فقط

عیشل

محفلین
ہر تماشائی فقط ساحل سے منظر دیکھتا
کون دریا کو الٹتا،کون گوہر دیکھتا
آنکھ میں آنسو جڑے تھے پر صدا تجھ کو نہ دی
اس توقع پر کہ شاید تو پلٹ کر دیکھتا
 

عیشل

محفلین
فقط ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
وہ جو پتھّر یونہی راہوں میں پڑے رہتے ہیں
ان کے سینے میں بھی شہکار ہوا کرتے ہیں​
 

عیشل

محفلین
کبھی تو گل،کبھی شبنم،کبھی نکہت کبھی رنگ
تُو فقط ایک ہے لیکن تجھے کیا کیا سمجھوں
ظلم یہ ہے کہ ہے یکتا تیری بیگانہ روی
لطف یہ ہے کہ میں اب تک تجھے اپنا سمجھوں
 

شمشاد

لائبریرین
جو کہیے یہ، فقط مقصود تھا خضر و سکندر سے
یدِ بیضا اسے اور اُس کو موسیٰ کا عصا سمجھے
(چچا)
 

شمشاد

لائبریرین
جو کہیے یہ، فقط مقصود تھا خضر و سکندر سے
یدِ بیضا اسے اور اُس کو موسیٰ کا عصا سمجھے
(چچا)
 

عمر سیف

محفلین
نہ لینا نام آئے قاصد تو فقط اتنا ہی کہہ دینا
جنہیں تم بھول بیٹھے ہو تمہیں وہ یاد رکھتے ہیں
 

شمشاد

لائبریرین
ہماری ساعتوں کے حصہ دار اور لوگ ہیں
ہمارے سامنے فقط ہماری ذات ہی نہیں
(اعتبار ساجد)
 

عیشل

محفلین
لوح ِ مزار دیکھ کے جی دنگ رہ گیا
ہر ایک سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیا
سیرت نہ ہو تو عارض و رخسار سب غلط
خوشبو اُڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیا
 
Top