سخنورانِ محفل کے شعری فن پارے۔۔۔!

آپ کو یہ دھاگہ کیسا لگا۔۔۔؟


  • Total voters
    62

محمد بلال اعظم

لائبریرین
ایک غزل جو پہلے بھی اردو محفل پر پوسٹ ہو چکی ہے، اس تھریڈ کے عنوان کی مناسبت سے پیش کر رہا ہوں

دیکھ مت دل کی طرف اتنی فراوانی سے
یہ کبھی دام میں آتا نہیں آسانی سے
آج کل اوج پہ ہے حالتِ وحشت اپنی
اور کیا پوچھتے ہو درد کے زندانی سے
بابِ حیرت کبھی کھلتا نہیں آئینے پر
تنگ دامان و تہی دست ہے عریانی سے
میں تری چشمِ فسوں ساز میں اُلجھا ایسا
آج تک لوٹ کر آیا نہیں حیرانی سے
اپنے ہمراہ کہاں زادِ سفر رکھتے ہیں
جو محبت کی طرف آئے ہوں نادانی سے
محفلِ عیش و طرب میں بھی گیا ہوں آصف
دل کو تسکین ملی دشت کی ویرانی سے

واہ واہ واہ
خوبصورت
مزید کلام بھی عطا فرمائیں آصف صاحب
 

جاسمن

مدیر
سو سب سے پہلے اپنی سب سے بہترین کاوش(بزعمِ خود) پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔۔۔! آپ کی آراء و تبصرہ جات کا شدت سے انتظار رہے گا۔۔۔!
دُعا
الٰہی مجھ کو تو ذوقِ مسیحائی عطا کر دے
جنوں کو تو مرے، مولا شکیبائی عطا کر دے

بنوں رہبر دکھاؤں راہ میں گمراہ لوگوں کو
مجھے وہ معرفت ، ایماں، وہ مولائی عطاکردے

مری بے نام منزل کو نشانِ راہ دے دے تو
مجھے تو ذات سے اپنی شناسائی عطا کر دے

الٰہی سوچ سے میری ،ہو روشن اک جہانِ نو
تخیل کو مرے تو ایسی گہرائی عطا کردے

نگہ میری اٹھے جس سمت دنیا ہی بدل جائے
مری بے نور آنکھوں کو ،وہ بینائی عطا کر دے

معطر روح ہو جس سے ، مسخر قلب ہو جس سے
زبان و نطق کو یارب ،وہ گویائی عطا کردے

زَمن جس سے منور ہو، چمن جس سے معطر ہو
مرے کردار کو مولا، وہ رعنائی عطا کر دے

خیالوں کو ملے تصویر اور تعبیر خوابوں کو
مرے وجدان کو یارب، وہ دانائی عطا کر دے

اگر چہ عجز سے ہوں میں تہی دامن ، کرم سے تُو
مرے بے ربط جملوں کو پذیرائی عطا کردے

ترے در پر ندامت سے ،جھکی ہے پھر جبیں میری
تمنائے حزیں کو اب، تو شنوائی عطا کر دے

ترا ہی نام ہو لب پر ، نہ ہو پھر دوسرا کوئی
نصرؔ کو اب تو وہ خلوت، وہ تنہائی عطا کردے



محمد ذیشان نصر
اپریل 2012
آمین! ثم آمین
 
آخری تدوین:
یہ محبت کا نیا دور یہ چاہت کے نئے رنگ
نہ حقیقت پہ ہیں مبنی نہ صداقت کے الم

اس دور میں اے لوگو جو محبت ہے وہ ایسے ہے
جیسے ارماں کو فتح کرنے کوئی نکلا ہو بن قاسم

