سقوطِ ڈھاکہ اور "قومی ترانہ"

محمد وارث نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 16, 2020

  1. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    1,941
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    معذرت کے ساتھ ہم یہاں آپ سے اختلاف کی جرأت کریں گے ظہیرؔ بھائی۔ یحییٰ ایک الگ ہی لیول کا لیجنڈ تھا ۔۔۔ آپ سوچیے کہ سوشل میڈیا نہ ہوتے اور اخبارات و رسائل پر بدترین سینسرشپ کے ہوتے ہوئے بھی جس شخص کے قبیح کارناموں کی ایک طویل فہرست ہمارے سامنے ہو ۔۔۔ اس نے خلوتوں میں اور کیا کیا گل نہ کھلائے ہوں گے!
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,980
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    سقوطِ ڈھاکہ کے بعد پاکستان آرمی کمانڈ میں "جبری" تبدیلی
    (ان واقعات کی تفصیل مختلف کتابوں میں بکھری ہوئی ہے، جیسے جنرل گُل حسن کی کتاب، جنرل نیازی کی کتاب، جنرل مٹھا کی کتاب، جنرل خادم حسین راجا کی کتاب، بریگیڈیر ایف، بی علی کی کتاب، شجاع نواز کی پاکستان آرمی پر کتاب وغیرہ)۔

    16 دسمبر 1971ء تک جنرل یحییٰ کا دعویٰ تھا کہ ہم پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت کریں گے۔ 17ء دسمبر کو یحییٰ نے ڈھاکہ میں ہونے والے سرنڈر کو قبول کر لیا لیکن 18ء دسمبر کو اعلان کیا کہ باقی بچ جانے والے ملک میں ایک نیا آئین نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ اعلان کچھ آرمی افسران بالخصوص جونئیر افسران جو کہ مشرقی پاکستان میں شکست اور مغربی پاکستان میں ناقص جنگی منصوبہ بندی سے دلبرداشتہ تھے، پر گراں گذرا کہ یحییٰ ابھی تک جانے کو تیار نہیں۔ گوجرانولہ میں آرمڈ کور کی ایک ڈویژن تعینات تھی جس کا کمانڈر (جی او سی) ایک بنگالی میجر جنرل "بچو" کریم تھا۔ جنرل کریم سے اس کے ایک آفیسر بریگیڈیر علی نے کہا کہ ہمیں یہ منظور نہیں سو آپ کچھ کریں، جنرل کریم نے معذرت کر لی تو بریگیڈیر علی نے کہا کہ آپ ڈویژن کی کمانڈ مجھے سونپ دیں اور خود سائیڈ پر ہو جائیں۔ ان واقعات کی اطلاع جی ایچ کیو پنڈی میں برابر پہنچ رہی تھی۔

    بریگیڈیر علی نے کمان سنبھالنے کے بعد اپنا ایک نمائندہ (کرنل آفریدی) ایک فہرست اور ایک پیغام کے ساتھ جی ایچ کیو پنڈی بھیجا۔ فہرست میں ان جرنیلوں کے نام تھے جن کو جنرل یحییٰ کے ساتھ فارغ کیا جانا تھا اور پیغام یہ تھا کہ 19 دسمبر رات آٹھ بجے تک جنرل یحییٰ مستغفی ہو جائے بصورت دیگر گوجرانولہ آرمڈ ڈویژن سے ٹینکوں کا ایک کالم پنڈی کے لیے روانہ ہو جائے گا اور پھر جو کچھ ہوگا اس کے ذمہ دار ہم نہیں ہونگے۔

    اس فہرست میں کس کس کا نام تھا یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے۔ میجر جنرل مٹھا کا خیال ہے کہ اس کا نام اس فہرست میں نہیں تھا بلکہ جنرل گل حسن نے اس کا نام بعد میں شامل کیا۔ جنرل مٹھا کا یہ بھی خیال ہے کہ جنرل گل حسن کو یقین تھا کہ اس کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے اس لیے جب کرنل آفریدی جی ایچ کیو پہنچا تو جنرل گل حسن اپنا دفتر سمیٹ رہا تھا۔

    بہرحال اس فہرست میں جنرل گل حسن کا نام نہیں تھا۔ جنرل گل حسن نے کرنل کے ساتھ جنرل عبدالحمید سے ملاقات کی تو اس نے کہا کہ کچھ کرتے ہیں۔ آخری کوشش کے طور پر ان جرنیلوں نے جنرل مٹھا سے مدد کی درخواست کی، جنرل مٹھا نے ایس ایس جی کے کمانڈو تیار کیے تھے سو اس نے ایس ایس جی کے کمانڈر بریگیڈیر سے بات کی کہ ٹینک روکنے کے لیے کمانڈوز کی ایک کمپنی فراہم کرے جو ترکئی کے پاس (جہلم اور پنڈی کے درمیان) مجوزہ حملہ آور ٹینکوں کو روکے۔ ایس ایس جی کمانڈر نے یہ بات یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا کہ اول تو میرے پاس اضافی کمانڈوز نہیں ہیں اور دوم آپ ڈائریکٹ مجھے کوئی حکم نہیں دے سکتے، آپ "تھرو پراپر چینل" یعنی جنرل گل حسن (چیف آف جنرل سٹاف) کے ذریعے آئیں۔

    اس ناکامی کے بعد جنرل یحییٰ کے مستغفی ہونے کا اعلان کر دیا گیا کہ 20 دسمبر کو جنرل یحییٰ عہدہ چھوڑ دے گا۔ یحییٰ نے تین عہدے چھوڑنے تھے (صدر، مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور آرمی چیف)۔ اب ان عہدوں کے لیے دوڑ شروع ہو گئی۔ یحییٰ کا نائب جنرل عبدالحمید تھا، اس نے کوشش کی افسران اس کو آرمی چیف کے طور پر قبول کر لیں، اس لیے 20 دسمبر کی صبح اس نے جی ایچ کیو میں آرمی افسران سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں کافی ہلڑ بازی ہوئی اور بالخصوص جونئیر افسران نے اس کی کوئی بات سننے سے انکار کر دیا اور جنرل عبدالحمید کو اپنا چیف ماننے سے انکار کر دیا۔ (کہتے ہیں اس میٹنگ کی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے جو بعد میں بھٹو نے بھی دیکھی تھی)۔

    صدر اور سی ایم ایل اے کے لیے قرعہ فال بھٹو کے نام نکلا۔ بھٹو کے دو اہم ساتھی جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم خان اس کو پل پل سے آگاہ کیے ہوئے تھے اور جب بھٹو کو یقین ہو گیا کہ اس کے خلاف کچھ نہیں ہوگا تو وہ نیویارک سے واپس آنے کو تیار ہو گیا۔ بھٹو کی بروقت واپسی کے لیے ایئر مارشل نے خصوصی طیارے کا بندوبست کیا اور 20 دسمبر رات گئے بھٹو پاکستان پہنچا اور اسی وقت اس نے صدر اور سول چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا حلف اٹھا لیا۔ اور بھٹو نے آرمی کمانڈر ان چیف کا تاج جنرل گل حسن کے سر پر رکھ دیا۔

    بھٹو نے جنرل یحییٰ اور دیگر سینئر جرنیلوں کے خلاف بغاوت کرنے والے گوجرانوالہ آرمڈ ڈویژن کے افسران کو بھی نہیں چھوڑا اور بریگیڈیر علی اور بریگیڈیر مہدی شاہ کے ساتھ ساتھ دیگر افسران کا کورٹ مارشل کر کے سزائیں سنائی گئیں۔

    اس کہانی میں چونکہ آرمی کی سبکی ہوتی ہے اس لیے اس کی بہت سی تفصیلات کو پردہ راز میں رکھا جاتا ہے اور ابھی تک اس پر کھل کر بات نہیں ہوتی۔
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 17, 2020
    • معلوماتی معلوماتی × 5
  3. احسن جاوید

    احسن جاوید محفلین

    مراسلے:
    208
    اندرا گاندھی کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ بنگال کو انڈیا کا حصہ بنا لیا جائے لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا کہ ہم پھر سے تحریک پاکستان والا کام نہیں چاہتے۔ اگر انڈیا چاہتا تو با آسانی اسے انیکس کر سکتا تھا اور بنگالی تو بالکل بھی ریزسٹیو نہیں تھے۔ بلکہ اگر انڈیا چاہتا تو تھوڑا سا زور لگا کر ویسٹ پاکستان کو بھی انیکس کرنے کی ہمت کر سکتا تھا کیونکہ اس وقت کے حالات ان کی فیور میں تھے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  4. احسن جاوید

    احسن جاوید محفلین

    مراسلے:
    208
    ہندوستان کا حصہ تب بنتے اگر ہندوستان انہیں اپنے ساتھ ملانے کی حامی بھرتا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔
     
    • متفق متفق × 1
  5. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    849
    یہ آج تک میں نے تو کہیں نہیں پڑھا۔ انڈیا نے جب جب کوشش کی منہ کی کھائی۔ بس اتنا معلوم ہے ۔ بنگلہ دیش کا بننا بھی اپنوں کی وجہ سے تھا ۔ اکیلے وہ کبھی کچھ نہ کر سکتے تھے، نہ کر سکتے ہیں ۔ انشااللہ
     
