عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم

محفلین
خُود سے کتنے خراب دیکھے ہیں
سب ہی صاحب جناب دیکھے ہیں

اب فقیری میں دورِ حاضر کیا
اِس سے بڑھ کر سراب دیکھے ہیں

میری آنکھوں پہ کُچھ ترس کھاؤ
اِن نے چاہت کے خواب دیکھے ہیں

ہم نے اپنی خطائیں اور واعظ
تُم نے اپنے ثواب دیکھے ہیں

بے خُودی میں نہ ڈوب جائیں کیوں
لوگ محوِ شراب دیکھے ہیں

جس نے ہم سے بُرے نہیں دیکھے
اُس نے خُود سے خراب دیکھے ہیں

صاحب اُن کا سوال رکهنے پر
دنیا بهر کے جواب دیکھے ہیں
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
اُن سے امید ہے وفاؤں کی
تنگ جھولی ہے جن خُداؤں کی

طاق پر اِک چراغ رکھ میں نے
دشمنی دیکھ لی ہواؤں کی

ہے سفر آخرت کا در پیش اور
یاد آئی ہے اپنے گاؤں کی

میری دُنیا اُجاڑ کر اُس نے
خُو بدل دی ہے اِن فضاؤں کی

عشق میں مبتلا ہوں میں صاحب
ہے ضرورت مجهے دعاؤں کی
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
جنوں کو آزمانے پر تُلے ہیں
کُچھ ایسا کر دِکھانے پر تُلے ہیں

تمہاری دید کی خواہش میں جاناں
یہ دُنیا بُھول جانے پر تُلے ہیں

جنہیں ہم نے ہمارا دوست جانا
وہی دشمن بنانے پر تُلے ہیں

ہم ایسے قیس ڈھونڈو تو اے لیلی
تُجھے دِل سے بُھلانے پر تُلے ہیں

خُدا جانے ہے کیسا ہم کو دعوہ
کہ ہم کیا کر دِکھانے پر تُلے ہیں

عظیم اُن کے لئے بے چین کیوں ہو
جو تم کو یوں ستانے پر تُلے ہیں
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
غزل

تھے جفاکار کیا وفا کرتے
کیا سلوک ہم سے ناروا کرتے

وقت وہ بھی گُزارا آہوں میں
جس میں بہتر تھا ہم دُعا کرتے

اُن سے اُن کی جفا کا جا کر ہم
سوچتے ہیں گلہ بھی کیا کرتے

رسمِ شہرِ بُتاں تھی دینا درد
کیوں مرے درد کی دوا کرتے

اپنے بس میں اگر یہ ہوتی جان
روح کو جسم سے رہا کرتے

تھا ہماری ہی دُھن میں کوئی عیب
ورنہ کُچھ لوگ سر دُھنا کرتے

جن کو اپنا پکارتے صاحب
کاش وہ لوگ اب ہُوا کرتے

ہم بھی اِک بُت تراش لائیں گے
تھک چکے ہیں خُدا خُدا کرتے
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
سینے کا درد، زخم جگر کا دِکھا دِیا
صاحب نے بزمِ یار میں سب کو رُلا دِیا

دیکھو عظیم تُم بھی نبھاکر تو دیکھ لو
مومن نے اِس زمین کو مسجد بنا دِیا
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
ڈھل چُکی شام دِل جلا جاتے
پھر رقیبوں کے ساتھ آ جاتے

کل میسر نہیں ہوا کھانا
عین ممکن تھا خُود کو کھا جاتے

اُس نے دیکھا ہی کب مری جانب
ورنہ اُس کی نظر کو بھا جاتے

ہم سے ممکن نہ ہو سکا، ورنہ
تم کو زخمِ جگر دِکھا جاتے

کیسی رغبت ہے اُس ستمگر سے
کاش اہلِ کرم بتا جاتے

سوچتے ہیں عظیم دنیا کو
اِس گدائی کے گُن سکھا جاتے
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
کیا مرا ضبط آزمائیں گے
تُجھ طرح لوگ بھی ستائیں گے

اے مرے یار تیرے بارے ہم
جانتے کیا ہیں جو بتائیں گے

یاد آتا ہے مسکرانا پر
عمر بھر اشک ہی بہائیں گے

تُم ہی کہہ دو کہ ہم متاعِ جاں
کیوں کسی غیر پر لٹائیں گے

زندگی بھر نہیں ملا ، صاحب
خاک مر کر قرار پائیں گے
 

عظیم

محفلین
دیوانہ جانتے ہیں ،مُجھے اِس جہاں کے لوگ
یارب نہ ہوں کُچھ ایسے ہی اِن سے وہاں کے لوگ

بیٹھے ہیں تیری سمت کو قبلہ نما سمجھ
زیرِ زمین خاک سے اُس آسماں کے لوگ

پائندہ باد ، زندہ و آباد تُو رہے
بد بخت ہیں مریں گے ہم اہلِ زباں کے لوگ

بزمِ یارانِ یار سجائے نہ بَن پڑے
ہیں منتظر مکان میں کُچھ لامکاں کے لوگ

ڈھونڈو تو ڈھونڈ لاؤ پہ صاحب سے گر مِلیں
تُجھ کو ترے جہان میں زاہد بُتاں کے لوگ
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
تمہارے غم میں جینے، اور مرنے کی کہانی ہے
سنو اے گل بدن، سُن تو لو میری ہی زبانی ہے

لہو سا رنگ ہے لیکن یقین اے مہرباں جانو
مری پلکوں پہ آنسو ہیں مری آنکھوں میں پانی ہے

کہاں تدبیر حق کا کوئی متبادل نظر آیا
فقیہِ شہر کی دہلیز پر ہی دُم ہلانی ہے

تمہاری اِس نمائش اس بناوٹ نے بتاؤ کیا
تمہارے اجنبی سے آخرش پہچاں کرانی ہے

تباہی تو تباہی وہ ہے جو اس جاں پہ آنی ہے
مٹاکر دُنیاوی ہستی کسی نے کیا مٹانی ہے

جہاں پر بات کرنے کی اجازت بھی نہیں صاحب
وہیں ضد ہے کہ اپنی داستانِ غم سنانی ہے
 
آخری تدوین:

واسطی خٹک

محفلین
ﺗﺒﺎﮨﯽ ﺗﻮ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺟﺎﮞ ﭘﮧ ﺁﻧﯽ ﮨﮯ
ﻣﭩﺎﮐﺮ ﺩُﻧﯿﺎﻭﯼ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﭩﺎﻧﯽ ﮨﮯ
wah
 

عظیم

محفلین
تمہاری اِس نمائش اِس بناوٹ نے بتاؤ کیا
کوئی تدوین صورت میں تُمہاری کر دِکھانی ہے
 

عظیم

محفلین
تمہارے غم میں جینے، اور مرنے کی کہانی ہے
سنو اے گل بدن، سُن لو کہ میری ہی زبانی ہے

لہو سا رنگ ہے لیکن یقین اے مہرباں جانو
مری پلکوں پہ آنسو ہیں مری آنکھوں میں پانی ہے

کہاں تدبیر حق کا کوئی متبادل نظر آیا
فقیہِ شہر کی دہلیز پر ہی دُم ہلانی ہے

تباہی تو تباہی وہ ہے جو اس جاں پہ آنی ہے
مٹاکر دُنیاوی ہستی کسی نے کیا مٹانی ہے

جہاں پر بات کرنے کی اجازت بھی نہیں صاحب
وہیں ضد ہے کہ اپنی داستانِ غم سنانی ہے
 
آخری تدوین:
Top