سولھویں سالگرہ سولہویں سالگرہ یا سولھویں سالگرہ

دوسرا کام ہے معیاری اردو اسپیلنگ چیکر اور ویبگاہوں پر اس کا استعمال۔ اگر کوئی صاحب اس پر کام کرنا چاہیں تو مجھے یقین ہے کہ بہت سارے لوگ مالی وسائل مہیا کرنے کے لئے بخوشی تیار ہوں گے۔
الفاظ کی فہرست مستند املا کے ساتھ تیار کرنا مشکل کام ہے۔ پروگریمنگ تو ہو ہی جاتی ہے۔
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
وعلیکم السلام۔املا مذکر ہے

درستگی کی بھی درستی کی جائے
سند کے طور پر اوپر منتظم عالی کا مراسلہ دیکھا جائے۔:)

یاسر بھائی ، میں بھی املا کو مذکر استعمال کرتا ہوں ۔ اردو دانوں کی واضح اکثریت تذکیر کے حق میں ہے ۔ لیکن املا ان الفاظ میں سے ایک ہے جن کی تجنیس تاریخی طور پر مختلف فیہ رہی ہے ۔ لکھنؤ میں ایک طبقہ مؤنث بھی استعمال کرتا تھا اور بعض شعرا نے اسے مؤنث باندھا ہے ۔ صاحبِ نوراللغات نے لکھا ہے کہ تذکیر کو ترجیح ہے ۔ میری رائے میں اسے مذکر ہی لکھتے رہنا چاہئے تاکہ ایک معیار مقرر ہوسکے ۔
 

زیک

مسافر
زبان جیسی بن گئی سو بن گئی ۔ اس میں چوں چرا کی گنجائش نہیں ۔ اس کی تہ میں کارفرما وجوہات کو ڈھونڈنا اچھی بات ہے لیکن اگر وہ معلوم نہ ہوسکیں تو اس پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں ۔
اعتراض نہیں بنتا لیکن انگریزی کو نکال دیں تو دیگر زبانوں میں سرکاری سطح پر املا و دیگر ریفارمز ہوتے رہے ہیں۔ جرمن زبان کے لئے چوتھائی صدی پہلے جرمنی، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ نے مل کر تبدیلیاں کی تھیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چند سال بعد چند غیر مقبول تبدیلیاں واپس لے لی گئیں۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
یہ کافی اہم ہے لیکن ہ اور ھ کے معاملے میں شاید اردو لغات بھی متفق نہیں ہیں۔
لغت کا کام تو لفظ کے تلفظ اور معانی کو محفوظ رکھنا ہے ۔ اس کا کام املا کی درستی نہیں ۔ جو لفظ جیسے جیسے لکھا جاتا رہا ہے وہ لغت میں ویسے ہی درج ہوگا تاکہ لغت استعمال کرنے والا اسے ڈھونڈ سکے ۔ اردو کی مشہور لغات تو املا کمیٹی کی سفارشات سے بہت ہی پہلے لکھی گئی ہیں ۔ آصفیہ ، نوراللغات ، فیروزاللغات ، عامرہ ، امیر اللغات وغیرہ کم از کم سو سوا سو سال پرانی ہیں ۔ مقتدرہ والوں نے جو لغت بنائی ہے اس میں تاریخی تسلسل کو قائم رکھنے کی غرض سے لفظ کے تمام املا جات اور معانی کو شامل کردیا ہے ۔ یعنی اس میں مندرجہ بالا تمام لغات سے استفادہ کیا گیا ہے ۔ اب ہونا تو یہ چاہیئے کہ املا کمیٹی کے تحقیقی کام کے بعد ان سفارشات کی روشنی میں ایک نئی اور معیاری لغت تالیف کی جائے جس میں املا کی تصحیح پر زور ہو ۔ لیکن یہ کام کرے گا کون؟! پاکستان میں تو ہر ادارے میں سیاست کی لعنت اس بری طرح چھا گئی ہے کہ لسانیات کے ادارے بھی اس سے محفوظ نہیں ۔
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اعتراض نہیں بنتا لیکن انگریزی کو نکال دیں تو دیگر زبانوں میں سرکاری سطح پر املا و دیگر ریفارمز ہوتے رہے ہیں۔ جرمن زبان کے لئے چوتھائی صدی پہلے جرمنی، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ نے مل کر تبدیلیاں کی تھیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چند سال بعد چند غیر مقبول تبدیلیاں واپس لے لی گئیں۔
اتفاق سے اس کا جواب اوپر والے مراسلے میں آگیا ہے ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین

یاسر شاہ

محفلین
شاہ صاحب بہت عمدہ مضمون ۔۔۔۔۔انتہائی معلوماتی تحریر ۔
لکھنا تو کچھ نہ کچھ اُردو محفل نے ہی سکھایا ورنہ غمِ روزگار نے بہت دور رکھا اپنی زبان سے لاتعداد غلطیاں کرتے رہتے ہیں لیکن کوشش جاری رہتی ہے ۔۔
جیتے رہیے بہت ڈھیر ساری دعائیں ۔۔۔۔۔
جزاک اللہ خیر سیما جی ۔اللہ جل جلالہ آپ کو صحت مند تندرست و توانا رکھے۔آمین:)
 

الف عین

لائبریرین
پہلے املا کی تذکیر و تانیث
املا کے در اصل دو معنی ہیں، ایک وہ علم جس کے مطابق کوئی لفظ لکھا جاتا ہے۔
اور دوسری وہ جو مدرسوں میں تحریر لکھوائی جاتی ہے۔
اہلِ زبان اول کو مذکر بولتے ہیں اور آخر الذکر کو مؤنث۔ لغات میں کیا دیا گیا ہے، اس سے غرض نہیں۔
اسی طرح اعداد کے مشتقات کا معاملہ ہے۔ اس سلسلے میں بھی میں تکلیمی رخ کو قابلِ ترجیح سمجھتا ہوں۔
گیارہ، بارہ یعنی 'رہ' والے اعداد وغیرہ کے مشتقات کا یہ معاملہ کہ 'رھ' کوئی ہکاری لفظ نہیں، اور نہ گیارہ بارہ کی ہ واضح بولی جاتی ہے۔ اس لئے بولنے میں گیارویں، بارویں سے ملتی جلتی آواز نکلتی ہے، اس لئے اسے ہ سے ہی لکھا جانا چاہئے۔
چودہ کا معاملہ عجیب ہے کہ اگرچہ اس میں بھی ہ واضح نہیں بولا جاتا ہے لیکن عام مستعمل لفظ چودھویں. ہی ہے، اور 'دھ' مستقل ایک ہکاری حرف ہے، اس لئے 'چودھویں' کو دھ سے ہی لکھنا چاہئے۔
سولہ میں بھی ہ کی آواز واضح نہیں نکالی جاتی، لیکن ' لھ' بھی ایک ہکاری آواز ہے، جیسے 'کولھو' میں۔ اس لئے اس لاجک کی بنا پر اسے سولھویں لکھا جا سکتا ہے۔ مگر کیونکہ ایسا کوئی دیوناگری حرف نہیں، اس لئے اسے محض سولہویں بھی لکھا جا سکتا ہے ( اسی طرح منہ یا منھ کا معاملہ بھی ہے، کہ 'نھ' دیوناگری کا کوئی مستقل حرف نہیں، اس لئے میری ترجیح منہ کو ہے، اور کولہو بھی) لیکن آواز کے لحاظ سے ہ اور ھ دونوں کو درست مانتا ہوں۔ لیکن چودہویں کو نہیں۔
یہ ڈسکلیمر دے دوں کہ یہ میری ذاتی سفارشات ہیں جن کو میں اپنے سپیل چیکر اور لغت میں استعمال کرتا ہوں، کسی مستند کمیٹی کی نہیں!
 

سید عاطف علی

لائبریرین
میرا نہیں خیال کوئی بھی اس تلفظ کا اب استعمال کرتا ہے لیکن یہ اس سے ملتا جلتا ہے جو سیبَوَیہِ نے
اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔‌ سب سے قدیم اور مستند سورس ریسرچرز کے لیے وہی کتاب ہے۔
اگر ض کا جدید تلفظ فارس اور ہند تک پہنچتا تو اسے ز کی جگہ د سے ہی تعبیر کیا جاتا جیسا ص، ط وغیرہ کا معاملہ ہے‌۔
ریحان بھائی ! بر سبیل تذکرہ یاد آیا !یہاں ریاض میں ایک سعودی نوجوان قاری اس طرح کا تلفظ ادا کرتا ہے تو کچھ حساس اور غیر مطمئن افراد نے اسی بنیاد پر اپنی مسجد تبدیل کر لی ہے ۔ :)
 