    • متفق متفق × 1
  6. بابا-جی

    بابا-جی محفلین

    مراسلے:
    1,404
    کوئی کتابی دلِیل، بیان، حوالہ مُجھ کور مغز کو عطا ہو تاکہ اپنی غلط فہمی دُور کر سکوں۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    849
    یحیٰ خان کی اولاد اگر مورثیت کو قائم کرتے ہوئے آج تک فوج یا حکومت میں ہوتی تو لوگ ان کی عظمت کے گن گاتے۔ اس وقت ان کی ہی قبیل کے لوگوں کے لوگ مسلط تھے مگر ان کی اولادیں سیاست میں ہیں تو کسی کو کوئی جرات نہیں ۔۔۔ نہ کتاہیں لکھنے کی، نہ لڑیاں بنانے کی اور نہ ہی تبصرے کرنے کی ۔
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 17, 2020
    • زبردست زبردست × 1
  8. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    849
    لوگوں نے تو سالہا سال جنگیں لڑیں کہ تاریخ بدل دیں ۔ آپ تو مزے سے قلم سے منٹوں سیکنڈوں میں بدل دیتے ہیں ۔ آپ کی کیا بات ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  9. احسن جاوید

    احسن جاوید محفلین

    مراسلے:
    208
    جی ضرور، ابھی ایگزکٹ سورس میری یاداشت کے کسی کونے میں نہیں ہے لیکن جیسے ہی میری نظر سے دوبارہ گزرا یا یاد آیا تو میں شیئر کر دوں گا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. احسن جاوید

    احسن جاوید محفلین

    مراسلے:
    208
    تاریخ تو میرے لکھنے سے پہلے ہی اتنی ڈسٹورٹڈ ہے میری بھلا کیا مجال۔ میری تو صرف رائے ہے جو خود مختلف تاریخ کی کتابوں سے اخذ شدہ ہے۔ یہاں کوئی ایسی دعویٰ نہیں کیا جا رہا کہ یہی صحیح ہے یا یہی تاریخ ہے۔ بہتر یہی ہو گا کہ ذات پہ تنقید کرنے کی بجائے خیالات پہ تنقید کی جائے۔
     
    • متفق متفق × 2
  11. شرمین ناز

    شرمین ناز محفلین

    مراسلے:
    91
    جھنڈا:
    Portugal
    موڈ:
    Fine
    اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
     
    • متفق متفق × 1
  12. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,746
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ویسے ایک دائمی ٹُن آج کل لندن میں بھی ہوتا ہے ۔ وہ بھی اپنی طرز کا ایک لیجنڈ ہی ہے ۔ ایک پوری نسل اور دو شہروں کو تباہ کرکے اب جناح صاحب اور پاکستان کے خلاف خرافات بکتا رہتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
  13. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    1,941
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    ہاہاہا ... صبح میں نے کچھ اسی قسم کے خیالات ایک اور شخصیت کے بارے میں ظاہر کیے تھے... "پالیسی برد" ہوگئے .... دیکھئے آپ کے مراسلے پر کب قینچی چلتی ہے :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  14. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    29,937
    ہاں جی تو پھر آج کس کس کو عمران خان انوکھا سلیکٹڈ لگ رہا ہے؟ بغض عمران کی بھی کوئی حد تو ہوتی ہوگی؟ جرنیلوں کا کیا کام کہ جمہوری انقلابی بھٹو کو سلیکٹ کر کے پاکستان لائیں اور صدر و چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سونپیں؟ خاص طور پر جب وہ خود سقوط ڈھاکہ کا ملزم بھی ہو؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    29,937
    جمہوری انقلابی بھٹو نے سقوط ڈھاکہ کے ذمہ داروں کو بھی حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کی روشنی میں کوئی سزا وغیرہ دی تھی یا معاملہ وہیں دفن کر دیا؟
     
