شکر ہے تحریک انصاف میں موروثیت نہیں ہے

احسن جاوید

محفلین
بھٹو میں کرسما تھا وہ عوامی لیڈر بن گئے۔ آگے سے اس کے بچوں اور پھر بچوں کے بچوں میں ایسا کونسا کرسما تھا جن کو لیڈر مانا جائے یا کہا جائے؟ ان سب کو وراثت میں ملی ہوئی سیاست دانی تو کہہ سکتے ہیں لیکن لیڈری نہیں۔ لیڈر اس سے بہت اوپر کی چیز ہے۔
لیڈر کہلائے جانے کی بنیاد کرسما نہیں بلکہ سوشل ایکسپٹینس ہے اب وہ چاہے کسی بھی پیرامیٹر سے آئے۔ لیڈرشپ چاہے اوپر کی چیز ہو یا بہت اوپر کی لیکن اگر آپ کو کوئی مانتا نہیں تو وہ لیڈرشپ آپ قبر میں لے جا کر کیا کریں گے؟ بنیادی جزو معاشرتی قبولیت ہے چاہے وہ وارثت سے آئے یا سو کالڈ کرسما سے یا پارٹی کی بنیاد سے۔
 

جاسم محمد

محفلین
بنیادی جزو معاشرتی قبولیت ہے چاہے وہ وارثت سے آئے یا سو کالڈ کرسما سے یا پارٹی کی بنیاد سے۔
اگر لیڈرشپ وراثت سے آ سکتی تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی اپنا پورا خاندان سیاست میں گھسیڑ دیتے۔ سیاست ملکی و قومی فلاح کیلئے کام کا نام ہے، اپنی نسلوں کا مستقبل سنوارنے کا نہیں۔ آپ جس کو وراثتی لیڈری کہہ رہے ہیں وہ درحقیقت خاندانی کاروبار ہے۔ اسی لئے تو ان جماعتوں میں ٹاپ لیڈرشپ خاندان سے باہر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
 

ثمین زارا

محفلین
ایسا ممکن ہو یا نہ ہو یہ معنی نہیں رکھتا۔ جو معنی رکھتا ہے وہ یہ کہ عوام کسے لیڈر مانتی ہے۔ کسی بھی ملک کے پولیٹیکل کلچر یا معاشرتی سٹرکچر کو آپ آسانی سے یا بائے فورس ایک ہی دن میں نہیں بدل سکتے اور نہ ہی آپ یہ کہہ سکتے ہیں موروثی سیاست والا سٹرکچر بے کار ہے اور غیر موروثی سٹرکچر زیادہ بہتر ہے۔ سوشل ایکسپٹینس بنیادی جزو ہے نہ کہ موروثی یا غیر موروثی سیاست۔ یوں تو انبیاء کی اکثریت بھی ایک لڑی میں سے ہے۔ کیا خدا پہ بھی دعویٰ دائر کریں گے؟
پاکستان کی بربادی میں موروثی سیاست کارفرما ہے اور اس پر کوئی دو رائے نہیں ۔ پتہ نہیں آپ کو ابھی تک کیوں شک ہے ۔ اور دین کو سیاست میں مدغم کرنا کیا ٹھیک ہے؟ کیا "جمہوریت" خدا کا دیا ہوا نظام ہے؟
 

