قائد اعظم محمد علی جناح

  1. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی نذرانۂ عقیدت --- قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ

    دادا مرحوم کا قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کو نذرانۂ عقیدت، احبابِ محفل کی خدمت میں پیش ہے۔ قائدِ اعظمؒ (1) یہ فطرت ہے بشر ہوتا ہے از نسلِ بشر پیدا یہ قدرت ہے جو تم سا کر دیا اک شیرِ نر پیدا چمن باقی تو ہوں گے سیکڑوں گل ہائے تر پیدا یہ دنیا ہے تو ہوں گے سیکڑوں اہلِ بصر پیدا ہزاروں لاکھوں ہوں گے...
  2. ل

    قائد اعظم پاکستان میں شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے تھے۔ ڈاکٹر صفدر محمود کی گواہی۔

    قائد اعظم کے تصور پاکستان اور فرمودات پر من پسند غلاف چڑھانے کا سلسلہ 1948میں ہی شروع ہو گیا تھا۔ لیکن اس وقت اس طرح کے نام نہاد روشن خیالوں اور دین بیزاروں کی تعداد بہت کم تھی۔ ویسے قائد اعظم کو بھی دنیا روشن خیال ہی سمجھتی ہے۔ جب قائد اعظم کو علم ہوا کہ کچھ سیکولر حضرات ان کے بارے میں غلط...
  3. ل

    تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوان صدر میں بابائے قوم محمد علی جناح کا یوم ولادت منایاگیا

    تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوان صدر میں بابائے قوم محمد علی جناح کا یوم ولادت منایاگیا اسلام آباد(صالح ظافر) تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوان صدر میں بابائے قوم محمد علی جناح کا یوم ولادت منایا گیا، اس تقریب کے موقع پر بدھ کے روز 25 دسمبر کو صدرممنون حسین نے کیک کاٹا، اس موقع پر مقامی اسکول کے دو طالب...
  4. الف نظامی

    حضرت قائد اعظم سے ایک یادگار ملاقات

    حضرت قائد اعظم سے ایک یادگار ملاقات از علامہ محمد یوسف جبریل دہلی کی ایک سعادت مند صبح تھی۔ میں نیند سے بیدار ہوا۔ معا میرے دل میں خیال آیا کہ قائد اعظم دہلی میں ہیں ، کیوں نہ ان کی زیارت کی جائے۔ اس وقت نہ تو مجھے اپنی کم مائیگی کا خیال تھا اور نہ ہی حضرت قائد اعظم کی عدیم الفرصتی کا احساس ۔...
  5. عبدالرزاق قادری

    قائداعظم اور قوم

    یوں تو روزانہ سینکڑوں لو گ پیدا ہوتے ہیں لیکن ایسے افراد جو قوموں کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ہر روز پیدا نہیں ہوتے ۔ زمانے میں فکر ی کام کرنے والے لو گ کم ہی ہوتے ہیں لیکن ایک فکر انگیز شخصیت اُن لاکھوں لو گوں پر سبقت رکھتی ہے جو صرف ہتھیار چلانا جانتے ہیں۔ کام کا مَر د اگر ایک ہی پیدا...
  6. الف نظامی

    فرموداتِ قائد اعظم محمد علی جناح

    فرموداتِ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس منعقدہ 15 نومبر 1942 ء میں قائد اعظم نے وہ بصیرت افروز اور چشم کشا خطاب کیا جس کی ضیا باری سے آج بھی تاریخ پاکستان روشن ہے۔ قائد اعظم نے فرمایا :- " مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا...
Top