سخنورانِ محفل کے شعری فن پارے۔۔۔!

متلاشی نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 1, 2013

?

آپ کو یہ دھاگہ کیسا لگا۔۔۔؟

  1. زبردست ہے

    73.2%
  2. مناسب ہے

    26.8%
  3. فضول ہے

    0 آرا
    0.0%
  1. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    جی وہ کسی کا ایک مصرع یاد ہے غالبا داغ کا ہے ، کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  2. محمد علم اللہ

    محمد علم اللہ محفلین

    مراسلے:
    5,832
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Daring
    آپ شاعری اچھی کرتے ہیں بس ذرا اس میں فکر و فلسفہ کا تڑکا لگائیے ۔۔۔۔غالب فیل ہو جائیں گے :)
     
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    جی ہاں جاتا ہوں صبح لائبریری فلسفہ کی ڈھیر ساری کتابیں اُٹھا کر لاؤں گا ۔ مگر میرے بھائی کا کہنا ہے کہ گدھے پر فلسفے کی کتابیں لاد دینے سے وہ فلاسفر نہیں بن جاتا ۔ ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  4. محمد علم اللہ

    محمد علم اللہ محفلین

    مراسلے:
    5,832
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Daring
    قران کی ایک آیت بھی تو ہے اسی طرح ۔۔۔۔ مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا۔۔۔۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. محمد علم اللہ

    محمد علم اللہ محفلین

    مراسلے:
    5,832
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Daring
    لیجئے پوری آیت بھی مل گئی ۔۔۔۔۔۔
    مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا ۚ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (سورہ جمعہ 5 )
    جن لوگوں (کے سر) پر تورات لدوائی گئی پھر انہوں نے اس (کے بار تعمیل) کو نہ اٹھایا ان کی مثال گدھے کی سی ہے جن پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  6. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    بہت شکریہ بھائی ۔
     
  7. گل زیب انجم

    گل زیب انجم محفلین

    مراسلے:
    566
    موڈ:
    Festive
    شQUOTE="متلاشی, post: 1228603, member: 5103"]سو سب سے پہلے اپنی سب سے بہترین کاوش(بزعمِ خود) پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔۔۔! آپ کی آراء و تبصرہ جات کا شدت سے انتظار رہے گا۔۔۔!
    دُعا
    الٰہی مجھ کو تو ذوقِ مسیحائی عطا کر دے
    جنوں کو تو مرے، مولا شکیبائی عطا کر دے

    بنوں رہبر دکھاؤں راہ میں گمراہ لوگوں کو
    مجھے وہ معرفت ، ایماں، وہ مولائی عطاکردے

    مری بے نام منزل کو نشانِ راہ دے دے تو
    مجھے تو ذات سے اپنی شناسائی عطا کر دے

    الٰہی سوچ سے میری ،ہو روشن اک جہانِ نو
    تخیل کو مرے تو ایسی گہرائی عطا کردے

    نگہ میری اٹھے جس سمت دنیا ہی بدل جائے
    مری بے نور آنکھوں کو ،وہ بینائی عطا کر دے

    معطر روح ہو جس سے ، مسخر قلب ہو جس سے
    زبان و نطق کو یارب ،وہ گویائی عطا کردے

    زَمن جس سے منور ہو، چمن جس سے معطر ہو
    مرے کردار کو مولا، وہ رعنائی عطا کر دے

    خیالوں کو ملے تصویر اور تعبیر خوابوں کو
    مرے وجدان کو یارب، وہ دانائی عطا کر دے

    اگر چہ عجز سے ہوں میں تہی دامن ، کرم سے تُو
    مرے بے ربط جملوں کو پذیرائی عطا کردے

    ترے در پر ندامت سے ،جھکی ہے پھر جبیں میری
    تمنائے حزیں کو اب، تو شنوائی عطا کر دے

    ترا ہی نام ہو لب پر ، نہ ہو پھر دوسرا کوئی
    نصرؔ کو اب تو وہ خلوت، وہ تنہائی عطا کردے



    محمد ذیشان نصر
    اپریل 2012
    [/QUOTE]
    ماشاء اللہ بہت خوب
     
  8. ذوالفقار نقوی

    ذوالفقار نقوی محفلین

    مراسلے:
    383
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Happy
    بہت عمدہ لڑی ہے .....واہ
    کیا اب بھی اس لڑی میں کلام لگایا جا سکتا ھے؟
     
  9. عین عین

    عین عین لائبریرین

    مراسلے:
    795
    موڈ:
    Depressed
    بالکل لگائیں۔
     
  10. ذوالفقار نقوی

    ذوالفقار نقوی محفلین

    مراسلے:
    383
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Happy
    لیکن محترم انتخاب کیسے ہو!
     
  11. گل زیب انجم

    گل زیب انجم محفلین

    مراسلے:
    566
    موڈ:
    Festive
    پروفیسر انوار حسین چشتی
    کی یاد میں

    داغ مفارقت سے سینہ پاش پاش ہے میرا
    کرنا پھر بھی مجھے غموں کا اظہار نہیں آتا

    مسلماں ہوں عقیدہ کُل نفسً ذائقۃالموت ہے میرا
    جانے پھر کیوں تیری موت کا اعتبار نہیں آتا

    نوحہ تیرا خوں سے لکھوں یا لکھوں سیائی سے
    کسی صورت بھی میرے دل کو قرار نہیں آتا

    بہا کر بحر اشک آنکھوں نے کچھ تو تسکین پا لی
    کروں کیا دل کا دل کو صبر و قرار نہں آتا

    میں تیرا ہر اک انداز چرا بھی لیتا مگر پھر بھی
    تجھ سا تو ، مجھے سلیقہ گفتار نہیں آتا

    کل کی طرح آج بھی تکتی ہے ماں راہگذر تیری
    کہے کسے بسم اللہ کوئی تجھ سا سائیکل سوار نہیں آتا

    بات کوئی تو تجھ میں منفرد تھی نرالی تھی
    ورنہ یونہی کسی کو کسی پہ پیار نہیں آتا

    پوچھا گیا جب تیرے مکتب کے اک طالب علم سے
    کہنے لگا سبھی آتے ہیں مگر ڈھیری کا شہسوار نہیں آتا

    منعقد آج بھی ہو رہی ہیں ہر سو محفلیں بہت
    مگر اُن میں کوئی تجھ سا ہروفیسر انوار نہیں آتا
     
  12. فاروق احمد بھٹی

    فاروق احمد بھٹی محفلین

    مراسلے:
    2,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    استاذِ گرامی نظم بہت پسند آئی خصوصا یہ حصہ
    مرے لفظوں کی حرمت کے خریداروں میں شامل ہے
    صدائے نغمہ ریز
    ان بچیوں کی، جو یہ کہتی تھیں:
    ’’وہ دیکھو!
    پار اُن ٹیلوں کے ہوتا ہے طلوعِ بدر
    تم سارے دعا مانگو!
    خدا کا شکر واجب ہے‘‘
    وہ کہتی تھیں کہ ’’ہم ہیں
    بیٹیاں نجار کے کنبے کی
    باعث ہے مسرت کا
    کہ انسانوں کا محسن
    آدمیت کے تقدس کا پیمبر
    ہو گا، ہمسایہ ہمارا،
    تم دعا مانگو!‘‘
    پیامِ انبساط و سرخوشی تھا
    اہلِ یثرب کے لئے یہ گیت
    جو، اَب ہے
    مری عزت کا باعث
    اور میرے حرف سارے
    اس حبیبِ کبریا کے بابِ عزت پر
    کھڑے ہیں
    دست بستہ، بے زباں، بے جرأتِ اظہار
    لرزاں!
    کوئی گستاخی نہ ہو جائے!

    کہ بقولِ اقبال بھی
    خیمہِ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
    نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,072
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    ہم منتظر ہیں کسی نئے کلام کے۔۔۔۔۔۔
     
    • متفق متفق × 1
  14. گل زیب انجم

    گل زیب انجم محفلین

    مراسلے:
    566
    موڈ:
    Festive
    ہم کوشش کرتے ہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. گل زیب انجم

    گل زیب انجم محفلین

    مراسلے:
    566
    موڈ:
    Festive
    نظم

    جب سے
    گنگنانا چهوڑی ہے
    غزل تیری
    تب سے
    یہ سر اپنی
    بےسرور لگتی ہے

    ملنا
    ہوا ہے محال
    جب سے
    کر لی بلند اس نے
    فصیل اپنی
    دید کی مشتاق
    آنکھوں کی بنیائی
    مجبور لگتی ہے

    جہاز
    ریل کار اور کاریں
    سب کچھ تو ماجود
    مقدر کے در پہ
    بنی منزل
    بہت
    دور لگتی ہے

    بالشت بهر کا سفر
    عمر بهر
    ہم سے طے
    ہو نہ پایا
    اس کے شکوے لبوں تک ہی رہے
    مگر
    گلہ میں بھی اس سے
    کر نہ بایا
    کہ
    میری ہی زندگی
    میری قسمت کی طرح
    بہت
    مجبور لگتی ہے
     
  16. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    "بہترین غزل" تو دور کی بات ہے ، اپنے کسی مجموعۂ اشعار کو "غزل" کا نام دینا بھی مناسب نہیں گلتا ، بس ہیئت کے لحاظ سے نظم وغیرہ سے فرق کرنے کے لیے اپنے جن مجموعوں کو اب تک "غزل" کا نام دیا ہے ان میں سے ایک مجموعہ پیش ہے:

    بے کیف ہے یہ تبصرے کرنا پیے بغیر
    ممکن نہیں زباں کا نکھرنا پیے بغیر

    کیا بے مزہ سفر ہے یہ کوہِ حیات کا
    چڑھنا پیے بغیر ، اترنا پیے بغیر

    زہریلا جام تھام کے سوچے ہے تشنہ کام
    اچھا ہے پی کے مرنا کہ مرنا پیے بغیر

    ہم کر رہے ہیں تھوک نگل کر گزارہ جو
    مشکل ہے مے کدے سے گزرنا پیے بغیر

    ساقی ہمارے دیس کے کیا قیس ہوگئے
    دو بھر ہے دو پیالے جو بھرنا پیے بغیر

    ٹکتی نہیں ہے روئے بنا آبشار بھی
    بھرتا نہیں ہے بھائیو! جھرنا پیے بغیر

    فتویٰ کچھ اور لکھتا اسامہ! ترا قلم
    ہوتا اگر نہ تیرا مکرنا پیے بغیر​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
  17. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,125
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزلِ
    واصفؔ علی واصف
    ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صورت
    احباب کی صورت ہو کہ اغیار کی صورت
    سینے میں اگر سوز سلامت ہو تو خود ہی
    اشعار میں ڈھل جاتی ہے افکار کی صورت
    جس آنکھ نے دیکھا تجھے اس آنکھ کو دیکھوں
    ہے اس کے سِوا کیا ترے دیدار کی صورت
    پہچان لیا تجھ کو تری شیشہ گری سے
    آتی ہے نظر فن سے ہی فنکار کی صورت
    اشکوں نے بیاں کرہی دِیا رازِ تمنّا
    ہم سوچ رہے تھے ابھی اظہار کی صورت
    اس خاک میں پوشیدہ ہیں ہر رنگ کے خاکے
    مٹی سے نکلتے ہیں جو گلزار کی صورت
    دل ہاتھ پہ رکھا ہے، کوئی ہے جو خریدے
    دیکھوں تو ذرا میں بھی خریدار کی صورت
    صورت مری آنکھوں میں سمائے گی نہ کوئی
    نظروں میں بسی رہتی ہے سرکار کی صورت
    واصفؔ کو سرِ دار پکارا ہے کسی نے
    انکار کی صورت ہے نہ اقرار کی صورت
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  18. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,125
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    وہ دل ہی کیا جو تیرے ملنے کی دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کر زندہ رہوں خدا نہ کرے
    رہے گا ساتھ تیرا، پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات ہے زندگی میری وفا نہ کرے
    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے
    اگر وفا پر بھروسہ رہے نہ دنیا کو
    تو کوئی شخص محبت کا حوصلہ نہ کرے
    سنا ہے محبت اس کو دعائیں دیتی ہیں
    جو دل پہ چوٹ کھائے مگر گلہ نہ کرے
    بجھا دیا نصیبوں نے میرے پیار کا چاند
    کوئی دیا میری پلکوں پہ اب جلا نہ کرے
    زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے
    قتیل جان سے جائے یہ التجا نہ کرے
    قتیل شفائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,125
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
    ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا
    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
    سمجھو وہاں پھلدار شجر کوئی نہیں ہے
    وہ صحن کہ جِس میں کوئی پتھر نہیں گرتا
    اِتنا تو ہوا فائدہ بارش کی کمی سے
    اِس شہر میں اب کوئی پھسل کر نہیں گرتا
    انعام کے لالچ میں لکھے مدح کسی کی
    اتنا تو کبھی کوئی سخنور نہیں گرتا
    حیراں ہے کوئی روز سے ٹھہرا ہوا پانی
    تالاب میں اب کیوں کوئی کنکر نہیں گرتا
    اس بندہء خوددار پہ نبیوں کا ہے سایا
    جو بھوک میں بھی لقمہء تر پر نہیں گرتا
    کرنا ہے جو سر معرکہِ زیست تو سُن لے
    بے بازوئے حیدر، درِ خیبر نہیں گرتا
    قائم ہے قتیل اب یہ میرے سر کے ستوں پر
    بھونچال بھی آئے تو مرا گھر نہیں گرتا
     
  20. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,125
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں
    ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں
    جی میں آتا ہے الٹ دیں انکے چہرے سے نقاب
    حوصلہ کرتے ہیں لیکن حوصلہ ہوتا نہیں
    شمع جس کی آبرو پر جان دے دے جھوم کر
    وہ پتنگا جل تو جاتا ہے فنا ہوتا نہیں
    اب تو مدت سے رہ و رسمِ نظارہ بند ہے
    اب تو ان کا طُور پر بھی سامنا ہوتا نہیں
    ہر شناور کو نہیں ملتا تلاطم سے خراج
    ہر سفینے کا محافظ ناخدا ہوتا نہیں
    ہر بھکاری پا نہیں سکتا مقامِ خواجگی
    ہر کس و ناکس کو تیرا غم عطا ہوتا نہیں
    ہائے یہ بیگانگی اپنی نہیں مجھ کو خبر
    ہائے یہ عالم کہ تُو دل سے جُدا ہوتا نہیں
    بارہا دیکھا ہے ساغرؔ رہگذارِ عشق میں
    کارواں کے ساتھ اکثر رہنما ہوتا نہیں
    شاعر: ساغرؔ صدیقی
     

اس صفحے کی تشہیر