غزل برائے اصلاح ::: جس جگہ پر جا لگی وہ ہی کنارہ ہو گيا :::

گر کلیم اللہ جیسا "رب ارنی" ہم کہیں
دیکھنا پھر قلب مضطر طور سارا ہو گیا
۔
یہاں "رب ارنی" کا صحیح قرائت کے تلفظ کے مطابق وزن فاعلاتن ہو نا چاہیئے۔
غالبا یہی وضاحت مطلوب تھی۔
۔

[RIGHT][SIZE=16px]حسن محمود جماعتی[/SIZE][/RIGHT]

۔ صاحب ؟
جی جناب۔ اب یہ موزوں ہے۔ جہاں "اللہ" اور "رب" اپنے مکمل تلفظ کے ساتھ ادا ہو رہے ہیں۔ شکریہ بہت بہت۔
 

الف عین

لائبریرین
منڈیر اور رب ارنی کے غلط استعمال پکو میں نے اس لئے اگنور کر دیا کہ شاید حسن محمود جماعتی اشعار کو دوبارہ کہیں تو یہ اغلاط دور ہو جائیں یا نئی اغلاط پیدا ہو جائیں تو ان کو اکٹھے دیکھ لیں گے۔
منڈیر پر کیا گنتے رہے؟ اس مصرع کا دوسرے مصرعے سے تعلق؟ یہ سب باتیں ہی ابلاغ میں مسئلہ پیدا کرتی ہیں مثال کے طور پر۔
 
منڈیر اور رب ارنی کے غلط استعمال پکو میں نے اس لئے اگنور کر دیا کہ شاید حسن محمود جماعتی اشعار کو دوبارہ کہیں تو یہ اغلاط دور ہو جائیں یا نئی اغلاط پیدا ہو جائیں تو ان کو اکٹھے دیکھ لیں گے۔
منڈیر پر کیا گنتے رہے؟ اس مصرع کا دوسرے مصرعے سے تعلق؟ یہ سب باتیں ہی ابلاغ میں مسئلہ پیدا کرتی ہیں مثال کے طور پر۔
سر "رب ارنی" پہ تو عاطف بھائی نے متبادل عنایت کر دیا۔ دوسرے شعر کا متبادل ملاحظہ فرمائیں:

اک زمانہ جوگ میں بیتا ہمیں گنتے ہوئے
اک حسیں کے وار سے کتنا خسارہ ہو گیا
 
مگر کیا؟ وہ سوال تو باقی رہا؟؟
سر میری ناقص عقل میں، کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ اسے دیکھنے کے بعد جوگ لگا اور زندگی خسارے میں گزری، اب بیٹھ وہ خسارہ گن رہے ہیں۔ اگر خیال اور شعر موزوں نہیں تو رہنمائی فرما دیں۔
 

الف عین

لائبریرین
خسارہ گننے والی چیز نہیں۔ شعر اور خیال دونوں موزوں ہیں، بس اظہار غلط ہے۔ الفاظ سے یہ مطلب ظاہر نہیں ہوتا۔
 
Top