غالب کے اڑیں گے پُرزے

29۔ایک نئی پیروڈی حاضر ہے
غزل
محمد خلیل الرحمٰن

حالِ دِل اُن کو کبھی اپنا سنا بھی نہ سکوں
ایسی اُفتاد پڑی ہے کہ بتا بھی نہ سکوں
ٹوٹنے کی جو مرے ہاتھ تمنا کی تھی
بدد ُعا کے لیے اُن کو میں اُٹھا بھی نہ سکوں
نقشِ پا شوخ ہیں اِتنے کہ الٰہی توبا!
اپنی پلکوں سے میں چاہوں تو اُٹھا بھی نہ سکوں
’’اُس کا پیغام ملا ، وجہِ تسلی نہ ہوا‘‘
کیسی مشکل ہے کسی کو یہ بتا بھی نہ سکوں
غیر کے سامنے آؤ تو یہ مشکِل ہوگی
مارے غیر ت کے میں آنکھوں کو اُٹھا بھی نہ سکوں
اُن کا دیدار سرِ عام ہو محفِل میں خلیلؔ
وائے حسرت کہ پئے دید میں جا بھی نہ سکوں
 
بہت خوب خلیل، ہر پیروڈی مزاحیہ ہی ہو تو مزہ ہے۔ اس میں بھی مزاح کی نمکینی کم ہے۔
30۔آپ کا اعتراض بجا، لیجیے منہ کا مزہ بدل لیجے، ایک مزاحیہ پیروڈی حاضر ہے۔
غزل
محمد خلیل الرحمٰن
دل کا عجیب زخم ہے، ملتے ہی بھر نہ جائے کیوں
رونا نہ آئے گر ہمیں، کوئی ہمیں رُلائے کیوں
محفلِ دید بھی نہیں، اُسکی شنید بھی نہیں
بیٹھے ہیں اپنے گھر پہ ہم ، کوئی ہمیں اُٹھائے کیوں
پہلے عجیب تھی اکڑ چلتا تھا شان سے جو تو
چھاپا پڑا ہے جب میاں، پردے میں منہ چھپائے کیوں
آتے ہی تیرےسامنے، ہم نے جو کوسنے سنے
خود کو ہی کوستے ہیں ہم، سامنے تیرے آئے کیوں
چھٹی تو یوں بھی بند ہے، صاحب نے کہہ دیا ہمیں
ہوتے ہی اُن کا سامنا۔ کیجیے ھائے ھائے کیوں
امریکہ جاکے جب سبھی ، اپنے پرائے ہوگئے
غیر تو یوں بھی غیر ہے، وہ بھی ہمیں بلائے کیوں
چنگ چی و ویگن اور بس، اصل میں سب ہی ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی اِن سے نجات پائے کیوں
اللہ ایک بار ہی خود کو وہ آزما سکے
ہر بار، ہر مقام پر، ہم کو وہ آزمائے کیوں
گر وہ نہیں وفا شعار، کہیے کہ بے وفا ہے وہ
گانے لتا کے بار بار اُس نے ہمیں سنائے کیوں
۔۔۔
 

سید زبیر

محفلین
ماشا اللہ بہت خوب
گر وہ نہیں وفا شعار، کہیے کہ بے وفا ہے وہ
گانے لتا کے بار بار اُس نے ہمیں سنائے کیوں
 

الف عین

لائبریرین
بہت خوب خلیل۔ پرزوں کی دوسری جلد تیار ہو گئی کیا یا ابھی بھی ہو رہی ہے؟
ویگن کا تو میں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ شاید منی بس کو کہا جاتا ہے پاکستان میں۔ (یہاں صرف پولس کی گاڑیوں کو کہتے ہیں)۔ لیکن یہ چنگ چی پہلی بار پڑھنے میں آیا۔ کیا چین میں کیا جاتا ہے؟
 
ویگن کا تو میں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ شاید منی بس کو کہا جاتا ہے پاکستان میں۔ (یہاں صرف پولس کی گاڑیوں کو کہتے ہیں)۔ لیکن یہ چنگ چی پہلی بار پڑھنے میں آیا۔ کیا چین میں کیا جاتا ہے؟
چینی رکشا ہے جو اب پاکستان کے ہر شہر میں موجود ہیں۔
 
31۔ایک نئی پیروڈی حاضر ہے​
غزل
محمد خلیل الرحمٰن
کِس دِن نہ اُن نے ہوش ہمارے خطا کیے
کِس دِن ہماری بات سکوں سے سُنا کیے
ٹھانی ہے اُس نے قرض نہ واپس کرے گا وہ
حالانکہ روز ہم بھی تقاضا کیا کیے
مقدور ہوتو چور سے پوچھوں کہ اے لعین
’’تو نے وہ گنج ھائے گراں مایہ کیا کیے‘‘
ضد کی ہے اور بات، مگر خو بری نہیں
ضد نے ہمارے گارِ دِگر بے بہا کیے
بھاڑا ملا نہیں ہے ابھی کیسے جاؤں دوست؟
میں اور جاؤں بزم سے بے واہ وا کیے
دیکھا عجیب خواب یہ ، ہم جھوم اُٹھے خلیلؔ
جب وہ ہمارےسامنے پانی بھرا کیے
 
چنگ چی و ویگن اور بس، اصل میں سب ہی ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی اِن سے نجات پائے کیوں

اس شعر کو سمجھنے کے لیے چنگ چی ، ویگن اور بس کی سواری بنیادی شرائط میں سے ہیں۔
میں چونکہ تمام سواریوں کا سوار رہا ہوں ، اس لیے اس شعر کا صحیح لطف اٹھا رہا ہوں۔
 

یوسف-2

محفلین
بھاڑا ملا نہیں ہے ابھی کیسے جاؤں دوست؟
میں اور جاؤں بزم سے بے واہ وا کیے
دیکھا عجیب خواب یہ ، ہم جھوم اُٹھے خلیلؔ
جب وہ ہمارےسامنے پانی بھرا کیے
:great:
:good:
:zabardast1:
 
32۔ آج سیاہ ست پر ایک پیروڈی حاضر ہے

غزل​
طاہر القادری اب دیکھئے کیا کہتے ہیں​
کہنے والے اُنھیں آشفتہ نوا کہتے ہیں​
گُل بداماں ہیں یہ بولیں تو یونہی پھول جھڑیں​
اِن کی ہر بات پہ ہم نامِ خدا کہتے ہیں​
دُہرے شہری ہیں یہی لوگ اِنھیں کچھ بھی کہو​
جو کناڈا کو یونہی قبلہ نما کہتے ہیں​
گو الیکشن میں ابھی چند ہی دِن باقی تھے​
ایسے موقعے پہ چلی کیسی ہوا کہتے ہیں​
راگنی کیسی ہے بے وقت کی کہیے صاحب​
’’اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں‘‘​
’’اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انھیں کچھ نہ کہو‘‘​
اِن سے شرماتی ہے خود آپ حیا کہتے ہیں​
وہ پریشان ہیں اِس طرزِ پذیرائی پر​
’’ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو بُرا کہتے ہیں‘‘​
محمد خلیل الرحمٰن​
 
Top