فرموداتِ قائد اعظم محمد علی جناح

الف نظامی نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 10, 2012

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    فرموداتِ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ
    [​IMG]
    آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس منعقدہ 15 نومبر 1942 ء میں قائد اعظم نے وہ بصیرت افروز اور چشم کشا خطاب کیا جس کی ضیا باری سے آج بھی تاریخ پاکستان روشن ہے۔ قائد اعظم نے فرمایا :-​
    " مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں۔ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ الحمد للہ ، قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا "​
    6دسمبر 1943 کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 31 ویں اجلاس سے خطاب کے دوران قائد اعظم نے فرمایا:-
    " وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں ، وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے ، وہ کون سا لنگر ہے جس پر امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے ؟ وہ رشتہ ، وہ چٹان ، وہ لنگر اللہ کی کتاب قرانِ کریم ہے۔ مجھے امید ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ، قرآنِ مجید کی برکت سے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک خدا ، ایک کتاب ، ایک رسول ، ایک امت "

    قائد اعظم نے 17 ستمبر 1944ء کو گاندھی جی کے نام اپنے ایک خط میں تحریر فرمایا:-
    " قرآن مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے۔ اس میں مذہبی اور مجلسی ، دیوانی اور فوجداری ، عسکری اور تعزیری ، معاشی اور معاشرتی سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ یہ مذہبی رسوم سے لے کر جسم کی صحت تک ، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق تک ، اخلاق سے لے کر انسدادِ جرائم تک ، زندگی میں سزا و جزا سے لے کر آخرت کی جزا و سزا تک غرض کہ ہر قول و فعل اور ہر حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔ لہذا جب میں کہتا ہوں کہ مسلمان ایک قوم ہیں تو حیات اور مابعد حیات کے ہر معیار اور پیمانے کے مطابق کہتا ہوں "

    10 ستمبر 1945 ء کو عید الفطر کے موقع پر قائد اعظم نے فرمایا :-
    " ہمارا پروگرام قرآنِ کریم میں موجود ہے۔ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ قرآن غور سے پڑھیں۔ قرآنی پروگرام کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے سامنے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کر سکتی"

    1947 ء کو انتقالِ اقتدار کے موقع پر جب حکومت برطانیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے لارڈ ماونٹ بیٹن نے اپنی تقریر میں کہا کہ :
    " میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہوگا اور ویسے ہی اصول پیش نظر رکھے جائیں گے جن کی مثالیں اکبر اعظم کے دور میں ملتی ہیں "
    تو اس پر قائد اعظم نے برجستہ فرمایا :
    " وہ رواداری اور خیر سگالی جو شہنشاہ اکبر نے غیر مسلموں کے حق میں برتی کوئی نئی بات نہیں۔ یہ تو مسلمانوں کی تیرہ صدی قبل کی روایت ہے۔ جب پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہودیوں اور عیسائیوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے ساتھ نہ ّ صرف انصاف بلکہ فیاضی کا برتاو کرتے تھے۔ مسلمانوں کی ساری تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ہم پاکستانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں ہی پاکستان کا نظام چلائیں گے"

    2 جنوری 1948 ء کو کراچی میں اخبارات کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے قائد اعظم نے ارشاد فرمایا :-
    " اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفا کا مرکز اللہ تعالی کی ذات ہے جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن کے احکام و اصول ہیں۔ اسلام میں اصلا نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمنٹ کی نہ کسی شخص یا ادارے کی۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدیں مقرر کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت قرآنی احکام و اصولوں کی حکومت ہے "

    14 فروری 1948 ء کو قائد اعظم نے بلوچستان میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا :-
    " میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ ء عمل میں ہے جو ہمارے عظیم واضع قانون پیغمبر اسلام نے ہمارے لیے قائم کر رکھا ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اخلاقی اصولوں اور تصورات پر رکھنی چاہئیں۔ اسلام کا سبق یہ ہے کہ مملکت کے امور و مسائل کے بارے میں فیصلے باہمی بحث و تمحیص اور مشوروں سے کیا کرو۔"

    13 اپریل 1948 ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایا:-
    " ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں"

    یکم جولائی 1948 ء کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا :-
    " میں اشتیاق اور دل چسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی ریسرچ آرگنائزیشن بینکاری کے ایسے طریقے کس خوبی سے وضع کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے بے شمار مسائل پیدا کر دیے ہیں اکثر لوگوں کی یہ رائے ہے کہ مغرب کو اس تباہی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ یہ تباہی مغرب کی وجہ سے ہی دنیا کے سر منڈلا رہی ہے۔ مغربی نظام انسانوں کے مابین انصاف اور بین الاقوامی میدان میں آویزش اور چپقلش دور کرنے میں ناکام رہا ہے "


