رقصِ شرر۔۔ ع واحد

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 5, 2007

ٹیگ:
  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مرغ باد پیما

    جانے ابرِ باراں ہیں روئی کا یا گالا ہیں
    وہ سبک سری گویا گھاس کا یہ تنکا ہیں
    ہو جدھر ہوا کا رخ آپ کا ادھر ہے رخ
    مختصر کہ بس حضرت مرغِ بادپیما ہیں
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ذکر جب چھڑگیا قیامت کا

    عصر حاضر کا واقعہ جس کو
    ایک المناک سانحہ کہئے
    سارے عالم کے واسطے افسوس
    باعثِ شرم باعثِ غم ہے
    چند بد بخت نوجوانوں کی
    خودکشی سے ہوئی تھی وابستہ
    دوعمارات کی تباہی بھی
    کارکن جن میں تھے چہار ہزار
    جن کی لاشوں کا لگ گیا انبار
    آخرش یہ کہاں کی حکمت ہے
    حل نکالیں تنازعات کا ہم
    عام انسانوں کو بنا کے شکار
    ہے تعجب کے آج تک موجود
    ہم میں چنگیز اور ہلاکو ہیں
    ذکر جب چھڑگیا قیامت کا
    لامحالہ یہ بات پہنچے گی
    ناگاساکی و ہیروشیما کی
    غم میں ڈوبی ہوئی کہانی تک
    دو شہر بس پلک جھپکتے ہی
    صفحۂ ہستی سے ہوگئے نابود
    کوئی دو لاکھ بے گناہ افراد
    جن کی لاشوں کا بن گیا انبار
    اس ہلاکت کا دیکھ کر منظر
    طفلِ مکتب دکھائی دیتے ہیں
    سارے چنگیز بھی ہلاکو بھی
    عالمِ نو کے تاجداروں سے
    ایک معصوم سا سوال ہے بس
    کس کو ٹھہرائیں اس کا ذمہ دار
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بیعتِ رضوان

    حجر اسود
    ممکن ہے یہ
    ایک شہاب ثاقب ہی ہو
    کچھ بھی ہو
    آیا ہے فلک سے
    اسماعیل کے ہاتھوں ہاتھو ں
    ابراہیم کے ہاتھو ں پہنچا
    ابراہیم نے اپنے ہاتھوں
    کعبے کی بنیاد میں رکھا
    وقت نے اس عرصے میں کتنے
    تیور بدلے
    رنگ دکھائے
    تاج اچھالے
    تخت گرائے
    وہ دن آیا
    سرورِ عالم نے جس دن خود
    دستِ مبارک سے اپنے بھی
    دوبارہ ازراہِ مرمت
    کعبے میں اس کو چنوایا
    برسوں کی ہے بات پرانی
    وقت نے اس عرصے میں کتنے
    تیور بدلے رنگ دکھائے
    ماہ وسال کے پردے ڈالے
    لیکن اس دستور نے آخر
    سب پردوں کو نوچ گرایا
    کوئی بھی دل
    رکھے عقیدت
    جو ابراہیم سے
    آج بھی چاہے
    دستِ رسول پاک پہ بیعت
    جاکر یہ پتھر چھو آئے
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مراجعت

    گولیاں چلنے کی آتی ہے صدا جلیانوالہ باغ سے
    گونجتا ہے ناگاساکی میں دھماکا آج تک
    ہیروشیما کے شہر پر اک دھویں کا غول ہے
    بے کفن بے گور لاشے ہیں شتیلا کیمپ میں
    گاؤں پر مِی لائی کے چھایا ہے سناٹا مہیب
    گر دمیں اب بھی سوویٹو کی یونہی لپٹا ہوا
    رقص ماتم خیز ہے
    ساحل دینوب سے
    کتنے پیغام اذیت روز وشب آتے رہے
    اور اب گجرات سے
    لائی ہے پھر بادِ سموم
    بیشتر افراد کے جسموں کے جل جانے کی بو
    ارتقائے آدمیت کی یہی منزل ہے وہ
    صدق دل کے ساتھ اب راضی ہے خود ابلیس بھی
    مان لے اپنا خدا
    نسل انسانی کے ہیبت ناک ان ارباب کو
    بے تامّل بارگاہِ شرف میں
    رہ گیا تھا قرض جو سجدہ اسے کردے ادا
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تسلّی

    جام جمشید کی ارزانی پر
    ہیں تاسف کا شکار
    میں بھی اور میراقلم
    جب بھی ہم دونوں پہ مایوسی ہوئی ہے طاری
    چاہے جھوٹی ہی سہی
    اپنی تسلی کے لیے
    زیرلب بس یہی سرگوشی ہوئی ہے اکثر
    آج کے دور کے انسا ں کی شناخت
    ماسوا ڈاٹ۔یا کام،
    اور کچھ بھی تو نہیں
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٭٭٭٭۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غزلیں

    [align=center]
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    روایتوں سے عہد نو بغاوتوں کا سلسلہ
    امانتوں میں ہر قدم خیانتوں کا سلسلہ
    لگاوٹوں کا سلسلہ عداوتوں کا سلسلہ
    ہے زندگی خدارکھے حماقتوں کا سلسلہ
    حیات عہد نو میں اب کہاں کسے نصیب ہیں
    وہ روز و شب کی فرصتیں فراغتوں کا سلسلہ
    فریب و مکر ہی سے اس جہان کی ہیں رونقیں
    خیال و خواب ہوگیا شرافتوں کا سلسلہ
    لجھ کے مصلحت کے پیچ و خم میں آج رہ گیا
    کسی عزیز دوست کی صداقتوں کا سلسلہ
    خوشی کے بعد دورِ غم حیات کا اصول ہے
    حضور رہنے دیجیے عنایتوں کا سلسلہ
    ہزار بے گناہ تھے جو جان و دل گنواگئے
    نہ رک سکا جناب کی شرارتوں کا سلسلہ
    طبیعتوں نے واقعی مزا تو زیست کا لیا
    شروع ہوا پر عشق سے رقابتوں کا سلسلہ
    ہوس کی آگ بجھ کے بھی سکونِ دل نہ دے سکی
    عذابِ جان ہوگیا ندامتوں کا سلسلہ
    جناب شیخ کو ملی طہور ہی نہ حور ہی
    قبول ہو سکا نہ کچھ عبادتوں کا سلسلہ
    لہو نہ ان میں دل کا ہو تو واعظو فضول ہے
    نصیحتوں کا آپ کی ہدایتوں کا سلسلہ
    جواں ہوئی ہے پھر کسی سے چاہتوں کی آرزو
    گذرچکا ہے ہجر میں قیامتوں کا سلسلہ
    محبتوں کا قافلہ مسرتوں کا کارواں
    اے میرے ہم نفس تیری شکایتوں کا سلسلہ
    خدا کرے کہ بزم میں یونہی صدا جواں رہے
    وہ تیری بزلہ سنجیوں ظرافتوں کا سلسلہ
    کلام حق سے ہم کو بھی عطا ہوا ہے دوستو
    فصاحتوں کا یہ سخن بلاغتوں کا سلسلہ
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ذوق تھے نہ غالب تھے نہ میر تھے نہ سودا تھے
    ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
    رنگ اس طرح لائیں فاقہ مستیاں اپنی
    قرض دینے والے سب شامل جنازہ تھے
    مصروفِ حیات اپنا صرف یہ سمجھ پائے
    دہر کی ضرورت تھے وقت کا تقاضہ تھے
    تھی ہوس کی دنیا میں خوب گرم بازاری
    پیار اور محبت کے ہم ہی نام لیوا تھے
    عشق میں عداوت کا کچھ نہ کچھ تو حصہ تھا
    دوست کے خدا رکھے سب ستم گوارا تھے
    حسرتِ نظّارہ نہ کی تھی جلوہ آرائی
    دار پر جو تھے منصور طور پر جو موسیٰ تھے
    خاتم النبوت کا سب طفیل ہے واحدؔ
    رازِ معرفت ورنہ کس پہ اتنے افشا تھے
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    قانون بن رہے ہیں اعلان ہورہے ہیں
    سرگرم پھر سیاسی ایوان ہورہے ہیں
    پھر دوستوں سے عہد و پیمان ہورہے ہیں
    پھر قتل کے ہمارے سامان ہورہے ہیں
    صدیوں کی دوستی کو بالائے طاق رکھ کر
    انجان بن رہے ہیں حیراں ہورہے ہیں
    یوں مل رہے ہیں جیسے پہلے پہل ملے ہوں
    اس سادگی پہ ہم بھی قربان ہورہے ہیں
    آسودگی کا اپنی واں ذکر ہورہا ہے
    خانہ بدوش ہیں یاں ویران ہورہے ہیں
    وعدے بھی ہورہے ہیں کچھ ہم سے خوں بہا کے
    کیا کیا ہمارے اوپر احسان ہورہے ہیں
    صحن چمن کی رونق رنگوں میں بٹ رہی ہے
    انسانیت کے دشمن انسان ہورہے ہیں
     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غیر کی انجانی بستی میں کون سنے گا دل کی بات
    دل ہی دل میں رہ جاتی ہے ہائے ہمارے دل کی بات
    ایسے بھی دیوانے پن کا کیا کیجیے جو کرتا ہو
    ایک نئی منزل پہ پہونچ کر اور کسی منزل کی بات
    اور زیادہ اہل محفل کیا امیدیں رکھتے ہیں
    ہم تو کب کے مان چکے ہیں اپنے ہی قاتل کی بات
    سیل و حوادث رنج و کلفت سب اپنا ہی حصہ ہیں
    طوفانوں میں خوش رہتے ہیں کیا سوچیں ساحل کی بات
    سچ ہے یورپ کے مے خانوں کے انداز نرالے ہیں
    بات جو اپنی خلوت کی تھی ہے وہ یہاں محفل کی بات
    اپنوں سے بھی کیا کہتے ہم اپنے بھی تو کرتے ہیں
    وہی ضرب و تفریق کے جھگڑے جمع کی حاصل کی بات
    رنگ بدلتی اس دنیا میں کس کو فرصت یاد رکھے
    لیلیٰ مجنوں کے افسانے قافلہ و محمل کی بات
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    حرص و ہوس پہ طمع پہ مائل نہیں ہوئے
    پھیلا کے دست غیر سے سائل نہیں ہوئے
    عشق بتاں سے دور کا ہی سلسلہ رہا
    مصروفِ ذکر حور و شمائل نہیں ہوئے
    حسن و رقیب پیش نظر آئے تب بھی ہم
    دیوار بن کے بیچ میں حائل نہیں ہوئے
    کیا مشکلیں تھیں جن کو نہ آسان کرسکے
    وہ کون سے تھے حل جو مسائل نہیں ہوئے
    ورثے میں جو ملے تھے بزرگوں سے کچھ اصول
    اب بھی عزیز جان ہیں زائل نہیں ہوئے
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    لبھائی اس قدر کچھ سخت کوشی
    کہ شیوہ بن گیا خانہ بدوشی
    نہ اب محمود جیسے بت شکن ہیں
    نہ آزر ہیں نہ رسمِ بت فروشی
    نہ کوئی مونس و ہمدرد باقی
    محبت ہے کہیں نہ گرم جوشی
    وہاں پر دور ہے رقص و طرب کا
    یہاں گوشہ نشینی اور خموشی
    کہیں رنگینیوں میں کھو نہ جائے
    ہماری صاف گوئی سادہ پوشی
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عالم ایک عجب تصویر
    ہم تنہا اور جمِّ غفیر
    جب نہ دوا میں ہو تاثیر
    زہر کا پیالہ ہے اکسیر
    ہو شاید موقوف بہار
    لاؤ پہن لیں ہم زنجیر
    تنہائی سے رغبت ہے
    معاف کریں میری تقصیر
    ٭آپ کی ضد یاں لائی ہے
    آپ ہیں مرشد آپ ہیں پیر
    پیار محبت راس نہیں
    کون پکائے ٹیڑھی کھیر
    شاعر بن کے اے واحدؔ
    مارلیا کیا آپ نے تیر
    آپ سے پہلے اور کئی تھے
    مومنؔ غالبؔ سوداؔ میرؔ
    ٭یہ شعرConventry کی ایک ادب نواز شخصیت کے تخاطب میں لکھا گیا اور مشاعرہ میں پڑھا گیا تھا
     
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شیخ و سید ہیں خان ہیں ہم لوگ
    مغلیہ خاندان ہیں ہم لوگ
    محفل نغمہ و سرور میں ایک
    المیہ داستان ہیں ہم لوگ
    تاجرانہ ہیں سارے رسم و رواج
    چلتی پھرتی دوکان ہیں ہم لوگ
    عالمِ رنگ و بو میں کیوں یارب
    موردِ امتحان ہیں ہم لوگ
    ظلم کے دور میں بھی جیتے ہیں
    کس قدر سخت جان ہیں ہم لوگ
     
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جاتی ہوئی صدی کی کرامت تو دیکھئے
    دورِ جدید کی یہ حکایت تو دیکھئے
    خالصِ مغلظات ہوئیں شامل ادب
    انگلش زبان کی یہ بلاغت تو دیکھئے
    گذرے تعصّبات ہوئے پھر سے تازہ دم
    کچھ ذہنی مفلسی کی یہ حالت تو دیکھئے
    مقصد حصولِ زر ہے عقیدہ نہ کچھ اصول
    پاتی ہوئی فروغ تجارت تو دیکھئے
    شیطان بن کے پائے ادیبوں میں جو مقام
    موقع پرست شخص کی جرأت تو دیکھئے
    ناشر بھی علم و فن کے جسے خوب ہی ملے
    بیٹھے بٹھائے سب کی شرارت تو دیکھئے

    شیطانی آیات (Satanic Verses )کی اشاعت پر
     
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اپنوں سے ہوئے غافل ہم دیدہ و دانستہ
    غیروں میں ہوئے شامل ہم دیدہ و دانستہ
    نغمے تھے جواں رات بھی کچھ بھیگ چلی تھی
    چھوڑ آئے تیری محفل ہم دیدہ و دانستہ
    ہیں طوق و سلاسل تو کہیں دار و رسن ہے
    کرتے ہیں یہاں منزل ہم دیدہ و دانستہ
    وہ بحر کی آغوش وہ طوفان کی لوری
    خود بھول گئے ساحل ہم دیدہ و دانستہ
    درویش کا تھا قہر بھلا کس پہ اتراتا
    اپنے ہی بنے قاتل ہم دیدہ و دانستہ
    ویرانے کی جانب ہو جو رخ بادِ صبا کا
    راہوں میں بچھادیں دل ہم دیدہ و دانستہ
    بنتے ہوئے دیکھی جو تیری بزم تماشہ
    خلوت کے ہوئے قائل ہم دیدہ و دانستہ
     
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غزل (نذر فلسطین)
    آشفتہ سر جن کو سمجھے تھے جہاں والے
    نکلے وہی دل والے نکلے وہی جاں والے
    مجبور نے آداب جنوں سیکھ لئے ہیں
    ہر لحظہ پریشاں ہیں شیشے کے مکاں والے
    تاریخ نظر آتی ہے انگشت بہ دنداں
    نکلے ہیں کفن باندھے پھر عزمِ جواں والے
    کہہ دو کہ ندامت کے سوا کچھ نہ ملے گا
    آئے ہیں بڑے زعم سے شمشیر و سناں والے
    آنکھوں میں فلسطین کے اب خشک ہیں آنسو
    مرجانے پہ آمادہ ہیں آہ و فغاں والے
     
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    داستانِ دل ناکام نہیں کہہ سکتے
    مفت ہوجائیں گے بدنام نہیں کہہ سکتے
    قصۂ زلف سیاہ فام نہیں کہہ سکتے
    یہ حکایت بہ سرِ عام نہیں کہہ سکتے
    وہ ہوس تھی کہ محبت کہ جنوں کا آغاز
    ایک خلش یونہی سی بے نام نہیں کہہ سکتے
    اور گزرے ہیں مکیں آپ سے پہلے کتنے
    گھر کے خاموش در و بام نہیں کہہ سکتے
    عظمتِ رفتہ کی یادوں پہ گزارا کب تک
    یہ کہانی سحر و شام نہیں کہہ سکتے
    رنج و کلفت ہی اگر زیست کا سرمایہ ہے
    کس طرح آئے گا آرام نہیں کہہ سکتے
    ہم نے مانا کہ بہت ترش ہیں اس کے انداز
    پیار کی بات کو دشنام نہیں کہہ سکتے
    قتل کے بعد وہ آثار پشیمانی کے
    ابتدا ہے اسے انجام نہیں کہہ سکتے
    مہہ کنعاں کے لئے باعث جاہ و منصب
    حادثہ تھا جسے نیلام نہیں کہہ سکتے
    ہاہاں مچا رہتا ہے مسجد میں جو واعظ کے سبب
    شور غوغہ اسے اسلام نہیں کہہ سکتے
    ضعف سے ہوگئی کمزور نظر پر تم کو
    ہم پری چہرہ و گلفام نہیں کہہ سکتے
     
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یونہی آج بھولے سے جانے کس کی یاد آئی
    سونی سونی بستی میں گونجتی ہے شہنائی
    مطربہ نے لہرا کر ساز پر غزل چھیڑی
    چوٹ سی لگی دل پر آنکھ سب کی بھر آئی
    حسن کا وہی غمزہ عشق کے وہی تیور
    آپ سے نہ ملنے کی ہم نے پھر قسم کھائی
    ذوقِ بزم آرائی اُن کو اور دے یارب
    ان دنوں زہے قسمت جن سے ہے شناسائی
    انجمن سے وابستہ کم نگاہیاں اپنی
    وسعتِ نظر چاہے ایک دشتِ تنہائی
     
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پھر دل کو محبت کا طلبگار نہ کیجیے
    اپنے لیے پھر خواہش آزار نہ کیجیے
    اول ہی سے اس دور میں آسان نہیں زیست
    لِللّٰہ اسے اور بھی دشوار نہ کیجیے
    خوباں جو اگر رات کو دن، دن کو کہیں رات
    تب خیر اسی میں ہے کہ تکرار نہ کیجیے
    کیا کیجیے ہم طنز کی عادت سے ہیں مجبور
    دنیا سے گزارش ہے ہمیں پیار نہ کیجیے
    یکساں ہے زمانے میں ہوس اور محبت
    بہتر ہے کہ ذکرِ لب و رخسار نہ کیجیے
    پینے کے لیے ویسے مناسب ہے یہ دستور
    مل جائے اگر مفت تو انکار نہ کیجیے
    واحدؔ کو کوئی پیر یا ملّا نہ سمجھئے
    اس بندہِ عاجز گو گنہگار نہ کیجئے
     

اس صفحے کی تشہیر