ای بک تشکیل روپ کا کندن۔۔۔۔۔ منیر انور

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 24, 2013

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    لوگ کتنے اداس ہیں لوگو
    زندگی سے نراس ہیں لوگو

    میرے بچوں کے دلنشیں چہرے
    کس قدر پُر ہراس ہیں لوگو

    زندگی میں سکوں کا نام نہیں
    حادثے آس پاس ہیں لوگو

    جس کو دریا بجھا نہیں سکتے
    ہم سمندر کی پیاس ہیں لوگو

    آئینے سے گریز کرتے ہیں
    وہ بہت خود شناس ہیں لوگو

    کون، کس پر اٹھائے گا انگلی
    سب کے سب بے لباس ہیں لوگو

    یہ وطن ہی ہمارا گلشن ہے
    ہم اسی گل کی باس ہیں لوگو
    ٭٭٭
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    نت نئی تہمتیں اٹھاتے ہیں
    اہل دل یوں بھی مسکراتے ہیں

    بجلیوں سے بھلا شکایت کیا
    چل نیا آشیاں بناتے ہیں

    رنگ، شبنم سی تازگی، خوشبو
    اس کے رخ سے گلاب پاتے ہیں

    میں نے دیکھا ہے روبرو اس کے
    آئینے خود کو بھول جاتے ہیں

    کوئی امید اب بھی ہے باقی
    یہ جو زنجیر ہم ہلاتے ہیں

    اپنی تکمیل سے ذرا پہلے
    جانے کیوں عکس ٹوٹ جاتے ہیں

    یہ فقط اشک تو نہیں انورؔ
    خواب آنکھوں میں جھلملاتے ہیں
    ٭٭٭
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اک چہرے سے ایک نقاب اٹھایا ہے
    ہم نے ساری محفل کو چونکایا ہے

    ہم نے کتنی چاہ سے تانا ہے سینہ
    اس نے کتنے پیار سے تیر چلایا ہے

    جانے والوں کی مجبوری ہوتی ہے
    رونے والوں کو کتنا سمجھایا ہے

    اوّل آخر ماتھے پر بل رہتے ہیں
    جانے کس مٹی سے بن کر آیا ہے

    لگتا ہے پھر کوئی ضرورت آن پڑی
    اس نے آج مجھے گھر پر بلوایا ہے

    بھوکے ننگے بچوں کی اس بستی میں
    ایک کھلونے بیچنے والا آیا ہے

    میرے فون پہ لہرایا ہے نام اس کا
    لگتا ہے انورؔ وہ راہ پہ آیا ہے
    ٭٭٭
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وقت وہ بھی رہا ہے محفل پر
    چپ تھی ہونٹوں پہ ہاتھ تھے دل پر

    سسکیاں تھیں کہ تھم نہیں پائیں
    اور آ نسو کہ جم گئے دل پر

    میں گرفتارِ لہرِ خود سر تھا
    چارہ گر منتظر تھا ساحل پر

    میں تو منزل پہ جا کے لوٹ آیا
    میری منزل کہاں تھی منزل پر

    راہ کی الجھنوں میں مت الجھو
    دھیان رکھو سفر کے حاصل پر

    چور کے ہاتھ کاٹنے سے قبل
    غور کر لیجئے عوامل پر

    بہتری کی امید ہے انورؔ
    انگلیاں اُٹھ رہی ہیں قاتل پر
    ٭٭٭
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کہا اُس نے میں ہوں تنہا اُدھر سارا زمانہ ہے
    کہا میں نے زمانہ ہر طرح کا بیت جانا ہے

    کہا اُس نے کہ تم بھی اور لوگوں کی طرح سے ہو
    کہا میں نے تمہارا حوصلہ بھی آزمانا ہے

    کہا اُس نے کہ اب تک راستے محفوظ تھے لیکن
    کہا میں نے اِسی لیکن کا تو سارا فسانہ ہے

    کہا اُس نے کہ میرے خواب میں تم ساتھ تھے میرے
    کہا میں نے کہ خوابوں کو حقیقت بھی بنانا ہے

    کہا اُس نے کہ دیکھو ظلمتوں کا ساتھ مت دینا
    کہا میں نے ہواؤں میں دیا رکھ کر جلانا ہے

    کہا اُس نے کہ منزل اور کتنی دور ہے انورؔ
    کہا میں نے ہمیں اِس دُھند کے اُس پار جانا ہے
    ٭٭٭
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    حادثہ


