عرض در درگاہِ حضرت مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)

اے مجسم شرحِ قرآنِ حکیم
قافلہ سالارِ راہِ مستقیم
باز بنگر بر غریبانِ حرم
ما سراغِ منزلت گم کردہ ایم​
زندگی کا پہلا نعتیہ کلام ہے۔ فارسی دان اربابِ ذوق سے دست بستہ مدد کی درخواست ہے۔
 
آخری تدوین:

تلمیذ

لائبریرین
میرے خیال میں ’ایم‘ کا تلفظ بر وزن ’میز‘ ، ’تیل ‘ ، ’گیم‘، وغیر ہ ہے جبکہ حکیم، مستقیم، کاوزن بر وزن ’رحیم‘، ’حلیم‘، ’سلیم‘ وغیرہ ہے۔
ہو سکتا ہےمیں غلطی پر ہوں، اس لیےمحفل کے جیّد فارسی دانوں سے رہنمائی کی درخواست ہے۔
جناب محمد یعقوب آسی, صاحب
جناب محمد وارث, صاحب
حسان خان, جی
 
میرے خیال میں ’ایم‘ کا تلفظ بر وزن ’میز‘ ، ’تیل ‘ ، ’گیم‘، وغیر ہ ہے جبکہ حکیم، مستقیم، کاوزن بر وزن ’رحیم‘، ’حلیم‘، ’سلیم‘ وغیرہ ہے۔
ہو سکتا ہےمیں غلطی پر ہوں، اس لیےمحفل کے جیّد فارسی دانوں سے رہنمائی کی درخواست ہے۔
جناب محمد یعقوب آسی, صاحب
جناب محمد وارث, صاحب
حسان خان, جی
صیغہ جمع متکلم کی علامت "ایم" فارسی طرزِ ادا میں یائے مجہول اور یائے معروف کے بین بین ہوتا ہے، سو اردو میں بہر دو لحاظ قافیہ بن سکتا ہے۔
اے مجسم شرحِ قرآنِ حکیم
قافلہ سالارِ راہِ مستقیم
باز بنگر بر غریبانِ حرم
ما سراغِ منزلت گم کردہ ایم​
بنگر کو البتہ دیکھ لیجئے کہ اصل صوت "بَ نِ گَر" ہے (نون مکسور، نہ کہ مجزوم)، جو بحر میں درست ادا ہو نہیں پا رہا۔ فاعلاتن فاعلاتن فاعلن(فاعلات)
تحریکِ اوسط سے اس مقام پر تین ہجائے کوتاہ (ز ب ن) اور ایک ہجائے بلند (گر) جمع ہو رہے ہیں، جو بہت ثقیل ہو جاتا ہے۔ مطالب عمدہ ہیں۔
 
بنگر والی بات مناسب ہے مگر فارسی کے لحاظ سے کوئی خاص قابل ذکر نہیں ۔ قافیہ ایم بھی قابل ذکر نہیں ۔ فارسی کے مزاج سے دونوں بالکل درست ہیں تسکین اور تحریک اوسط کے معاملے میں فارسی کا مزاج وسیع تر معروف اور مقبول ہے۔۔ لیکن ہم اپنے اردو والے ماحول کی نگاۃ سے دیکھتے ہیں تو ایسا ہی نظر آتا ہے۔البتہ غریب کے اصل عربی (اور شاید فارسی بھی) معنی اجنبی کے ہیں جس کا محل مخصوص کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ تعمیم کی ضرورت زیادہ اصح ہوگی یہاں اس مناسبت سے فقیران حرم ہو تو اچھا ہے۔ کہ عرب و عجم پر محیط ہو جائے۔اور حقیقت حال سے زیادہ مطابق بھی۔ واللہ اعلم۔۔۔۔ ویسے مجھے قطعہ بہت پسند آیا۔
 
