ضرورتِ شعری

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
کچھ روز پہلے ایک دھاگے میں ضرورتِ شعری کے موضوع پر مختصر سی گفتگو ہوئی تھی اور برادرم محمد تابش صدیقی کی جانب سے یہ اہم سوال اٹھایا گیا تھا کہ آخر ضرورتِ شعری کی حدود کیا ہیں؟ کوئی شاعر شعر لکھتے وقت یہ کیسے طے کرے گا کہ کون سا عیب کب اور کس حد تک ضرورتِ شعری کے تحت روا رکھا جا سکتا ہے؟ جواباً محترمی سرور راز صاحب نے عرض کیا تھا کہ ضرورت شعری کی حدود اور اصول کا تعین کبھی نہیں کیا گیا اور شاید ہو بھی نہیں سکتا۔ اساتذہ کے یہاں اس کی سیکڑوں مثالیں ضرور ملتی ہیں لیکن اصول اور حد پرکوئی اظہار خیال نہیں کرتا۔ پھر اسی دھاگے میں سرور عالم راز صاحب اور راقم نے اس مسئلے پرتحقیق شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ سرور صاحب سے اس موضوع پر میری دو بار تفصیلی مشاورت رہی اور یہ طے کیا گیا کہ سب سے پہلے اساتذہ اور مشاہیر کے کلام سے کثیر تعداد میں ایسی مثالیں جمع کی جائیں کہ جن میں ضرورتِ شعری کی اجازت سے کام لیا گیا ہو۔ جب ان مثالوں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع ہوجائے تو پھر ان کی تحقیق اور ان کاتفصیلی تجزیہ کیا جائے۔ اور ممکن ہو تو ان مثالوں کی زمرہ بندی بھی کردی جائے۔ امید یہ ہے کہ ایسا کرنے کے بعد شاید ضرورتِ شعری کی کوئی جامع و مانع تعریف واضح ہو کرسامنے آجائے ۔ اور پھر اس تعریف کی روشنی میں کچھ حدود و قیود بھی متعین کی جاسکیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس مشقت اور عرق ریزی کے بعد بھی یہ دونوں متوقع نتائج برآمد نہ ہوسکیں ۔ لیکن اس ساری کوشش کا کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ مستقبل میں مزید تحقیق و تدقیق کے لیے ایک بنیاد میسر آجائے گی۔
بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم
اس دھاگے کے شروع کرنے کا مقصد اردو محفل پر موجود صاحبانِ علم وہنر اور شعر و ادب کے شائقین و طالبین کی خدمت میں یہ درخواست پیش کرنا ہے کہ اُن کی نظر میں اگر ایسے اشعار ہوں جن میں ضرورتِ شعری سے کام لیا گیا ہے تو براہِ کرم انہیں اس دھاگے میں پوسٹ کردیں تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان اشعار کا ایک بڑا ذخیرہ وجود میں آجائے ۔ تحقیق و تدقیق کے اس کام میں مدد کے لیے میں ان احباب کا پیشگی شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ اللہ کریم ان کے علم و فضل میں برکت اور قلم میں توانائی عطا فرمائے۔ آمین!

مذکورہ بالا اشعار کو پہچاننے اور ڈھونڈنے کے لیے میں "ضرورت ِ شعری"کے بارے میں ایک مختصر سی تعارفی تحریر ذیل میں پیش کررہا ہوں ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ضرورتِ شعری کیا ہے؟

بعض اوقات شاعر کو شعر گھڑتے وقت ایسی صورتحال پیش آتی ہے کہ وہ شعری پابندیوں کے سبب اپنے خیال کو الفاظ میں کماحقہ قید کرنے سے قاصر پاتا ہے ۔ اس صورتحال کو عجزِ شاعرانہ یا عجزِ بیان کہا جاتا ہے۔ ضرورتِ شعری (جسے انگریزی میںpoetic License کہتے ہیں) کی سادہ سی تعریف یہ ہے کہ شاعر کو اگر کسی جگہ عجزِ شاعرانہ درپیش آجائے تو وہ ادائے مطلب کے لیے شاعری کے کسی اصول یا قاعدے کو توڑ بیٹھتا ہے ۔ اصول یا قاعدےسے اس انحراف کو ضرورتِ شعری کا نام دیا گیا ہے۔
بہ الفاظِ دیگر شاعر اپنے خیال کو شعر میں ڈھالنے میں تو کامیاب ہوگیا لیکن ایسا کرنے
کے لیے اسے کسی لسانی یا عروضی قاعدے کو توڑنا پڑا۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کو شعر کا سقم یا شاعر کی غلطی کہا جائے گا یا پھر اسے ضرورتِ شعری کا نام دے کر صرفِ نظر کرلیا جائے گا۔ اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ضرورتِ شعری کی جامع تعریف اور حدود و قیود کا تعین کیے بغیر فی الحال اس سوال کا جواب کہیں موجود نہیں ہے۔(ویسے ایک اصول جو سینہ بسینہ چلا آتا ہے وہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر شعر اگر اچھا ہو تو پھر اس میں موجود معمولی سقم کو نظر انداز کردیا جاتا ہے اور اس کی متعدد مثالیں اردو کی شعری تاریخ میں موجود ہیں۔)
طائرانہ نظر سے دیکھا جائے تو ضرورتِ شعری کے تحت جن اصولوں کو توڑا جاتا ہے انہیں دو بنیادی زمروں میں بانٹا جاسکتا ہے ۔ یعنی لسانی اور عروضی ۔
(1) لسانی اصولوں سے انحراف
اس کی پہلی صورت تو یہ ہے کہ شاعر کسی لفظ کو اس کے اصل اور درست تلفظ سے ہٹ کر استعمال کرے۔ مثلاً جگرؔ مراد آبادی کے یہ اشعار:
میں نہیں بسملِ خیام جگرؔ
حافظِ خوش کلام نے مارا

بہار اپنی جگہ پر سدابہار رہے
یہ چاہتا ہے تو تجزیۂ بہار نہ کر
ان اشعار میں جگر نے خیام اور تجزیہ کے الفاظ کا غلط تلفظ استعمال کیا ہے ۔ خیام کو بغیر تشدید دوم استعمال کیا ہے اور تجزیہ میں ی پر تشدید کا اضافہ کردیا ہے۔ ان دونوں اشعار میں یہ انحراف وزن کی مجبوری کی بنا پر کیا گیا ۔
لسانی انحراف کی دوسری ممکنہ صورت یہ ہے کہ قواعد یا گرامر کے کسی اصول کو توڑا گیا ہو ۔ مثلاً فیض کا یہ شعر:
جب چاہا جو کچھ چاہا سدا مانگ لیا
ہاتھ پھیلا کے دلِ بے زر و دینار سے ہم
اس شعر میں "ہم نے " کے بجائے صرف ہم استعمال کیا گیا ہے جو اردو گرامر کے خلاف ہے۔ فیض کو یہ انحراف ردیف کی وجہ سے کرنا پڑا۔

