سقوطِ ڈھاکہ اور "قومی ترانہ"

محمد وارث نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 16, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,400
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اور ہم اسے ریاستہائے متحدہ پاکستان کہا کرتے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • غمناک غمناک × 1
  2. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,114
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
    :crying3:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,980
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اصل میں یہ کچھ ایسا ہی معاملہ ہے کہ "خشتِ اول چوں نہد معمار کج۔۔۔۔۔"، تقسیم کے وقت بنگال کو تقسیم کر کے مغربی پاکستان کے ساتھ ملانا ٹیرھی بنیاد رکھنے کے مترادف تھا۔ قائد اعظم بھی اور کئی ایک بنگالی لیڈر بھی مشترکہ بنگال کی صورت میں بنگال کو ایک خود مختار علیحدہ مملکت بنانے پر راضی تھے لیکن اس پر ہندو راضی نہیں تھے، کلکتہ سونے کی چڑیا تھا اور کلکتے کے بغیر باقی ماندہ بنگال اقتصادی طور پر بالکل ہی صفر تھا۔ پھر لا تعداد مسائل تھے، زبان کا مسئلہ جناح علیہ الرحمہ کی زندگی ہی میں سامنے آ گیا اور بعد میں معاشی استحصال نے رہی سہی کسر پوری کر دی، ایسا ہونا ہی تھا لیکن جس صورت میں ہوا اس سے بہتر صورت میں بھی ہو سکتا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 3
    • زبردست زبردست × 2
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    29,923
    سقوط ڈھاکہ کی جڑیں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اسی وقت لگا آئے تھے جب انہوں نے صرف اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا تھا۔ اور اس پالیسی سے انحراف کرنے والوں کو ملک دشمن کہا تھا۔ اسی سخت پالیسی کے تسلسل کی وجہ سے اگلے صوبائی اور قومی الیکشنز میں پاکستان بنانے والی جماعت مسلم لیگ مشرقی پاکستان سے الیکشن ہارتی چلی گئی اور اس کی جگہ بنگالی قوم پرست جماعت عوامی لیگ نے لے لی:
    [​IMG]
    Bengali language movement - Wikipedia

    باقی ۱۹۷۰ کے انتخابات صدر یحیی کے ایل ایف او آرڈر کے تحت منعقد ہوئے تھے۔ جس میں انتقال اقتدار الیکشن جیتنے والے مجیب الرحمان کو ہی ہونا تھا۔ یوں وہ اپنی دو تہائی اکثریت کے ساتھ مغربی پاکستان کو خاطر میں لائے بغیر ملک کا نیا آئین بنا سکتے تھے۔ اگر ایسا ہو جاتا تو عین ممکن ہے کچھ سال بعد آزادی کی تحریک مغربی پاکستان میں چل رہی ہوتی :)
    Legal Framework Order, 1970 - Wikipedia
     
    • زبردست زبردست × 2
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    29,923
    سقوط ڈھاکہ کے بعد جب مجیب الرحمان کو رہا کر کے لایا گیا تو بھٹو نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ مشرقی و مغربی پاکستان کو ایک فیڈریشن سے کانفڈریشن بنا دیتے ہیں۔ لیکن مجیب الرحمان نہیں مانے جس پر پاکستان نے بنگلہ دیش کو آزاد و خود مختار ریاست تسلیم کر لیا :(
     
  6. بابا-جی

    بابا-جی محفلین

    مراسلے:
    1,404
    جو جِدھر مقیم ہوں، اُن کو ہی حقِ حُکمرانی مِلنا چاہیے یا اُنہیں حصہ بقدر جثہ ریاستی اُمور میں شریک رکھنا چاہیے۔
     
    • متفق متفق × 3
  7. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,400
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    دیر ہو چکی تھی۔ خیر اب اگر مگر کوئی معنی نہیں رکھتی۔ :)
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,332
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اس قصے میں بھی ثریا آگئی۔۔۔:p
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    29,923
    پاکستان کو اگر ۱۹۴۷ میں ہی کانفڈریشن بنا دیا جاتا تو بعد میں ون یونٹ سکیم اور سقوط ڈھاکہ جیسے تلخ تجربات و سانحات سے نہ گزرنا پڑتا۔ پاکستانی عوام نے ہمیشہ صوبائی خود مختاری کو قومی خود مختاری پر فوقیت دی ہے۔ فیڈریشن وہاں چل سکتی ہے جہاں کئی صدیوں بعد ایک قومی اکائی وجود میں آ چکی ہو۔ پاکستان جیسی نئی نویلی قوم کو آج بھی کانفڈریشن سسٹم ہی سوٹ کرتا ہے۔
     
  10. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,114
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    اگر قیادت مخلص ہو تو پچھلی غلطیوں سے سیکھتی ہے۔