    درد کی کسی رو میں
    اس نے کہہ دیا آخر
    کاش ہم نہیں ملتے
    ٭٭٭
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تجھے دل سے اتارا ہی نہیں تھا
    کہ تیرے بن گذارا ہی نہیں تھا

    ہمیں بھی زندگی مشکل لگی تھی
    یہ عالم بس تمہارا ہی نہیں تھا

    پلٹ کے آ بھی سکتا تھا وہ لیکن
    اسے ہم نے پکارا ہی نہیں تھا

    ترے لہجے میں تبدیلی چہ معنی
    تری جانب اشارہ ہی نہیں تھا

    اسے الزام دھرنا تھا کسی پر
    کہ کوئی اور چارہ ہی نہیں تھا

    یہ صدمہ یوں بھی مشکل ہے کہ پہلے
    کبھی میں خود سے ہارا ہی نہیں تھا

    کٹے ہیں وہ بھی لمحے زندگی سے
    جنہیں ہم نے گذارا ہی نہیں تھا

    بہت آسان ہو سکتی تھیں راہیں
    ہمیں چلنا گوارہ ہی نہیں تھا

    محبت پر یہ وقت آنا تھا انورؔ
    کوئی صدقہ اتارا ہی نہیں تھا
    ٭٭٭
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بھول جانے کا حوصلہ تھا مگر
    مجھ میں اک شخص چیختا تھا مگر

    بات ہوتی تو حل نکل آتا
    بات کرنا ہی مسئلہ تھا مگر

    میں نے پتھر اٹھا لیا ہوتا
    میرے اندر جو آئینہ تھا مگر

    دور تک تیرگی مسلط تھی
    ایک جگنو چمک رہا تھا مگر

    بند لگتے تو تھے سبھی رستے
    تیسرا راستہ کھلا تھا مگر

    میں کہاں ہار مان سکتا تھا
    اُس کی آنکھوں نے کہہ دیا تھا مگر

    یک پل، ایک جست اور منزل
    ایک وہ پل ٹھہر گیا تھا مگر

    میں بھی ہٹ تو گیا نشانے سے
    تیر بھی رخ بدل چکا تھا مگر

    آپ جو کہہ رہے تھے ٹھیک تھا وہ
    مسئلہ میرا دوسرا تھا مگر

    جاں تو جانی ہی تھی وہاں انورؔ
    ایک عزت کا راستہ تھا مگر
    ٭٭٭
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہوا ہے اُس پہ چاہت کا اثر آہستہ آہستہ
    شفق اتری تو ہے رخسار پر آہستہ آہستہ

    نہ جانے کون سچ بولے گا اس کے رو برو آ کر
    اُٹھے جاتے ہیں سارے با خبر آہستہ آہستہ

    فضاء میں نفرتوں کی تابکاری بڑھ گئی ہو گی
    جو جھلسے ہیں محبت کے شجر آہستہ آہستہ

    نہ جانے آئینے پر گرد تھی کتنے زمانوں کی
    میں اپنے آپ کو آیا نظر آہستہ آہستہ

    یہی انسان کو کھائے چلا جاتا ہے اندر سے
    یہی اندیشۂ شام و سحر آہستہ آہستہ

    مسائل ہیں کہ روز اک اور ہی صورت ابھرتے ہیں
    بڑھا جاتا ہے میرا دردِ سر آہستہ آہستہ

    کوئی عفریت رونق لے گیا ہے میری بستی کی
    ہوئے ویران سارے بام و در آہستہ آہستہ

    ابھی ابہام غالب ہے مگر کھل جائے گا آخر
    کمالِ خوبیِ دستِ ہنر آہستہ آہستہ

    ہم اپنے سخت جاں ہونے کا دعویٰ کیا کریں انورؔ
    کہ ہو جاتی ہے اکثر چشم تر آہستہ آہستہ
    ٭٭٭
     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سوچ کی کہکشاں سے باہر تھا
    میرے وہم و گماں سے باہر تھا

    میں ترے ساتھ ہی تو تھا اب تک
    ہاں مگر کارواں سے باہر تھا

    میرے سر پر رہا ہے ہاتھ ترا
    میں بھلا کب اماں سے باہر تھا

    اپنے گھر میں سکوں تھا، ٹھنڈک تھی
    خوف بس آشیاں سے باہر تھا

    میرے سر پر یہ آ گرا کیسے
    میں تو شاید مکاں سے باہر تھا

    اُس کا تو ذکر ہی نہیں ہے کہ وہ
    حلقۂ دوستاں سے باہر تھا

    یہ اُسی شخص کی کہانی ہے
    جو تری داستاں سے باہر تھا

    تھی مجھے جس کی جستجو انورؔ
    وہ مرے آسماں سے باہر تھا
    ٭٭٭
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کہا تو تھا


    کہا تو تھا کہ ابھی مجھے کام ہیں بہت سے
    ابھی میں زلفوں کی، ابروؤں کی
    نظر کے تیر و کمان کی گفتگو کے قابل کہاں ہوا ہوں
    کہا تو تھا کہ اگر یہی سب تمہارے اندر کی آرزو ہے
    تو لوٹ جاؤ
    کہ میں ابھی تک سمندروں کی نظر میں ہوں
    اور تمہیں
    کناروںکی، ساحلوں کی
    ہری بھری خوشبوؤں سے بوجھل حسین راہوں کی آرزو ہے
    کہا تو تھا
    کہ ابھی تمہاری یہ نرم زلفیں، مہکتی سانسیں، چمکتے عارض،
    ہماری راہوں کے ریگزاروں سے بے خبر ہیں
    کہا تو تھا
    نارسائی کا دکھ نہ سہ سکو گی
    ٭٭٭
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    صبح تھے کچھ اور تیور، اور ہیں کچھ شام میں
    زندگی گم ہو گئی ہے سایۂ ابہام میں

    ہم شریک انجمن آرائی ہو جاتے مگر
    کچھ اشارے اور بھی تھے اس صلائے عام میں

    بس وہی لہجہ، تحکم، خود نمائی، خود سری
    کچھ نیا ہرگز نہیں تھا آپ کے پیغام میں

    تم تو بس یونہی پریشاں ہو گئے ہو دوستو
    عمر گذری ہے ہماری قریۂ دشنام میں

    کس ہنر مندی سے اس نے پھر بنا لفظوں کا جال
    آ گیا ہے دل کا پنچھی پھر کسی کے دام میں

    یہ مرے شہرت کے طالب سوچتے کب ہیں مگر
    فرق تو ہوتا ہے انورؔ ننگ میں اور نام میں
    ٭٭٭
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یوں نہیں ہے کہ یہیں کوئی نہیں
    سوچنے والا کہیں کوئی نہیں

    سب کے سب ذات میں اپنی گم ہیں
    کون بولے گا، نہیں، کوئی نہیں

    کیسے قسمت کے اندھیرے جائیں
    شہر میں ماہ جبیں کوئی نہیں

    سر پہ افلاک کا سایہ ہے مگر
    پاؤں کے نیچے زمیں کوئی نہیں

    ایک بس تُو ہے مرے سینے میں
    اور اس دل کا مکیں کوئی نہیں

    پھول، پھل، چشمے، ہوائیں کیسے
    گر سرِ عرشِ بریں کوئی نہیں

    اس کے ہر تازہ ستم کا عنواں
    جز مری جانِ حزیں کوئی نہیں

    کیسی بستی میں تم آئے انورؔ
    ہیں مکاں اور مکیں کوئی نہیں
    ٭٭٭
     
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دائرے سے نکال دے کوئی
    ہم کو رستے پہ ڈال دے کوئی

    سانس رکنے لگی ہے سینے میں
    یہ کڑا وقت ٹال دے کوئی

    یوں کیا ہے سلام اس نے مجھے
    جیسے پتھر اچھال دے کوئی

    اُس کی حسرت میں جو گذار دیئے
    وہ مرے ماہ و سال دے کوئی

    بات کرنا محال لگتا ہے
    میرے مولا کمال دے کوئی

    کاش میری خطاؤں کو انورؔؔ
    اک تبسم سے ٹال دے کوئی
    ٭٭٭
     
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ربط باہم بحال کر انورؔ
    تو ہی کوئی سوال کر انورؔ

    خود میں کتنا سمٹ گیا ہے وہ
    اس سے کچھ حال چال کر انورؔ

    آ گیا ہے تو مل اسے تو بھی
    رنج دل سے نکال کر انورؔ

    بات کرنی ہے ظلم سے ہم کو
    آنکھ میں آنکھ ڈال کر انورؔ

    خود اسے بھی نہیں سکون ملا
    ہم پہ کیچڑ اچھال کر انورؔ

    لکھ رہا ہے فراقِ یار کی بات
    ماہ کو ایک سال کر انورؔ

    وہ مجھے چاہتا تو ہے لیکن
    اپنے سانچے میں ڈھال کر انورؔ
    ٭٭٭
     
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وصل میں ہجر کی بے رحم بلائیں دے کر
    آپ خوش ہیں نا ہمیں طرفہ سزائیں دے کر

    میرے لوگوں کو نئے خواب دکھائے اُس نے
    میرے صحراؤں کو بے فیض گھٹائیں دے کر

    جسم کے زخموں کو مرہم کی سنائی ہے نوید
    روح کو ڈستی المناک فضائیں دے کر

    ہم چھپا جاتے ہیں ہر زخم تمنا اکثر
    اپنے احساس کو لفظوں کی قبائیں دے کر

    کیوں یہ تنہا سفری راس نہ آئی تم کو
    کیوں پشیمان ہوئے اس کو صدائیں دے کر

    کس نے بخشا ہے نیا حوصلہ پھر سے ہم کو
    کون گزرا ہے یہ جینے کی دعائیں دے کر

    کیا بتاتے کہ ہمیں پیار ہے اس سے انورؔ
    کیا بلاتے اسے پیچھے سے صدائیں دے کر
    ٭٭٭
     
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    حدیثِ درد کو آخر بیاں تو ہونا تھا
    جو کرب دل میں چھپا تھا عیاں تو ہونا تھا

    وہ پاس رہتے ہوئے فاصلوں کا قائل تھا
    اس اہتمام کو پھر داستاں تو ہونا تھا

    زمیں کا تاج تھا وہ شخص اپنی ہستی میں
    زمیں سے بڑھ کے اسے آسماں تو ہونا تھا

    دکھوں کی دھوپ کے اس دورِ بے مروّت میں
    مجھے کسی کے لئے سائباں تو ہونا تھا

    تجھے یہ کس نے کہا تھا حساب مانگ اس سے
    اب ایسی بات پہ جاں کا زیاں تو ہونا تھا

    جہاں سبھی تھے وہاں پر نہیں تھا میں لیکن
    جہاں کوئی بھی نہیں تھا وہاں تو ہونا تھا

    جو میں نہ ہوتا سرِ دار، دوسرا ہوتا
    کسی کو خلقِ خدا کی زباں تو ہونا تھا

    وہ خود پسند، جفا کار شخص تھا انورؔ
    نتیجتاً اسے بے کارواں تو ہونا تھا
    ٭٭٭
     
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مشورہ


    اسے آواز دینے سے ذرا پہلے
    یہ اپنے ذہن میں رکھنا
    کہ جب کوئی
    کسی کو چھوڑ جانے کا ارادہ کر ہی لیتا ہے
    تو پھر مغموم آوازیں
    کہیں دم توڑتے لہجے
    بکھرتے ٹوٹتے لفظوں کی جھنکاریں
    بس اک ہارے کھلاڑی سے زیادہ
    کچھ نہیں ہوتیں
    ٭٭٭
     
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کسی سے بھی نہیں الجھا کریں گے
    چلو ہم آج سے ایسا کریں گے

    ہمیں ہر حال میں منزل کی دھن ہے
    ہر اک دیوار کو رستا کریں گے

    ہم اپنی پیاس پر پہرے بٹھا کر
    ترے صحراؤں کو دریا کریں گے

    مبارک ہوں تمہیں مانگی شرابیں
    ہم اپنا خونِ دل صہبا کریں گے

    خود اس کے ہاتھ پر لکھیں گے خود کو
    لکیروں پر بھروسہ کیا کریں گے

    نہیں بیچیں گے اپنے لفظ انور
    جو سوچیں گے وہی لکھا کریں گے
    ٭٭٭
     
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,213
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کوئی جتنا سر مارے
    کب رکتے ہیں بنجارے

    اتنے وہ مختار نہیں
    جتنے ہم ہیں بے چارے

    شام ڈھلے مل بیٹھیں گے
    تیری یادیں، ہم، تارے

    ہم نے ایک تری خاطر
    کیا کیا روپ نہیں دھارے

    دور کھڑے ہو کر تجھ پر
    ہم نے کتنے گل وارے

    دل میں پیار کے پھول مگر
    ذہن میں لاکھوں انگارے

    دیکھو ہم نے مان لیا
    تم جیتے اور ہم ہارے

    میرے گھر میں دھوپ اور دکھ
    تیرے آنگن سکھ سارے

    اپنی آنکھیں دریا ہیں
    تیرے لفظ ندی دھارے

    اب کیسے سمجھائیں ہم
    ہم کس کو کیسے ہارے

    کچھ لکھنے والے انورؔ
    لکھ جاتے ہیں شہہ پارے
    ٭٭٭
     

اس صفحے کی تشہیر