ای بک تشکیل روپ کا کندن۔۔۔۔۔ منیر انور

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 24, 2013

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میں اگر کچھ بھی بولتا یارو
    لعل مٹی میں رولتا یارو

    مجھ پہ الزام کم نوائی ہے
    کوئی سنتا تو بولتا یارو

    یہ محبت ہے آپ کی ورنہ
    بھید میں دل کے کھولتا یارو؟

    اُس پہ کتنا تھا اعتماد ہمیں
    کم سے کم وہ نہ ڈولتا یارو

    دوست ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا
    زہر امرت میں گھولتا یارو؟

    بات کرنا اگر ضروری تھا
    بات اپنی وہ تولتا یارو

    دل میں بس ایک ہی تمنا تھی
    وہ کبھی ہنس کے بولتا یارو
    ٭٭٭
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گم گشتہ

    آؤ ہم پھر سے نئے خواب بنیں
    خواب ایسے کہ جو ماضی کے دریچے کھولیں
    خواب،
    وہ خواب کہ جو بیتے دنوں کی خوشیاں
    پھر اجاگر کریں ان اجڑے ہوئے لمحوں میں
    جن میں کوئی بھی تو شاداب ہنسی ساتھ نہیں
    عہدِ ماضی کے وہ گم گشتہ رفیق
    اس نئے عہد میں اب جن میں سے
    کوئی بھی پاس نہیں ساتھ نہیں
    میرے ہاتھوں میں ترا ہاتھ نہیں
    ٭٭٭
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تم نے جو بھی کیا کمال تو تھا
    اس طرح سوچنا محال تو تھا

    اس کی اس بے ضرر شرارت میں
    جاں سے جانے کا احتمال تو تھا

    جانے پہچان کیوں نہیں پایا
    آئینہ محوِ خدّوخال تو تھا

    میں نے پھر بات ہی بدل ڈالی
    اس کی آنکھوں میں اک سوال تو تھا

    میں تمہارے لئے چلا آیا
    راہ میں حادثوں کا جال تو تھا

    اس کے انداز میں دمِ رخصت
    اور کچھ ہو نہ ہو ملال تو تھا

    میں نے کچھ سوچ کر نہیں پوچھا
    ایک چبھتا ہوا سوال تو تھا

    بھیڑ میں کھو گیا کہیں انورؔ
    لفظ اک حاصلِ خیال تو تھا
    ٭٭٭
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ملا تو دے کے جدائی چلا گیا آخر
    ہمارے حصّے میں تنہا سفر رہا آخر

    اگر یہ طے تھا کہ ہر بات سے مکرنا ہے
    تو ساتھ دینے کا وعدہ ہی کیوں کیا آخر

    اسے خیال تھا کتنا جہان والوں کا
    اسی خیال میں جاں سے گذر گیا آخر

    تضادِ فکر کا الزام کچھ درست نہیں
    کہا تھا میں نے جو اوّل، وہی کہا آخر

    وہ میرے درد، مرے غم کو بانٹنے والا
    اک اور کرب مجھے دان کر گیا آخر

    تمہیں یقین تھا ہم دوستی نبھا لیں گے
    ہمیں گمان تھا جس کا وہی ہوا آخر

    فرازِ دار سے پہلے کا وقت مشکل تھا
    کسی کی یاد کے سائے میں کٹ گیا آخر

    جب اختیار تھا تم فیصلہ سنا دیتے
    تمام عمر تذبذب میں کیوں رکھا آخر

    میں اس کے ہاتھ سے نکلا ہوا زمانہ تھا
    وہ میری کھوج میں نکلا، بکھر گیا آخر

    میں اعتبار کی دنیا سے کٹ گیا انورؔ
    کسی کے ساتھ میں اتنا بھی کیوں چلا آخر
    ٭٭٭
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    خول سے اپنے نکل آئیں جناب
    اس جہاں پر غور فرمائیں جناب

