غیر منقوط ترجمہ قرآن - قرآنی ادب میں ایک شاندار اضافہ

اوشو

لائبریرین
312218_562449527140509_1441718573_n.jpg

ڈاکٹر طاہر مصطفٰی صاحب میرے محترم دوست ہیں۔کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر صاحب میرے دفتر میں تشریف لائے۔ باتوں باتوں میں انہوں نے فرمایا کہ وہ کچھ عرصے سے ایک ایسا کام کر رہے ہیں جو اِس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ میں بہت حیران ہوا۔ میں نے پوچھا، ڈاکٹر صاحب ایسا آخر کیا کام ہے جو آج تک نہیں ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ "غیرمنقوط ترجمۃ قرآن"۔ خود ہی وضاحت فرمائی کہ وہ قران کا ایک ایسا ترجمہ کر رہے ہیں جس میں کوئی نقطہ نہیں آتا۔ میرے دفتر میں کچھ اور احباب بھی تشریف فرما تھے جو اس کام کی ادبی اہمیت سے آگاہ نہیں تھے۔ ایک لمبی بحث چھڑ گئی کہ اس ترجمۃ قران کی افادیت کیا ہے۔ غیر منقوط وہ تحریر ہوتی ہے جس میں کوئی نقطہ نہ آئے۔ اردو ادب میں یہ ایک بہت ہی مشکل فن ہے۔ صرف ایک سطر ہی ایسی لکھنی پڑ جائے تو کافی مشکل ہو جاتی ہے۔ خال خال ہی کوئی ایسی تحریر ملتی ہے۔ میں چونکہ اس سے پہلے سیرتِ نبوی پر اس قسم کے کام کے بارے میں جانتا تھا۔ "ہادی عالم" کے نام سے نبی محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت لکھی جا چکی ہے۔ سیرت کی اس کتاب میں کہیں بھی کوئی نقطہ نہیں ہے۔ سب الفاظ ایسے استعمال کیے گئے ہیں جن میں نقطہ نہیں آتا۔ اس لیے مجھے اس کام کی ادبی اہمیت کا کچھ کچھ اندازہ تھا۔ ڈاکٹر طاہر مصطفیٰ صاحب بتا رہے تھے کہ انہیں اچانک اس کام کا خیال آیا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ غیرمنقوط ترجمۃ قران لکھیں گے۔ لیکن جب انہوں نے یہ کام شروع کر لیا تو تب بھی وہ اپنے اس فیصلے کی درستگی کے بارے میں متذبذب تھے تاآنکہ اُنہوں نے علومِ اسلامیہ کے کچھ مذید ماہرین سے اس کا تذکرہ کیا۔ سب نے ہی نہ صرف اُن کی حوصلہ افزائی کی بلکہ اُن کے ترجمہ شدہ اوراق کو بطور تبرک فوٹو کاپی بھی کروا لیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بتاتے ہیں کہ دوران تحقیق، بعض اوقات انہیں کئی کئی ہفتے ایک لفظ کا غیر منقوط متبادل نہیں ملتا تھا اور وہ سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے اس لفظ کے بارے میں سوچتے رہتے، دوستوں سے مشورہ کرتے ، کثیرالسانی ڈکشنری سے اسفتفادہ کرتے تب بھی ناکامی ہوتی۔ اور بعض اوقات یونہی چلتے پھرتے وہ لفظ ذہن میں القاء ہو جاتا۔ مثلاً نِساء کا ترجمہ عورت بنتا ہے۔ عورت میں نقطے پائے جاتے ہیں۔ اگر زن کا لفظ اختیارکریں تو اس میں بھی نقطے پائے جاتے ہیں۔ الغرض تمام زبانوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئے کوئی غیر منقوط لفظ نہ ملا۔ اب میں اپنے قارئین کو تھوڑی زحمت دوں گا وہ اس لفظ کا ایک غیر منقوط متبادل سوچیں۔ (*ڈاکٹر صاحب نے جو لفظ استعمال کیا وہ مضمون کے آخر میں درج کر دوں گا، لیکن اُس کو دیکھنے سے پہلے اپنی پوری کوشش کر لیجیے گا) اسی طرح قران میں "یوم" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کا اردو میں ترجمہ دن بنتا ہے۔ چونکہ دن میں نقطہ ہے۔ اس ڈاکٹر صاحب نے کسی اور زبان سے ایک غیر منقوط متبادل لے لیا۔ (*ڈاکٹر صاحب نے جو لفظ استعمال کیا وہ مضمون کے آخر میں درج کر دوں گا، لیکن اُس کو دیکھنے سے پہلے اپنی پوری کوشش کر لیجیے گا) ۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں اس ترجمہ قران میں ملیں گی۔ ڈاکٹر صاحب نے حال میں ہی اس ترجمہ کو ختم فرمایا اور اب اس پر نظرثانی فرمائیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے خود فرمایا کہ آخری سورۃ تک آتے آتے انہیں یہ یقین نہیں تھا کہ وہ یہ کام کر پائیں گے۔ حتٰی کہ آخری سورۃ پہ آکر بھی وہ متذبذب تھے کہ وہ اس سورۃ کا ترجمۃ مکمل کر پائیں گے یا نہیں۔ بہرحال یہ اللہ کا خاص کرم ہے کہ وہ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکے۔ اس بات کا تذکرہ شاید بے محل نہ ہو کہ اس سارے کام کے دوران ڈاکٹر صاحب آزمائشوں میں سے بھی گذرے اور انعامات سے بھی بہرہ مند ہوئے۔ آزمائش کے ضمن میں دِل کی سرجری کے عمل سے گذرے۔ یہ شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے تطہیرِ قلب کا سامان تھا جو کہ قران کے ترجمہ کے لیے ازحد ضروری ہوتا ہے۔ اس کا ایک بین ثبوت اُن انعامات سے مل گیا جو اُن پر قدرتِ الٰہی سے ارزاں ہوئے کہ ڈاکٹر صاحب کو بار بار حرم اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا موقعہ ملا۔ یہ اس نیک کام کی قبولیت کا بھی ثبوت ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر طاہر مصطفیٰ صاحب اسماء النبی پر پی ایچ ڈی ہیں اور ٹی وی پروگراموں کو رونق بخشتے رہتے ہیں۔ رمضان میں آپ ان کو خاص طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ اسلامی فکر و تہذیب میں پروفیسر ہیں۔ میری دعا اُن کے لیے یہ ہے اللہ تعالٰی اُن کے اس کام کو قبولیت بخشیں اور آخرت میں ان کی بخشش کا سبب بنائیں۔ آخر میں نمونہ کے طور پر سورۃ فاتحہ اخلاص کے تراجم درج ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔

اللہ کے اسم سے رحم والا اور کمال رحم والا ۔
ا۔ ہر طرح کی حمد اللہ ہی کے واسطے مولٰی ہے کل عوالم کا
۲۔ رحم والا اور کمال رحم والا ہے
۳۔ مالک ہے معاد کے دِہاڑ کا
۴۔ ہمارا ہر عمل اطاع اللہ ہی کے واسطے اسی سے سوال ہے مدد کا
۵۔ (اے اللہ) دکھا دے ہم کو عمود اور مسعود راہ ۶۔ اس طرح کے لوگوں کی راہ ، کہ مکرٌم ہوئے درِ الٰہی کے اور سوائے وہ لوگ کہ گمراہ ہوئے اور رُسوا ہوئے ۔
(اے اللہ ) اسی طرح ہی ہو

970718_590012897698983_1793978717_n.jpg
 

شمشاد

لائبریرین
بہت شکریہ اوشو بھائی۔

کل میں نے دنیا نیوز کے پروگرام حسب حال میں ڈاکٹر صاحب کو سُنا تھا۔ جنید صاحب نے ان کو پروگرام میں بلایا ہوا تھا۔

ڈاکٹر صاحب نے کمال کام کیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے یہ کام 14 مئی 2011ء کو شروع کیا تھا اور 30 مئی 2013ء کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
 

الف عین

لائبریرین
دن کے لئے دہاڑ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، کیا یہ پنجابی کا لفظ ہے؟
عورت کے لئے ممکن ہے کہ ہندی مہلا کا استعمال کیا ہو!
 

محمد وارث

لائبریرین
باتوں باتوں میں انہوں نے فرمایا کہ وہ کچھ عرصے سے ایک ایسا کام کر رہے ہیں جو اِس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ میں بہت حیران ہوا۔ میں نے پوچھا، ڈاکٹر صاحب ایسا آخر کیا کام ہے جو آج تک نہیں ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ "غیرمنقوط ترجمۃ قرآن
یہاں شاید مراد 'غیر منقوط اردو ترجمہ قرآن" کہنا مقصود ہے۔ ورنہ غیر منقوط ترجمہ تو کیا پوری کی پوری تفسیر عربی زبان میں، دربارِ اکبری کے ملک الشعرا ابوالفیض فیضی نے لکھی تھی "سواطع الالہام" کے نام سے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
'سواطع الالہام' کے بارے میں وکی پیڈیا کا مندرجہ ذیل تعارف دیکھا۔

تفسیر سواطع الالہام آٹھویں صدی ہجری کے ہندوستانی بادشاہ جلال الدین اکبر کی سلطنت اکبریہ کے علماء اور نورتنوں میں شامل تھا،ابو الفضل فیضی نے قرآن کریم کی یہ تفسیر غیر منقوط (غیر منقوط وہ تحریر ہوتی ہے جس میں کوئی نقطہ نہ آئے۔ اردو ادب میں یہ ایک بہت ہی مشکل فن ہے۔ صرف ایک سطر ہی ایسی لکھنی پڑ جائے تو کافی مشکل ہو جاتی ہے۔ خال خال ہی کوئی ایسی تحریر ملتی ہے۔)حروف سے لکھی ہے اور اس کے متعلق خوب تکلف سے کام لیا ،جس کی بناء پریہ تفسیر فی نفسہ بے فائدہ ہو گئی، لیکن اتنی سخت محنت و مشقت سے تحریر کردہ یہ تفسیر بہرحال قابل تعریف ہے ،جو مؤلف کی عربی زبان پر حذاقت و مہارت کی خبر دیتی ہے کہ اس غیر منقوط حروف کے استعمال کو اخیر تفسیر تک برقرار رکھا ہے۔[1]
حوالہ جات: مقدمہ تفسیر حقانی ،محمد عبد الحق حقانی ،صفحہ نمبر211،میر محمد کتب خانہ کراچی
اس تعارف میں تفسیر حقانی کا حوالہ ہے، اور تعارف سے کسی قدر تعریف کا پہلو نکلتا ہے جو میرے لیے اچنبھے کی بات تھی کیونکہ مذکورہ تفسیر علما کے ہاں مقبول نہیں ہے، اس لیے تفسیر حقانی کی اصل عبارت سے رجوع کیا تو حسبِ توقع جو عبارت ملی اس میں کہیں سے بھی اس تفسیر کی تعریف کا پہلو نہیں نکلتا بلکہ تنقیص ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔

IMG_20170223_222133.jpg


'سواطع الالہام' کے بارے میں میں کافی عرصے سے ایک تعارفی مضمون لکھنا چارہ رہا ہوں لیکن ہائے ری فرصت۔ اصل سواطع الالہام تو شاید ہی اب کہیں سے ملتی ہو لیکن اس کے بارے میں معلومات متفرق کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں جیسے، دور اکبری ہی کے مؤرخ عبدالقادر بدایونی کی کتاب 'منتخب التواریخ'، بدایوانی فیضی کا حریف تھا سو اس کی خوب تنقیص کی ہے، مولانا محمد حسین آزاد کی کتاب 'دربارِ اکبری'، مولانا ابوالکلام آزاد کی متفرق تحاریر، مولانا شبلی نعمانی کی کتاب 'شعر العجم'، مشہور مؤرخ شیخ محمد اکرام کی 'کوثر سیریز' اور فیضی کے بارے میں مختلف فارسی شاعری کے تذکرے۔ میرے پاس یہ کتابیں موجود ہیں، شاید اللہ مضمون لکھنے کی توفیق بھی دے دے۔ :)
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
'سواطع الالہام' کے بارے میں عرفی شیرازی اور فیضی کے چھوٹے بھائی علامہ ابوالفضل علامی کا ایک لطیفہ بھی مشہور ہے۔ ابوالفضل بھی اکبر کا خاص الخاص رتن تھا۔ ایک دن عرفی ابوالفضل سے ملنے گیا تو دیکھا کہ ابوالفضل قلم دانتوں میں لیے کچھ سوچ رہا ہے۔ عرفی نے پوچھا کیا سوچ رہے ہیں، کہنے لگا، بھائی صاحب (فیضی) نے غیر منقوط تفسیر لکھی ہے، اُس کا مقدمہ لکھ رہا ہوں اور یہ بھی غیر منقوط ہے لیکن سوچ رہا ہوں کہ والد صاحب (شیخ مبارک) کا غیر منقوط نام کیسے لکھوں۔ عرفی نے فوراً کہا، اپنی زبان میں 'ممارک' لکھ دو۔ یہ عرفی کی بہت گہری چوٹ تھی، گنوار اور جاہل لوگ اکثر 'مبارک' کو 'ممارک' کہتے ہیں :)
 

ربیع م

محفلین
سواطع الالہام' کے بارے میں میں کافی عرصے سے ایک تعارفی مضمون لکھنا چارہ رہا ہوں لیکن ہائے ری فرصت۔
میں نے بھی اس تفسیر پر کافی تنقید پڑھی ہے اگر اس تنقید میں کچھ اضافہ کرنا مقصود ہے تو بندہ حاضر ہے!

باقی مضمون کا شدت سے انتظار رہے گا!
 

محمد وارث

لائبریرین
میں نے بھی اس تفسیر پر کافی تنقید پڑھی ہے اگر اس تنقید میں کچھ اضافہ کرنا مقصود ہے تو بندہ حاضر ہے!

باقی مضمون کا شدت سے انتظار رہے گا!
فیضی میرے نزدیک 'مظلوم الشعراء' ہے اس وجہ سے کہ وہ اکبر کا 'ملک الشعراء' تھا۔ اکبر کی جو وقعت اس کے دینِ الہیٰ کہ وجہ سے علما کے ہاں ہے وہ سب جانتے ہیں۔ فیضی اور ابوالفضل کا باپ شیخ مبارک ہی اکبر کے 'محضر' کا تحریر کنندہ تھا سو یہ تینوں باپ بیٹے بھی معتوب ہیں۔ فیضی اچھا خاصا شاعر ہے لیکن آج تک جتنے فارسی تذکرے میری نظروں سے گزرے ہیں ان سب میں اسکی شاعری کی بھی تنقیص ہے، تنقید تو چھوٹی بات ہے، علمی و دینی حیثیت تو دُور کی بات ہے۔ حتی کہ اس کے جو شعر بھی منتخب کرتے ہیں وہ اپنی عبارت کے جواز کے لیے بے مزہ لاتے ہیں۔ مولانا محمد حسین آزاد، مولانا ابوالکلام آزاد اور شیخ محمد اکرام نے کسی قدر فیضی کا دفاع کیا ہے لیکن علما کا معتوب عوام کا محبوب شاید ہی بن سکے۔ سواطع الالہام اور فیضی کی شاعری کے بارے میں مضامین مع اس کے بہترین شعروں کے، میرے ان بہت سے خوابوں میں سے ہیں جو شرمندہ تعبیر ہونے کے منتظر ہیں۔
 

ربیع م

محفلین
اصل سواطع الالہام تو شاید ہی اب کہیں سے ملتی ہو لیکن اس کے بارے میں معلومات متفرق کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں

اصل کا تو علم نہیں بہرحال ایک نسخہ ڈاؤن لوڈ کیا ہے اور کچھ کچھ پڑھنا بھی شروع کر دیا ہے!
792 صفحات ہیں!
اصل عبارت سے رجوع یا حوالے کی ضرورت ہو تو شاگرد حاضر ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
اصل کا تو علم نہیں بہرحال ایک نسخہ ڈاؤن لوڈ کیا ہے اور کچھ کچھ پڑھنا بھی شروع کر دیا ہے!
792 صفحات ہیں!
اصل عبارت سے رجوع یا حوالے کی ضرورت ہو تو شاگرد حاضر ہے۔
کہاں کے استاد شاگرد صاحب، میں تو عربی عبارت میں قیافے ہی لگاتا رہتا ہوں، کبھی خود سے سیکھنے کی کوشش کی تھی، گردانوں نے گردن توڑ دی :) آپ تو ماشاءاللہ عربی جانتے ہیں۔
 

جاسمن

مدیر
بلال بھائی!
جزاک اللہ!
ڈاکٹر صاحب نے زبردست کام کیا ہے۔اللہ قبول فرمائے اور اسے ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کا سبب بنائے۔ آمین!
 
Top