آپ کے قیمتی وقت، محاکمہ اور آراء کا نہایت شکریہ۔ جی خوش ہو گیا آپ کی باتیں سن کر۔ اللہ سلامت رکھے!
تعمیم کی ضرورت زیادہ اصح ہوگی یہاں اس مناسبت سے فقیران حرم ہو تو اچھا ہے۔
جہاں تک غریبانِ حرم کی ترکیب کا تعلق ہے تو وہ مجھے
قافلہ سالارِ راہِ مستقیم
اور
ما سراغِ منزلت گم کردہ ایم​
کی رعایت سے موزوں معلوم ہوئی۔ راہ اور منزل کے الفاظ فطری طور پر غریبی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور غریبی بھی اس خالص مفہوم میں جس کی جانب مشفقی عاطف صاحب نے اشارہ کیا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
جنابِ عزیز!
اگر آپ اپنی نعتیہ شاعری پر کوئی تبصرہ چاہتے تھے تو میری معذرت قبول کیجیے کہ میں فنِ شاعری کے رموز سے ناواقفِ محض ہوں، البتہ فارسی زبان اور اس کے قواعد کے سلسلے میں کچھ باتیں ضرور عرض کر سکتا ہوں۔ شاعری میں 'بنگر' کو عموماً وزن کی برقراری کے لیے بِ نْ گَ ر کے تلفظ سے باندھا جاتا ہے، لہٰذا آپ کا ایسا کرنا درست ہے۔ حافظ کے شعر سے اس کی ایک سند پیش ہے:
بوی بنفشه بشنو و زلفِ نگار گیر
بنگر به رنگِ لاله و عزمِ شراب کن

امیر خسرو دہلوی نے ایک جگہ 'باز بنگر' کا استعمال کیا ہے:
اندک اندک می‌رود آن دزدِ دل‌ها سوی باغ
باز بنگر تا ز ره چند آشنا خواهد فتاد

جبکہ عطار نیشابوری نے اسے یوں استعمال کیا ہے:
در نگر اول که با آدم چه کرد
عمرها بر وی در آن ماتم چه کرد
باز بنگر نوح را غرقابِ کار

تا چه برد از کافران سالی هزار
باز ابراهیم را بین دل شده
منجنیق و آتشش منزل شده

جدید ایرانی لہجے کے تحت ایم اور حکیم ہم قافیہ الفاظ ہیں، کیونکہ اس لہجے میں یائے مجہول کی آواز نہیں ہے۔ البتہ شاید کہنہ فارسی شاعری میں ان دونوں کو ہم قافیہ نہ مانا جاتا ہو۔
صرف اطلاعاً عرض ہے کہ تاجکستان اور افغانستان میں 'ایم' کو em پڑھا جاتا ہے۔

پس نوشت: لفظِ منزلت 'منزل' کے مفہوم کے بجائے رتبہ، درجہ، مقام، مرتبہ وغیرہ کے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔
 
آخری تدوین:
پس نوشت: لفظِ منزلت 'منزل' کے مفہوم کے بجائے رتبہ، درجہ، مقام، مرتبہ وغیرہ کے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔
حسان بھائی، اس لفظ کو میں نے منزل + ت باندھا تھا۔ بمفہوم تیری منزل، تیرا گھر۔ اس نظر سے دیکھا جا سکتا ہے مصرعے کو؟
 

حسان خان

لائبریرین
حسان بھائی، اس لفظ کو میں نے منزل + ت باندھا تھا۔ بمفہوم تیری منزل، تیرا گھر۔ اس نظر سے دیکھا جا سکتا ہے مصرعے کو؟
آپ نے درست باندھا ہے۔ یہ میری کوتاہی تھی کہ میں اِسے منزل + ت کے بجائے منزلت سمجھا۔
 

حسان خان

لائبریرین
ویسے کیا فارسی قواعد کے رو سے 'مجسم شرحِ قرآن' کی ترکیب جائز ہے؟ فارسی میں تو اس کی بجائے 'شرحِ مجسمِ قرآن' کو معیاری سمجھا جاتا ہے۔ 'مجسم شرحِ قرآن' میں مجھے اردویت نظر آ رہی ہے، اور شاید یہ ترکیب یہاں درست نہ ہو۔ خیر، اس سلسلے میں ذرا تحقیق کرنا پڑے گی کہ آیا فارسی شاعری میں اس کی گنجائش نکلتی ہے یا نہیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
ویسے کیا فارسی قواعد کے رو سے 'مجسم شرحِ قرآن' کی ترکیب جائز ہے؟ فارسی میں تو اس کی بجائے 'شرحِ مجسمِ قرآن' کو معیاری سمجھا جاتا ہے۔ 'مجسم شرحِ قرآن' میں مجھے اردویت نظر آ رہی ہے، اور شاید یہ ترکیب یہاں درست نہ ہو۔ خیر، اس سلسلے میں ذرا تحقیق کرنا پڑے گی کہ آیا فارسی شاعری میں اس کی گنجائش نکلتی ہے یا نہیں۔
مبارک ہو راحیل فاروق صاحب! استفسار کرنے پر دو ایرانی زبان دانوں نے شاعری میں اس ترکیب کو جائز قرار دے دیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
http://forum.wordreference.com/threads/persian-ای-مجسم-شرح.3078211/

راحیل فاروق
 
آخری تدوین:
Top