    دوستی اُن کی مبارک آپ کو
    ہاں مگر اتنا نہ اِترائیں جناب

    چھوڑ دیں یہ ہاتھ پھیلانے کی خو
    خود اگائیں اور خود کھائیں جناب

    ہے سیاست اور دھوکہ اور ہے
    ہو نہیں سکتی ہیں دو رائیں جناب

    یہ جہاں گیری کے خواب اچھے تو ہیں
    یوں نہ ہو سپنے بکھر جائیں جناب

    ہو نہ جائے کچھ غلط فہمی اُنہیں
    آئیے اُن سے بھی مل آئیں جناب

    ایک سیدھا راستہ موجود ہے
    چھوڑئیے یہ دائیں اور بائیں جناب

    دوسروں کی بات کب سنتے ہیں آپ
    آپ کی محفل میں کیا آئیں جناب
    ٭٭٭
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وہ خوش ہے اپنا بوجھ مرے سر پہ ڈال کر
    میں مطمئن فرار کے رستے نکال کر

    تو کیوں چلا گیا مجھے جھنجھٹ میں ڈال کر
    دم گھٹ رہا ہے آ مری سانسیں بحال کر

    اب منہ چھپائے کس لئے پھرتا ہے شہر میں
    میں نے کہا بھی تھا، نہ کسی سے سوال کر

    تا دیر لوگ یاد رکھیں تجھ کو پیار سے
    کچھ ایسے لفظ بول، کچھ ایسا کمال کر

    اب وہ ہے رہ کی تیرگی ہے اور بے کسی
    اس نے کیا تھا فیصلہ سکّہ اچھال کر

    میں نے دیا حوالہ کتابِ مبین سے
    لائے وہ اک ضعیف روایت نکال کر

    انورؔ سفر میں ساتھ کسی کا بھلا تو ہے
    لیکن کسی کے ساتھ چلو دیکھ بھال کر
    ٭٭٭
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دائمی روشنی


    زندگی درد ہے اور درد کا عنوان وطن
    میری پہچان، مری شان، مری آن وطن

    اے وطن ہم تری بربادی پہ شرمندہ ہیں
    بیچنے، توڑنے والے بھی تجھے زندہ ہیں

    ان کی سازش ہے تری رہ میں اندھیرے چھائیں
    چاہتے ہیں کہ تجھے بیچ دیں اور کھا جائیں

    اے وطن ہم تری حرمت کی قسم کھاتے ہیں
    تیری عزت، تیری عظمت کی قسم کھاتے ہیں

    نام پہ تیرے کوئی آنچ نہ آنے دیں گے
    تجھ پہ ظلمت کی گھٹائیں نہیں چھانے دیں گے

    ہم تری رہ میں جلائیں گے سدا خوں کے چراغ
    روشنی جن کی کبھی ماند نہ ہو ایسے چراغ
    ٭٭٭
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پیار کا آخری دیا لے جائے
    آنکھ میں ہے جو خواب سا، لے جائے

    اپنی راتوں میں روشنی کے لئے
    آئے، آ کر مرا دِیا لے جائے

    زندگی کے سفر میں کیا معلوم
    کون سا پل کہاں بہا لے جائے

    میرے دیوار و در مجھے دے دے
    اپنے خوابوں کا سلسلہ لے جائے

    جل بجھا ہے چمن کا ہر بوٹا
    راکھ باقی ہے سو ہوا لے جائے

    ہم یہ احساں اٹھا نہیں سکتے
    اُس سے کہہ دو کہ یہ گھٹا لے جائے

    پھول کب کا بکھر چکا انورؔ
    پتّیاں کوئی بھی اٹھا لے جائے
    ٭٭٭
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    راستے بند نہ ہونے دیں گے
    اپنی منزل نہیں کھونے دیں گے

    عام کر دیں گے محبت کا چلن
    اپنے بچوں کو نہ رونے دیں گے

    راہ گلزار نہیں ہے تو نہ ہو
    کم سے کم خار نہ بونے دیں گے

    اپنے ماحول پہ رکھیں گے نظر
    رہبروں کو نہیں سونے دیں گے

    لفظ کے دیپ جلائیں گے سدا
    تیرگی عام نہ ہونے دیں گے

    دیر تک ذکر کریں گے تیرا
    بزم کو آج نہ سونے دیں گے
    ٭٭٭
     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کرب کا موسم


    اب تو کرب کا موسم
    جم گیا ہے آنکھوں میں
    امن کے حوالے سب
    رہ گئے کتابوں میں

    وحشتوں کا جنگل ہے
    وحشتوں کے جنگل سے
    کون بچ سکا اب تک
    وحشتوں کے اپنے بھی
    کچھ اصول ہوتے ہیں
    اور ان اصولوں سے
    کون بچ کے نکلے گا
    ٭٭٭
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سنی کسی نے کہاں میرے انتظار کی بات
    ہر اک زباں پہ رہی اختیارِ یار کی بات

    ابھی ہے وقت، چلو رابطہ بحال کریں
    دلائیں یاد اسے عہدِ پائیدار کی بات

    ابھی ہیں کرب کے کچھ اور مرحلے باقی
    ابھی چلی ہی کہاں ہے مرے دیار کی بات

    یہاں شجر کا شجر داؤ پر ہے نادانو
    تمہارے لب پہ وہی شاخ و برگ و بار کی بات

    بڑا بلیغ اشارہ تھا اُس کی باتوں میں
    ہمارا ذکر تھا اور راہ کے غبار کی بات

    کسی کے دل کے اُجڑنے کی بات ہے انورؔ
    خزاں کی بات نہیں ہے، نہیں بہار کی بات
    ٭٭٭
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دل سے دل کا رابطہ بس اسقدر رکھا گیا
    آہنی دیوار میں شیشے کا در رکھا گیا

    میں کسی کا راز تھا لیکن نہ جانے کیوں مجھے
    صورت نغمہ ہوا کے دوش پر رکھا گیا

    بات کہنے کا سلیقہ تو سبھی کو تھا مگر
    ایک بس اس کا بھرم پیش نظر رکھا گیا

    پھر کسی کی زندگی برباد کر ڈالی گئی
    جانے کس کا جرم تھا اور کس کے سر رکھا گیا

    چار سو پتھر کی دیواریں اٹھائیں اور پھر
    میرے اندر ایک دست شیشہ گر رکھا گیا

    خامشی بہتر تھی لیکن بولنا واجب ہوا
    مجھ پہ اک الزام جب بارِ دگر رکھا گیا

    سارے فتوے سب دلیلیں ہو گئیں نا معتبر
    جب کسی سلطان کی چوکھٹ پہ سر رکھا گیا

    آدمی مانے نہ مانے ورنہ پہلے روز سے
    اس میں انورؔ اک عِیار خیر و شر رکھا گیا
    ٭٭٭
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    فہمائش

    اُس طرح کی فہمائش
    پھر کبھی نہیں ہو گی
    جس طرح مری ماں نے
    اپنے پیار کی چادر
    میرے سر پہ پھیلا کر
    اپنی گود میں بھر کر
    مجھ سے یہ کہا، بیٹا!

    تم نے جھوٹ بولا ہے
    اب اگر کبھی تم نے
    جھوٹ جو کہا مجھ سے
    تو میں روٹھ جاؤں گی
    پھر یہ گود یہ چادر
    ڈھونڈتے رہو گے تم۔
    میں نے اس کے بعد انورؔ
    جھوٹ تو نہیں بولا
    پھر وہ پیار کی چادر
    ماں کی گود کی گرمی
    کیوں بچھڑ گئی مجھ سے
    ٭٭٭
     
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تو میرے ساتھ نہ چل، میرا اعتبار نہ کر
    مگر مجھے کبھی غیروں میں بھی شمار نہ کر

    یہ کم نظر نہیں سمجھیں گے داستانِ الم
    کسی پہ حالِ دلِ زار آشکار نہ کر

    قرارِ خاطرِ جاں کے ہزار رستے ہیں
    کسی کے پیار میں راہوں کو خارزار نہ کر

    عدو کے ساتھ رہ و رسم ہو تو ہو لیکن
    وطن کی عزت و غیرت کو داغدار نہ کر

    کبھی کبھی کے تغافل کی بات اپنی جگہ
    مرے عزیز مگر بے رخی شعار نہ کر

    کسی کے ہاتھ نہ دے اپنی زندگی انورؔ
    کسی کے وعدے پہ اس درجہ انحصار نہ کر
    ٭٭٭
     
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تیرے بام و در پتھر
    پھینک بے خطر پتھر

    ایک شخص یاد آیا
    آج دیکھ کر پتھر

    سنگ کی طرح لہجہ
    لفظ سر بسر پتھر

    سب سنبھال کر رکھنا
    جو گریں ادھر پتھر

    دور تک اندھیرا ہے
    اور رہ گذر پتھر

    خواب اپنے آئینہ
    زندگی مگر پتھر

    کر دیا ہے وحشت نے
    سوچ کا نگر پتھر

    لوٹنا تو ہوتا ہے
    پھینکئے اگر پتھر

    آئینہ گری پیشہ
    اور ہے ثمر پتھر

    اس طرف نہ پھینکا تھا
    جا گرا جدھر پتھر

    مت اٹھایئے انورؔ
    بات بات پر پتھر
    ٭٭٭
     
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ تو بس آپ کی محبت ہے
    ورنہ کب زندگی کی حاجت ہے

    درِ توبہ کھلا ہوا ہے مدام
    آخری وقت بھی غنیمت ہے

    آپ چلتے تو ہیں مگر سنیے
    راہ میں دھوپ ہے تمازت ہے

    کاش دنیا میں امن ہو جائے
    ایک، بس ایک ہی تو حسرت ہے

    جانے والے پلٹ بھی آتے ہیں
    جایئے، آپ کو اجازت ہے

    اب تو کچھ یاد ہی نہیں رہتا
    اک عجب بے خودی کی حالت ہے

    آئینے خود چٹخ رہے ہیں یہاں
    پتھروں کی کسے ضرورت ہے

    دل کا شیشہ سنبھالیئے انورؔ
    شہر آذر ہے اور وحشت ہے
    ٭٭٭
     
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    حرف کی بے بسی کا کیا کہنا
    اس کی نکتہ رسی کا کیا کہنا

    وہ بہت زود رنج ہے لیکن
    لب پہ آئی ہنسی کا کیا کہنا

    ہم بھی لفظوں سے کھیلتے ہیں مگر
    اس کے دل کی کجی کا کیا کہنا

    دل پہ ہیں زخم تیرے لہجے کے
    اب تری دل لگی کا کیا کہنا

    ذہن اک بحرِ علم ہے لیکن
    روح کی کہنگی کا کہنا

    شاعری اس پہ بار ہے انورؔ
    پھر بھلا شاعری کا کہنا
    ٭٭٭
     
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عام سی بات تھی، فسانہ بنی
    کتنی آفات کا بہانہ بنی

    زندگی کی ہے زندگی کی طرح
    گو ہر اک سانس تازیانہ بنی

    بات یوں تھی کہ پست ہمت تھا
    راہ کی تیرگی بہانہ بنی

    چند لوگوں کی خوش خیالی سے
    قبر تھی اک جو آستانہ بنی

    ایک ڈالی شجر سے پھوٹی تھی
    اک پرندے کا آشیانہ بنی

    اے محبت ترے اجالے سے
    زندگی صبح کا ترانہ بنی

    ایک آپس کی بات تھی انورؔ
    لے اڑے لوگ اور فسانہ بنی
    ٭٭٭
     
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    آپ سے بات بھی ہو سکتی ہے
    اک ملاقات بھی ہو سکتی ہے

    صرف سورج پہ نہ تکیہ کرنا
    راہ میں رات بھی ہو سکتی ہے

    چھت ضروری ہے مکانوں کے لئے
    کبھی برسات بھی ہو سکتی ہے

    راہ میں ہے جو سمندر حائل
    یہ مری ذات بھی ہو سکتی ہے

    آج شدت یہ نفی کی یارو
    کل کا اثبات بھی ہو سکتی ہے

    کج ادائی کسی لمحے انورؔ
    وجہِ آفات بھی ہو سکتی ہے
    ٭٭٭
     
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,522
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ نرم لفظوں کا پہرا ہٹا لے، رہنے دے
    یہ سنگ لہجوں کی بارش بھی مجھ کو سہنے دے

    تو اپنے سارے ستارے سنبھال کر رکھ لے
    مجھے نہیں ہے کوئی بھی ملال، رہنے دے

    جو بات آج سرِ بزم کہنے والا ہوں
    وہ جان جائے تو شاید کبھی نہ کہنے دے

    یہ چند تحفے ہیں تیری محبتوں کے حضور
    مری عزیز ! مرے آنسوؤں کو بہنے دے

    شمیمِ موسمِ گل اُن سے اختلاف نہ کر
    مجھے خزاں کی ہواؤں کی زد میں رہنے دے

    غریب بیٹی کا سر برف ہو گیا انورؔ
    جہیز کیسے بنے، کون اس کو گہنے دے
    ٭٭٭
     

اس صفحے کی تشہیر