    مغرب کے اقتصادی نظام پر تنقید کرتے ہوئے اسی خطاب میں آپ نے فرمایا:-
    " اگر ہم نے مغرب کا معاشی نظریہ اور نظام ہی اپنا لیا تو عوام کی خوشحالی حاصل کرنے کے لیے ہمیں کوئی مدد نہ ملے گی۔ اپنی تقدیر ہمیں اپنے منفرد انداز میں بنانا پڑے گی۔ ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو۔ ایسا نطام پیش کر کے ہم بحیثیت مسلمان اپنا مشن پورا کریں گے۔ انسانیت کو حقیقی امن کا پیغام دیں گے۔ صرف ایسا امن ہی انسانیت کو جنگ سے بچا سکتا ہے۔ صرف ایسا امن ہی بنی نوع انسان کی خوشی اور خوشحالی کا امین و محافظ ہے"

    25 جنوری 1948 ء کراچی بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :-
    " آج ہم یہاں دنیا کی عظیم ترین ہستی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نذرانہ ء عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عزت و تکریم کروڑوں عام انسان ہی نہیں کرتے بلکہ دنیا کی تمام عظیم شخصیات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سر جھکاتی ہیں۔ وہ عظیم مصلح تھے ، عظیم رہنما تھے ، عظیم واضع قانون تھے ، عظیم سیاستدان تھے اور عظیم حکمران تھے ، ہم ان کی تعلیمات پر عمل کرتے رہے تو کسی میدان میں کبھی بھی ناکامی نہ ہوگی"

    آخر میں ہم قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کا وہ خطاب آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں جو ان کے کردار کی سچائی کی سچی اور کھری شہادت کے طور پر تاریخ کے سینے پر چمک رہا ہے۔ یہ خطاب آپ نے 30 جولائی 1948 ء کو لاہور میں اسکاوٹ ریلی سے کیا تھا۔ آپ نے فرمایا :-
    " میں نے بہت دنیا دیکھ لی۔ اللہ تعالی نے عزت ، دولت ، شہرت بھی بے حساب دی۔ اب میری زندگی کی ایک ہی تمنا ہے کہ مسلمانوں کو باوقار و سر بلند دیکھوں۔ میری خواہش ہے کہ جب مروں تو میرا دل گواہی دے کہ جناح نے اللہ کے دین اسلام سے خیانت اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت سے غداری نہیں کی۔ مسلمانوں کی آزادی ، تیظیم ، اتحاد اور مدافعت میں اپنا کردارٹھیک ٹھیک ادا کیا اور میرا اللہ کہے کہ اے میرے بندے! بے شک تو مسلمان پیدا ہوا۔ بے شک تو مسلمان مرا "

    یہ متن کتاب بعنوان "پاکستان بنانے کا مقصد ( افکار اقبال و قائد اعظم کی روشنی میں)" از حکیم سید محمود احمد سرو سہارنپوری سے لیا گیا
     
    • زبردست زبردست × 24
    • پسندیدہ پسندیدہ × 14
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  2. چھوٹاغالبؔ

    چھوٹاغالبؔ لائبریرین

    مراسلے:
    1,983
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    ہمارے پیارے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی عظمتوں کو سلام

    نظامی برادر کمال کی پوسٹ کی ہے جناب
    داد قبول فرمائیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  3. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ٹیگ نامہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. چھوٹاغالبؔ

    چھوٹاغالبؔ لائبریرین

    مراسلے:
    1,983
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    میرا بس نہیں چل رہا میں اس پوسٹ کو بار بار بار بار زبردست ریٹ کروں

    جزاک اللہ نظامی بھائی جزاک اللہ
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  5. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت شکریہ ، بہت نوازش!
     
  6. عدیل منا

    عدیل منا محفلین

    مراسلے:
    450
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    علامہ شبیر احمد عثمانی نے قائد اعظم کی وفات کے بعد بتایاکہ ”قائد اعظم نے انہیں ایک نشست میں بتایا تھا کہ جب وہ لندن میں مقیم تھے تو ایک خواب میں انہیں رسول اکرم ﷺکی زیارت ہوئی جس میں آپﷺ نے فرمایا کہ ”محمد علی واپس ہندوستان جاﺅ اور وہاں مسلمانوں کی قیادت کرو“قائد اعظم نے یہ خواب سنا کر مولانا شبیر احمد عثمانی کو تاکید فرمائی تھی کہ یہ خواب میری زندگی میں کسی پر آشکارہ مت کرنا ،میں یہ خواب دیکھنے کے فوراََبعد ہندوستان آگیا۔
    یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم نے پاکستان کے نظام میں مغربی جمہوریت کی کئی بار نفی فرمائی۔قائد اعظم کی تقاریر اٹھا کر دیکھ لیں ہمیں ہر بیان میں اسلام اور قرآنی نظام کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 6
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • متفق متفق × 1
  7. راسخ کشمیری

