں‌ نے وہ کیا۔ یہ تیر مارا، وہ تیر مارا تو۔ " آپ(یعنی خاکسار) اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں؟
جواب سب کے لئے۔
بقول اللہ، اس نے مجھے "خلق الانسان من علق" کے مطابق علق سے بنایا اور مجھ جیسے 6 بلین تو آج حیات ہیں اور مزید کتنے آچکے اور کتنے آئیں گے۔ایک سانس پر تو بھی بس نہیں میرا۔ یہ کبریائی ہے اس ذات پاک کی کی اس نے علق میں۔ نظفہ کے ایک معمولی جرثومہ کے Dna میں ایسا سوفٹوئر لکھا کہ آنکھ کے سامنے کچھ نہیں سے پورا انسان عقل کے ساتھ بن جاتا ہے۔ وہ سب سے بڑا موجد ہے، خالق ہے۔ سبحان اللہ۔ انسان کو عقل دی کے اسے استعمال کرے اور سب کو فائدہ پہنچائے۔اس فارمولے میں فٹ کرکے دیکھئیے میں کس قدر حقیر ہوں، اور اس حقارت میں بھی بنانے والے کی قدرت کیا ہے؟ صرف آج ہی 6 بلین انسانوں، جانوروں اور تمام مخلوقات میں‌نظر آتی ہے۔ سبحان اللہ۔
جو کچھ اس حقیرو پرتقصیر نے سیکھا ہے، سکھانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس دوران اگر کسی بات سے یہ تاثر ملتا ہے کے میں کچھ سمجھتا ہوں اپنے آپ کو تو ذاتی معافی کا خواستگار ہوں۔ کسی کی حیثیت عرفی پر حرف اچھالنا مقصد نہیں اور اپنی تعریف مقصود نہیں یہ آپ کا ادھار ہے، اتار رہا ہوں۔ اس سلسلے پر مزید بحث نا کیجئیے۔ امید ہے اتنی وضاحت کافی ہے۔
والسلام
 
سب سے پہلے تو بہت بہت شکریہ فاروق بھائی آپ کا کہ آپ نے انتہائی شفقت سے میرے سوالوں کے جوابات دیئے۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ مجھے کافی ہچکچاہٹ ہورہی تھی۔۔۔! اب تک میرے ذہن میں جو باتیں تھیں، آپ کے جوابات کے بعد واضح ہوگئی ہیں۔ جزاک اللہ خیرا۔ ان شاء اللہ آپ کی راہنمائی میں ہم جلد منزل تک پہنچیں گے۔
 
فی الحال یہی سوالات۔ شاید یہ بڑے بے تکے سوالات ہوں لیکن میں چونکہ ابتدائی درجہ کا طالبعلم ہوں اس لیے سمجھنے میں زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ امید ہے، زحمت نہ ہوگی!
جناب۔ سوال جیسا بھی ہو کیجئیے، کوشش یہ ہوگی کہ جواب معلوم ہو تو بتا دوں ورنہ مل کے ڈھونڈھ لیں گے۔ اس تمام سلسلے کو جس طرح اعجاز اختر صاحب اور دوسرے ساتھیوں نے جس طرح یہ سلسلہ شروع کیا۔ اس سے ان کا یہی مقصد تھا کہ جن سوالات کے جوابات نہیں معلوم۔ معلوم ہوجائیں۔ ان کی تمام کوششیں قابل ستائش ہیں۔ پھر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں ‌بنتا گیا کے مصداق بہت ساتھی اپنے اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں۔یہ سب کچھ سوالات کے جوابات کے لئے تو ہے۔
 
صاحبو ایک ساتھی نے کچھ اچھی اور کچھ تنقیدکی ہے۔ ان میں سے ایک سوال یہ ہی کہ یہ جو آپ بار بار لکھتے ہیں۔ کہ "‌میں نے یہ کیا، میں‌ نے وہ کیا۔ یہ تیر مارا، وہ تیر مارا تو۔ " آپ(یعنی خاکسار) اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں؟
جواب سب کے لئے۔
بقول اللہ، اس نے مجھے "خلق الانسان من علق" کے مطابق علق سے بنایا اور مجھ جیسے 6 بلین تو آج حیات ہیں اور مزید کتنے آچکے اور کتنے آئیں گے۔ایک سانس پر تو بھی بس نہیں میرا۔ یہ کبریائی ہے اس ذات پاک کی کی اس نے علق میں۔ نظفہ کے ایک معمولی جرثومہ کے Dna میں ایسا سوفٹوئر لکھا کہ آنکھ کے سامنے کچھ نہیں سے پورا انسان عقل کے ساتھ بن جاتا ہے۔ وہ سب سے بڑا موجد ہے، خالق ہے۔ سبحان اللہ۔ انسان کو عقل دی کے اسے استعمال کرے اور سب کو فائدہ پہنچائے۔اس فارمولے میں فٹ کرکے دیکھئیے میں کس قدر حقیر ہوں، اور اس حقارت میں بھی بنانے والے کی قدرت کیا ہے؟ صرف آج ہی 6 بلین انسانوں، جانوروں اور تمام مخلوقات میں‌نظر آتی ہے۔ سبحان اللہ۔
جو کچھ اس حقیرو پرتقصیر نے سیکھا ہے، سکھانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس دوران اگر کسی بات سے یہ تاثر ملتا ہے کے میں کچھ سمجھتا ہوں اپنے آپ کو تو ذاتی معافی کا خواستگار ہوں۔ کسی کی حیثیت عرفی پر حرف اچھالنا مقصد نہیں اور اپنی تعریف مقصود نہیں یہ آپ کا ادھار ہے، اتار رہا ہوں۔ اس سلسلے پر مزید بحث نا کیجئیے۔ امید ہے اتنی وضاحت کافی ہے۔
والسلام

فاروق صاحب ،

آپ بہت عمدہ کام کر رہے ہیں اور یقین جانیے ایسا کام ہے کہ آئیندہ انٹر نیٹ پر اردو کے فروغ کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔ آپ کے خلوص‌ پر ہم سب کو مکمل یقین ہے اور آپ جانتے ہی ہوں گے کہ اچھے کام کی راہ میں ایسی رکاوٹیں آیا ہی کرتی ہیں جن سے نبرد آزما ہو کر ہی منزل تک پہنچا جاتا ہے۔
بہت سے لوگ لکھ نہیں رہے مگر وہ بغور مطالعہ کر رہے ہیں آپ کی تحاریر کا اور جانے کتنے لوگ ہیں جو آئیندہ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔
 