لسانی انحراف کی تیسری ممکنہ صورت یہ ہے کہ معروف اور فصیح روز مرہ یا محاورے کے خلاف زبان استعمال کی جائے ۔ جیسے جگرؔ مراد آبادی کے یہ اشعار:
رشک آتا ہے شہیدانِ وفاپر مجھ کو
ان کی قسمت میں تھا کیا جلد شفاہوجانا

مری موت سن کر کیا اس نے ضبط
مگر رنگ چہرہ کا فق ہوگیا

پہلے شعر میں "شفاپانا یا شفایاب ہونا" کے بجائے شہیدانِ وفا کا "شفا ہونا "استعمال کیا گیا ہے جو روزمرہ کے خلاف ہے ۔ یہ انحراف قافیہ ردیف کی مجبوری کے باعث کیا گیا۔ دوسرے شعر میں "موت کی خبر سن کر "کہنے کے بجائے "موت سن کر" استعمال کیا گیا ہے ۔ یہ معروف روز مرہ اور فصیح زبان کے خلاف ہے ۔ موت کی خبر اس شعر میں باندھنا ممکن نہیں تھا سو جگرصاحب نے یہاں اصول سے انحراف کا فیصلہ کیا ۔

لسانی انحراف کی چوتھی ممکنہ صورت یہ ہے کہ شاعر مروجہ اور معروف اصولوں کے برخلاف فارسی اور عربی الفاظ کو ہندی الفاظ کے ساتھ مرکب کرے یا ہندی الفاظ کو فارسی الفاظ کی طرز پر استعمال کرے ۔ مثلاً میؔر کے یہ اشعار:
کچھ بات ہے کہ گل ترے رنگیں دہاں سا ہے
یا رنگِ لالہ شوخ ترے رنگِ پاں سا ہے

جب سے چلی چمن میں ترے رنگِ پاں کی بات
سنتا نہیں ہے کوئی کلی کے دہاں کی بات

ان اشعار میں ہندی لفظ پان کو فارسی الفاظ کی طرز پر نون غنہ کے ساتھ باندھا گیا ہے ۔ اسی طرح ہندی اور فارسی الفاظ کو ملا کر ترکیبِ اضافی بنانے کی بھی مثالیں بھی موجود ہیں ۔ نون غنہ کے بجائے اعلانِ نون کی مثالیں بھی شاید اسی ضمن میں رکھی جاسکتی ہیں اگرچہ اب یہ کوئی مسئلہ نہیں رہا اور اضافی تراکیب میں اعلانِ نون کو اب عام طور پر جائز سمجھا جاتا ہے ۔

(2) عروضی اصولوں سے انحراف
اس انحراف کی مثالیں نسبتاً کم ملتی ہیں لیکن اساتذہ کے کلام میں موجود ہیں ۔ ان مثالوں میں کچھ مثالیں قافیے اور ردیف کے اصولوں سے متعلق ہیں۔ مثلاً سودا ؔ کا یہ شعر :
عاشق تو نا مراد ہیں بس اس قدر کہ ہم
دل کو گنوا کے بیٹھ رہے صبر کر کے ہم
پہلے مصرع کی ردیف میں" کہ" اور دوسرے مصرع میں "کے" استعمال کیا گیا ہے جو ردیف کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ اسی طرح میر دردؔ کا یہ شعر:
اَے درد بہت تو نے ستایا ہم کو
بے درد بہت تو نے ستایا ہم کو
اس شعر میں اے اور بے کے قوافی میں جو صوتی اختلاف ہے وہ قافیے کے مروجہ اور مستند اصول کے خلاف ہے۔

عروضی اصول سے انحراف کی مثالوں میں اسقاطِ عین بھی شامل ہے ۔ ضرورتِ شعری کے تحت کچھ شعرا نے عین کو الف وصل کی طرح تقطیع سے گرایا ہے ۔ مثلاً سوداؔ ، مصحفیؔ اور ظفرؔ کے یہ اشعار۔
سودا تجھے کہتا ہوں نہ خوباں سے مل اتنا
تو اپنا غریب عاجز دل بیچنے والا

کون عہدِ وفا اُس بتِ سفاک سے باندھے
سر کاٹ کے عاشق کا جو فتراک سے باندھے

ظفؔر خار کیوں گُل کے پہلو میں ہوتے
جو اچھے نصیب عندلیبوں کے ہوتے

امید ہے کہ مندرجہ بالا مثالوں کی روشنی میں ضرورتِ شعری کی مزید مثالیں ڈھونڈنا اور جمع کرنا آسان ہوجائے گا ۔ آخر میں اصحابِ علم و ہنر اور دیگر معزز محفلین سے درخواست ہے کہ اس تعمیری سرگرمی میں حصہ لےکر اردو کی خدمت میں شریک ہوں ۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
 
آخری تدوین:

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
تفريقِ حسن و عشق کا جھگڑا نہیں رہا
تمئیزِ قرب و بُعد مٹاتی چلی گئی
جگر مراد آبادی۔ نظم "یاد"

ہوا ہے مانع عاشق نوازی ناز خود بینی
تکلف بر طرف آئینۂ تمئیز حائل ہے
مرزا غالب
 

ارشد رشید

محفلین
ضرورتِ شعری کیا ہے؟

بعض اوقات شاعر کو شعر گھڑتے وقت ایسی صورتحال پیش آتی ہے کہ وہ شعری پابندیوں کے سبب اپنے خیال کو الفاظ میں کماحقہ قید کرنے سے قاصر پاتا ہے ۔ اس صورتحال کو عجزِ شاعرانہ یا عجزِ بیان کہا جاتا ہے۔ ضرورتِ شعری (جسے انگریزی میںpoetic License کہتے ہیں) کی سادہ سی تعریف یہ ہے کہ شاعر کو اگر کسی جگہ عجزِ شاعرانہ درپیش آجائے تو وہ ادائے مطلب کے لیے شاعری کے کسی اصول یا قاعدے کو توڑ بیٹھتا ہے ۔ اصول یا قاعدےسے اس انحراف کو ضرورتِ شعری کا نام دیا گیا ہے۔
بہ الفاظِ دیگر شاعر اپنے خیال کو شعر میں ڈھالنے میں تو کامیاب ہوگیا لیکن ایسا کرنے
کے لیے اسے کسی لسانی یا عروضی قاعدے کو توڑنا پڑا۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کو شعر کا سقم یا شاعر کی غلطی کہا جائے گا یا پھر اسے ضرورتِ شعری کا نام دے کر صرفِ نظر کرلیا جائے گا۔ اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ضرورتِ شعری کی جامع تعریف اور حدود و قیود کا تعین کیے بغیر فی الحال اس سوال کا جواب کہیں موجود نہیں ہے۔(ویسے ایک اصول جو سینہ بسینہ چلا آتا ہے وہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر شعر اگر اچھا ہو تو پھر اس میں موجود معمولی سقم کو نظر انداز کردیا جاتا ہے اور اس کی متعدد مثالیں اردو کی شعری تاریخ میں موجود ہیں۔)
طائرانہ نظر سے دیکھا جائے تو ضرورتِ شعری کے تحت جن اصولوں کو توڑا جاتا ہے انہیں دو بنیادی زمروں میں بانٹا جاسکتا ہے ۔ یعنی لسانی اور عروضی ۔
(1) لسانی اصولوں سے انحراف
اس کی پہلی صورت تو یہ ہے کہ شاعر کسی لفظ کو اس کے اصل اور درست تلفظ سے ہٹ کر استعمال کرے۔ مثلاً جگرؔ مراد آبادی کے یہ اشعار:
میں نہیں بسملِ خیام جگرؔ
حافظِ خوش کلام نے مارا

بہار اپنی جگہ پر سدابہار رہے
یہ چاہتا ہے تو تجزیہ بہار نہ کر
ان اشعار میں جگر نے خیام اور تجزیہ کے الفاظ کا غلط تلفظ استعمال کیا ہے ۔ خیام کو بغیر تشدید دوم استعمال کیا ہے اور تجزیہ میں ی پر تشدید کا اضافہ کردیا ہے۔ ان دونوں اشعار میں یہ انحراف وزن کی مجبوری کی بنا پر کیا گیا ۔
لسانی انحراف کی دوسری صورت یہ ممکن ہے کہ قواعد یا گرامر کے کسی اصول کو توڑا گیا ہو ۔ مثلاً فیض کا یہ شعر:
جب چاہا جو کچھ چاہا سدا مانگ لیا
ہاتھ پھیلا کے دلِ بے زر و دینار سے ہم
اس شعر میں "ہم نے " کے بجائے صرف ہم استعمال کیا گیا ہے جو اردو گرامر کے خلاف ہے۔ فیض کو یہ انحراف ردیف کی وجہ سے کرنا پڑا۔

لسانی انحراف کی تیسری ممکنہ صورت یہ ہے کہ معروف اور فصیح روز مرہ یا محاورے کے خلاف زبان استعمال کی جائے ۔ جیسے جگرؔ مراد آبادی کے یہ اشعار:
رشک آتا ہے شہیدانِ وفاپر مجھ کو
ان کی قسمت میں تھا کیا جلد شفاہوجانا

مری موت سن کر کیا اس نے ضبط
مگر رنگ چہرہ کا فق ہوگیا

پہلے شعر میں "شفاپانا یا شفایاب ہونا" کے بجائے شہیدانِ وفا کا "شفا ہونا "استعمال کیا گیا ہے جو روزمرہ کے خلاف ہے ۔ یہ انحراف قافیہ ردیف کی مجبوری کے باعث کیا گیا۔ دوسرے شعر میں "موت کی خبر سن کر "کہنے کے بجائے "موت سن کر" استعمال کیا گیا ہے ۔ یہ معروف روز مرہ اور فصیح زبان کے خلاف ہے ۔ موت کی خبر اس شعر میں باندھنا ممکن نہیں تھا سو جگر| صاحب نے یہاں اصول سے انحراف کا فیصلہ کیا ۔

لسانی انحراف کی چوتھی ممکنہ صورت یہ ہے کہ شاعر مروجہ اور معروف اصولوں کے برخلاف فارسی اور عربی الفاظ کو ہندی الفاظ کے ساتھ مرکب کرے یا ہندی الفاظ کو فارسی الفاظ کی طرز پر استعمال کرے ۔ مثلاً میؔر کے یہ اشعار:
کچھ بات ہے کہ گل ترے رنگیں دہاں سا ہے
یا رنگِ لالہ شوخ ترے رنگِ پاں سا ہے

جب سے چلی چمن میں ترے رنگِ پاں کی بات
سنتا نہیں ہے کوئی کلی کے دہاں کی بات

ان اشعار میں ہندی لفظ پان کو فارسی الفاظ کی طرز پر نون غنہ کے ساتھ باندھا گیا ہے ۔ اسی طرح ہندی اور فارسی الفاظ کو ملا کر ترکیبِ اضافی بنانے کی بھی مثالیں بھی موجود ہیں ۔ نون غنہ کے بجائے اعلانِ نون کی مثالیں بھی شاید اسی ضمن میں رکھی جاسکتی ہیں اگرچہ اب یہ کوئی مسئلہ نہیں رہا اور اضافی تراکیب میں اعلانِ نون کو اب عام طور پر جائز سمجھا جاتا ہے ۔

(2) عروضی اصولوں سے انحراف
اس انحراف کی مثالیں نسبتاً کم ملتی ہیں لیکن اساتذہ کے کلام میں موجود ہیں ۔ ان مثالوں میں کچھ مثالیں قافیے اور ردیف کے اصولوں سے متعلق ہیں۔ مثلاً سودا ؔ کا یہ شعر :
عاشق تو نا مراد ہیں بس اس قدر کہ ہم
دل کو گنوا کے بیٹھ رہے صبر کر کے ہم
پہلے مصرع کی ردیف میں" کہ" اور دوسرے مصرع میں "کے" استعمال کیا گیا ہے جو ردیف کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ اسی طرح میر دردؔ کا یہ شعر:
اَے درد بہت تو نے ستایا ہم کو
بے درد بہت تو نے ستایا ہم کو
اس شعر میں اے اور بے کے قوافی میں جو صوتی اختلاف ہے وہ قافیے کے مروجہ اور مستند اصول کے خلاف ہے۔

عروضی اصول سے انحراف کی مثالوں میں اسقاطِ عین بھی شامل ہے ۔ ضرورتِ شعری کے تحت کچھ شعرا نے عین کو الف وصل کی طرح تقطیع سے گرایا ہے ۔ مثلاً سوداؔ ، مصحفیؔ اور ظفرؔ کے یہ اشعار۔
سودا تجھے کہتا ہوں نہ خوباں سے مل اتنا
تو اپنا غریب عاجز دل بیچنے والا

کون عہدِ وفا اُس بتِ سفاک سے باندھے
سر کاٹ کے عاشق کا جو فتراک سے باندھے

ظفؔر خار کیوں گُل کے پہلو میں ہوتے
جو اچھے نصیب عندلیبوں کے ہوتے

امید ہے کہ مندرجہ بالا مثالوں کی روشنی میں ضرورتِ شعری کی مزید مثالیں ڈھونڈنا اور جمع کرنا آسان ہوجائے گا ۔ آخر میں اصحابِ علم و ہنر اور دیگر معزز محفلین سے درخواست ہے کہ اس تعمیری سرگرمی میں حصہ لےکر اردو کی خدمت میں شریک ہوں ۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
بہار اپنی جگہ پر سدابہار رہے
یہ چاہتا ہے تو تجزیہ بہار نہ کر

تجزیہ بالکل صحیح طور پر فاعِلن کے وزن پر ہے - تج = فا، زِ =ع، یہ = لن
اسی طرح خیام ایک اسم ہے اور دونوں طرح بولا جاتا ہے خی یا م بھی خ یا م بھی - ناموں میں اس طرح کی ردوبدل فطری بات ہے - تو یہاں بھی کوئ غلطی نہیں ہے
==
جب چاہا جو کچھ چاہا سدا مانگ لیا
ہاتھ پھیلا کے دلِ بے زر و دینار سے ہم
اس شعر میں "ہم نے " کے بجائے صرف ہم استعمال کیا گیا ہے جو اردو گرامر کے خلاف ہے۔ فیض کو یہ انحراف ردیف کی وجہ سے کرنا پڑا۔
ایسا آپ کو لگ رہا ہے کہ یہاں "نے" ہونا چاہیئے مگر استاد لوگوں کا کمال ہی یہ ہے کہ وہ ردیف کی مجبوریوں سے بھی کھیل جاتے ہیں - دیکھیں اس شعر کو اس طرح پڑھیں
ہاتھ پھیلا کے، دلِ بے زر و دینار سے ہم
یعنی ہم دلِ بے زرودینار ہیں - مطلب ہم جو کہ کسی دلِ بے زر و دینار جیسے ہیں جب چاہتے ہیں ہاتھ پھیلا کر مانگ لیتے ہیں - تو اب یہ فیض نے پڑھنے والے پہ چھوڑا کہ وہ اس طرح پڑحے یا "سے" کی کمی سے اسے قبول کر لے -
======
رشک آتا ہے شہیدانِ وفاپر مجھ کو
ان کی قسمت میں تھا کیا جلد شفاہوجانا
یہاں بھی آپ دیکھیں یہاں شہیدانِ وفا کا شفا ہونا نہیں کہا گیا بلکہ شہیدانِ وفا کی قسمت کی بات کی گئی ہے اور قسمت میں ہونا تو بالکل صحیح اصطلاح ہے - یعنی شہیدانِ وفا کی قسمت میں جلد شفا ہونا لکھا تھا -
==

میں اور بھی لکھ سکتا ہوں مگر مجھے نہیں پتا کہ آپ ان سب کو بیک جنبشِ قلم رد کر دیں گے اور میری محنت اکارت جائے گی - اگر آپ کو میری باتوں میں کچھ منطق نظر آتی ہے تو ہی میں اس سلسلے میں مزید لکھوں گا -
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہار اپنی جگہ پر سدابہار رہے
یہ چاہتا ہے تو تجزیہ بہار نہ کر

تجزیہ بالکل صحیح طور پر فاعِلن کے وزن پر ہے - تج = فا، زِ =ع، یہ = لن
اسی طرح خیام ایک اسم ہے اور دونوں طرح بولا جاتا ہے خی یا م بھی خ یا م بھی - ناموں میں اس طرح کی ردوبدل فطری بات ہے - تو یہاں بھی کوئ غلطی نہیں ہے
==
جب چاہا جو کچھ چاہا سدا مانگ لیا
ہاتھ پھیلا کے دلِ بے زر و دینار سے ہم
اس شعر میں "ہم نے " کے بجائے صرف ہم استعمال کیا گیا ہے جو اردو گرامر کے خلاف ہے۔ فیض کو یہ انحراف ردیف کی وجہ سے کرنا پڑا۔
ایسا آپ کو لگ رہا ہے کہ یہاں "نے" ہونا چاہیئے مگر استاد لوگوں کا کمال ہی یہ ہے کہ وہ ردیف کی مجبوریوں سے بھی کھیل جاتے ہیں - دیکھیں اس شعر کو اس طرح پڑھیں
ہاتھ پھیلا کے، دلِ بے زر و دینار سے ہم
یعنی ہم دلِ بے زرودینار ہیں - مطلب ہم جو کہ کسی دلِ بے زر و دینار جیسے ہیں جب چاہتے ہیں ہاتھ پھیلا کر مانگ لیتے ہیں - تو اب یہ فیض نے پڑھنے والے پہ چھوڑا کہ وہ اس طرح پڑحے یا "سے" کی کمی سے اسے قبول کر لے -
======
رشک آتا ہے شہیدانِ وفاپر مجھ کو
ان کی قسمت میں تھا کیا جلد شفاہوجانا
یہاں بھی آپ دیکھیں یہاں شہیدانِ وفا کا شفا ہونا نہیں کہا گیا بلکہ شہیدانِ وفا کی قسمت کی بات کی گئی ہے اور قسمت میں ہونا تو بالکل صحیح اصطلاح ہے - یعنی شہیدانِ وفا کی قسمت میں جلد شفا ہونا لکھا تھا -
==

میں اور بھی لکھ سکتا ہوں مگر مجھے نہیں پتا کہ آپ ان سب کو بیک جنبشِ قلم رد کر دیں گے اور میری محنت اکارت جائے گی - اگر آپ کو میری باتوں میں کچھ منطق نظر آتی ہے تو ہی میں اس سلسلے میں مزید لکھوں گا -
بھائی صاحب ،معذرت!
آپ کی چاروں باتیں درست نہیں ۔
۔ جگر کے شعر کی بحر مجتث مثمن مخبون محذوف ہے یعنی اس کا وزن مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعِلن ہے ۔ اس میں فاعلن کہاں سے آگیا؟آپ اس بحر پر مصرع کو تقطیع کرکے دکھائیے۔

۔ اس شعر میں جگر نے فارسی شعرا خیام اور حافظ کا ذکر کیا ہے ۔ فارسی شاعر خیام کے نام میں ی پر تشدید ہے ۔ خیام بغیر تشدید کے بولا جائے تو خیمے کی جمع کو کہتے ہیں ۔ فارسی شاعر کے نام کو آپ کس طرح بگاڑ سکتے ہیں؟ کیا آپ غالِب کو غالَب باندھ سکتے ہیں؟

۔ کسی کی قسمت میں شفا ہوجا نانہیں شفا پاجانا یا شفا یاب ہو جانا درست اردو ہے جیسا کہ میں نے اپنے مراسلے میں لکھا۔ یہ استعجابیہ مصرع یوں ہونا چاہیے تھا: ان کی قسمت میں تھا کیا جلد شفا پاجانا

۔ فیض کے مصرع پر جو آپ نے لکھا ہے اس پر صرف انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا جاسکتاہے ۔ لاحول پڑھنے کی جرات میں نہیں کرسکتا۔ آپ پورے شعر کی نثر بنا کر دیکھ لیجیے۔ جس شخص کو معمولی اردو بھی آتی ہے وہ بھی اس شعر میں موجود اتنے بڑے اور واضح سقم کو پکڑ سکتا ہے ۔

بڑے بھائی ، اگر آپ اختلاف برائے اختلاف اور بحث برائے بحث کے قائل ہیں تو اور بات ہے۔ لیکن میں نے پہلے بھی ایک جگہ عرض کیا تھا کہ ادبی اور لسانی اختلاف کے موقع پر دلیل اور نظیر سے بات کی جاتی ہے ۔اپنی ذاتی رائے کو دلیل نہیں بنایا جاتا۔ آپ بغیر کسی دلیل اور نظیر کے اپنی بات کہتے ہیں ۔ اگر آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو دلائل اور نظائر سے اپنی بات ثابت کیجیے۔ خوش آمدید!
ورنہ بحث برائے بحث کا کیا فائدہ ۔ وقت ضائع کرنے کے لیے تو نہیں ہوتا۔
۔
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
تفريقِ حسن و عشق کا جھگڑا نہیں رہا
تمئیزِ قرب و بُعد مٹاتی چلی گئی
جگر مراد آبادی۔ نظم "یاد"

ہوا ہے مانع عاشق نوازی ناز خود بینی
تکلف بر طرف آئینۂ تمئیز حائل ہے
مرزا غالب
محمد عبدالرؤوف ، یہ دونوں اشعار بالکل درست ہیں ۔
اصل لفظ تمییز یا تمئیز ہی تھا ( بر وزن فعلان) ۔ اس لفظ کی موجودہ صورت یعنی تمیز (بر وزن فعول)اصل لفظ کی تخفیف ہے ۔ اب یہی املا اور وزن مستعمل ہے ۔ تمئیز یا تمییز رفتہ رفتہ متروک ہورہا ہے ۔ چنانچہ جن شعرا نے اپنے زمانے میں تمییز یا تمئیز باندھا ہے وہ درست باندھا ہے ۔ اسے ضرورتِ شعری کی مثال میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
 
آخری تدوین:
پتہ نہیں یہ درست مثال ہو یا نہ ہو ... مگر غالب کا مشہور شعر ... ریختے کے تمہی استاد ...الخ
مجھے ہمیشہ اسکے دوسرے مصرعے کی تقطیع میں الجھن ہوتی ہے کہ مرزا کہتے کی ہ یا ے کو اتنا دبا گئے کہ بیچاری کا دم ہی نکال دیا ... (یا میں غلط بحر میں تقطیع کرتا آیا ہوں) :)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
پتہ نہیں یہ درست مثال ہو یا نہ ہو ... مگر غالب کا مشہور شعر ... ریختے کے تمہی استاد ...الخ
مجھے ہمیشہ اسکے دوسرے مصرعے کی تقطیع میں الجھن ہوتی ہے کہ مرزا کہتے کی ہ یا ے کو اتنا دبا گئے کہ بیچاری کا دم ہی نکال دیا ... (یا میں غلط بحر میں تقطیع کرتا آیا ہوں) :)
ریختے کے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعِلن

راحل بھائی ، دوسرے مصرع میں کہتے کی "ہ" کو نہیں بلکہ یائے مجہول کو دبایا گیا ہے اور یہ جائز ہے ۔ اسی طرح "اگلے" کی یائے مجہول کو بھی گرایا گیا ہے۔ اس طرح کی مثالیں غالب کی شاعری میں عام ملتی ہیں ۔ اور دیگر اساتذہ نے بھی ایسا کیا ہے ۔ یہ عروضی طور پر جائز ہے ۔ اصول کے مطابق ہے۔
 

ارشد رشید

محفلین
جگر کے شعر کی بحر مجتث مثمن مخبون محذوف ہے یعنی اس کا وزن مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعِلن ہے ۔ اس میں فاعلن کہاں سے آگیا؟آپ اس بحر پر مصرع کو تقطیع کرکے دکھائیے۔
جناب میں نے کب کہا کہ اس بحر میں فاعلن ہے - فاعلن تو تجزیہ کا وزن ہے
اس کا وزن بنا مفاعلن مفولن مفاعلن فعلن - (مجتث مثمن مخبون محذوف) اب تقطیع دیکھیئے
مفاعِلن = یہ چاہتا
مفعولن = ہے تو تج
مفاعِلن = زیہ بہا
فعلن = ر نہ کر

ظہیر صاحب میں غلط ہو سکتا ہوں مگر میں اپنی طرف سے دلیل تو دیتا ہوں پھر آپ نے کیوں لکھا کہ
==بڑے بھائی ، اگر آپ اختلاف برائے اختلاف اور بحث برائے بحث کے قائل ہیں تو اور بات ہے۔ لیکن میں نے پہلے بھی ایک جگہ عرض کیا تھا کہ ادبی اور لسانی اختلاف کے موقع پر دلیل اور نظیر سے بات کی جاتی ہے ۔اپنی ذاتی رائے کو دلیل نہیں بنایا جاتا۔ آپ بغیر کسی دلیل اور نظیر کے اپنی بات کہتے ہیں ۔ اگر آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو دلائل اور نظائر سے اپنی بات ثابت کیجیے۔ خوش آمدید!
ورنہ بحث برائے بحث کا کیا فائدہ ۔ وقت ضائع کرنے کے لیے تو نہیں ہوتا۔==

میں نے جو لکھا ظاہر ہے اس میں میرے دلائل کے ساتھ میری رائے بھی شامل ہوگی آپ بھی تو اپنی رائے ہی لکھتے ہیں اپنے دلائل کے ساتھ -
اور ادبی بحث کیا ہوتی ہے - آپ کی باتوں سے میں اتفاق نہیں کرتا مگر آپ چاہتے انہیں صرف اس لیئے مانا جائے کیونکہ وہ استاد ظہیر نے کہی ہیں تو معاف کیجیئے میں ایسا نہیں کر سکتا -
باقی اب مجھے آپ سے کوئ بحث کرنی ہی نہیں آپ نے مجھ پر صحیح انا للہ پڑھ لیا ہے -

 

الف عین

لائبریرین
ارشد رشید کے شفا ہو جانا والی بات میں کچھ دم ضرور ہے، لیکن باقی اعتراضات میں نہیں۔
جو شعر مثال میں دیا ہے، جگر کی اس غزل کا مطلع ہے
نوید بخشش عصیاں سے شرمسار نہ کر
گناہ گار کو یا رب! گناہ گار نہ کر
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن

فیض کا شعر میں تو کسی اور طریقے سے نہیں پڑھ سکتا۔
 

ارشد رشید

محفلین
ارشد رشید کے شفا ہو جانا والی بات میں کچھ دم ضرور ہے، لیکن باقی اعتراضات میں نہیں۔
جو شعر مثال میں دیا ہے، جگر کی اس غزل کا مطلع ہے
نوید بخشش عصیاں سے شرمسار نہ کر
گناہ گار کو یا رب! گناہ گار نہ کر
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن

فیض کا شعر میں تو کسی اور طریقے سے نہیں پڑھ سکتا۔
جی عبید صاحب - ادبی بحث اسی کا نام ہے - آپ کو میرے ایک اعتراض میں دم لگتا ہے باقیوں میں نہیں تو یہ کوئئ غلط بات نہیں ہے - فیض کا شعر آپ اس طرح نہیں پڑھ سکتے کوئئ بات نہیں - میں پڑھ سکتا ہوں - کم از کم آپ کو ایک دوسرا نقطہ نظر تو پتہ چلا چاہے آپ اتفاق کریں یا نہ کریں - یہی اس بحث کا مقصد ہونا چاہییے -

اسی طرح اسم تو خی یا م ہی ہے اور اسی کا مطلب ہوتا ہے خیمہ بنانے والا - مگر جس طرح شاعری میں آپ طرح کو ط رح بھی باندھ سکتے ہیں اور طرح بھی باندھ سکتے ہیں
لکھنؤ کو لکھ ن او بھی ا ور لکھ نو بھی باندھ سکتے ہیں ایسے ہی میں کہہ رہا ہوں اسے خ یام باندھا ہے کیونکہ اسم ہے - یہ ایک رائے ہے بعض لوگ اسے جائز سمجھتے ہیں بعض نہیں -

دوسری سب سے بڑی بات جسے میں سچ سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ضرورت شعری کوئئ چیز ہی نہیں ہے - شعر یا تو صحیح ہے یا غلط-
اگر کسی استاد شاعر نے کچھ لکھا ہے جو مروجہ قواعد میں نہیں آتا اور اسکی تاویل بھی نہیں کی جا سکتی تو ہمیں یہ مان لینے میں کیا حرج ہے کہ اس بڑے شاعر سے غلطی ہوگئئ -
اس سے اس شاعر کا مقام کوئئ کم نہیں ہوجاتا - صرف یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ بڑا شاعر بھی انسان تھا
ہم کیوںں انکو لازمی طور اسے جائز سمجھ کے یہ اصول نکالیں کہ ایسا کیا جاسکتا ہے - اس سے زبان میں جو خرابئ در آئے گئ اسکی کوئ حد نہیں -

میں واضح طور پر یہ یقین رکھتا ہوں کہ ضرورت شعری کوئ چیز نہیں - استاد شاعر نے بھی کچھ ایسا لکھا ہے جو صحیح نہیں اور اسکی تاویل بھی نہیں بنتی تو اس سے اصول نکالنے کے بجائے اس کو غلطی سمجھ کو آگے بڑ ھ جانا چاہییے -

اور آخر میں پھر یہی کہونگا کی یہ محض ایک اسکول آف تھاٹ ہے - آپ کو پورا حق ہے اس کو ماننے یا مسترد کرنے کا -
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
جناب میں نے کب کہا کہ اس بحر میں فاعلن ہے - فاعلن تو تجزیہ کا وزن ہے
اس کا وزن بنا مفاعلن مفولن مفاعلن فعلن - (مجتث مثمن مخبون محذوف) اب تقطیع دیکھیئے
مفاعِلن = یہ چاہتا
مفعولن = ہے تو تج
مفاعِلن = زیہ بہا
فعلن = ر نہ کر

ظہیر صاحب میں غلط ہو سکتا ہوں مگر میں اپنی طرف سے دلیل تو دیتا ہوں پھر آپ نے کیوں لکھا کہ
==بڑے بھائی ، اگر آپ اختلاف برائے اختلاف اور بحث برائے بحث کے قائل ہیں تو اور بات ہے۔ لیکن میں نے پہلے بھی ایک جگہ عرض کیا تھا کہ ادبی اور لسانی اختلاف کے موقع پر دلیل اور نظیر سے بات کی جاتی ہے ۔اپنی ذاتی رائے کو دلیل نہیں بنایا جاتا۔ آپ بغیر کسی دلیل اور نظیر کے اپنی بات کہتے ہیں ۔ اگر آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو دلائل اور نظائر سے اپنی بات ثابت کیجیے۔ خوش آمدید!
ورنہ بحث برائے بحث کا کیا فائدہ ۔ وقت ضائع کرنے کے لیے تو نہیں ہوتا۔==

میں نے جو لکھا ظاہر ہے اس میں میرے دلائل کے ساتھ میری رائے بھی شامل ہوگی آپ بھی تو اپنی رائے ہی لکھتے ہیں اپنے دلائل کے ساتھ -
اور ادبی بحث کیا ہوتی ہے - آپ کی باتوں سے میں اتفاق نہیں کرتا مگر آپ چاہتے انہیں صرف اس لیئے مانا جائے کیونکہ وہ استاد ظہیر نے کہی ہیں تو معاف کیجیئے میں ایسا نہیں کر سکتا -
باقی اب مجھے آپ سے کوئ بحث کرنی ہی نہیں آپ نے مجھ پر صحیح انا للہ پڑھ لیا ہے -

بھائی ، اب اس وقت لاحول پڑھنے کا جی چاہ رہا ہے ۔ بھائی صاب آپ تو شعر ہی درست نہیں پڑھ رہے تو درست تقطیع کہاں سے کریں گے۔
بہار اپنی جگہ پر سدابہار رہے
یہ چاہتا ہے تو تجزیۂ بہار نہ کر
اس شعر میں تجزیۂ بہار کی اضافی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ اور آپ اس ترکیب کو توڑ کر تجزیہ اور بہار کو الگ الگ پڑھ رہے ہیں ۔ اور تقطیع کررہے ہیں۔

آپ نے خیام والے اعتراض میں کیا دلیل دی ہے؟!

فیض والے مصرع کو آپ نے جس طرح پڑھا ہے اس پر تو سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔ آپ کی بات کا نہ سر ہے نہ پیر۔

شہیدانِ وفا والے شعر پر آپ وہ بات کہہ رہے ہیں جو شعر میں ہے ہی نہیں۔
رشک آتا ہے شہیدانِ وفاپر مجھ کو
ان کی قسمت میں تھا کیا جلد شفاہوجانا
اس شعر کی نثر یوں ہوگی۔ پہلے مصرع میں شاعر کہتا ہےکہ مجھ کو شہیدانِ وفا پر رشک آتا ہے۔ اب دوسرے مصرع میں اس رشک کی وجہ بیان کررہا ہے کہ اُن کی قسمت میں کس قدر جلد شفا یاب ہوناتھا!
یعنی شہیدانِ وفا کے شہید ہوجانے کو شفا پانے سے تعبیر کیا ہے۔ دوسرے مصرع میں "اُن" کی ضمیر شہیدانِ وفا کی طرف اشارہ کر رہی ہے ۔چنانچہ دوسرے مصرع کی نثر یوں بنے گی: شہیدانِ وفا کی قسمت میں کیا(کس قدر) جلد شفا ہوجانا تھا؟ ظاہر ہے کہ یہ غلط ہے ۔ اس فقرے میں " شفا ہوجانا" نہیں بلکہ "شفا پاجانا" کا محل ہے۔

باقی رہی میری بات تو میں نے اپنے مراسلے میں ہر شعر کے نیچے وہ اصول بیان کردیا ہے کہ جس کو مذکورہ شعر میں توڑا گیا ہے۔ اس میں میری ذاتی رائے کہاں سے آگئی؟ ہر چیز مدلل بیان کی ہے۔

اور اب مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ آپ بلاوجہ ہر چیز پر اعتراض کرتے ہیں۔ جب دلائل دے کر آپ سے جواب طلب کیا جاتا ہے تو آپ یہ کہہ کر بھاگ جاتے ہیں کہ اب مجھے مزید کوئی بات نہیں کرنی۔ وغیرہ وغیرہ۔

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ارشد رشید کے شفا ہو جانا والی بات میں کچھ دم ضرور ہے، لیکن باقی اعتراضات میں نہیں۔
جو شعر مثال میں دیا ہے، جگر کی اس غزل کا مطلع ہے
نوید بخشش عصیاں سے شرمسار نہ کر
گناہ گار کو یا رب! گناہ گار نہ کر
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن

فیض کا شعر میں تو کسی اور طریقے سے نہیں پڑھ سکتا۔
محترم اعجاز بھائی ، آپ جگر کے شہیدانِ وفا والے شعر کے بارے میں رشید صاحب کی بات مجھے سمجھا دیجیے۔۔ اس میں کیا دم ہے میری تو سمجھ میں نہیں آیا ۔
الف عین
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اور آخر میں پھر یہی کہونگا کی یہ محض ایک اسکول آف تھاٹ ہے - آپ کو پورا حق ہے اس کو ماننے یا مسترد کرنے کا -
بھائی صاب ، کیا آپ اسکول آف تھاٹ یا مکتبۂ فکر کا مطلب جانتے ہیں ؟!!

کیا دو تین آدمیوں کے ایک رائے رکھنے کو ادبی اصطلاح میں اسکول آف تھاٹ کہا جاتا ہے؟! کیا میں ایک مختلف رائے رکھ کر اپنا اسکول آف تھاٹ یا مکتبۂ فکر بناسکتا ہوں؟!
مکتبۂ فکر تب کہا جائے گا جب شعرا اور ادبا کی ایک کثیر تعداد ایک رائے رکھتی ہو اور اس رائے کے حق میں کچھ دلائل و نظائر موجود ہوں ۔ نیز یہ کہ ان لوگوں میں مستند اور ثقہ ادبا و شعرا کا شامل ہونا ضروری ہے ورنہ وہ مکتبۂ فکر نہیں کہلائے گا۔ کسی رائے سے اختلاف رکھنے کے لیے کسی دلیل یا نظیر کا موجود ہونا ضروری ہے ۔ اگر میں کتاب کو مذکر اور قلم کو مؤنث کہنا شروع کردوں اور یہ کہوں کہ یہ بھی ایک نقطۂ نظر ہے تو کیا اس بات کا احترام کیا جائے گا یا اس کا مذاق اڑایا جائے گا؟ جواب آپ خود ہی سوچ لیجیے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
کچھ روز پہلے ایک دھاگے میں ضرورتِ شعری کے موضوع پر مختصر سی گفتگو ہوئی تھی اور برادرم محمد تابش صدیقی کی جانب سے یہ اہم سوال اٹھایا گیا تھا کہ آخر ضرورتِ شعری کی حدود کیا ہیں؟ کوئی شاعر شعر لکھتے وقت یہ کیسے طے کرے گا کہ کون سا عیب کب اور کس حد تک ضرورتِ شعری کے تحت روا رکھا جا سکتا ہے؟ جواباً محترمی سرور راز صاحب نے عرض کیا تھا کہ ضرورت شعری کی حدود اور اصول کا تعین کبھی نہیں کیا گیا اور شاید ہو بھی نہیں سکتا۔ اساتذہ کے یہاں اس کی سیکڑوں مثالیں ضرور ملتی ہیں لیکن اصول اور حد پرکوئی اظہار خیال نہیں کرتا۔ پھر اسی دھاگے میں سرور عالم راز صاحب اور راقم نے اس مسئلے پرتحقیق شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ سرور صاحب سے اس موضوع پر میری دو بار تفصیلی مشاورت رہی اور یہ طے کیا گیا کہ سب سے پہلے اساتذہ اور مشاہیر کے کلام سے کثیر تعداد میں ایسی مثالیں جمع کی جائیں کہ جن میں ضرورتِ شعری کی اجازت سے کام لیا گیا ہو۔ جب ان مثالوں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع ہوجائے تو پھر ان کی تحقیق اور ان کاتفصیلی تجزیہ کیا جائے۔ اور ممکن ہو تو ان مثالوں کی زمرہ بندی بھی کردی جائے۔ امید یہ ہے کہ ایسا کرنے کے بعد شاید ضرورتِ شعری کی کوئی جامع و مانع تعریف واضح ہو کرسامنے آجائے ۔ اور پھر اس تعریف کی روشنی میں کچھ حدود و قیود بھی متعین کی جاسکیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس مشقت اور عرق ریزی کے بعد بھی یہ دونوں متوقع نتائج برآمد نہ ہوسکیں ۔ لیکن اس ساری کوشش کا کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ مستقبل میں مزید تحقیق و تدقیق کے لیے ایک بنیاد میسر آجائے گی۔
بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم
اس دھاگے کے شروع کرنے کا مقصد اردو محفل پر موجود صاحبانِ علم وہنر اور شعر و ادب کے شائقین و طالبین کی خدمت میں یہ درخواست پیش کرنا ہے کہ اُن کی نظر میں اگر ایسے اشعار ہوں جن میں ضرورتِ شعری سے کام لیا گیا ہے تو براہِ کرم انہیں اس دھاگے میں پوسٹ کردیں تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان اشعار کا ایک بڑا ذخیرہ وجود میں آجائے ۔ تحقیق و تدقیق کے اس کام میں مدد کے لیے میں ان احباب کا پیشگی شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ اللہ کریم ان کے علم و فضل میں برکت اور قلم میں توانائی عطا فرمائے۔ آمین!

مذکورہ بالا اشعار کو پہچاننے اور ڈھونڈنے کے لیے میں "ضرورت ِ شعری"کے بارے میں ایک مختصر سی تعارفی تحریر ذیل میں پیش کررہا ہوں ۔
شکریہ ظہیر صاحب یہ مفید سلسلہ شروع کرنے کے لیے۔ آپ کی محنت قابل صد ستائش ہے۔امید ہےاس سلسلے میں آپ اپنی قابل قدر تحقیق پیش کرتے رہیں گے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
بہار اپنی جگہ پر سدابہار رہے
یہ چاہتا ہے تو تجزیہ بہار نہ کر

تجزیہ بالکل صحیح طور پر فاعِلن کے وزن پر ہے - تج = فا، زِ =ع، یہ = لن
اسی طرح خیام ایک اسم ہے اور دونوں طرح بولا جاتا ہے خی یا م بھی خ یا م بھی - ناموں میں اس طرح کی ردوبدل فطری بات ہے - تو یہاں بھی کوئ غلطی نہیں ہے
==
جب چاہا جو کچھ چاہا سدا مانگ لیا
ہاتھ پھیلا کے دلِ بے زر و دینار سے ہم
اس شعر میں "ہم نے " کے بجائے صرف ہم استعمال کیا گیا ہے جو اردو گرامر کے خلاف ہے۔ فیض کو یہ انحراف ردیف کی وجہ سے کرنا پڑا۔
ایسا آپ کو لگ رہا ہے کہ یہاں "نے" ہونا چاہیئے مگر استاد لوگوں کا کمال ہی یہ ہے کہ وہ ردیف کی مجبوریوں سے بھی کھیل جاتے ہیں - دیکھیں اس شعر کو اس طرح پڑھیں
ہاتھ پھیلا کے، دلِ بے زر و دینار سے ہم
یعنی ہم دلِ بے زرودینار ہیں - مطلب ہم جو کہ کسی دلِ بے زر و دینار جیسے ہیں جب چاہتے ہیں ہاتھ پھیلا کر مانگ لیتے ہیں - تو اب یہ فیض نے پڑھنے والے پہ چھوڑا کہ وہ اس طرح پڑحے یا "سے" کی کمی سے اسے قبول کر لے -
======
رشک آتا ہے شہیدانِ وفاپر مجھ کو
ان کی قسمت میں تھا کیا جلد شفاہوجانا
یہاں بھی آپ دیکھیں یہاں شہیدانِ وفا کا شفا ہونا نہیں کہا گیا بلکہ شہیدانِ وفا کی قسمت کی بات کی گئی ہے اور قسمت میں ہونا تو بالکل صحیح اصطلاح ہے - یعنی شہیدانِ وفا کی قسمت میں جلد شفا ہونا لکھا تھا -
==

میں اور بھی لکھ سکتا ہوں مگر مجھے نہیں پتا کہ آپ ان سب کو بیک جنبشِ قلم رد کر دیں گے اور میری محنت اکارت جائے گی - اگر آپ کو میری باتوں میں کچھ منطق نظر آتی ہے تو ہی میں اس سلسلے میں مزید لکھوں گا -
ارشد صاحب محترم، اس طرح مخاطب کرنے اور آپ کے مراسلے کے اقتباس کے لیے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔

آپ کی ایک ادا کے تو سبھی قتیل ہیں کہ آپ اپنی بات بغیر لگی لپٹی کے کہہ ڈالتے ہیں اور ہمیشہ تصویر کا دوسرا رخ سامنے لاتے ہیں، بہت اچھی بات ہے۔ آپ اپنی رائے کا اظہار کرنے کا بھی پورا حق رکھتے ہیں اور دوسروں سے اختلاف کرنے کا بھی۔ لیکن کیا آپ نے کبھی یہ بھی غور فرمایا کہ آپ جس بھی بحث میں حصہ لیتے ہیں وہ دوسروں کو تلخی کی طرف جاتی ہوئی کیوں نظر آتی ہے۔ حاشا و کلا میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ ایسا کرتے ہیں لیکن ہوتا تو ایسے ہی ہے۔ اردو محفل کا خاموش قاری میں بھی ہوں اور اکثر مراسلے دیکھتا بھی رہتا ہوں، مجھے یہ لگتا ہے کہ آپ اپنی بات دوسروں کی negation سے شروع کرتے ہیں (اس بدیسی لفظ کے استعمال کے لیے معذرت لیکن اظہار مطلب کے لیے موزوں ترین یہی لگا) جس سے معاملہ کسی دوسری چل نکلتا ہے اور "کچھ کچھ" ذاتی ہو جاتا ہے۔ میری رائے سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن خیر رائے تو میں بھی رکھ سکتا ہوں سو اظہار کر دیا۔

میں یہ بھی نہ عرض کرتا لیکن یہ لڑی دیکھ کر کشاں کشاںیہاں چلا آیا لیکن افسوس کہ یہاں ضمنی موضوعات پر زیادہ بات ہو رہی ہے اور اصل موضوع کہیں گم ہوا چاہتا ہے۔

کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت، میں انشاءاللہ آپ کو اس موضوع پر مزید تکلیف نہیں دونگا۔

والسلام
 

محمد وارث

لائبریرین
مرزا غالب کی مشہور غزل ہے

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں

اس غزل کے قوافی، پر، پتھر، ساغر، مکرر، برابر، نوکر وغیرہ ہیں یعنی رے سے پہلے زبر کی حرکت سے اَر قافیہ ہے۔ اسی غزل کا یہ شعر

حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں

اس میں قافیہ کافر ہے۔ کافر عربی لفظ ہے اور فے کی زیر کے ساتھ ہے لیکن مرزا نے یہاں اسے فے کی زبر کے ساتھ قافیہ بنایا ہے۔

اس کی تاویل اللہ جانے ضرورت شعری ہوگی یا سقم یا پھر کوئی کلیہ قانون نہ نکل آئے۔ :)
 

ارشد رشید

محفلین
رشد صاحب محترم، اس طرح مخاطب کرنے اور آپ کے مراسلے کے اقتباس کے لیے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔
جناب وارث صاحب - آپ کی عنایت ہے آپ مجھ سے مخاطب ہیں - آپ کا مشاہدہ غلط نہیں اور اسکی وجہ وہی ہے کہ میں لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرتا ہوں جو اکثر لوگوں کو ناگوار گزرتی ہے - میں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں ہی صحیح کہہ رہا ہوں مجھے اگر کوئ اپنی دلیل سے قائل کردے تو میں مان بھی جاتا ہوں - بس اکثر میں نے دیکھا ہے کہ اپنے تئیں خود کوکچھ سمجھنے والے لوگ میری باتوں اور اس انداز کا برا مانتے ہیں -
میں بحث ایک حد تک ہی کرتا ہوں اور اگر دیکھوں کے سامنے والا ماننے یا سننے کے ہی موڈ میں نہیں ہے تو خاموش ہوجاتا ہوں -

بقول عبیداللہ علیم

میں کھلی ہوئی ایک سچائی مجھے جاننے والے جانتے ہیں
میں نے کن لوگوں سے نفرت کی اور کن لوگوں کو پیار دیا

ویسے میں ڈھیٹ ہر گز نہیں ہوں جب دیکھوں گا کہ میں لوگوں کی برداشت سے باہر ہوگیا تو سلام کر کے علحدہ ہو جاؤں گا :)
 
ویسے میں ڈھیٹ ہر گز نہیں ہوں جب دیکھوں گا کہ میں لوگوں کی برداشت سے باہر ہوگیا تو سلام کر کے علحدہ ہو جاؤں گا :)
یہ غضب نہ کیجیے گا ... دس بارہ لوگوں کے دم سے یہ انجمن چل رہی ہے، وہ بھی الگ ہو جائیں گے تو پیچھے کیا رہ جائے گا؟ :)
 
Top