سخنورانِ محفل کے شعری فن پارے۔۔۔!

آپ کو یہ دھاگہ کیسا لگا۔۔۔؟


  • Total voters
    63

کاشف اختر

لائبریرین
کہنہ مشق شعرا اور عظیم الشان ادبا کی موجودگی میں، میری جسارت انتہائی بے معنی ہے، مگر جب بڑوں کا حکم صادر ہوجائے تو اس کی تعمیل انتہائی ضروری ہو جاتی ہے!!!!! اس لئے ایک نعت حاضر کرتا ہوں۔۔ دوستوں کی نگاہِ کرم کا محتاج ہوں۔۔۔ اپنی آرا ء کا اظہار بھی فرمائیں اور اگر کسی قابل سمجھیں تو شامل بھي فرمالیں۔۔۔۔۔۔ بہر صورت معاملہ اساتذہ کی مرضی پر موقوف ہے۔۔۔۔۔۔۔

سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ شیخ میں ائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نعت ملاحظہ فرمائیں؟؟؟؟


نبیِ رحمتِ عالم کا لب پہ جب بھی نام آیا۔۔۔۔۔
یکایک فرطِ الفت سے درود آیا سلام آیا۔۔۔۔
جہاں سے تیرگیِ کفر و عصیاں چھٹ گئی ہر سُو۔۔۔
اجالا بانٹنے کو جب یہاں ماہِ تمام آیا۔۔۔۔۔۔۔
بجھی وہ آتشِ ایراں جو شعلہ زن تھی صدیوں سے۔۔
لئے پیغامِ وحدت جس گھڑی خیرالانام آیا۔۔۔۔۔۔
صداقت سے امانت سے ہوئے مشہور عالم میں۔۔۔۔۔
وہ جب آئے، تو دنیا میں امانت کا نظام آیا۔۔۔۔۔۔
گھٹا ظلم و ستم کی چھٹ گئی یک لخت دنیا سے۔۔۔
اماں کا لے کے پروانہ جو نبیوں کا امام آیا ۔۔۔۔
کہو تم جاکے روضے پر اے کاشف حال زار اپنا ۔۔۔
کہ لے کر بار عصیاں کا ترا ادنی غلام آیا ۔۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
کاشف صا حب بہت اچھے اشعار ہیں ما شاءاللہ ۔ایک مصرع میں "امَن" کا تلفظ البتہ درست کر نے کی ضرورت ہے۔
اسے وزن اوربحر کی مناسبت سے میم ساکن کے ساتھ فاع کے وزن پر باندھا جا نا چاہیے۔ آداب
 

کاشف اختر

لائبریرین
اگر
کہنہ مشق شعرا اور عظیم الشان ادبا کی موجودگی میں، میری جسارت انتہائی بے معنی ہے، مگر جب بڑوں کا حکم صادر ہوجائے تو اس کی تعمیل انتہائی ضروری ہو جاتی ہے!!!!! اس لئے ایک نعت حاضر کرتا ہوں۔۔ دوستوں کی نگاہِ کرم کا محتاج ہوں۔۔۔ اپنی آرا ء کا اظہار بھی فرمائیں اور اگر کسی قابل سمجھیں تو شامل بھي فرمالیں۔۔۔۔۔۔ بہر صورت معاملہ اساتذہ کی مرضی پر موقوف ہے۔۔۔۔۔۔۔

سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ شیخ میں ائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نعت ملاحظہ فرمائیں؟؟؟؟


نبیِ رحمتِ عالم کا لب پہ جب بھی نام آیا۔۔۔۔۔
یکایک فرطِ الفت سے درود آیا سلام آیا۔۔۔۔
جہاں سے تیرگیِ کفر و عصیاں چھٹ گئی ہر سُو۔۔۔
اجالا بانٹنے کو جب یہاں ماہِ تمام آیا۔۔۔۔۔۔۔
بجھی وہ آتشِ ایراں جو شعلہ زن تھی صدیوں سے۔۔
لئے پیغامِ وحدت جس گھڑی خیرالانام آیا۔۔۔۔۔۔
صداقت سے امانت سے ہوئے مشہور عالم میں۔۔۔۔۔
وہ جب آئے، تو دنیا میں امانت کا نظام آیا۔۔۔۔۔۔
گھٹا ظلم و ستم کی چھٹ گئی یک لخت دنیا سے۔۔۔
اماں کا لے کے پروانہ جو نبیوں کا امام آیا ۔۔۔۔
کہو تم جاکے روضے پر اے کاشف حال زار اپنا ۔۔۔
کہ لے کر بار عصیاں کا ترا ادنی غلام آیا ۔۔۔۔۔۔


اساتذہ اگر اسے قابلِ اصلاح سمجھیں تو اصلاح سخن کے دھاگے میں منتقل کردیں ..۔۔۔۔۔۔۔ایک شعر کے اضافے کے ساتھ ..۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یقیناً انبیا آئے ھیں دنیا میں بہت سارے ..۔۔۔۔
ترے جیسا نہ کوئی بھی مگر عالی مقام آیا ..۔۔
 

جاسمن

لائبریرین
چیخا کبھی جو دہر کے ظلم و ستم پہ میں
قسمت کی لوری دے کے سلایا گیا مجھے

تسخیرِ کائنات کا تھا مرحلہ اسد
یونہی نہیں یہ علم سکھایا گیا مجھے

قیدِ فطرت میں تُو ہے پروانے
تیرا ہونا نثار لاحاصل
بہت خوب!
 