احسن جاوید

محفلین
اگر لیڈرشپ وراثت سے آ سکتی تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی اپنا پورا خاندان سیاست میں گھسیڑ دیتے۔ سیاست ملکی و قومی فلاح کیلئے کام کا نام ہے، اپنی نسلوں کا مستقبل سنوارنے کا نہیں۔ آپ جس کو وراثتی لیڈری کہہ رہے ہیں وہ درحقیقت خاندانی کاروبار ہے۔ اسی لئے تو ان جماعتوں میں ٹاپ لیڈرشپ خاندان سے باہر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
تو گھسیڑ دیتے کسی نے کب منع کیا تھا۔ کسی فرد کا کیا گیا کوئی بھی کام دلیل نہیں ہوتا۔ آپ یورپئین کنٹکسکٹ میں ایشیئن معاشروں کو تبدیل کرنے کے چاہے جتنے مرضی خواہاں رہیں لیکن ہو گا وہی جو معاشرہ چاہے گا۔ اگر قائد کا خاندان ہوتا سیاست میں تو شاید ملکی لیول پہ اتنی انسٹیبیلیٹی نہ آتی جتنی ان کے جانے کے فوراً بعد آئی۔ آپ جو مرضی کہہ لیں کہ یہ خاندانی کاروبار ہے وغیرہ وغیرہ لیکن کوئی بھی نظام کامل نہیں ہوتا۔ غیر موروثی سیاست کامل نظام ہے؟ اس کے اپنے ڈرا بیکس ہیں، اس کے اپنے۔ اس لیے یہ ہضم کیجیے چاہے مجبوراً ہی سہی کہ لیڈر وہی ہے جسے معاشرہ قبول کرے وہ چاہے موروثی سیاست سے آئے یا غیر موروثی سیاست سے۔ نہ ہی یورپئن طرزِ سیاست سٹینڈرڈ ہے اور نہ ہی لیڈر صرف وہ ہے جو اُس سسٹم کی طے کردہ ڈیفینیشن پہ پورا اترے۔ معاشرے کی ڈائنامکس طے کرتی ہیں کہ کس وقت کس معاشرے میں کون سا طرزِ سیاست بہتر ہے۔
پہلے آپ ملک میں سٹیبیلیٹی تو اچیو کریں پھر موروثی اور غیر موروثی سیاست پہ سیر حاصل گفتگو کریں۔ جب تک سٹیبیلیٹی نہیں آئے گی آپ لاکھ غیرموروثی سیاست کو دوش دیتے رہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ موجودہ انسٹیبیلیٹی میں موروثی سیاست غیر موروثی سیاست سے کہیں بہتر ہے۔
 
آخری تدوین:

احسن جاوید

محفلین
پاکستان کی بربادی میں موروثی سیاست کارفرما ہے اور اس پر کوئی دو رائے نہیں ۔ پتہ نہیں آپ کو ابھی تک کیوں شک ہے ۔ اور دین کو سیاست میں مدغم کرنا کیا ٹھیک ہے؟ کیا "جمہوریت" خدا کا دیا ہوا نظام ہے؟
بالکل بھی نہیں۔ اس کے برعکس موروثی سیاست تھی تو سسٹم کچھ نہ کچھ چلتا رہا ہے۔ جمہوریت کبھی کبھار چاہے گھٹیا ہی سہی چکر لگاتی رہی ہے۔ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں کتنے وزیراعظم بدلے، کیا وہ سارے موروثی تھے؟ پاکستان کی تںاہی میں کچھ اور فیکٹرز کار فرما ہیں اگر بغور مشاہدہ کر لیں۔
میں نے کہیں بھی سیاست میں مذہب کو نہیں گھسیڑا اور نہ ہی میں اس کا قائل ہوں۔ میں نے صرف موروثیت کی مثال دی یے کہ اگر موروثی نظام اتنا ہی گھٹیا ہوتا تو نبی جو کہ خود وقت کا لیڈر ہوتا تھا اسی موروثی سلسلے سے نہ چنا جاتا۔
خدا نے کوئی بھی نظام حکومت کسی بھی معاشرے پہ امپوز نہیں کیا۔ یہ معاشرے نے خود طے کرنا ہے لیکن آپ بضد ہیں کہ نہیں پاکستانی معاشرے کا نظام بھی یورپی کے رہنے والے طے کریں۔ یورپ سٹینڈرڈ نہیں ہے اس لیے وہاں کی آنکھ سے اس ملک کو دیکھنا خود کو دھوکے میں ڈالنے والی بات ہے۔
 

احسن جاوید

محفلین
دعا ہے کہ یہ آپ کی بھی آرزو بن جائے ۔
میں نے کہیں بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میرے ملک کی خوشحالی میری آرزو نہیں ہے۔ خوشحالی کو عمران خان سے جوڑنا بالکل ایسا عمل ہے جیسے تقسیم ہندوستان کے وقت اسلام کو مسلم لیگ سے جوڑا گیا تھا۔
 

ثمین زارا

محفلین
میں نے کہیں بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میرے ملک کی خوشحالی میری آرزو نہیں ہے۔ خوشحالی کو عمران خان سے جوڑنا بالکل ایسا عمل ہے جیسے تقسیم ہندوستان کے وقت اسلام کو مسلم لیگ سے جوڑا گیا تھا۔
کہاں کی بات کہاں سے جوڑ دی ۔ اور خوشحالی کی توقع بلاول، مریم اور فضل الرحمان سے رکھیں؟ ان کے والدین نے ملک کے 35-40 سال ضائع کیے ۔ جو ہے اسی سے توقع ہو گی ۔ عمران خان بھی مسلم لیگ کی طرح کامیاب ہو گا ۔ انشااللہ۔ اسلام کو کامیابی کے لیے نہ کسی شخص یا جماعت کی ضرورت کبھی تھی نہ ہو گی ۔
 

ثمین زارا

محفلین
بالکل بھی نہیں۔ اس کے برعکس موروثی سیاست تھی تو سسٹم کچھ نہ کچھ چلتا رہا ہے۔ جمہوریت کبھی کبھار چاہے گھٹیا ہی سہی چکر لگاتی رہی ہے۔ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں کتنے وزیراعظم بدلے، کیا وہ سارے موروثی تھے؟ پاکستان کی تںاہی میں کچھ اور فیکٹرز کار فرما ہیں اگر بغور مشاہدہ کر لیں۔
میں نے کہیں بھی سیاست میں مذہب کو نہیں گھسیڑا اور نہ ہی میں اس کا قائل ہوں۔ میں نے صرف موروثیت کی مثال دی یے کہ اگر موروثی نظام اتنا ہی گھٹیا ہوتا تو نبی جو کہ خود وقت کا لیڈر ہوتا تھا اسی موروثی سلسلے سے نہ چنا جاتا۔
خدا نے کوئی بھی نظام حکومت کسی بھی معاشرے پہ امپوز نہیں کیا۔ یہ معاشرے نے خود طے کرنا ہے لیکن آپ بضد ہیں کہ نہیں پاکستانی معاشرے کا نظام بھی یورپی کے رہنے والے طے کریں۔ یورپ سٹینڈرڈ نہیں ہے اس لیے وہاں کی آنکھ سے اس ملک کو دیکھنا خود کو دھوکے میں ڈالنے والی بات ہے۔
خدا کے نظام میں موروثیت زیادہ تر کئی کئی نسلوں کے بعد میرٹ پر لاگو ہوئی ۔ کیا پیارے نبیً کے والد محترم بھی نبی تھے؟ یا دادا یا چچا؟؟
ہمارے یہاں تو بغیر میرٹ نہ ناقص العقل، صلاحیت سے محروم اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار اولادیں، چچا، کزنز، سمدھی اور نا جانے کون کون سے نتھو خیرے اقتدار میں رہے اور آگے بھی تیار ہیں ۔ جب ان کے بچے بھی کبھی پیدا ہوں گے تو قوم پر مسلط کر دیے جائیں گے ۔ خدارا الہامی باتوں کا اس بدمعاشی کے نظام سے کسی طور نہ موازنہ نہ کیجئے ۔
 

ثمین زارا

محفلین
تو گھسیڑ دیتے کسی نے کب منع کیا تھا۔ کسی فرد کا کیا گیا کوئی بھی کام دلیل نہیں ہوتا۔ آپ یورپئین کنٹکسکٹ میں ایشیئن معاشروں کو تبدیل کرنے کے چاہے جتنے مرضی خواہاں رہیں لیکن ہو گا وہی جو معاشرہ چاہے گا۔ اگر قائد کا خاندان ہوتا سیاست میں تو شاید ملکی لیول پہ اتنی انسٹیبیلیٹی نہ آتی جتنی ان کے جانے کے فوراً بعد آئی۔ آپ جو مرضی کہہ لیں کہ یہ خاندانی کاروبار ہے وغیرہ وغیرہ لیکن کوئی بھی نظام کامل نہیں ہوتا۔ غیر موروثی سیاست کامل نظام ہے؟ اس کے اپنے ڈرا بیکس ہیں، اس کے اپنے۔ اس لیے یہ ہضم کیجیے چاہے مجبوراً ہی سہی کہ لیڈر وہی ہے جسے معاشرہ قبول کرے وہ چاہے موروثی سیاست سے آئے یا غیر موروثی سیاست سے۔ نہ ہی یورپئن طرزِ سیاست سٹینڈرڈ ہے اور نہ ہی لیڈر صرف وہ ہے جو اُس سسٹم کی طے کردہ ڈیفینیشن پہ پورا اترے۔ معاشرے کی ڈائنامکس طے کرتی ہیں کہ کس وقت کس معاشرے میں کون سا طرزِ سیاست بہتر ہے۔ا
پہلے آپ ملک میں سٹیبیلیٹی تو اچیو کریں پھر موروثی اور غیر موروثی سیاست پہ سیر حاصل گفتگو کریں۔ جب تک سٹیبیلیٹی نہیں آئے گی آپ لاکھ غیرموروثی سیاست کو دوش دیتے رہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ موجودہ انسٹیبیلیٹی میں موروثی سیاست غیر موروثی سیاست سے کہیں بہتر ہے۔
کیسی عجیب عجیب منطق کیسے سوچ لیتے ہیں ۔ اتنا تو موروثیت کے حامی بھی دلائل نہیں دیتے ۔
 

جاسم محمد

محفلین
آپ یورپئین کنٹکسکٹ میں ایشیئن معاشروں کو تبدیل کرنے کے چاہے جتنے مرضی خواہاں رہیں لیکن ہو گا وہی جو معاشرہ چاہے گا۔
نہ ہی یورپئن طرزِ سیاست سٹینڈرڈ ہے اور نہ ہی لیڈر صرف وہ ہے جو اُس سسٹم کی طے کردہ ڈیفینیشن پہ پورا اترے۔ معاشرے کی ڈائنامکس طے کرتی ہیں کہ کس وقت کس معاشرے
موجودہ انسٹیبیلیٹی میں موروثی سیاست غیر موروثی سیاست سے کہیں بہتر ہے۔
آپ تو انتہائی سخت کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کیا چند حکمران خاندانوں کے میوزیکل چیئر کھیلنے سے استحکام آجائے گا؟ ۹۰ کی دہائی میں نواز شریف بینظیر کو چور کہتا اور بینظیر نواز شریف کو کرپٹ کہتی۔ پھر جو الیکشن جیت جاتا مولانا اس کا۔ اگر یہ استحکام ہے تو ہمیں نہیں چاہئے۔ ایسے جعلی جمہوری نظام سے آمریت لاکھ درجہ بہتر ہے۔
7-D1-CA0-FB-5-A43-481-A-8-B07-5-E232-E35-A7-BC.jpg
 

جاسم محمد

محفلین
بالکل بھی نہیں۔ اس کے برعکس موروثی سیاست تھی تو سسٹم کچھ نہ کچھ چلتا رہا ہے۔ جمہوریت کبھی کبھار چاہے گھٹیا ہی سہی چکر لگاتی رہی ہے۔
یہ کونسے جمہوری دور کی بات ہو رہی ہے؟ جب نواز شریف حکمران خاندان نے لندن میں فلیٹ خریدے اور زرداری حکمران خاندان نے سرے میں محل بنائے؟
 

جاسم محمد

محفلین
خدا نے کوئی بھی نظام حکومت کسی بھی معاشرے پہ امپوز نہیں کیا۔ یہ معاشرے نے خود طے کرنا ہے لیکن آپ بضد ہیں کہ نہیں پاکستانی معاشرے کا نظام بھی یورپی کے رہنے والے طے کریں۔ یورپ سٹینڈرڈ نہیں ہے اس لیے وہاں کی آنکھ سے اس ملک کو دیکھنا خود کو دھوکے میں ڈالنے والی بات ہے۔
اگر یورپی نظام سے اتنی کوفت ہے تو یہ سارا وقت ملک میں آئینی و پارلیمانی بالا دستی کا شور کیوں پڑا رہتا ہے؟ پاکستان کے کرتا دھرتاؤں نے اب تک تین آئین بنا کر قوم کو پیش کئے ہیں۔ ۱۹۵۶ کا آئین دو سال بعد مارشل لا لگا کر ختم کر دیا گیا۔ ۱۹۶۲ کا آئین ۱۹۷۰ میں انتخابات سے قبل صدارتی آرڈر کے تحت ختم کر دیا گیا۔ جبکہ ۱۹۷۳ کا آئین دو بار یعنی ۱۹۷۷ اور ۱۹۹۹ میں معطل کیا گیا۔ یہ سب تماشے کونسے یورپی جمہوری ملک میں ہوتے ہیں؟ جب کسی ایک متفقہ آئین پر ملک کے تمام اداروں اور محکموں نے چلنا نہیں تو اسے بنایا کیوں؟ اگر اقتدار کا سر چشمہ عوام یعنی پارلیمان نہیں تو پھر اسے بند کیوں نہیں کر دیتے تاکہ ٹیکس پیئر کا پیسا بچے؟ اگر ملک میں اقتدار کا اصل مرکز آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی ہے تو ان کی آئینی حیثیت ملک کے آئین میں درج کیوں نہیں؟ ملک میں ہر مارشل لا اور آئین کی معزولی کے بعد اسے عدلیہ کی جانب سے نظریہ ضرورت کے تحت این آر او کیسے مل جاتا ہے؟ آپ پہلے ان سوالات کا جوابات تلاش کریں تو باقیوں کا جواب بھی مل جائے گا کہ پاکستان میں موروثی سیاست کیوں نہیں ہو سکتی۔
 

احسن جاوید

محفلین
کہاں کی بات کہاں سے جوڑ دی ۔ اور خوشحالی کی توقع بلاول، مریم اور فضل الرحمان سے رکھیں؟ ان کے والدین نے ملک کے 35-40 سال ضائع کیے ۔ جو ہے اسی سے توقع ہو گی ۔ عمران خان بھی مسلم لیگ کی طرح کامیاب ہو گا ۔ انشااللہ۔ اسلام کو کامیابی کے لیے نہ کسی شخص یا جماعت کی ضرورت کبھی تھی نہ ہو گی ۔
تقسیم پاکستان کے وقت مسلم لیگ اور اسلام دونوں کو اس قدر جوڑا گیا کہ جو مسلم لیگ کی مخالفت کرتا تھا اسے اسلام کی مخالفت سمجھی جاتی تھی۔ اسی طرح عمران خان کی مخالفت کرنے یا اس پہ تنقید کرنے کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی ملک کی خوشحالی کا خواہاں نہیں ہے یا صرف خوشحالی کا خوہاں وہی ہے جو عمران خان کا حامی ہے۔
تیس پینتیس سال؟ :ROFLMAO:
 

احسن جاوید

محفلین
خدا کے نظام میں موروثیت زیادہ تر کئی کئی نسلوں کے بعد میرٹ پر لاگو ہوئی ۔ کیا پیارے نبیً کے والد محترم بھی نبی تھے؟ یا دادا یا چچا؟؟
ہمارے یہاں تو بغیر میرٹ نہ ناقص العقل، صلاحیت سے محروم اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار اولادیں، چچا، کزنز، سمدھی اور نا جانے کون کون سے نتھو خیرے اقتدار میں رہے اور آگے بھی تیار ہیں ۔ جب ان کے بچے بھی کبھی پیدا ہوں گے تو قوم پر مسلط کر دیے جائیں گے ۔ خدارا الہامی باتوں کا اس بدمعاشی کے نظام سے کسی طور نہ موازنہ نہ کیجئے ۔
آپ جو مرضی کہہ لیں لیڈر وہی ہو گا جسے قوم چاہے گی، اب وہ موروثی ہو یا غیر موروثی، پارٹی سے آئے یا خاندان سے۔
کئی کئی نسلوں کے بعد؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی لڑی اٹھا کر دیکھ لیں۔
 

احسن جاوید

محفلین
کیسی عجیب عجیب منطق کیسے سوچ لیتے ہیں ۔ اتنا تو موروثیت کے حامی بھی دلائل نہیں دیتے ۔
منطق نہیں ہے یہی ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے۔ اگر معاشرہ موروثیت کا حامی ہو تو اس کے حساب سے چلے گا اور اگر پارٹی کی بنیاد پہ لیڈر شپ چننے کا حامی ہو تو اسی حساب سے چلے گا۔ اب معاشرے کی نارمز کچھ اور ہیں، آپ کچھ اور چاہتے ہیں۔
 

احسن جاوید

محفلین
آپ تو انتہائی سخت کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کیا چند حکمران خاندانوں کے میوزیکل چیئر کھیلنے سے استحکام آجائے گا؟ ۹۰ کی دہائی میں نواز شریف بینظیر کو چور کہتا اور بینظیر نواز شریف کو کرپٹ کہتی۔ پھر جو الیکشن جیت جاتا مولانا اس کا۔ اگر یہ استحکام ہے تو ہمیں نہیں چاہئے۔ ایسے جعلی جمہوری نظام سے آمریت لاکھ درجہ بہتر ہے۔
7-D1-CA0-FB-5-A43-481-A-8-B07-5-E232-E35-A7-BC.jpg
نظام کی بنیاد ہمیشہ کمزور ہوتی ہے۔ یہ کہہ کر کہ نظام کمزور ہے اس کی جڑیں کاٹ دی جائیں تو پھر تو نظام کبھی آئے گا نہیں۔ مضبوط نظام کے لیے تسلسل اور وقت چاہیے اور وہی اسی گھٹیا نظام سے نکلے گا۔ وقت کے ساتھ ساتھ بہتری آئے گی اگر انٹرفیئرنس بند ہو جائے۔ آپ اپنی ضد پہ اڑے رہیے میرا کیا جاتا ہے۔
 
Top