جب درد کا آدی ہی خود ہمدرد بنا ڈالے
کیسے اظہار کرے کوئی ،کوئی کیسے کرے ماتم

اظہار محبت میں گر کچھ بھی صداقت ہو
دل ہوتا ہے سی پارہ انکار جو کر دے صنم

اس عشق کی گرمی میں گر کچھ ایسی حرارت ہے
جو دل کو جلا بخشے پرسوز کرے ہر دم

جب عشق تماشا ہو اور معشوق تماشائی
تب عشق کی نگری میں ہوتے نئے باب رقم

میرے دل کی بھی بستی ہے جہاں صرف وہ بستی ہے
جیسے کہتا ہوں میں جان غزل اور لکھتا ہوں ماہ اتم

دل جس کی محبت کا برسوں سے ہے قیدی مجیب
اے کاش کے رکھ لے وہ میری بھی محبت کا بھرم

بقلم : محمد مجیب صفدر
 
آپ تمام دوستوں کی ںظر ایک غزل اگر پسند آئیں تو حوصلہ آفزائی ضرور کریں یہ میری اپنی غزل ہے ۔

رنج و الم کے ڈھول بجا کر چاہت کے کشکول اٹھا کر۔
دردر پھرنا ٹھیک نہیں ،سنو محبت بھیک نہیں

چاہت کا اظہار یوں کرنا جیسے ہو کوءی بوجھ سا دل میں
ایسا کرنا ٹھیک نہیں ۔سنو محبت بھیک نہیں

بستی دل کی اجھاڑنی ہو تو اتنا سوچ کہ اجھاڑنا تم
پھر یہ ملتی پریت نہیں ،سنو محبت بھیک نہیں

مانا میں نہیں مجنوں جیسا نہ ہی کوءی رانجھا ہوں
سچ ہے یہ بھی جان غزل ،تم بھی تو کوءی ھیر نہیں

چاہت ایسا پنچھی ہے جو چاہت سے ہی پلتا ہے
گر چاہت نہ ہو دل میں مجیب،پھر اس کو پکڑنا ٹھیک نہیں

سنو محبت بھیک نہیں

بقلم : محمد مجیب صفدر
 
محمد مجیب صفدرصاحب رات سے ادھر ادھر اپنی غزلیں بکھیر رہے ہیں ۔کبھی صحافت کے دھاگہ میں ،کبھی تعارف کے دھاگہ میں تو کبھی عظیم بھائی اور محفلین کے دھاگہ میں ۔اگر آپ کو طریقہ نہیں پتہ تو جاننے کی کوشش کریں ۔کیا پریشانی ہے ۔لیکن ایسے جہاں تہاں ایک ہی چیز کو نہ پھیلائیں ۔قاری کو اس سے دشواری ہوتی ہے ۔اور ایک دھاگہ جو پہلے چل رہا ہوتا ہے کسی خاص موضوع پر وہاں بلا وجہ لوگ ڈسٹرب ہوتے ہیں ایسی چیزوں سے ۔
 
ہم نے تو انہیں باقاعدہ سمجھایا لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات
محمد مجیب صفدر بھائی! اس کا طریقہ نہایت آسان ہے۔ بزمِ سخن میں مندرجہ ذیل زمروں میں اپنے کلام کے لیے مناسب زمرہ چن کر اس پر کلک کیجیے
اصلاحِ سخن
آپ کی شاعری ( پابندِ بحور شاعری)
آپ کی نثری شاعری( بحور سے آزاد)

اب جو صفحہ نمودار ہوگا، اس کے بائیں ہاتھ اوپر کی جانب ’’ نئی لڑی ارسال کریں‘‘ پر کلک کیجیے اور وہاں پر اپنا کلام مرحمت فرمادیجیے۔اللہ اللہ خیر صلا
 
محمد مجیب صفدرصاحب رات سے ادھر ادھر اپنی غزلیں بکھیر رہے ہیں ۔کبھی صحافت کے دھاگہ میں ،کبھی تعارف کے دھاگہ میں تو کبھی عظیم بھائی اور محفلین کے دھاگہ میں ۔اگر آپ کو طریقہ نہیں پتہ تو جاننے کی کوشش کریں ۔کیا پریشانی ہے ۔لیکن ایسے جہاں تہاں ایک ہی چیز کو نہ پھیلائیں ۔قاری کو اس سے دشواری ہوتی ہے ۔اور ایک دھاگہ جو پہلے چل رہا ہوتا ہے کسی خاص موضوع پر وہاں بلا وجہ لوگ ڈسٹرب ہوتے ہیں ایسی چیزوں سے ۔
معزرت جناب مجھے ابھی طریقہ نہیں پتا اس لیے ایسے ہوا ہے میں آپ سے معزرت چاہتا ہوں اس گستاخی کی
 

قیصرانی

لائبریرین
معزرت جناب مجھے ابھی طریقہ نہیں پتا اس لیے ایسے ہوا ہے میں آپ سے معزرت چاہتا ہوں اس گستاخی کی
محفل پر اوپر دائیں جانب آپ کو چند لنکس دکھائی دیں گے، جیسے
سرورق
فورم
ڈاؤن لوڈ
وغیرہ وغیرہ
اس میں جب آپ فورم پر کلک کرتے ہیں تو سارا فورم آپ کے سامنے کھل جاتا ہے۔ اس میں آپ بزمِ سخن کے زمرے یعنی کیٹیگری میں جا کر اپنے کلام کو پیش کر سکتے ہیں۔ مناسب کیٹیگری میں جا کر کسی تھریڈ یعنی دھاگے پر اوپر بائیں جانب "نئی لڑی ارسال کریں" پر کلک کر کے نیا دھاگہ بنائیں اور اپنا کلام عطا کرتے جائیں :)
 

قیصرانی

لائبریرین
حضور اگر آپ سیکھائیں گے تو ہی سیکھ سکو ں گا ایسے تو نہں سیکھ پائوں گا نہ
آپ اس لنک پر کلک کیجئے
http://www.urduweb.org/mehfil/forums/اِصلاحِ-سخن.37/
پھر اس میں اوپر بائیں جانب "نئی لڑی ارسال کریں" پر کلک کر کے اپنی لڑی کا نام لکھیں اور پھر اسی دھاگے پر دھڑا دھڑ اپنی شاعری پوسٹ فرماتے جائیں :)
 
آپ اس لنک پر کلک کیجئے
http://www.urduweb.org/mehfil/forums/اِصلاحِ-سخن.37/
پھر اس میں اوپر بائیں جانب "نئی لڑی ارسال کریں" پر کلک کر کے اپنی لڑی کا نام لکھیں اور پھر اسی دھاگے پر دھڑا دھڑ اپنی شاعری پوسٹ فرماتے جائیں :)

آج کل مشتاق یوسفی کو پڑھ رہے کیا بھائی جان ۔۔۔۔ یا کرنل محمد خان کو ۔۔۔۔۔۔۔۔:)
 

عظیم

محفلین
عظیم صاحب کی طرح
انھوں نے کہیں لکھا کہ وہ اب تک شاعری میں اپنے مشق کی چیزیں محفلین کو بے وقوف بناتے رہے ۔

جی نہیں بھائی میں بیوقوف تو خُود بنا ہُوا تھا اللہ معاف کرے میں کون ہوتا ہوں کسی کو بیوقوف بنانے والا ؟ دراصل مجھے خبط ہو گیا تھا کہ میں کوئی غالب ایسا بہت بڑا شاعر پیدا ہو گیا ہوں لیکن جیسے جیسے شاعری کی سمجھ آتی رہی تو خود کو وصی شاہ سے بھی کہیں پیچھے پاتا ہوں ۔ اور سوچتا ہوں مشقِ سخن تو اب شروع ہوئی ۔ اب پھر سے اصلاحِ سخن کا رُخ کروں گا ۔ اور بابا کا خوب سر کھاؤں گا ۔
 
Top