غزل:قریہ ءِ جاں پہ کیوں لشکرِ ہجر کا خوف

Qamar Shahzad نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 17, 2020

  1. Qamar Shahzad

    Qamar Shahzad محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    قریہ ءِ جاں پہ کیوں لشکرِ ہجر کا خوف طاری کروں
    وقفِ تعبیرِ خوابِ وصالِ صنم زیست ساری کروں

    کوئی دعویٰ نہیں اس ہنر میں مجھے، ہاں اگر تُو ملے
    دستِ لب سے ترے جسم کی لوح پر دستکاری کروں

    دیکھنا عکسِ جاناں زِ چشمِ تخیل برائے حیات
    نعمتِ خاص ہے، آبشارِ تشکر کو جاری کروں

    رشکِ مہتاب اپنی جبینِ کشادہ پہ رکھنے دے لب
    اس کتابِ مقدس کا ہونٹوں کو اپنے میں قاری کروں

    آنکھ پر نم، لبوں پر تبسم رہے، دل میں سوزِ وفا
    باغِ الفت تری آبِ اخلاص سے آبیاری کروں

    جستجوئے تقرب ہے بہتر، بجائے تہی دل لیے
    مرقدِ عشق پر بیٹھ کر عمر بھر گریہ زاری کروں

    شعر کہنا، تجھے سوچنا، دیکھنا لفظ کی آنکھ سے
    چاہتا ہوں کہ یہ کام سارے یونہی اضطراری کروں

    دیکھ لوں وہ پرانی تری ویڈیو اک جگہ روک کر
    دور قلبِ نظر کی بہ ایں طور میں بیقراری کروں

    میں قمر ہوں تو افلاک پر کس لیے میرا مسکن نہیں
    خاک ہوں تو بتاؤ نہ کس واسطے خاکساری کروں
    قمر آسی
     

اس صفحے کی تشہیر