    راسخ کشمیری محفلین

    مراسلے:
    854
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    آج کل ہر دوسرا ليڈر اٹھ کر ببانگ دہل قائد کے فرامين کو سناکر عوام کو سرشار کرتا ہے۔ مگر عملا ديکھو تو ہر کوئي قائد اعظم بننے کی کوششوں ميں مصروف ہے۔

    نجانے کب ہمارے ليڈروں کو وہ مت آئے گی جو ايک مسلمان ليڈر کے شايان شان ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  8. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    جزاک اللہ نظامی بھائی سرشار کرے گئے قائد کے فرمان
    احسان ہے رب کریم کہ ہمیں ًمحمدعلی جناح سے رہنما ملیں جن کے اقوال اورطرزعمل سب کے لیے قابل تلقید ہیں
    بہت شکریہ جناب
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. یوسف-2

    یوسف-2 محفلین

    مراسلے:
    4,043
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    جزاک اللہ برادر
    ایک شاندار دھاگہ، ماہ آزادی کی مناسبت سے
    بہت بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  10. حسیب نذیر گِل

    حسیب نذیر گِل محفلین

    مراسلے:
    7,241
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    بہت عمدہ نظامی صاحب۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. انجینئرفانی

    انجینئرفانی محفلین

    مراسلے:
    42
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت خوب۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. عاطف بٹ

    عاطف بٹ محفلین

    مراسلے:
    5,525
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    نظامی صاحب، بہت شکریہ یہ سب شئیر کرنے کے لئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. باباجی

    باباجی محفلین

    مراسلے:
    3,839
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Curmudgeon
    الف نظامی
    بہت بہت شکریہ سر
    بے شک تائیدَ ایزدی حاصل تھی قائداعظم ًمحمد علی جناحؒ کو

    عظیم قائد تھے ، ہیں اور رہیں گے
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  14. باذوق

    باذوق محفلین

    مراسلے:
    1,093
    اپنے بلاگ سے ایک تحریر ۔۔۔ 15-جنوری-2010
    یہ مضمون 2007ء میں ایک ویب سائیٹ کے لیے تحریر کیا گیا تھا ، جو بعد میں بند ہو گئی۔ پھر ابوشامل نے جنوری 2010 میں اپنے بلاگ پر ایک تحریر بعنوان "قائد اعظم – ایک سیکولر رہنما؟" لگائی تھی تو میں نے ڈھونڈ کر اپنا پرانا مضمون اپنے بلاگ پر لگایا تھا۔
    واضح رہے کہ جب میں نے اپنے بلاگ پر یہ تحریر لگائی تھی ، تب تمام حوالہ جات متعلقہ ویب سائیٹس پر موجود تھے۔ اب ان میں سے دو لنک غیرفعال ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ۔۔ میر خلیل الرحمٰن کی دی نیوز ڈاٹ کام جیسی معتبر ویب سائیٹ سے اب وہ آرٹیکل ہی غائب ہے جس میں قائد کا وہ قول درج تھا کہ :
    13 جنوری 1948ء - پاکستان کا مقصد کیا ۔۔۔ سیکولرزم یا اسلام ؟


    پاکستان کا مطلب کیا
    لا الٰه الا الله
    یہ وہ نعرہ ہے جس نے قیامِ پاکستان کی تحریک کے دوران مسلمانوں میں جوش و خروش پیدا کیا تھا ۔

    بانئ پاکستان محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد بھی متعدد مواقع پر قیامِ پاکستان کے مقاصد کو نہایت واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بیان کیا ہے ۔

    آج اگر پاکستانی ذرائع ابلاغ میں سیکولرزم کی تازہ لہر چل نکلی ہے تو اس کے پسِ پشت عالمی منصوبہ بندی کا شبہ بھی ناممکن نہیں ۔ اور اس قسم کی منصوبہ بندی کا اہم ترین ہدف یہ ہے کہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں اسلامی تحریکوں کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔
    بے شک پاکستان میں صحافت کو اور صحافیوں کو آزادئ رائے کی سہولت حاصل ہے ۔ اسی سبب اگر ... پاکستان کے سیکولر مزاج صحافی دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے مضامین میں پاکستان کی نظریاتی اساس پر حملہ کرتے ہیں تو اس پر غصہ یا ناراضگی کا جذباتی اور غیر ضروری اظہار مناسب عمل نہیں ۔ بلکہ ایسے مواقع پر ہونا تو یہ چاہئے کہ وہ صحافتی طبقہ بھی کھل کر سامنے آئے جس کے نزدیک نظریۂ پاکستان کا دوسرا نام اسلام ہے ۔

    * نظریۂ پاکستان . .. یعنی پاکستان آئیڈیالوجی کی اصطلاح کب اور کس سوچ کے تحت استعمال کی گئی ؟
    * کیا پاکستان کا مطالبہ حقیقت میں محض زمین کے ایک ٹکڑے کے حصول کی خاطر کیا گیا تھا ؟
    * جس ریاست کے دستور کے پیشِ نظر شریعتِ اسلامی رہی ہو کیا اس ریاست کو سیکولر ریاست کا درجہ دیا جا سکتا ہے ؟
    * کیا قائد پاکستان نے نظریۂ پاکستان کا نعرہ کبھی استعمال ہی نہیں کیا تھا ؟
    * کیا یہ حقیقت ہے کہ نظریۂ پاکستان کی اصطلاح جماعتِ اسلامی کی قائم کردہ ہے ؟

    اِن تمام سوالات کے جوابات سے نئی نسل کو واقف کرانے کی خاطر آج یہ امر ضروری ہو گیا ہے کہ تاریخِ قیامِ پاکستان کے گمشدہ اوراق کو تلاش کیا جائے ۔

    نظریۂ پاکستان یا پاکستان آئیڈیالوجی یا پاک آئیڈیالوجی کی اصطلاح ... سب سے پہلے لفظ "پاکستان" کے خالق چودھری رحمت علی نے 1934ء میں استعمال کی تھی ۔ ان کے اپنے الفاظ یوں ہیں :

    نظریۂ پاکستان کا تعلق یقینی طور پر تحریکِ پاکستان سے مربوط ہے ۔ خود قائد پاکستان نے بھی نظریۂ پاکستان کے الفاظ اپنی تقریروں میں ارشاد فرمائے تھے ۔

    اسلام دشمن طبقہ نے جب قائد پاکستان کی ایک تقریر کا من چاہا مفہوم اخذ کرتے ہوئے یہ منفی پروپیگنڈا شروع کیا تھا کہ پاکستان کا دستور اسلامی شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا ... تب قائد پاکستان نے بھرپور انداز میں اس شرانگیزی کی مذمت کی تھی ۔
    25۔ جنوری 1948ء کو کراچی بار اسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد پاکستان نے فرمایا تھا :
    میں ان لوگوں کی بات نہیں سمجھ سکتا ، جو دیدہ و دانستہ اور شرارت سے پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا ۔ اسلام کے اصول عام زندگی میں آج بھی اسی طرح قابل اطلاق ہیں ، جس طرح تیرہ سو سال پہلے تھے ۔
    میں ایسے لوگوں کو جو بدقسمتی سے گمراہ ہو چکے ہیں ، یہ صاف صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ یہاں غیر مسلمانوں کو بھی کوئی خوف نہیں ہونا چاہئے ۔

    علاوہ ازیں قائد پاکستان نے 4۔ فبروری 1948ء کو سبی میں خطاب کے دوران یہ واضح ترین الفاظ بھی ارشاد فرمائے :
    میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ حیات پر ہے جو ہمارے عظیم واضعِ قانون پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے قائم کر رکھا ہے ۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اسلامی اصولوں اور تصورات پر رکھنی چاہئیں ۔ اسلام کا سبق یہ ہے کہ مملکت کے امور و مسائل کے بارے میں یہ فیصلے باہمی بحث و تمحیص اور مشوروں سے کیا کرو


     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  15. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
  16. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اگر ہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خوش اور خوش حال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنی پڑے گی۔
    ( فرمانِ قائد اعظم محمد علی جناح ، خطبہ صدارت دستور ساز اسمبلی 1947 ء )
     
    • زبردست زبردست × 3
  17. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بازگشت
     
    • زبردست زبردست × 1
  18. عزیزامین

    عزیزامین محفلین

    مراسلے:
    8,027
    جھنڈا:
    Canada
    موڈ:
    Happy
    یہ دھاگہ لکھ کر آپ نے پاکستانی ہونے کا بھرپور فرض نبھایا ہے
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بازگشت!
     
    • زبردست زبردست × 1
  20. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بازگشت!
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر