شوکت علی خان فانی بدایونی

  1. طارق شاہ

    فانی ::::: آپ سے شرحِ آرزُو تو کریں ::::::Fani Badayuni

    غزل آپ سے شرح ِآرزُو تو کریں آپ تکلیف ِگفتگو تو کریں وہ نہیں ہیں جو، وہ کہیں بھی نہیں آئیے دِل میں جُستجُو تو کریں اہلِ دُنیا مجھے سمجھ لیں گے دِل کسی دِن ذرا لہُو تو کریں رنگ و بُو کیا ہے ،یہ تو سمجھا دو سیرِدُنیائے رنگ و بُو تو کریں وہ اُدھر رُخ اِدھر ہے میّت کا لوگ فانؔی کو قِبلہ رُو تو...
  2. طارق شاہ

    فانی فانی شوکت علی خاں فانؔی بدایونی ::::: وہ جی گیا جو عِشق میں جی سے گُزر گیا :::::: Fani Badayuni

    غزل وہ جی گیا جو عِشق میں جی سے گُزر گیا عیسیٰ کو ہو نَوِید کہ بیمار مر گیا آزاد کُچھ ہُوئے ہیں اَسِیرانِ زندگی یعنی جمالِ یار کا صدقہ اُتر گیا دُنیا میں حالِ آمد و رفتِ بَشر نہ پُوچھ بے اختیار آ کے رہا ، بے خبر گیا شاید کہ شام ِہجر کے مارے بھی جی اُٹھیں صُبحِ بہار ِحشر کا چہرہ اُتر گیا آیا...
  3. طارق شاہ

    فانی شوکت علی خاں فانی بدایونی :::: ہر گھڑی اِنقلاب میں گُزری ::::: Fani Badayuni

    غزل ہر گھڑی اِنقلاب میں گُزری زندگی کِس عذاب میں گُزری شوق تھا مانَعِ تجلّیِ دوست ! اُن کی شوخی حِجاب میں گُزری کَرَمِ بے حِساب چاہا تھا سِتَمِ بے حِساب میں گُزری ورنہ دُشوار تھا سُکونِ حیات خیر سے اِضطراب میں گُزری رازِ ہستی کی جُستجُو میں رہے رات تعبیرِخواب میں گُزری کُچھ کٹی ہمّتِ...
  4. فرخ منظور

    فانی جانتا ہوں کہ مرا دل مرے پہلو میں نہیں ۔ فانی بدایونی

    جانتا ہوں کہ مرا دل مرے پہلو میں نہیں پھر کہاں ہے جو ترے حلقۂ گیسو میں نہیں ایک تم ہو تمہارے ہیں پرائے دل بھی ایک میں ہوں کہ مرا دل مرے قابو میں نہیں دور صیّاد، چمن پاس، قفس سے باہر ہائے وہ طاقتِ پرواز کہ بازو میں نہیں دیکھتے ہیں تمہیں جاتے ہوئے اور جیتے ہیں تم بھی قابو میں نہیں، موت بھی...
  5. طارق شاہ

    فانی شوکت علی خاں فانی بدایونی :::: لب منزلِ فُغاں ہے، نہ پہلوُ مکانِ داغ ::::: Fani Badayuni

    غزلِ لب منزلِ فُغاں ہے، نہ پہلوُ مکانِ داغ دِل ره گیا ہے نام کو باقی نشانِ داغ اے عِشق! خاکِ دِل پہ ذرا مشقِ فِتنہ کر پیدا کر اِس زمِیں سے کوئی آسمانِ داغ دِل کُچھ نہ تها تمھاری نظر نے بنا دِیا دُنیائے درد، عالَمِ حسرت، جہانِ داغ پہلے اجَل کو رُخصتِ تلقینِ صبْر دے پهر آخری نِگاہ سے...
  6. طارق شاہ

    فانی شوکت علی خاں فانی بدایونی :::: ہوش ہستی سے تو بیگانہ بنایا ہوتا ::::: Fani Badayuni

    غزلِ فانی بدایونی ہوش ہستی سے تو بیگانہ بنایا ہوتا کاش تُو نے مجھے دِیوانہ بنایا ہوتا دِل میں اِک شمْع سی جلتی نظر آتی ہے مجھے آ کے اِس شمْع کو پروانہ بنایا ہوتا تیرے سجدوں میں نہیں شانِ محبّت زاہد سر کو خاکِ دَرِ جانانہ بنایا ہوتا دِل تِری یاد میں آباد ہے اب تک، ورنہ غم نے کب کا...
  7. طارق شاہ

    فانی :::: بیداد کے خُوگر تھے، فریاد تو کیا کرتے -- Fani Badayuni

    فانی بدایونی بیداد کے خُوگر تھے، فریاد تو کیا کرتے ! کرتے، تو ہم اپنا ہی، کچھ تم سے گلہ کرتے تقدیرِ محبّت تھی، مر مر کے جئے جانا جینا ہی مُقدّر تھا، ہم مر کے بھی کیا کرتے مُہلت نہ مِلی غم سے، اتنی بھی کہ حال اپنا ! ہم آپ کہا کرتے، ہم آپ سُنا کرتے نادم اُسے چاہا تھا ، جاں اُس پہ فِدا...
Top