    لیکن آپ نے کہا کہ اگر مگر کی گنجائش نہیں ہے۔ :sad:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,114
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ارے اس دھاگے میں بھی آپ آ گئے۔ :p:D
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,400
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    غلطیوں سے تو اگر مگر کیے بغیر سیکھا جا سکتا ہے۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  13. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    29,923
    پاکستان میں غلطی کرنے والے کو این آر او دیا جاتا ہے، سبق سیکھا یا سکھایا نہیں جاتا۔ ایوب، ضیا، مشرف نے آئین توڑا، کوئی سزا نہیں دی گئی۔ مشرف کو ایمرجنسی لگانے کی سزا ملی اور جس عدالت نے سزا سنائی اس عدالت کو ہی سزائے موت دے دی گئی۔
    سقوط ڈھاکہ کے ذمہ داران کو حمود الرحمان کمیشن میں بے نقاب کیا گیا تھا۔ جمہوری انقلابی بھٹو کو جب یہ رپورٹ ملی تو اس نے اسے چھاپنے کی بجائے کسی سرد خانے میں چھپا دیا۔ آج تک یہ مکمل رپورٹ کہیں دستیاب نہیں ہے۔
    پاکستان کے کرتا دھرتا ہر بڑا جرم کرنے والے کو این آر او دے دیتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے مجرموں کو سالہا سال جھوٹے کیسز میں جیل میں بند رکھتے ہیں۔ ان حالات میں کوئی اصلاح ممکن نہیں۔
     
  14. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,332
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    مجھے تو ہر دھاگے میں عارف بھائی بلالیتے ہیں۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 3
  15. احسن جاوید

    احسن جاوید محفلین

    مراسلے:
    208
    سقوطِ ڈھاکہ تو محض ہمارے لیے ہے جیسے پارٹیشن آف انڈیا ہندوستان میں رہنے والوں کے لیے۔ جس جواز پہ ہم نے پاکستان حاصل کیا اسی جواز پہ بنگالیوں نے بنگلہ دیش حاصل کیا۔ جو ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں دوسروں کے لیے بھی کرنا چاہیے۔ جلد یا بدیر یہ ہونا ہی تھا۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 1
  16. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,980
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جلد یا بدیر یہ ہونا ہی تھا۔

    لیکن ایک بنیادی فرق آپ صرفِ نظر کر رہے ہیں۔ موجودہ پاکستانی علاقے کبھی عوام کے ووٹوں ذریعے اور اپنی مرضی سے ہندوستان کے ساتھ نہیں ملے تھے لیکن بنگلہ دیش کے لوگ ہم سے الگ ہونے سے صرف 24 سال پہلے باقاعدہ ووٹوں کے ذریعے اور اپنی مرضی سے پاکستان کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔ جون 1947ء میں متحدہ بنگال اسمبلی کی اکثریتی رائے سے اور مشرقی بنگال سے تعلق رکھنے والوں اسمبلی ارکان کی بھاری اکثریت کی رائے سے مشرقی بنگال پاکستان کے ساتھ شامل ہوا تھاجب کہ سلہٹ میں ریفرنڈم ہوا تھا اور اس سے انہوں نے پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • متفق متفق × 1
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    29,923
    یہی تو المیہ ہے کہ پاکستان بنانے والے بنگالی محض ۲۴ سال بعد پاکستان سے ہی الگ ہو گئے۔ :(
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. احسن جاوید

    احسن جاوید محفلین

    مراسلے:
    208
    تو سر اپنی مرضی ہی تو اصل میں کسی بھی نیشن کا وہ حق ہے کہ جس کی بنیاد پہ وہ چاہے تو کسی سٹیٹ سے الحاق کر لے اور چاہے تو اس سے الگ ہو جائے۔ اپنی مرضی سے پاکستان کا حصہ بننے میں کوئی ایسا جواز نہیں ہے جس کی بنیاد پہ کوئی یہ دعویٰ کر سکے کہ اب آپ الگ ہونے کی مرضی (حق) استعمال نہیں کر سکتے۔ آنے والے حالات سے شاید بنگالی بے خبر تھے کہ ہمارے ساتھ یہ سلسلہ ہونا ہے یا شاید اس خام خیالی میں تھے کہ ہم نے ہی رول کرنا ہے لیکن ہوا اس کا الٹ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  19. زوجہ اظہر

    زوجہ اظہر محفلین

    مراسلے:
    243
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    یقینا سقوط ڈھاکہ ایک دلخراش واقعہ

    عمدہ
    اسی پس منظر میں لکھی ہوئی نصیر ترابی کی مشہور زمانہ غزل
    وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  20. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    849
    ہندوستان کا حصہ اس لیئے نہ بنے کہ اس وقت وہ اپنے اور ہندوستان کے مابین روابط اور سازشوں کو کھلے عام بتانے کے لیے تیار نہ تھے ۔ ہندوستان بھی یہ بات برملا تسلیم نہ کرتا تھا ۔ یہ تو اب مودی اور خالدہ ضیا نے تسلیم کیا ہے۔ ااس زمانے کے اندرا گاندھی کے انٹرویوز دیکھئے کہ وہ کس طرح غیرملکی میڈیا کے سامنے انجان بنتی تھیں ۔ کتنی بےدردی سے بہاریوں کو ذبح کیا گیا ۔ لاکھوں آج بھی کیمپوں میں جانوروں سے بد تر زندگی گذار رہے ہیں ۔ آپ اس کو حقوق کی جدوجہد سمجھتے ہیں ۔ کوئی مسلمان ایسا کر سکتا ہے؟ یہ سب دشمن کی زہریلی سازش کا شکار ہوئے ۔ اور اس دشمن کے ہاتھ بھی کچھ نہ آیا کہ وہ ملک کو توڑنے میں تو کامیاب رہے مگر وہ مسلمان ملک کو اپنا حصہ نہ بنا سکے ۔
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 16, 2020
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر