ای بک تشکیل روپ کا کندن۔۔۔۔۔ منیر انور

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 24, 2013

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وہ تعلق ہی نبھ نہ سکتا تھا
    لاکھ چاہا تھا، لاکھ سوچا تھا

    ہجر کی دھوپ ہی مقدر تھی
    میں نے ہر زاویے سے دیکھا تھا

    اُس کا انکار ٹھیک تھا لیکن
    اُس کا لہجہ سنا تھا ؟ کیسا تھا

    وقت ہجرت کا زخم بھر دے گا
    کس قدر واجبی دلاسہ تھا

    اُس کے دل میں اُتر گیا ہو گا
    ایک آنسو، کہ دل سے نکلا تھا

    وہ فقط مجھ سے دور تھا انورؔ
    ورنہ ہر شخص اُس کا اپنا تھا
    ٭٭٭
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جب بھی ملنے کے زمانے آئے
    بد گمانی میں سلگتے آئے

    کس کو الزامِ تباہی دیں ہم
    کئی پتھر، کئی شعلے آئے

    بھول بیٹھے ہیں اڑانیں اپنی
    ہم ترے ہاتھ میں ایسے آئے

    ان کے انداز میں اغماض بڑھا
    میری پلکوں پہ ستارے آئے

    کتنے برسوں کا سفر خاک ہوا
    اس نے جب پوچھا کہ کیسے آئے
    ٭٭٭
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دیکھ کتنا ترا خیال کیا
    تجھ سے کوئی نہیں سوال کیا

    خوشبوؤں کو تری مثال کہا
    چاندنی کو ترا جمال کیا

    ایک سادہ سی مسکراہٹ نے
    زندگی بخش دی، نہال کیا

    کوئی تازہ ہوا تھی وہ جس نے
    سانس کا زیر و بم بحال کیا

    آرزو، نارسائی، ناکامی
    اس ڈگر نے عجیب حال کیا

    ہم نے ہر حال میں گذاری ہے
    ہم نے ہر حال میں کمال کیا

    ہم کو محفل میں بے وفا کہہ کر
    آپ نے کون سا کمال کیا

    ہم نے انورؔ کسی کی حسرت میں
    خود کو کس درجہ پائمال کیا
    ٭٭٭
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہے مکمل انہی سے ذات مری
    میرے بچّے ہیں کائنات مری

    میں بس انسانیت کا قائل ہوں
    پوچھتے کیا ہو ذات پات مری

    زیست جینا محال کر دے گی
    یاد آئے گی بات بات مری

    اس نے بھی میرا ہاتھ چھوڑ دیا
    جس کے ہاتھوں میں تھی حیات مری

    اُس نے بس مسکرا کے دیکھا تھا
    کھِل اٹھی ساری کائنات مری

    کس قدر بے مثال سپنا تھا
    چین سے کٹ گئی ہے رات مری

    تیرے لہجے سے حوصلہ پا کر
    گنگنانے لگی حیات مری

    جیت کر بھی وہ رو دیا انورؔ
    اُس سے دیکھی گئی نہ مات مری
    ٭٭٭
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہر ایک زخمِ تمنا بھلا لگا ہم کو
    بہت عزیز ہے چاہت کا سلسلہ ہم کو

    ہزار بحرِ حوادث کو مات دی لیکن
    کسی کی آنکھ کا آنسو ڈبو گیا ہم کو

    قریب تھا تو مسلسل گریز کرتا تھا
    بچھڑ کے ہم سے مگر، سوچتا رہا ہم کو

    حضور آپ کا فرمان ٹھیک تھا لیکن
    حضور آپ کا لہجہ بہت کَھلا ہم کو

    خزاں رُتوں کے تسلسل میں گھر گیا انورؔ
    دِکھا رہا تھا بہاروں کا راستا ہم کو
    ٭٭٭
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کئے جاتے ہیں جو وعدے پہ وعدہ
    ہمیں معلوم ہے ان کا ارادہ

    یہاں انساں ہیں کم منصب زیادہ
    کوئی مخدوم کوئی خان زادہ

    کوئی رستہ نہیں دیتا کسی کو
    رہے بالکل نہیں ہیں دل کشادہ

    بہت سا پیار کب مانگا ہے میں نے
    مگر اے زندگی تھوڑا زیادہ

    ارادہ ہے ہمی جا کر منا لیں
    انا کا چاک کر ڈالیں لبادہ

    ہمیں اب مشورے دینے لگا ہے
    جو ہم سے کر رہا تھا استفادہ

    اسے شہہ مات ہو جائے گی انورؔ
    اگر ہم نے بڑھایا اک پیادہ
    ٭٭٭
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غیر جب آپ کا رہبر ہو گا
    ہر جزیرے پہ سمندر ہو گا

    جو بھی ہیں مسئلے ان پر فوراً
    بات ہو جائے تو بہتر ہو گا

    آج تک تو نہ ہوا یوں لیکن
    آج کے بعد یہ اکثر ہو گا

    وحشتوں کو جو سنبھالا نہ گیا
    شہر کا اور ہی منظر ہو گا

    آج عنقا ہے یہاں تابِ سخن
    آج جو بولے گا باہر ہو گا

    لوگ پاگل تو نہیں ہیں انورؔ
    یہ کوئی اور ہی چکر ہو گا
    ٭٭٭
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غم کو خود پر سوار مت کرنا
    زخم کو اشتہار مت کرنا

    ایک حد میں رہو تو اچھا ہے
    حد کی دیوار پار مت کرنا

    اپنی پرواز بھول جاؤ گے
    غیر پر انحصار مت کرنا

    سر اٹھانا محال ہو جائے
    خود کو یوں زیرِ بار مت کرنا

    وقت کب انتظار کرتا ہے
    وقت کا انتظار مت کرنا

    بات کرنا تو سامنے کرنا
    پیٹھ پیچھے سے وار مت کرنا

    حوصلے سے سہارنا غم کو
    درد کو بے وقار مت کرنا

    چاہتوں کے حساب میں انورؔ
    ایک پل بھی ادھار مت کرنا
    ٭٭٭
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ان سے تکرار ہو گئی آخر
    راہ دیوار ہو گئی آخر

    آخر کار دل بدل ہی گیا
    بات تلوار ہو گئی آخر

    اک غلط فہمی، اک شکر رنجی
    دل کا آزار ہو گئی آخر

    آئے دن ایک ہی تماشہ ہے
    خلق بے زار ہو گئی آخر

    اختیارات کی لڑائی میں
    تار دستار ہو گئی آخر

    ہم تو سمجھے تھے بات ختم ہوئی
    ذہن پر بار ہو گئی آخر

    وقت پر کب سنی گئی ان سے
    آہ بے کار ہو گئی آخر

    عرض، اک عرض ہی تو تھی انورؔ
    نذرِ انکار ہو گئی آخر
    ٭٭٭
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شناور ڈوب جانا چاہتے ہیں
    مسافر اب ٹھکانہ چاہتے ہیں

    ہمارے چاہنے والے ہمیں سے
    بچھڑنے کا بہانہ چاہتے ہیں

    نئی اقدار اپنائیں خوشی سے
    پرانی کیوں مٹانا چاہتے ہیں

    اب آگے راستہ مشکل نہیں ہے
    مگر ہم لوٹ جانا چاہتے ہیں

    کہیں جانے کی اندھی خواہشوں میں
    کہیں سے لوٹ آنا چاہتے ہیں

    عجب اِک اضطراری کیفیت ہے
    اُسے بھی بھول جانا چاہتے ہیں

    روایت کے گھنے جنگل میں انورؔ
    کوئی رستہ بنانا چاہتے ہیں
    ٭٭٭
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شناور ڈوب جانا چاہتے ہیں
    مسافر اب ٹھکانہ چاہتے ہیں

    ہمارے چاہنے والے ہمیں سے
    بچھڑنے کا بہانہ چاہتے ہیں

    نئی اقدار اپنائیں خوشی سے
    پرانی کیوں مٹانا چاہتے ہیں

    اب آگے راستہ مشکل نہیں ہے
    مگر ہم لوٹ جانا چاہتے ہیں

    کہیں جانے کی اندھی خواہشوں میں
    کہیں سے لوٹ آنا چاہتے ہیں

    عجب اِک اضطراری کیفیت ہے
    اُسے بھی بھول جانا چاہتے ہیں

    روایت کے گھنے جنگل میں انورؔ
    کوئی رستہ بنانا چاہتے ہیں
    ٭٭٭
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دُکھوں کی رات میں اک یاد کے حوالے سے
    ہمارے ساتھ رہے روشنی کے ہالے سے

