غالب کے اڑیں گے پُرزے

27۔ایک نئی پیروڈی پیشَ خدمت ہے

غزل
محمد خلیل الرحمٰن
ذکر کچھ حسینوں کا اور پھر بیاں اپنا
کیوں ہوا ہے آخر یہ دشمن آسماں اپنا
گھر سے اُن کی چھت پر ہم یوں اُچھل کے جاسکتے
اُس گلی میں گر ہوتا، کاش کہ مکاں اپنا
اپنے عشق کا یاروہر زباں پہ چرچا ہے
فیس بُک کو ٹھہرایا جب سے رازداں اپنا
بن گئے ہیں ہم شاعر، آج اپنا چرچا ہے
جب بنایا غالب کو ہم نے ہم زباں اپنا
شعر میں لکھوں کیسے، یہ زمین مشکل ہے
’’انگلیاں فِگار اپنی، خامہ خوں چکاں اپنا‘‘
 

یوسف-2

محفلین
اپنے عشق کا یاروہر زباں پہ چرچا ہے
فیس بُک کو ٹھہرایا جب سے رازداں اپنا
واہ بہت اعلیٰ کیا کہنے۔:great:
 

یوسف-2

محفلین
ghalib.GIF
 

سید زبیر

محفلین
بہت خوب
کہا میں نے،میں ہوں ٹیچرتو نکاح مجھ سے کرے
کہا اس نے ،کر ہی لیتی جو تو تھانیدار ہوتا
لا جواب
 
28۔ایک نئی پیروڈی حاضرَ خدمت ہے۔

غزل
محمد خلیل الرحمٰن
نکلی تھی جو گلی سے وہ لڑکی کدھر گئی
جو منتظر تھے اُن پہ قیامت گزر گئی
رسیا تھے بائیسکوپ کے ، ہم دیکھنے گئے
اچھی تھی فلم پر وہ کبھی کی اُتر گئی
لڑکی بہت وہ شوخ تھی، انداز دلرُبا
جس کی نگاہ میرے جگر تک اُتر گئی
۔۔ق۔۔
اماں سے، بابا جان سے میرے جو وہ ملی
’’دونوں کو اِک ادا میں رضامند کرگئی‘‘
’’دو آرزو میں کٹ گئے ، دو انتظار میں‘‘
عمرِ دراز چار ہی دِن میں گزر گئی
لیٹے رہیں تصورِ بیگم کیے ہوئے
فرصت کے رات دن کی وہ لذت کدھر گئی
۔۔ق۔۔
چھٹی کے دن بھی صبح کو سونے نہیں دیا
’’اٹھیے بس اب کہ لذتِ خوابِ سحر گئی‘‘
 

انتہا

محفلین
اماں سے، بابا جان سے میرے جو وہ ملی
’’دونوں کو اِک ادا میں رضامند کرگئی‘‘
بہت خوب خلیل بھائی،
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
ایک نئی پیروڈی حاضرَ خدمت ہے۔

غزل
محمد خلیل الرحمٰن
نکلی تھی جو گلی سے وہ لڑکی کدھر گئی
جو منتظر تھے اُن پہ قیامت گزر گئی
لڑکی بہت وہ شوخ تھی، انداز دلرُبا
جس کی نگاہ میرے جگر تک اُتر گئی
۔۔ق۔۔
اماں سے، بابا جان سے میرے جو وہ ملی
’’دونوں کو اِک ادا میں رضامند کرگئی‘‘
’’دو آرزو میں کٹ گئے ، دو انتظار میں‘‘
عمرِ دراز چار ہی دِن میں گزر گئی

واہ کیا اشعار ہیں۔
دل سے جو آہ نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
 

محمد وارث

لائبریرین
ایک نئی پیروڈی حاضرَ خدمت ہے۔

غزل
محمد خلیل الرحمٰن
نکلی تھی جو گلی سے وہ لڑکی کدھر گئی
جو منتظر تھے اُن پہ قیامت گزر گئی
رسیا تھے بائیسکوپ کے ، ہم دیکھنے گئے
اچھی تھی فلم پر وہ کبھی کی اُتر گئی
لڑکی بہت وہ شوخ تھی، انداز دلرُبا
جس کی نگاہ میرے جگر تک اُتر گئی
۔۔ق۔۔
اماں سے، بابا جان سے میرے جو وہ ملی
’’دونوں کو اِک ادا میں رضامند کرگئی‘‘
’’دو آرزو میں کٹ گئے ، دو انتظار میں‘‘
عمرِ دراز چار ہی دِن میں گزر گئی
لیٹے رہیں تصورِ بیگم کیے ہوئے
فرصت کے رات دن کی وہ لذت کدھر گئی
۔۔ق۔۔
چھٹی کے دن بھی صبح کو سونے نہیں دیا
’’اٹھیے بس اب کہ لذتِ خوابِ سحر گئی‘‘

کیا کہنے خلیل صاحب۔ "جدید معاملہ بندی" کے آپ خاص "ایکسپرٹ" ہیں :)
 
واہ واہ خلیل۔ اب لگتا ہے کہ غالب کی ڈومنی تک بھی پہنچنے ہی والے ہو!!
ہم اپنی نئی پیروڈی شریکِ محفل کیا چاہتے تھے، لیکن اس خوبصورت تبصرے کا حظ اُٹھانے کے لیے رُک گئے۔

استادِ محترم آپ کے منہ میں گھی شکر۔
 
Top