صدف اور نستعلیق کا مکمل سورس کوڈ http://pak.net/sfwsrc.zip پر رکھ دیا ہے۔ جو صاحب چاہیں ڈاون لوڈ کرسکتے ہیں۔ یہ ایک اردو نستعلیق کا ایڈیٹر ہے۔ سورس کوڈ دس سال پرانا ہے اور کچھ فائلیں‌20 سال پرانی ہیں :)
بہرحال یہ کوڈ جدید IDE C compilers میں کمپائیل ہوجانا چاہئے۔ اس میں NSHAPE.C اور nacsd.c ایک نستعلیق رینڈرنگ انجن ہے۔ جو Trutype fonts کی ساتھ کام کرتا ہے۔ یہ انجن مختلف ٹیبلز جو کہ tab.* فائلز میں ہیں۔ کسی پروگرام کی مدد سی کنٹرول کئے جاسکتے ہیں۔ کوئی صاحب لکھیں ایسا پروگرام۔ اس کے علاوہ نقاط لگانے کے طریقے میں Improvements کی ضرورت ہے۔ نقاط کا الگ ایڈیٹر ہو تو بہت اچھا ہو۔ گو کہ اب اوپن ٹائپ سے کافی افاقہ ہے۔ لیکن یہ ایک اوپن سورس نستعلیق انجن ہے۔ کم از کم لوگ اس کو پڑھ کر نستعلیق کو سمجھ سکتے ہیں۔

مزید پرانا کوڈ صرف MS C compiler 1.5.4 میں ہی استعمال ہوسکتا ہے۔ یہ کوڈ صرف عجائب گھر میں رکھے جانے کے قابل ہے۔ یہاں ہے۔
http://pak.net/sfwsrc_c154.zip

اس سے بھی پرانا کوڈ جو DOS 3.1 پر تھا۔ خلیل احمد اقبال صاحب کے پاس ہوتوہو، ایڈیٹر ٹربو پاسکال اور نستعلیق کا کوڈ X86 Assembler میں تھا۔ مجھے کبھی اس کی Diskette مل گئی تو یہاں رکھ دوں گا :)
(جی! عمر کے تعلق سے یہ عرض ہے کہ یاد نہیں کہ پہلے ہزار سال کتنے ہزار سال پہلے گننا چھوڑ دیے- البتہ میری تصویر؟ وہ تازہ ہی ہے) :) :)
 
نستعلیق کے یکتا SAL اور انتہائی شیپس۔ (جن حضرات نے فونٹ ایڈیٹرز کے لنک بھیجے، ان کا شکریہ، ورنہ یہ نمونے ممکن نہ تھے)

attachment.php


اوپر کی تصویر میں آپ کو Stand Alone shapes یعنی یکتا شیپس نظر آ رہے ہیں۔ ان میں کجھ میں نقاط ہیں اور کچھ میں نہیں ہیں۔ جن میں نقاط نہیں ہیں ان کا glyph یعنی ترسیمہ بنانے کے لئے فونٹ‌میں سے نقاط لگانے ہونگے۔

نقاط لگیں گے کیسے؟
TrueType Fonts میں جو OpenType Specifications سے بنی ہوں۔ Ligature بنانے کی سپورٹ ہے۔ جن فونٹس میں ST Pair کی سپورٹ اور ہینڈلنگ ہے وہ 1ST کو
بدل کر اٹیچمینٹ ٔ2 جیسا بنا دیتی ہیں۔
ہم OpenType میں موجود اس لاجک کا فائیدہ اٹھائیں گے اور code page کے characters جیسے ش م ع کو بدل دیں گے س + تین نقطے + م کا میانی شیپ + ع
یہ بات سمجھ لیں۔
نقاط لگانے کا کم standalone حروف کے لئے تو آسان ہے۔ لیکن 2 ابتدائی، اور دو درمیانی شیپس کے لئے کافی سے زیاد محنت طلب ہے۔ گویا صرف فونٹ کافی نہیں۔ ہمیں ہر ممکنہ glyph کو بنانے کی مکمل انٹیلیجنس بھی درکار ہے۔ یہ انٹیلیجنس Open Type کی فونٹ میں VOLT سے مینیج ہو سکتی ہے۔ کیسے؟ یہ ابھی دیکھنا ہے۔

[http://www.urduweb.org/mehfil/attachment.php?attachmentid=225&stc=1&d=1185670196]
 

Attachments

  • sal_ecn.jpg
    sal_ecn.jpg
    9.3 KB · مناظر: 39
  • 1st_lig.GIF
    1st_lig.GIF
    987 bytes · مناظر: 52
نستعلیق کے ھروف کے لئے درکار انفارمیشن:

یکتا حروف جیسے "ج" بنانے کے لئے۔ ہم کو دو شیپس درکار ہوں گے۔
جیسے "ح" جیسا شیپ اور "ج" جیسے نقاط۔ اور نقطہ کے x,y coordinates

انتہائی حروف، جیسے "ج" ہے "سج" میں، بنانے کی لئے۔ ہم کو
1۔ "ح" جیسا شیپ۔
2-. "نقطہ اور نقطہ کے x,y coordinates
3- وہ مقام جہاں آکر "س" ملے گا۔

ابتدائی حرف Beg Shape for Econ یا Beg for Mid Shape جیسے "بج" یا بجا میں "ب" ہے، اس کے لئے درکار ہوگا۔
1۔ "ب" کا وہ شیپ جو "ج" کے لئے مناسب ہو - اس کو منتخب کیسے کیا جائے گا۔ تفصیل بعد میں۔
2- "ب" کے نقاط کے x,y coordinates
3۔ "ب" کو "ج" سے کنیکٹ کرنے کے x,y coordinates ج Open Type کو بتائے گا۔.

درمیانی حرف ، انتہائی حرف اور درمیانی حرف سے ملانے لئے:
جیسے "بیچ" میں یا بیچہ میں "ی" ہے۔
1۔ "ی" کے مناسب شیپ کا انتخاب
2۔ "ی" کے منتخب شدہ شیپ کے لئے مناسب نقاط کے x,y coordinates اور رائیٹ پر کنکشن کہاں ملے گا اس کے x, y coordinates

لکھنے کا طریقہ کچھ اس طرح ہوگا۔
1- سمجھیں ہم لکھ رہے ہیں "پیشکش"

تو ہم لکھیں گے لیفٹ سے۔ یعنی "ش" سے "پ" کی طرف- اس کے سٹیپ دیکھئے

attachment.php


اس تصویر میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ کئی ایک کام مشکل لگ رہے ہیں اور ذہن مین بہت سے سوال آتے ہیں۔

یہ سب شیپ کہاں سے آئینگے؟
ہم یہ شیپ صدف کی دو فونٹس سے کاٹ پیٹ (کٹ پیسٹ) کرکے فونٹ‌میں ڈال سکتے ہیں۔ بنیاد کے لئے ہم پاک نستعلیق یا نفیس نستعلیق کو استعمال کر سکتے ہیں آخر انگلش اور دوسرے فونٹس بھی تو اسی طرح شروع کئے جاتے ہیں۔
میری یکتا اور انتہائی شیپس سے نقطے ہٹا لینے کے وجہ یہ تھی کے فونٹس محدود سائز کے تھے۔ اب فونٹس میں 64،000 تک کیریکٹرز آسکتے ہیں۔ گویا فونٹس کی فائلز ایک انڈیکسڈ داٹابیس ہوئی۔ میرا خیال ہے کہ ہم نئے فونٹ میں انتہائی اور یکتا حروف تمام کی تمام رکھیں۔ اور اس کے علاوہ تمام میانی اور ابتدائی کیریکٹر کا سائز بڑھا دیں۔ ورنہ نقطے ایک دوسرے پر چڑھتے ہیں۔ شاکر صاحب اس بارے میں کتابت کے نکتہ نظر سے روشنی ڈال سکتے ہی کشیدگی سے فونٹ کی خوبصورتی قابل قبول ہوگی؟
اور محسن صاحب اس پر تکنیکی نکتہ نظر سے روشنی ڈال سکتے ہیں کی مزید حروف کا اضافہ فونٹ کی رفتار میں اضافہ کرے گا یا کم حروف کا طریقہ استعمال کیا جائے۔

اب ہمارا کام ہے خط رعنا کی فونٹ کو پاک نستعلیق کی فونٹ کے اوپر بٹھا دیا جائے۔ اس کے لئے آپ ساتھیوں کا کیا مشورہ ہے۔ آراء سے مطلع فرمائیں۔

اس کا ایک فوری فائدہ یہ ہے کہ کیریکٹر سیلیکٹ کرنے والی لاجک دوبارا استعمال کی جاسکے گی یا معمولی تبدیلیوں سے۔

آپکے سوالات کا منتظر
 
فاروق صاحب ،

آپ بہت عمدہ کام کر رہے ہیں اور یقین جانیے ایسا کام ہے کہ آئیندہ انٹر نیٹ پر اردو کے فروغ کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔ آپ کے خلوص‌ پر ہم سب کو مکمل یقین ہے اور آپ جانتے ہی ہوں گے کہ اچھے کام کی راہ میں ایسی رکاوٹیں آیا ہی کرتی ہیں جن سے نبرد آزما ہو کر ہی منزل تک پہنچا جاتا ہے۔
بہت سے لوگ لکھ نہیں رہے مگر وہ بغور مطالعہ کر رہے ہیں آپ کی تحاریر کا اور جانے کتنے لوگ ہیں جو آئیندہ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

شکریہ۔ میں آپکے خیال سے متفق ہوں۔ اس سلسلے میں مزید کچھ کہنا اور سوچنا وقت کا ضیاع ہے۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
میرا خیال ہے کہ ہم نئے فونٹ میں انتہائی اور یکتا حروف تمام کی تمام رکھیں۔ اور اس کے علاوہ تمام میانی اور ابتدائی کیریکٹر کا سائز بڑھا دیں۔ ورنہ نقطے ایک دوسرے پر چڑھتے ہیں۔ شاکر صاحب اس بارے میں کتابت کے نکتہ نظر سے روشنی ڈال سکتے ہی کشیدگی سے فونٹ کی خوبصورتی قابل قبول ہوگی؟
اور محسن صاحب اس پر تکنیکی نکتہ نظر سے روشنی ڈال سکتے ہیں کی مزید حروف کا اضافہ فونٹ کی رفتار میں اضافہ کرے گا یا کم حروف کا طریقہ استعمال کیا جائے۔

اب ہمارا کام ہے خط رعنا کی فونٹ کو پاک نستعلیق کی فونٹ کے اوپر بٹھا دیا جائے۔ اس کے لئے آپ ساتھیوں کا کیا مشورہ ہے۔ آراء سے مطلع فرمائیں۔

اس کا ایک فوری فائدہ یہ ہے کہ کیریکٹر سیلیکٹ کرنے والی لاجک دوبارا استعمال کی جاسکے گی یا معمولی تبدیلیوں سے۔

آپکے سوالات کا منتظر
میرا خیال ہے کہ نستعلیق کی خوبصورتی کا تصور بغیر کشید کے ہو ہی نہیں سکتا لیکن کشید کو بھی اپنی درست حالت میں رکھنے کے لیے ہمیں کئی ابتدائی، میانی اور انتہائی اشکال کا اضافہ کرنا ہوگا مثلا اگر ہم:
"ح۔۔۔۔۔۔۔۔ا" لکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ح کی ایک ابتدائی شکل کا اضافہ ہو گا جو کچھ یوں ہوگی "ح۔۔۔۔۔ " اور الف کی ایک انتہائی شکل کا اضافہ کر نا ہوگا جو کچھ یوں ہوگی" ۔۔۔۔۔۔۔ا"
یہ بھی ممکن ہے کہ ہم ح کی ابتدائی شکل ح۔ اور الف کی انتہائی شکل ۔ا کے درمیان ایک کشید کا اضافہ کر دیں اسطرح ح۔ +۔۔۔۔۔۔۔ +۔ا لیکن ساید یہ کشید تمام حروف میں یکساں نہییں بیٹھے گی اور خوبصورتی بن نہیں پائے گی

اس سلسلہ میں ایک اور بات کہ اگر ہم کوئی ایسا سافٹ ویئر بنا رہے ہوں جو خطاطی کے لیے مخصوص ہو تو پھر تو کشید استعمال کرنا چاہیے اور اگر ہم ایک ایسا یونی کوڈ فونٹ بنا رہے ہوں جس کو کسی بھی ایڈیٹر میں استعمال کیا جا سکے تو پھر کشید سے اشکال میں اضافہ ہوگا اور یہ اضافہ فونٹ کی سرعت کو متاثر کرے گاۘ
میرا خیال ہے کہ ہم نئے فونٹ میں انتہائی اور یکتا حروف تمام کی تمام رکھیں۔ اور اس کے علاوہ تمام میانی اور ابتدائی کیریکٹر کا سائز بڑھا دیں۔ ورنہ نقطے ایک دوسرے پر چڑھتے ہیں۔ شاکر صاحب اس بارے میں کتابت کے نکتہ نظر سے روشنی ڈال سکتے ہی کشیدگی سے فونٹ کی خوبصورتی قابل قبول ہوگی؟
اور محسن صاحب اس پر تکنیکی نکتہ نظر سے روشنی ڈال سکتے ہیں کی مزید حروف کا اضافہ فونٹ کی رفتار میں اضافہ کرے گا یا کم حروف کا طریقہ استعمال کیا جائے۔

اب ہمارا کام ہے خط رعنا کی فونٹ کو پاک نستعلیق کی فونٹ کے اوپر بٹھا دیا جائے۔ اس کے لئے آپ ساتھیوں کا کیا مشورہ ہے۔ آراء سے مطلع فرمائیں۔

اس کا ایک فوری فائدہ یہ ہے کہ کیریکٹر سیلیکٹ کرنے والی لاجک دوبارا استعمال کی جاسکے گی یا معمولی تبدیلیوں سے۔

آپکے سوالات کا منتظر
یہ بات قابل توجہ ہے کہ محسن حجازی صاحب نے پاک نستعلق میں یہ تیکنیک اپنائی ہے کہ کوبی بھی ابتدائی، میانی اور انتہائی شکل نقاط کے ساتھ نہیں بلکہ تمام اشکال بے نقطہ ہیں اور نقاط کو انہوں نے ایسے اعراب پر ایڈجسٹ کیا ہے جو بہت کم استعمال ہوتے ہیں اور ان نقاط کو ایک دوسرے کے اوپر چڑھنے سے بچانے اور ان کی درست جاگزینی کے لیے شاید ایم ایس وولٹ میں کام کیا گیا ہے اس ٹیکنیک کو استعمال کرنے سے حروف کی اشکال غیر معمولی طور پر کم ہو گئی ہیں جس سے پاک نستعلیق اب تک کے بنائے گئے تمام فونٹس میں سے زیادہ سریع اور سبک ہے
بہن مہوش علی اگر یہاں موجود ہوتیں تو وہ اس علمی اور تیکنیکی بحث میں مختلف سوالات اٹھا کر اس کو اور زیادہ مفید بنا دیتی کیونکہ میری معلومات کے مطابق انہوں نے وولٹ پر کافی حد تک ہاتھ سیدھا کر لیا ہے

میرا خیال ہے کہ ہم نئے فونٹ میں انتہائی اور یکتا حروف تمام کی تمام رکھیں۔ اور اس کے علاوہ تمام میانی اور ابتدائی کیریکٹر کا سائز بڑھا دیں۔ ورنہ نقطے ایک دوسرے پر چڑھتے ہیں۔ شاکر صاحب اس بارے میں کتابت کے نکتہ نظر سے روشنی ڈال سکتے ہی کشیدگی سے فونٹ کی خوبصورتی قابل قبول ہوگی؟
اور محسن صاحب اس پر تکنیکی نکتہ نظر سے روشنی ڈال سکتے ہیں کی مزید حروف کا اضافہ فونٹ کی رفتار میں اضافہ کرے گا یا کم حروف کا طریقہ استعمال کیا جائے۔

اب ہمارا کام ہے خط رعنا کی فونٹ کو پاک نستعلیق کی فونٹ کے اوپر بٹھا دیا جائے۔ اس کے لئے آپ ساتھیوں کا کیا مشورہ ہے۔ آراء سے مطلع فرمائیں۔

اس کا ایک فوری فائدہ یہ ہے کہ کیریکٹر سیلیکٹ کرنے والی لاجک دوبارا استعمال کی جاسکے گی یا معمولی تبدیلیوں سے۔

آپکے سوالات کا منتظر
یہ بات تو طے شدہ ہے کہ مزید حروف اور اشکال کا اضافہ فونٹ کی رفتار کو کم کرے گا اور یہ بات محسن حجازی اسی فورم پر کئی بار کہہ چکے ہیں میرے خیال میں تو محسن حجازی نے پاک نستعلیق میں جتنی اشکال وضع کی ہیں ان میں بھی زیادہ تو نہیں لیکن کسی حد تک کمی ضرور کی جا سکتی ہے

یا پھر ایک اور بات زہن میں آتی ہے کہ اگر فونٹ کی خوبصوتیی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید اشکال ، حروف اور کشید کو شامل کرنا ناگزیر ہے ﴿جوکہ درست ہے﴾ تو پھر سافٹ ویئر اانجنیرز کو کوئی ایسا انجن لکھنا ہوگا جو کہ اس قسم کے بھاری بھرکم فونٹ کو کسی بھی ایڈیٹر کے ساتھ انتہائی سبک رفتاری سے چلا سکے اس کی مثال ایرانیوں کے بننائے ہوئے نستعلیق فونٹ کی ہے جو کہ ایم ایس ورڈ میں کام کرتا ہے اور نہایت سریع بھی ہے
 

الف عین

لائبریرین
لیجئے مزید ترقی کے لئے ایک پروٹو ٹائپ رعنا فانٹ یہاں اپ لوڈ کر دیا ہے۔
http://www.esnips.com/web/aijazubaid-Rana
اس میں مفرد حروف کی قدریں شامل کی جا چکی ہیں، رعنا کی دونوں فائلیںم صدف کی، ایک ساتھ ملا دی گئی ہیں، کچھ انتہائی ب، پ، ت وغیرہ کا بھی اضافہ کیا تھا لیکن باقی کام وولٹ میں کیا جا سکتا ہے۔ مہوش بھی آ کر ہاتھ بٹا سکتی ہیں۔
اس شکل میں یہ فانٹ کار کرد نہیں ہے۔ میں نے یوں بھی اس کی اصل قدریں ڈیلیٹ کر دی ہیں۔ میرا اشارہ ہر کیریکٹر کی میپنگ سے ہے۔
مقصد یہ ہے کہ اسی فانٹ سے کام آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
 
لیجئے مزید ترقی کے لئے ایک پروٹو ٹائپ رعنا فانٹ یہاں اپ لوڈ کر دیا ہے۔
http://www.esnips.com/web/aijazubaid-Rana
اس میں مفرد حروف کی قدریں شامل کی جا چکی ہیں، رعنا کی دونوں فائلیںم صدف کی، ایک ساتھ ملا دی گئی ہیں، کچھ انتہائی ب، پ، ت وغیرہ کا بھی اضافہ کیا تھا لیکن باقی کام وولٹ میں کیا جا سکتا ہے۔ مہوش بھی آ کر ہاتھ بٹا سکتی ہیں۔
اس شکل میں یہ فانٹ کار کرد نہیں ہے۔ میں نے یوں بھی اس کی اصل قدریں ڈیلیٹ کر دی ہیں۔ میرا اشارہ ہر کیریکٹر کی میپنگ سے ہے۔
مقصد یہ ہے کہ اسی فانٹ سے کام آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

بھائی اعجاز۔ سلام آپکے جذبہء عشق کو -- کہ ، واہ ! واہ ! اور پھر ایک بار واہ ، آپ جیسے ساتھی ہوں تو یہ کام برق رفتاری سے دوڑے گا۔ ہاتھ چومنے کو دل چاہتا ہے۔ یہاں سب کے سب کتنے دیوانے ہیں اردو کے۔ اس پر کچھ بھی کہنا، کم ہے۔

کیریکٹر کی میپنگ سے کوئی فرق نہیں پڑتا، سوائے کوڈ پیج کے۔ ڈسپلے کے کیریکٹر کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔ آپ نے یہ زبردست کام کیا ہے۔ پہلے سٹیپ پر تو ہم پہنچ گئے۔ ابتدا کرنے کے لئے یہ بہت کام آئے گا۔ آپ ننے یہ اچھا کام کیا ہے کہ شیپس کی ترتیب نہیں بدلی ہے۔ آپ بغور دیکھیں تو مجھ سے اس فونٹ کے بنانے میں کوتاہیاں اور غلطیاں دونوں سرزد ہوئی ہیں۔ میں بتاتا جاتا ہوں اور آپ میری یہ غلطیاں اور کوہتاہیاں، دونوں ٹھیک کردیں۔

میری کوتاہیوں اور غلطیوں کی لسٹ اس موقعہ پر:: مزید نقاط کا اضافہ اور ڈپلیکیٹ نقاط کو حذف کرنا۔ اور حروف کی ترتیب۔

1- ایک سیٹ کو حذف کرنا۔
آپ دیکھیں اس میں نقاط کے دو سیٹ ہیں۔ کیا آپ اس میں سے ایک سیٹ حذف کرسکتے ہیں؟
2۔ دوسرا یہ کہ مزید نقاط کا اضافہ:
آپ ذرا پاک نستعلیق کو دیکھئیے۔ محسنِ ( اردو ) حجازی صاھب نے ہر قسم کے نقاط اور اعراب ، 'ط' اور 'ء' کی اشکال شامل کی ہیں۔ ان کو شامل کردیں۔

3- اس فونٹ کی ابتدا میں آپ نے اردو کے یونی کوڈ میپنگ کی ترتیب سے تمام حروف رکھے ہیں، یہ کام بہت ہی اچھا کیا ہے۔ اس میں تھوڑی سی تبدیلی تجویز کرتا ہوں۔ کردیجئے۔ وہ یہ کہ فونٹ کا ابتدائی حصہ میں تمام کا تمام 'اردو یونی کوڈ میپ" ڈال دیں۔ یہ فائیل نیچے دی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ سسٹمز جو کی OpenType کی سپورٹ نہیں رکھتے اور صرف Unicode ہی ڈسپلے کر سکتے ہیں۔ ان پر بھی اس فونٹ کی تحریر کچھ سمجھ میں آجائے گی۔ اِس تبدیلی سے۔ اِن سسٹمز پر لفظ نستعلیق ن س ت ع ل ی ق نظر آئے گا۔ اسکے لئے آپ حروف کی ترتیب تبدیل کرسکتے ہیں۔ آپ یہ ایک نئی فونٹ میں کر سکتے ہیں۔ اس فونٹ کے پہلے حرف کا کوڈ Unicode کے مطابق ہوگا۔ اور Unicode کی ہی ترتیب میں ہوگا۔ آپ اس کے نیچے۔ RanaBeg اور RanaMid لگا دیں۔ نقطوں کا سیٹ ایک بنا دیں اور مزید نقاط شامل کردیں۔ اس طرح ہم RanaBeg اور RanaMid صرف فونٹ پیج کے طور پر استعمال کریں گے اور شیپس (حروف نہیں) کی ترتیب بھی برقرار رہے گی۔ جس کی فی الوقت ہمیں ضرورت پڑے گی۔ GPOS OpenType ٹیبل بنانے کے لئے۔ فونٹ پیج کا کسی ترتیب میں ہو فرق نہیں پڑتا۔ البتہ کود پیج کا ترتیب میں ہونا ضروری ہے۔

ان مشوروں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ دوستوں کی بیش قیمت آراء کا انتظار رہے گا۔

نوٹ: (کیا اردو یونی کوڈ میپ (UZT 1.01 & UNICODE MAPPING FOR
URDU) کا نام میں UZT 1.01 کے بجائے "مابتا 1.01 " تجویز کرسکتا ہوں؟ جدید ترین مابتا کو ہم صرف مابتا کہیں گے۔ معیارِ اردو برائے ترسیل اطلاعات: مابتا، رابطہ سے ملتا جلتا ؟؟؟)

اردو کوڈ پیج فائل:
کیا یہ کوڈ پیج فائل درست ہے؟ کون صاحب تصدیق کر سکتے ہیں۔ یعنے یہ کام کرسکتے ہیں کہ یہاں پر ہر حرف جو اس ڈاکومینٹ میں دیا گیا، اسی ترتیب سے ایک فائل میں، Notepad میں، ٹائپ کردیں اور یہاں رکھ دیں۔
اردو UZT 1.01 & UNICODE MAPPING FOR
URDU کی فائیل

http://www.tremu.gov.pk/tremu1/workingroups/URLSDF/UZT UNICODE MAPPING_Final_.pdf

میں نے اس کو پروف ریڈ ‌نہیں کیا ہے۔ کوئی ٹائپنگ کی غلطی ہو تو ذپ کردیجئے، Constructive feedback پر ہمیشہ ممنون رہتا ہوں۔ بخوشی درست کردں گا۔

جن ساتھیوں نے اب تک سہو کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا شکریہ۔ مجھ پر بھی احسان کیا ہے اور آئندہ آنے والوں پہ بھی احسان کیا ہے۔

والسلام
 
میرا خیال ہے کہ نستعلیق کی خوبصورتی کا تصور بغیر کشید کے ہو ہی نہیں سکتا لیکن کشید کو بھی اپنی درست حالت میں رکھنے کے لیے ہمیں کئی ابتدائی، میانی اور انتہائی اشکال کا اضافہ کرنا ہوگا مثلا اگر ہم:
"ح۔۔۔۔۔۔۔۔ا" لکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ح کی ایک ابتدائی شکل کا اضافہ ہو گا جو کچھ یوں ہوگی "ح۔۔۔۔۔ " اور الف کی ایک انتہائی شکل کا اضافہ کر نا ہوگا جو کچھ یوں ہوگی" ۔۔۔۔۔۔۔ا"
یہ بھی ممکن ہے کہ ہم ح کی ابتدائی شکل ح۔ اور الف کی انتہائی شکل ۔ا کے درمیان ایک کشید کا اضافہ کر دیں اسطرح ح۔ +۔۔۔۔۔۔۔ +۔ا لیکن ساید یہ کشید تمام حروف میں یکساں نہییں بیٹھے گی اور خوبصورتی بن نہیں پائے گی

اس سلسلہ میں ایک اور بات کہ اگر ہم کوئی ایسا سافٹ ویئر بنا رہے ہوں جو خطاطی کے لیے مخصوص ہو تو پھر تو کشید استعمال کرنا چاہیے اور اگر ہم ایک ایسا یونی کوڈ فونٹ بنا رہے ہوں جس کو کسی بھی ایڈیٹر میں استعمال کیا جا سکے تو پھر کشید سے اشکال میں اضافہ ہوگا اور یہ اضافہ فونٹ کی سرعت کو متاثر کرے گا۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ محسن حجازی صاحب نے پاک نستعلق میں یہ تیکنیک اپنائی ہے کہ کوبی بھی ابتدائی، میانی اور انتہائی شکل نقاط کے ساتھ نہیں بلکہ تمام اشکال بے نقطہ ہیں اور نقاط کو انہوں نے ایسے اعراب پر ایڈجسٹ کیا ہے جو بہت کم استعمال ہوتے ہیں اور ان نقاط کو ایک دوسرے کے اوپر چڑھنے سے بچانے اور ان کی درست جاگزینی کے لیے شاید ایم ایس وولٹ میں کام کیا گیا ہے اس ٹیکنیک کو استعمال کرنے سے حروف کی اشکال غیر معمولی طور پر کم ہو گئی ہیں جس سے پاک نستعلیق اب تک کے بنائے گئے تمام فونٹس میں سے زیادہ سریع اور سبک ہے
بہن مہوش علی اگر یہاں موجود ہوتیں تو وہ اس علمی اور تیکنیکی بحث میں مختلف سوالات اٹھا کر اس کو اور زیادہ مفید بنا دیتی کیونکہ میری معلومات کے مطابق انہوں نے وولٹ پر کافی حد تک ہاتھ سیدھا کر لیا ہے


یہ بات تو طے شدہ ہے کہ مزید حروف اور اشکال کا اضافہ فونٹ کی رفتار کو کم کرے گا اور یہ بات محسن حجازی اسی فورم پر کئی بار کہہ چکے ہیں میرے خیال میں تو محسن حجازی نے پاک نستعلیق میں جتنی اشکال وضع کی ہیں ان میں بھی زیادہ تو نہیں لیکن کسی حد تک کمی ضرور کی جا سکتی ہے

یا پھر ایک اور بات زہن میں آتی ہے کہ اگر فونٹ کی خوبصوتیی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید اشکال ، حروف اور کشید کو شامل کرنا ناگزیر ہے ﴿جوکہ درست ہے﴾ تو پھر سافٹ ویئر اانجنیرز کو کوئی ایسا انجن لکھنا ہوگا جو کہ اس قسم کے بھاری بھرکم فونٹ کو کسی بھی ایڈیٹر کے ساتھ انتہائی سبک رفتاری سے چلا سکے اس کی مثال ایرانیوں کے بننائے ہوئے نستعلیق فونٹ کی ہے جو کہ ایم ایس ورڈ میں کام کرتا ہے اور نہایت سریع بھی ہے

جنابِ من شاکر صاحب اور اعجاز صاحب- بہت خوب، مجھے اندازہ تھا کہ آپ اس بارے میں درست اور بہترین اطلاعات رکھتے ہونگے۔ آپ کی مہیا کی ہوئی ان تفصیلات سے اب ذہن میں کچھ سوالات جنم لیتے ہیں۔

1۔ کشیدگی کے بارے میں:
اس وقت کیا ہم صرف معمولی سا حروف کو چوڑا کر سکتے ہیں؟ جس سے فونٹ تو خوبصورت رہے اور نقاط کے لئے مناسب گنجائش ہو؟ اس وقت ہمارا آبجیکٹیو ہے۔
"ایک ایسی نستعلیق فونٹ کی ٹیمپلیٹ کی تکمیل۔ جس میں ہم بہ آسانی تبدیلی کرکے نئی نستعلیق فونٹس بنا سکیں۔"

میر عماد کی طرح کا کشیدگی کا سسٹم ہم آئندہ کے لئے اٹھا رکھیں تو بہتر نہ ہوگا؟

OpenType فونٹ میں حروف کی اضافے سے رفتار کی کمی:
اس پر یہ عرض ہے اور اسکی تصدیق کسی ایسے شخص سے کرنا چاہتا ہوں جس نے کچھ اس بارے میں دوسرے فورمز پر پڑھا ہو یا جانتا ہو۔

تفصیلات و سوالات۔
تقریبا تمام فونٹس میں 256 حروف ہوتے ہیں- درست؟ اور یہ تمام فونٹس اچھی رفتار سے کام کرتے ہیں۔ انگریزی فونٹس کے Open Type ٹیبلز بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔

کیا اگر ہم اعجاز صاحب کی بنائی ہوئی RANA.TTF کو جو کہ نستعلیق فونٹ نہیں ہے۔ اگر MSWORD میں استعمال کریں، تو اردو کے لفظ تو نہیں بنیں گے لیکن فونٹ ڈسپلے ہوگا۔ سوال یہ ہے کے اس فونٹ کی رفتار کیا کم ہوگی (بغیر نستعلیق کی سپورٹ کے)۔

میرا خیال ہے کہ جب تک اس فونٹ میں نستعلیق کی سپورٹ نہ ڈالی جائے یہ تیز رفتار ہی رہے گا۔ آپ دونوں حضرات نے بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کہ اگر نستعلیق بنانے کی ٹیکنالوجی OpenType فونٹ میں نہیں ہوگی تو۔ایک جنرل پرپز نستعلیق رینڈرنگ انجن کی ضرورت ہوگی، جو نستعلیق آٹومیٹیکلی تمام اپلیکیشنز میں ڈسپلے کر سکے، اسی طرح جیسے صدف فار ونڈوز کرتا ہے، یا جیسے میر عماد کرتا ہے۔

کیا میں صحیح سمجھا ہوں؟

میرا خیال ہے کہ حروف کی تعداد سے رفتار میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ یہ فرق Opentype کی نقطوں کی ہینڈلنگ اور شیپس کی ہینڈلنگ سے پڑتا ہے۔

اس نستعلیق فونٹ کے رفتار کے مسئلے کی تہہ تک پہنچتے ہیں۔
ذرا یہاں دیکھئے- یہاں OpenType فیچرز درج ہیں:
http://www.microsoft.com/typography/otfntdev/arabicot/features.htm
مزید یہ کہ لفظ "پیشکش" کئ امیج دیکھئے۔ نستعلیق کے ڈسپلے کے سٹیپس یہ ہیں۔
1۔ مناسب Econ شکل کا انتخاب۔
2۔ اس کی نقاط کی پلیسمینٹ، جو کہ OpenType-CCMP ٹیبل میں ہوتی ہے۔ دیکھیں اوپر دیے گئے ڈاکومینٹ میں CCMP ٹیبل۔
3۔ مناسب "ک" کے ME (Middle Shape for Econ) x کا انتخاب جس کے لئے، ہم کو OpenType- MEDI ٹیبل کی ضرورت ہوتی ہے۔ دیکھیں اوپر دیے گئے ڈاکومینٹ میں MEDI ٹیبل۔ اور مناسب شکل کہ صحیح کنکٹ ہو اس کے لئے OpenType-GPOS تیبل کی ضرورت۔
4۔ سٹیپ نمبر 3 سے منتخب شدہ ME شکل (حرف نہیں) کو مناسب طریقے سے کنکٹ کرنے کے لئے، Cursive Positioning ٹیبل، OpenType-CURS ٹیبل دیکھیں۔
5۔ سٹیپ نمبر 3 سے منتخب شدہ ME شیپ (حرف نہیں) کے نقطے لگانے کی لئے، اس کی نقاط کی پلیسمینٹ، جو کہ OpenType-CCMP ٹیبل میں ہوتی ہے۔ دیکھیں اوپر دیے گئے ڈاکومینٹ میں CCMP ٹیبل۔

