امجد اسلام امجد غزل ۔ ہم ہی کچھ کارِ محبت میں تھے انجان بہت ۔ امجد اسلام امجدؔ

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
ہم ہی کچھ کارِ محبت میں تھے انجان بہت​
ورنہ نکلے تھے ترے وصل کے عنوان بہت​
دل بھی کیا چیز ہے اب پا کے اُسے سوچتا ہوں​
کیا اسی واسطے چھانے تھے بیابان بہت​
فاصلے راہِ تعلق کے مٹیں گے کیوں کر​
حُسن پابندِ انا، عشق تن آسان بہت​
اے غمِ عشق، مری آنکھ کو پتھر کر دے​
اور بھی ہیں مرے دل پر ترے احسان بہت​
امجد اسلام امجدؔ​
 

عینی شاہ

محفلین
واہ واہ کیا غزل ہے ۔پتہ نہیں کیسے کرتے ہیں شاعر ایسی شاعری کہ بندہ واہ واہ ہی کرتا ہے سمجھ چاہے آئے نا آئے :rollingonthefloor:
 
Top