رہ وفا

محفلین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دوست و احباب کیسے ہیں سب؟
امید اور دعا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ٹھیک ٹھاک ہوں۔
میرا کچھ کلام پیش خدمت ہے امید ہے رائے سے ضرور نوازیں گے

بندگی پھیلتی گئی مجھ میں
زندگی پھیلتی گئی مجھ میں​

جس کے دامن میں چند لمحے تھے
وہ صدی پھیلتی گئی مجھ میں​

ہاتھ آنا تھا ہاتھ میں اس کا
روشنی پھیلتی گئی مجھ میں​

جب سے اس کا جمال دیکھا ہے
سادگی پھیلتی گئی مجھ میں​

وہ جو آنے لگا خیالوں میں
شاعری پھیلتی گئی مجھ میں

گفتگو کی جو اس نے آنکھوں سے
خامشی پھیلتی گئی مجھ میں
 

رہ وفا

محفلین
حدِ جاں سے گزرنا چاہتی ہیں
امنگیں رقص کرنا چاہتی ہیں

تری دہلیز کی چوکھٹ پہ آنکھیں
دیے کی طرح جلنا چاہتی ہیں

اٹھائو آفتابِ رخ سے پردہ
مری صبحیں اترنا چاہتی ہیں

کبھی گزرو مرے دل کی گلی سے
کہ یہ راہیں سنورنا چاہتی ہیں

مری تنہائیاں بھی سر پھری ہیں
جدائی سے مکرنا چاہتی ہیں

چلو سجاد اس کو ڈھونڈتے ہیں
کہ امیدیں بکھرنا چاہتی ہیں
 

رہ وفا

محفلین
تیری یادوں سے لو لگائی ہے
عمر بھر کی یہی کمائی ہے
وہ نہ آئیں کسی کے دھوکے میں
جنکی نظروں میں پارسائی ہے
اے صبا تو ہی حالِ دل کہنا
کب وہاں تک مری رسائی ہے
آندھیوں سے یہ بجھ نہ پائے گی
میں نے جو شمع دل جلائی ہے
یہ شہادت سے کم نہیں سجاد
انکے در پہ جو موت آئی ہے
 

قمرآسی

محفلین
سو سب سے پہلے اپنی سب سے بہترین کاوش(بزعمِ خود) پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔۔۔! آپ کی آراء و تبصرہ جات کا شدت سے انتظار رہے گا۔۔۔!
دُعا
الٰہی مجھ کو تو ذوقِ مسیحائی عطا کر دے
جنوں کو تو مرے، مولا شکیبائی عطا کر دے

بنوں رہبر دکھاؤں راہ میں گمراہ لوگوں کو
مجھے وہ معرفت ، ایماں، وہ مولائی عطاکردے

مری بے نام منزل کو نشانِ راہ دے دے تو
مجھے تو ذات سے اپنی شناسائی عطا کر دے

الٰہی سوچ سے میری ،ہو روشن اک جہانِ نو
تخیل کو مرے تو ایسی گہرائی عطا کردے

نگہ میری اٹھے جس سمت دنیا ہی بدل جائے
مری بے نور آنکھوں کو ،وہ بینائی عطا کر دے

معطر روح ہو جس سے ، مسخر قلب ہو جس سے
زبان و نطق کو یارب ،وہ گویائی عطا کردے

زَمن جس سے منور ہو، چمن جس سے معطر ہو
مرے کردار کو مولا، وہ رعنائی عطا کر دے

خیالوں کو ملے تصویر اور تعبیر خوابوں کو
مرے وجدان کو یارب، وہ دانائی عطا کر دے

اگر چہ عجز سے ہوں میں تہی دامن ، کرم سے تُو
مرے بے ربط جملوں کو پذیرائی عطا کردے

ترے در پر ندامت سے ،جھکی ہے پھر جبیں میری
تمنائے حزیں کو اب، تو شنوائی عطا کر دے

ترا ہی نام ہو لب پر ، نہ ہو پھر دوسرا کوئی
نصرؔ کو اب تو وہ خلوت، وہ تنہائی عطا کردے



محمد ذیشان نصر
اپریل 2012
ماشااللہ ۔۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
 
ماشاءاللہ ۔تمام سخنوروں!کا شعری مجموعہ کمال است ۔تمام شعراءحضرات کے لئے ڈھیر ساری داد ۔
اچھا سلسلہ ہے بہت زبردست لڑی ہے۔ ۔
 
آخری تدوین:
رنگ وارث کی ہیر کے دیکھو ۔ ۔ ۔ ۔
یا تو مرزا کے تیر کے دیکھو ۔ ۔ ۔ ۔

لذتِ درد چکھنی ہے تو پھر ۔ ۔ ۔ ۔
میرے لفظوں کو چیر کے دیکھو ۔ ۔ ۔ ۔

خلش اُٹھتی ہے تیرے اندر تو ۔ ۔ ۔ ۔
داغ اپنے ضمیر کے دیکھو ۔ ۔ ۔ ۔

اپنی بیتی کرو بیاں تو شعر ۔ ۔ ۔ ۔
بس غالب اور میر کے دیکھو ۔ ۔ ۔ ۔

نام جس پر کھڑوس جچتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔
نام ,غم کے اسیر کے دیکھو ۔ ۔ ۔ ۔

دُکھ چھپُائے نہ اُف نہ ہائے ہائے ۔ ۔ ۔ ۔۔
کام یہ بس فقیر کے دیکھو ۔ ۔ ۔ ۔۔

منزل کی طلب ہو تو ,چھالے ۔ ۔ ۔ ۔
عشق کے راہ گیر کے دیکھو ۔ ۔ ۔ ۔۔

تیرے ابرؤ کو دیکھ کر کہے ’’جوگی ‘‘۔ ۔ ۔ ۔
اب عذاب اس لکیر کے دیکھو ۔ ۔ ۔ ۔

(فہیم ملک جوگی)
 
Top