پھر سٹیپ 3، 4، 5، ہر حرف (کیریکٹر، شیپ نہیں) کی لئے دہرایا جائے گا۔ درست؟
اس دوران میں ایک سٹیپ اور ہوگا۔ وہ ہے۔ للہ جیسے ترسیموں کی شناخت۔ اس کے لئے۔ Opentype-Mark ٹیبل میں تلاش۔ درست؟
کیا کسی فورم میں ان ٹیبلز کے بارے میں پہلے تذکرہ ہوا ہے؟ مطلع فرمائیں۔ تاکہ خیالات کو درستکے کا اندازہ ہو سکے۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ نستعلیق کے ٹیبلز رفتار میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔

تو اب ہم دیکھتے ہیں کے اگر ہم نقاط اپنی فونٹ میں ہی ڈال دیں تو اسکی ضروریات کیا ہیں، اور اس سے کیا فائدہ ہوگا۔

خطِ رعنا کو پرنٹ کر کے دیکھیں۔ کیا یہ ہمارے Template والے مقصد کے قابلِ قبول ہے؟ اگر ہے تو۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کے کل کتنی اشکال درکار ہونگی۔ خطِ رعنا میں 13 حروف ایسے ہیں جن کی ابتدائی اور انتہائی شکلیں ہیں۔ ان میں "ک"، "گ" ، "ل"، "م" "ہ" "ھ" کے نقطے نہیں ہوتے۔ تو بچے z 13 - 6 = 7 z حروف

اوران 7 حروف پر زیادہ سے زیادہ 6+4=10 نقطےہو سکتے ہیں، 6 نقاط اردو کے لئے اور 4 مزید نقاط دوسری زبانوں کے لئے۔ تو کل ممکنہ حروف ہوئے 7x10 = 70 حروف۔

ہر حرف کی 13۔ ابتدائی اور 13 درمیانی اشکال ہیں۔ کل 26 شیپس ہر حرف کے۔

گویا کل اضافی اشکال جن کے ہمیں ضرورت ہے z 70x26= 1820 z ۔

(نوٹ: پاک نستعلیق نے صرف 6 ابتدائی اور 6 درمیانی شیپس استعمال کئے ہیں۔
اگر کل شیپس جو ہمیں درکار ہیں 12 ہوں تو پھر ہمیں صرف z 70x12= 840 z 840 اشکال کی ہی ضرورت ہوگی۔
ہم یہ بھی کر سکتے ہیں کہ ایک مکمل فونٹ 1820 اضافی اشکال کا بنائیں۔ کہ ایک اچھا template ہو اور پھر اس میں سے 840 اشکال رہنے دیں اور OpenType ٹیبلز میں اشکال کی Mapping بدل دیں۔ اس طرح ہم 12، 14، 16 سے لے کر 26 تک ابتدائی اور درمیانی اشکال کے فونٹ بنا سکتے ہیں۔ اسکا یہ فائدہ ہوگا کہ کم از کم نقاط کا ٹیبل درکار نہ ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ محسن صاحب اس طرف اشارہ فرما رہے ہونگے کہ زیادہ حروف سے نقاط ہینڈل کرنے کی زبردست مار پڑتی ہے اور پھر فونٹ کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔ تو ہم کم از کم نقاط کی وجہ سے رفتار میں ہونے والی کمی کو دور کرسکتے ہیں۔

نوٹ ( میرے پاس ایک خط مزید خطِ ریما کے نام سے ہے، جو مل نہیں رہا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ ابتدائی اور درمیانی شیپس کم کرنے سے بہت سے خطوط ممکن ہے اپنی خوبصورتی کھو بیٹھیں ۔ اگر شاکر القدری شاحب اس معروضہ پہ مزید تنقید کرسکیں تو نوازش ہوگی)

چونکہ Unicode فونٹس اب 64000 اشکال تک ہوسکتی ہیں تو اضافی اشکال کا بنانا مشکل نہ ہوگا۔ اسکا ایک مزید فائدہ یہ نظر آتا ہے کہ فونٹ بنانے والا ہر شکل کے نقاط پر فونٹ ایڈیٹر میں ہی درست جگہ پر نقاط لگا سکے گا۔ اور اس سے پیدا ہونے والی ہر ممکنہ خوبصورتی پر مکمل کنٹرول رکھ سکے گا۔

اس بارے میں اپکی بیش بہا آراء اور تنقید بہت ہی ضروری ہے۔ انتظار رہے گا۔

نوٹ: دیکھئے پھلے دی ہوئی تھیوری سے کیا ہمارے نظریات اتنے اچھے ڈویلپ ہوگئے ہیں کی ان OpenType ٹیبلز کی آسان شناخت ہوسکے۔

والسلام،
 
ایک سوال۔ کیا OpenType Fonts لینکس میں بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ کیا میں اوپن آفس لینکس پر چلا کر اس میں پاک نستعلیق یا نفیس نستعلیق استعمال کرسکتا ہوں؟
اگر نہیں تو یقیناَ ایک جنرل پرپز نستعلیق انجن کا FreeType میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ نستعلیق انجن صدف کے کوڈ میں شامل ہے اور میں یہاں پوسٹ کرچکا ہوں۔ اگر کوئی ساتھی نستعلیق انجن پر کام کرنا چاہیں تو میں ہر ممکنہ مدد کرنے کے لئے تیار ہوں، یاد رہے کہ، یہ اوپن سورس پراجیکٹ ہوگا کہ صدف کا کوڈ GNU لائسنس کے ساتھ جاری کیا ہے تاکہ اس سے سب استفادہ حاصل کرسکیں۔

http://sourceforge.net/projects/urdufontproject/

اب تک ہمارا مقصد یہ ہے کہ

" ہم اردو نستعلیق فونٹ کا ایک ایسا ٹمپلیٹ‌ بنا سکیں کہ بہ آسانی نئے فونٹس بن سکیں"

ایسے ٹمپلیٹ بنانے کے درج ذیل مراحل اب تک سامنے آئے ہیں۔
1۔ اس فورم میں پائے جانے والی مبادیاتِ و بنیادیاتِ نستعلیق یا اس کے مترادف سے واقفیت۔
2۔ بنیادی نستعلیق فونٹ پیج میں پائی جانے والی اشکال کی شناخت بذریعہ RANA.TTF .
3۔ ضروری OpenType tables کی شناخت اور ان کو بنانے کے لئے MS VOLT کے بنیادی سٹیپس۔

4۔ سٹیپ بائی سٹیپ MS VOLT کے ذریعے ان ٹیبلز کو بنانا اور تبدیل کرنے کے بارے میں ہدایات۔
5۔ ایک مکمل خط رعنا، نستعلیق کی تمام رعنائیوں سے بھرپور فونٹ کا پروٹو ٹائپ تاکہ آئند بننے والی نستعلیق کی فونٹس کے لئے ایک مستقل بنیاد فراہم کرے اور نستعلیق کی کمپیوٹر ہر ممکن ترقی کے لیے بنیاد فرام کرے۔نستعلیقی رعناءیوں سے بھرپور انجینئرنگ کا ایک مزید تاج محل۔
سب ساتھیوں کا پیشگی شکریہ۔
والسلام،
 

شاکرالقادری

لائبریرین
1۔ کشیدگی کے بارے میں:
اس وقت کیا ہم صرف معمولی سا حروف کو چوڑا کر سکتے ہیں؟ جس سے فونٹ تو خوبصورت رہے اور نقاط کے لئے مناسب گنجائش ہو؟ اس قت ہمارا آبجیکٹیو ہے۔ ایک ایسی نستعلیق فونٹ کی ٹیمپلیٹ کی تکمیل۔ جس میں ہم بہ آسانی تبدیلی کرکے نئی نستعلیق فونٹس بنا سکیں۔
میر عماد کی طرح کا کشیدگی کا سسٹم ہم آئندہ کے لئے اٹھا رکھیں تو بہتر نہ ہوگا؟

جي بالکل درست ہے ابتدائي سطح ميں "کشيد" کو شامل کرنے سے ماسوائے کشيدگي اور کھينچا تاني کے کچھ حاصل نہيں ہوگا البتہ اس امر کا لحاظ ضرور رکھنا ہوگا کے آگے چل کر اعلي سطحي مراحل ميں اس کو شامل کرنے کي گنجائش موجود رہے

OpenType فونٹ میں حروف کی اضافے سے رفتار کی کمی:
اس پر یہ عرض ہے اور اسکی تصدیق کسی ایسے شخص سے کرنا چاہتا ہوں جس نے کچھ اس بارے میں دوسرے فورمز پر پڑھا ہو۔

میرا خیال ہے کہ حروف کی تعداد سے رفتار میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ یہ فرق Opentype کی نقطوں کی ہینڈلنگ اور شیپس کی ہینڈلنگ سے پڑتا ہے۔

جي فاروق آپ نے درست فرمايا ۔۔۔ در اصل بہت سي ٹيکنيکل اصطلاحات پڑھ پڑھ کر کنفيوز ہو جاتا ہوں شاعر اديب ہوں جب اس قسم کي گاڑھي سائنسي زبان سے واسطہ پڑھتا ہے تو بڑي دير تک کچھ پلے نہيں پڑتا بار بار پڑھنا پڑتا ہے
ح۔۔۔۔۔روف کي تعداد تو وہي ہوتي ہے نستعليق ميں بھي اور نسخ ميں بھي
ليکن نسخ ميں حروف کي اشکال// ابتدائي مياني اور انتہائي // کي تعداد کم ہوتي ہے
جبکہ نستعليق ميں يہ اشکال کافي زيادہ تعداد ميں ہوتي ہيں
اور يہي وجہ ہے کہ نستعليق فونٹ سست رفتار ہوتا ہے
نفيس نستعليق کو بہترين اور خوشخط فونٹ تسليم کيا گيا ہے ليکن اس کي سست رفتاري کي وجہ سے اسے قبول عام کا درجہ نہيں مل سکا
پاک نستعليق اس کي نسبت کہيں زيادہ سريع ہے اس کي وجہ يہي ہے کہ اس ميں اشکال کو کم کيا گيا ہے
ہميں اپنے ٹيمپليٹ ميں اشکال کو پاک نستعليق سے کسي بھي صورت ميں بڑھانا نہيں ہوگا بلکہ ممکنہ حد تک اشکال کي تعداد ميں مزيد کمي کرنا ہوگي

اس سلسلہ ميں ايک اور سوال سامنے آتا ہے
وہ يہ کہ نسخ ميں تمام اشکال ايک ہي بيس لائن يعني بنيادي خط پر آپس ميں جڑتي ہيں ليکن نستعليق ميں يہ معاملہ نہيں نستعليق ميں ايک مکمل لفظ جو ں جوں آگے بڑھتا ہے اس کي بييس لائن نيچے کي طرف جھکتي جاتي ہے
کيا يہ بات بھي کسي فونٹ کي سرعت پر اثر انداز ہو سکتي ہے؟؟؟؟؟
اس وقت کیا ہم صرف معمولی سا حروف کو چوڑا کر سکتے ہیں؟ جس سے فونٹ تو خوبصورت رہے اور نقاط کے لئے مناسب گنجائش ہو؟
کيا تو جا سکتا ہے ليکن يہ نہيں کہا جا سکتا کہ اس سے فونٹ کي خوصورتي متاثر نہيں ہوگي
خط نستعليق ميں کوئي بھي لفظ اگر فطري انداز ميں لکھا جائے اور اس کے نقاط بھي اسي قلم اور قط کے مطابق ہوں تو وہ ايک دوسرے پر نہيں چڑھتے ليکن بعض الفاظ ميں ايسا ہو بھي جاتا ہے
ميں نے محسوس کيا ہے کہ خط رعنا ميں جو نقاط شامل ہيں ان کا قط يا قلم درست نہيں ان نقاط کا افقي پھييلائو نسبتا زيادہ ہے
نقاط کي جاگزيني کے سلسلہ ميں ايراني فونٹس کے ستائل سے بھي کچھ فائدہ اٹھايا جا سکتا ہے ميں جلد ہي ايک نمونہ يہاں پيش کرتا ہوں
 
ميں نے محسوس کيا ہے کہ خط رعنا ميں جو نقاط شامل ہيں ان کا قط يا قلم درست نہيں ان نقاط کا افقي پھييلائو نسبتا زيادہ ہے

یہ خطِ رعنا میں قط کی خرابی کا بنیادی وجہ میری کوتاہی ہے اور کچھ اس کو بنانے میں آپ جیسے خطاط کی کمی، میری کوتاہی یہ کہ وقت بہت کم ملتا تھا اس کو ٹھیک کرنے کا۔ سارا وقت صدف کا ایڈیٹر کھا جاتا تھا۔ پھر روزگارِ زمانہ الگ۔
اعجاز صاحب جب ان اشکال کو ترتیب دے لیں اورجب میں خطِ رعنا کی فونٹ اور اسکے اشکال کی ترتیب سے مطمئن ہوجاؤں۔ تو آپ سے استدعا ہے کہ ذرا اس کی نوک پلک سنواریں۔ اور مجھے یقین ہے کہ جب آپ خط شاکری اور خط قادری کی تشکیل کریں گے تو یقیناَ مزا آجائے گا۔

نقاط سے مزین اشکال کے بارے میں مجھے آپکی مزید آراء کا انتظار رہے گا۔
والسلام۔
 
Top