  16. بابا-جی

    بابا-جی محفلین

    مراسلے:
    1,404
    رپورٹ کی روشنی اور روشنائی مدہم پڑ گئی اور ایک اور سولہ دسمبر گُزر گیا، اِس لیے مٹی پاؤ ڈار صاحب۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  17. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,980
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    آپ کو جیسے علم نہیں ہے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  18. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    17,831
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اسکے باوجود دکھ اپنی جگہ اور جرم اپنی جگہ باقی رہتا ہے جناب:
    لال مسجد کا واقعہ ہوا۔ مٹی پاﺅ
    پی آئی اے کے حادثوں پر۔ مٹی پاﺅ
    بولی والی کمیٹیوں کا فراڈ۔ مٹی پاﺅ
    بینظیر قتل کیس۔ مٹی پاﺅ
    مصحف علی میر طیارہ حادثہ۔ مٹی پاﺅ
    کوآپریٹو فراڈ۔ مٹی پاﺅ
    فاریکس سکینڈل۔ مٹی پاﺅ
    بینکوں سے غیرقانونی قرضوں کی معافی۔ مٹی پاﺅ
    میڈیا کے جھوٹ پر جھوٹ۔ مٹی پاﺅ
    15 کلو ہیروئن برآمدگی کا کیس۔ مٹی پاﺅ
    بڑے بڑوں کے مالیاتی سکینڈل۔ مٹی پاﺅ
    لینڈ مافیا کی توسیع پسندی۔ مٹی پاﺅ
    اتنی زیادہ مٹی پڑنے کے بعد کیس کھودنے مشکل ہو جائیں گے کیونکہ ابھی تک جو کیس سامنے آئے ہیں ان میں سے بھی کچھ نہیں نکلا اور سب کچھ مٹی پاﺅ کے تحت ہی چل رہا ہے۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  19. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,980
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    مغربی پاکستان کو 'انیکس' کرنا اتنا آسان کام نہیں تھا اور نہ ہے۔ یہ اگر ہو سکتا ہوتا تو اب تک ہو چکا ہوتا۔

    مغربی پاکستان کو انیکس کرنا تو دور کی بات ہے، انڈیا مشرقی پاکستان میں بھی جنگ کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھا۔ آپ فیلڈ مارشل سیم مانک شا کے انٹرویوز دیکھیے، اندرا گاندھی نے مارچ 1971ء میں ہی انڈین فوج کو ایکشن کے لیے کہہ دیا تھا لیکن فیلڈ مارشل نے آپریشن کرنے سے صاف انکار کر دیا کہ ہم ابھی تیار نہیں اور اُس نے اپنی تیاری کے لیے اپنا پورا وقت لیا اور آٹھ دس مہینے کے بعد آپریشن شروع ہوا۔ مزید برآں، وہ یہ بھی کہتا ہے کہ پاکستانی فوج کا وہاں لڑنے کا کوئی موقع ہی نہیں تھا، انڈیا نے چاروں طرف سے حملہ کر رکھا تھا اور ایک اور پندرہ کی بری عددی برتری حاصل تھی۔ فضائی اور بحری مکمل برتری حاصل تھی اسکے باوجود وہ رطب السان ہے کہ پاکستانی فوجی جس حد تک لڑ سکتے تھے لڑے۔

    دوسری طرف پاکستان میں یہ شکوہ ہے وہ فوجی زندہ کیوں بچ گئے، انہوں نے سرنڈر کیوں کیا وہ مر کیوں نہیں گئے۔ نوے ہزار فوجی تھے، قید کیوں ہوئے، لڑتے ہوئے مر جاتے (یہ بھی ایک مِتھ ہے، اصل فوجی اس میں صرف چالیس پچاس ہزار کے قریب تھے، باقی سولین اور دوسرے کام کرنے والے افراد تھے)۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  20. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,980
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    آپ ہر جگہ اس "لسانی مسئلے" کو گھسیڑ دیتے ہیں۔ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا آپ بیان کرتے ہیں۔

    آخر بنگالی کس بنیاد پر بنگالی کو "قومی" زبان بنانا چاہتے تھے؟ کیا اردو پنجابیوں کی زبان تھی یا سندھیوں، پختونوں، بلوچیوں کی؟ اردو صرف چند ملین مہاجروں کی مادری زبان تھی اور یا پھر رابطے کی زبان تھی اور ہے۔ کیا بنگالی اپنی عددی برتری کی بنا پر بنگالی کو سرکاری زبان بنانا چاہتے تھے؟

    آپ کو یوں سمجھ نہیں آئے گی، موجودہ دور کی مثال سے سمجھاتا ہوں۔ بنگالی، کل پاکستان میں قریب 54 فیصد تھے، جب کہ اس وقت پنجابی کل پاکستان میں قریب 60 فیصد ہیں یعنی ہر دس پاکستانیوں میں 6 پنجابی ہیں اور باقی 4 میں سندھی، پختون، بلوچی و دیگر۔ چھوٹے گروپوں کے مقابلے میں یہ ایک کثیر برتری ہے تو کیا پنجابی اس عددی برتری کی بنیاد پر یہ شور مچانا شروع کر دیں کہ پنجابی کو سرکاری اور قومی زبان کا درجہ دیا جائے؟ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس مطالبے سے ملک میں کس حد تک طوفانِ بدتمیزی اٹھے گا، اور ملک کا کوئی بھی عقلمند لیڈر اس مطالبے کے جواب میں کیا کہے گا؟

    دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ 1947ء میں بھی انگریزی اصل سرکاری زبان تھی اور اب بھی ہے، لیکن الزامات کے لیے تب بھی اردو نشانہ تھی اور اب بھی ہے!
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 18, 2020
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر