فانی شوکت علی خاں فانی بدایونی :::: لب منزلِ فُغاں ہے، نہ پہلوُ مکانِ داغ ::::: Fani Badayuni

طارق شاہ

محفلین

غزلِ

لب منزلِ فُغاں ہے، نہ پہلوُ مکانِ داغ
دِل ره گیا ہے نام کو باقی نشانِ داغ

اے عِشق! خاکِ دِل پہ ذرا مشقِ فِتنہ کر

پیدا کر اِس زمِیں سے کوئی آسمانِ داغ

دِل کُچھ نہ تها تمھاری نظر نے بنا دِیا
دُنیائے درد، عالَمِ حسرت، جہانِ داغ

پہلے اجَل کو رُخصتِ تلقینِ صبْر دے
پهر آخری نِگاہ سے سُن داستانِ داغ

وه تیری بزم تهی نہ مِلی جس میں چُپ کی داد
یہ حشْر ہے، یہاں تو کُهلے گی زبانِ داغ

ہم ساده دِل ہیں خوش کہ ہُوئی نذرِ دِل قبُول
اُس بَد گُماں کو مدِّ نظر اِمتحانِ داغ

سارا مَلال پیار کی نظروں سے مِٹ گیا
اِن رہزنوں نے لوُٹ لِیا کاروانِ داغ

فانی! زمینِ گورِغرِیباں ہے لالہ زار
پھر فصلِ گُل میں خاک ہُوئی ترجمانِ داغ

شوکت علی خاں فانی بدایونی
 
ہم ساده دِل ہیں خوش کہ ہُوئی نذرِ دِل قبُول
اُس بَد گُماں کو مدِّ نظر اِمتحانِ داغ

طارق شاہ صاحب ! میرے ناقص علم کے مطابق " بدگماں کے مد نظر" ہونا چاہئے ۔ اگر یہ ٹائپو نہیں ہے تو اس بارے میں کوئی حوالہ دے کر میری اصلاح فرمائیں۔ ممنون رہوں گا ۔
یہ غزل شاملِ بزم کرنے کے لئے بہت شکریہ ۔ آپ کا انتخاب ہمیشہ عمدہ ہوتا ہے۔
 

طارق شاہ

محفلین
فانی صاحب کا مصرع ، اُس بَد گُماں کو مدِّ نظر اِمتحانِ داغ
یہاں صحیح منقول ہے، شکریہ اِستِفسار پر :) ۔ ٹائپو نہیں تو کوئی حوالہ
پر یہ کہ
مدِّ نظر کے معنیٰ ہیں: نگاہ کے پیش ، یا کوئی چیز"نگاہ کے سامنے"
یعنی مدِّ نظر میں " کے" شامل ہے ، " کے" کے ساتھ پھر " کے" کا استعمال درست نہیں
شیخ ابراہیم ذوق کا مشہور شعر اِس ضِمْن میں :

کیا مدِّ نظر تم کو ہے، یاروں سے تو کہئے
گرمُنْہ سے نہیں کہتے اِشاروں سے تو کہئے

ذوق
۔۔۔
:):)
 
بہت شکریہ جناب طارق شاہ صاحب ۔ ایک اشکال دور ہوگیا ۔
یہ اشکال دراصل پیدا ہی اس لئے ہوا تھا کہ پیشِ نظر اور پیش ِنگاہ کے ساتھ "کو" کے بجائے "کے" ہی مستعمل ہے۔ مثلاً۔ اس تحریک میں ان کے پیشِ نظر یہ اغراض ومقاصد تھے ۔۔۔ وغیرہ ۔ اگرچہ پیشِ نظر میں بھی "کے" پوشیدہ ہے لیکن پھر بھی اس کے ساتھ "کے" ہی استعمال ہوتا ہے ۔ کو استعمال نہیں ہوتا ۔ سو آخری بات یہی ہے کہ الفاظ اپنے استعمال میں کسی منطقی دلیل کے بجائے رواج اور چلن یعنی نظیر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ :):):)
جواب دینے اور میرا شبہ دور کرنے کا بہت شکریہ ۔
 
آخری تدوین:
Top