یاسر شاہ

محفلین
اسی طرح اعداد کے مشتقات کا معاملہ ہے۔ اس سلسلے میں بھی میں تکلیمی رخ کو قابلِ ترجیح سمجھتا ہوں۔
گیارہ، بارہ یعنی 'رہ' والے اعداد وغیرہ کے مشتقات کا یہ معاملہ کہ 'رھ' کوئی ہکاری لفظ نہیں، اور نہ گیارہ بارہ کی ہ واضح بولی جاتی ہے۔ اس لئے بولنے میں گیارویں، بارویں سے ملتی جلتی آواز نکلتی ہے، اس لئے اسے ہ سے ہی لکھا جانا چاہئے۔
چودہ کا معاملہ عجیب ہے کہ اگرچہ اس میں بھی ہ واضح نہیں بولا جاتا ہے لیکن عام مستعمل لفظ چودھویں. ہی ہے، اور 'دھ' مستقل ایک ہکاری حرف ہے، اس لئے 'چودھویں' کو دھ سے ہی لکھنا چاہئے۔
سولہ میں بھی ہ کی آواز واضح نہیں نکالی جاتی، لیکن ' لھ' بھی ایک ہکاری آواز ہے، جیسے 'کولھو' میں۔ اس لئے اس لاجک کی بنا پر اسے سولھویں لکھا جا سکتا ہے۔ مگر کیونکہ ایسا کوئی دیوناگری حرف نہیں، اس لئے اسے محض سولہویں بھی لکھا جا سکتا ہے ( اسی طرح منہ یا منھ کا معاملہ بھی ہے، کہ 'نھ' دیوناگری کا کوئی مستقل حرف نہیں، اس لئے میری ترجیح منہ کو ہے، اور کولہو بھی) لیکن آواز کے لحاظ سے ہ اور ھ دونوں کو درست مانتا ہوں۔ لیکن چودہویں کو نہیں

ایک منطق کی رو سے کہ کیا ہکاری آواز ہے اور کیا نہیں، آپ کی بات دل کو لگتی ہے لیکن دوسری منطق کی رو سے کہ ایک ہائے ملفوظی ہے تلفظ چاہتی ہے جبکہ دوسری مخلوطی ہے تلفظ نہیں چاہتی ہے، پھر سوال واشکال پیدا ہوتے ہیں ۔
 

یاسر شاہ

محفلین
ریحان بھائی ! بر سبیل تذکرہ یاد آیا !یہاں ریاض میں ایک سعودی نوجوان قاری اس طرح کا تلفظ ادا کرتا ہے تو کچھ حساس اور غیر مطمئن افراد نے اسی بنیاد پر اپنی مسجد تبدیل کر لی ہے ۔ :)
ویسے ریحان بھائی نے کمال کر دیا اپنی ایک لڑی میں غالب کی غزل بھی تجوید سے پڑھ کے دکھا دی ہے۔:)
 

یاسر شاہ

محفلین
کیا کریں حضور آج کل کسی سودمند کام میں دل نہیں لگ رہا۔ :)
ویسے کیا خیال ہے ایک لڑی کھولی جائے جس میں سب اپنی اپنی تجوید کا مظاہرہ کریں آڈیو کے ذریعے۔
میں نے بھی بچپن میں والد صاحب کے بھرپور اصرار پر ڈنڈے کھا کھا کر تجوید سیکھی ہوئی ہے۔:)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اس دلچسپ اور کثیر جہتی بحث کے دوران اعداد کے آخر میں موجود "ہ" یا ہائے ہوز سے متعلق ایک سوال کئی احباب کی طرف سے اٹھایا گیا ہے ۔ اس بارے میں وضاحت ضروری ہے ۔ ہائے ہوز دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک تو وہ جو "ہ" کی آواز پیدا کرے جیسے آہ ، واہ ، تباہ وغیرہ میں۔ یہ ہائے ملفوظی ہے یعنی یہ "ہ" کا اصل تلفظ دیتی ہے۔ دوسری ہائے ہوز وہ جو الف یا زبر کی آواز دے۔ جیسے زمانہ ، پایہ ، گفتہ ، کلمہ وغیرہ میں ۔ اس کو ہائے مختفی یا ہائے خفی کہتے ہیں ۔ اسے بجا طور پر ہائے بیانِ حرکت بھی کہا جاتا ہے یعنی یہ انگریزی حرف "ایچ" کی آواز نہیں دیتی بلکہ ماقبل کی حرکت کو ظاہر کرتی ہے (عروض میں ہائے مختفی کی آواز الف کے برابر مانی جاتی ہے۔ چنانچہ زمانہ اور کمایا ہم قافیہ ہیں)۔ ہائے مختفی فارسی الفاظ کے آخر میں آتی ہے۔

گنتی کے اعداد (گیارہ بارہ تیرہ وغیرہ) ہندی الاصل ہیں اور ان کا ہندی سے اردو رسم الخط میں صوتی ترجمہ یعنی ٹرانسلٹریشن کیا گیا ہے۔ اور یہ ٹرانسلٹریشن صدیوں پہلے ہوا یعنی اردو قواعد کے باقاعدہ لکھے جانے سے بہت ہی پہلے۔ اس وقت یہ قاعدہ وجود میں نہیں آیا تھا کہ گیارہ چونکہ ہندی لفظ ہے اس لئے اردو رسم الخط میں اسے گیارا لکھا جانا چاہئے نا کہ گیارہ۔ گنتی کے آخر میں جو "ہ" استعمال کی گئی ہے وہ صوتی لحاظ سے ہائے ملفوظی سے زیادہ ہائے مختفی کے قریب ہے یعنی ماقبل کی حرکت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے برعکس وصفی اعداد کا تلفظ جس طرح کیا جاتا ہے اس میں ہکاری عنصر موجود ہے اس لئے گیارہ کو گیارھواں اور بارہ کو بارھواں وغیرہ لکھنا درست ہوگا۔ یہ املا ان الفاظ کے تلفظ کا قریب ترین عکاس ہے۔ چونکہ املا کو معیاری بنانا مقصود ہے اس لئے کوئی اصول بنانا اور اس کو اپنانا بہت ضروری ہے۔ املا کمیٹی میں بیوقوف اور کم علم لوگ نہیں تھے۔ اگر ان صاحبانِ علم کے نام ہی پڑھ لئے جائیں تو ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ جو تحقیقی کام ان لوگوں نے کیا ہے وہ فقید المثال ہے اور وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ کاش ہم اس سے فائدہ اٹھائیں کہ اسی میں اردو کا بھلا ہے۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اعتراض نہیں بنتا لیکن انگریزی کو نکال دیں تو دیگر زبانوں میں سرکاری سطح پر املا و دیگر ریفارمز ہوتے رہے ہیں۔ جرمن زبان کے لئے چوتھائی صدی پہلے جرمنی، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ نے مل کر تبدیلیاں کی تھیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چند سال بعد چند غیر مقبول تبدیلیاں واپس لے لی گئیں۔
اردو املا میں اختلافات کی اصل وجہ یہی ہے کہ اردو بولنے والے کسی اتھارٹی کو ماننے پر سرے سے تیار ہی نہیں ہیں ۔ ہر آدمی خود اتھارٹی ہے۔ نہ لغت کو مانتے ہیں ، نہ اہلِ علم کی اسناد کو ۔ لکھنؤ اور دہلی کے دبستان ختم ہوئے زمانہ ہوا لیکن لفظی لڑائیاں اب بھی لڑی جارہی ہیں۔ ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی ساڑھے تین درجن مسجدیں دنیائے اردو میں ادھر سے ادھر پھیلی ہوئی ہیں۔ اردو کی ترقی اور ترویج کی خاطر چھوٹے موٹے اختلافات اور اپنی ذاتی آرا کو قربان کرنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ اردو میں کی کھچڑی ہمیشہ پکتی ہی رہے گی ، کبھی تیار نہیں ہوگی۔ ذرا غور کیجئے کہ اردو کو تعلیمی زبان بنانے کی بات کی جاتی ہے لیکن اب تک یہی طے نہیں کرسکے کہ گیارہواں درست املا ہے یا گیارھواں؟!!!!! ان بنیادی مسائل کا فیصلہ کرلیا جائے اور ایک بات پر متفق ہولیا جائے تو بات آگے بڑھے گی نا۔ بلی تو اپنے گلے میں گھنٹی بندھوانے کے لئے تیار ہے لیکن لوگوں کی ایک طویل قطار اپنی اپنی گھنٹی لئے میری گھنٹی ، میری گھنٹی کا نعرہ لگارہی ہے ۔
دوسری بات یہ کہ ماسوائے انگریزی اور ہسپانوی ، یورپی زبانیں ایک محدود علاقے اور قلیل آبادی کی زبانیں ہیں سو ان میں سرکار کی جانب سے ردو بدل کرنا نسبتاً آسان ہے ۔ اردو کا معاملہ بہت ہی مختلف ہے ۔ اسے اب تک کوئی قوم میسر نہیں آسکی ۔ یہ تو برصغیر کی lingua franca ہے۔ بلکہ پاکستان میں بھی عملی طور پر اس کی یہی حیثیت ہے ۔
 
Top