    سفر نیا تو نہیں ہے مگر نہ جانے کیوں
    ہمارے پاؤں میں اُگنے لگے ہیں چھالے سے

    کہا یہ اُس نے کہ ہے مستند کہا میرا
    کہی نہ بات کسی مستند حوالے سے

    بچھڑ کے مجھ سے اُسے ماننا پڑا یہ بھی
    وہ معتبر تھا اگر، تھا مرے حوالے سے

    بہت اداس، بڑے مضمحل سے لوٹے ہیں
    سوال کرنے گئے تھے کلاہ والے سے

    ذرا سا اپنے گریباں میں جھانکئے انورؔ
    گِلہ درست نہیں آسمان والے سے
    ٭٭٭
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تیرے آنچل کو ستاروں سے سجانا چاہوں
    میں بَہَر طَور تجھے اپنا بنانا چاہوں

    وہ تو گردش ہے مِرے پاؤں میں ساتھی ورنہ
    کون کہتا ہے تِرے شہر سے جانا چاہوں

    مانتا ہوں کہ بہت عیب ہیں مجھ میں لیکن
    دل کسی کا کسی پہلو نہ دکھانا چاہوں

    یہ کھلونے میری وقعت سے بہت مہنگے ہیں
    اپنے بچے کو یہی بات سجھانا چاہوں

    جل رہا ہے میرے ہمسائے کا گھر، اور میں بس
    اپنی دیوار کو شعلوں سے بچانا چاہوں

    بے زری جرم بھی ہے، جرم کی تمہید بھی ہے
    حاکم وقت کو بس اتنا بتانا چاہوں

    منصفو، محتسبو، مجھ کو سزا دو کہ میں پھر
    زخم احساس زمانے کو دکھانا چاہوں

    اُس کو ضد ہے کہ نئے ڈھنگ سے چاہوں اُس کو
    میں اُسی لَے میں، وہی گیت سنانا چاہوں

    بھول کر خالق دَوراں کی مشیّت انورؔ
    ریت پر نقش بنا کے، نہ مٹانا چاہوں
    ٭٭٭
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اب مری راہ سے ہٹا سپنے
    اب کسی اور کو دکھا سپنے

    ہم نے وہ راستہ ہی چھوڑ دیا
    جس پہ بکھرے تھے جا بجا سپنے

    زندگی سے نظر چراتا کون
    کون بے کار دیکھتا سپنے

    اتنا آسان بھی نہیں ہوتا
    جاگنا اور دیکھنا سپنے

    چین سے کٹ رہی تھی زندہ تھے
    کون آنکھوں میں بو گیا سپنے

    ہم نے پوچھا تھا بے کلی کا سبب
    دل نے ہنستے ہوئے کہا سپنے

    میں تو کب کا بھلا چکا ہوتا
    تیرا لہجہ دکھا گیا سپنے

    زندگی تلخ تر حقیقت ہے
    تو یہ کیا دیکھنے چلا سپنے

    آج انورؔ بہت اداس ہوں میں
    آج یاد آئے بے بہا سپنے
    ٭٭٭
     
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہمارے ساتھ چلے، حوصلہ کسی کا نہیں
    بس ایک شخص تھا، وہ بھی ہوا کسی کا نہیں

    ابھی تو بزم میں بس ذکر ہی چلا تھا ترا
    وہیں کہیں سے کسی نے کہا، کسی کا نہیں

    عجیب شخص ہے باتیں کمال کرتا ہے
    گلہ کرے گا، کہے گا، گلہ کسی کا نہیں

    تمہارے سکّوں میں کر دوں ادائیگی تم کو
    مگر یہ دل کہ برا سوچتا کسی کا نہیں

    ہمیں یقیں تو نہیں ہے یہ لوگ کہتے ہیں
    تمہارے شہر میں ہوتا بھلا کسی کا نہیں

    جو بات ہم نے سرِ بزم اُن سے کہہ دی ہے
    یہ بات کوئی کہے، حوصلہ کسی کا نہیں

    ہمیں یقین کی حد تک گمان ہے انورؔ
    وہ شخص آج بھی اپنے سوا کسی کا نہیں
    ٭٭٭
     
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تذبذب

    مرے بائیں ہاتھ کی پشت پر
    یہ جو چاند سا ہے سجا ہوا
    تری خوشبوؤں میں بسا ہوا
    تری چاہتوں میں گندھا ہوا

    اسے ماہِ مہر و وفا کہوں؟
    تری حسرتوں کی صدا کہوں؟
    ترے انتظار میں جو کٹے
    اسے ان دنوں کا صلہ کہوں؟

    اسے کیا کہوں؟؟
    ٭٭٭
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تھوڑی سی مٹی کی، اور دو بوند پانی کی کتاب
    ہو اگر بس میں تو لکھیں زندگانی کی کتاب

    رتجگے، تنہائیاں، پانے کا، کھو دینے کا ذکر
    لیجئے، پڑھ لیجئے میری جوانی کی کتاب

    کہہ رہی ہے شہر کی بربادیوں کی داستاں
    ادھ جلے کچھ کاغذوں میں اک کہانی کی کتاب

    زندگی بھر کفر کے فتووں کی زد میں تھا وہ شخص
    معتبر ٹھہری ہے اب جس آنجہانی کی کتاب

    وقت کے ظلمت کدے میں ہے بھلا کس کو دوام
    اب کہاں سے لاؤں میں تیری نشانی کی کتاب

    دیکھئے جس کو لئے پھرتا ہے انورؔ دوش پر
    اپنی ناکامی کسی کی کامرانی کی کتاب
    ٭٭٭
     
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بے تکان دعوے ہیں پیار کے رفاقت کے
    ہاں مگر محبت میں رنگ ہیں سیاست کے

    وہ جہاں بٹھاتے ہیں، لوگ بیٹھ جاتے ہیں
    اور کچھ نہیں صاحب، ہیں کمال طاقت کے

    دوستی نہیں کوئی، دشمنی نہیں کوئی
    ہم کرم گزیدہ ہیں آپ کی محبت کے

    اور ہیں تقاضے کچھ عدل کے، اصولوں کے
    اور کچھ طریقے ہیں آپ کی عدالت کے

    شاہِ محترم! ہم کیا اور ہماری رائے کیا
    اک جہاں میں چرچے ہیں آپ کی شرافت کے

    اُن پہ آجکل انورؔ اک جنون طاری ہے
    آیئے ہمی روکیں سلسلے عداوت کے
    ٭٭٭
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کہا یہ میں نے کہ اپنی آنکھوں میں خواب رکھنا
    کہا یہ اُس نے کہ آنکھ رکھنا، عذاب رکھنا

    یہ میں نے پوچھا تھا لوگ کیوں مر رہے ہیں اتنے
    جواب آیا، تم ان کے خوں کا حساب رکھنا

    کہا یہ میں نے زمین پر امن ہو سکے گا؟
    کہا کہ ہاتھوں میں علم رکھنا، کتاب رکھنا

    کہا یہ میں نے کہ زندگی کس طرح کٹے گی
    کہا یہ اُس نے کہ چاہتیں بے حساب رکھنا

    کہایہ میں نے، ہوائیں ہیں تند و تیز کتنی
    وہ ہنس کے بولی کہ کشتیاں زیرِ آب رکھنا

    کہا یہ اُس نے کہ دائرے سے نکل کے دیکھیں؟
    کہا کہ پہلے کوئی سفر انتخاب رکھنا

    کہا یہ اُس نے کہ بھِیڑ میں ہم بچھڑ نہ جائیں
    کہا کہ جوڑے میں ایک تازہ گلاب رکھنا

    کہا یہ اُس نے کہ ہم اگر سچ کا ساتھ دیں تو؟
    کہا یہ میں نے کہ زخم سہنے کی تاب رکھنا
    ٭٭٭
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,375
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کم مائیگی


    اک دن میں اک نظم کہوں گا تیری خاطر
    اور اس نظم میں
    اپنے دل کی ساری باتیں
    اک اک کر کے کہہ ڈالوں گا
    میں نے تجھ کو کیسے کیسے کس کس رنگ میں دیکھا ہے
    تیرے لئے میرے دل میں کیا کیا جذبات فروزاں ہیں
    یہ اور ایسی کتنی باتیں
    جو میں تجھ سے کہنا چاہوں
    تجھ سے کہوں گا
    میرے ذہن میں لہریں لیتا سوچ سمندر
    جب میری مرضی کے لفظ عطا کر دے گا
    تب اس نظم کے ہر اک لفظ میں تیری خوشبو بس جائے گی
    میری گواہی بن جائے گی
    ٭٭٭
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر