رقصِ شرر۔۔ ع واحد

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 5, 2007

ٹیگ:
  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بسم اللہ الرّحمنِ الرِّحیم


    رقصِ شرر

    ع۔واحد
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اے مرے معبود

    حدیں ضرور تھیں لیکن خیال سے آگے
    ازل سے لے کے ابد کے لیے رواں تھا وقت
    کئی سکوت کے طوفاں خموش طغیانی
    بُنے ہوئی تھی طلسموں کا جال کائنات
    خلا میں راہ بھٹکتا ہوا مسافر ایک
    نہ جانے کس لیے کچھ یوں صدائیں دینے لگا
    میں تجھ کو دیکھنا چاہتا ہوں اے میرے معبود
    چھپا ہواہے کہاں تو میری نگاہوں سے
    زباں سے جیسے نکل کر سہم گئی آواز
    نہ کوئی برق گری اور کہیں نہ طور جلا
    الاؤ بیچ میں سورج کے تیز جلتے رہے
    زمین چاند کو لے کر کشش کی باہوں میں
    طواف کرتی رہی خامشی سے محور پر
    زحل۔عطارد و زہرا و مشتری مریخ
    کسی نے کچھ نہ سنا صرف رقص کرتے رہے
    کہیں افق پہ نگاہوں سے دور سورج کی
    حسین قوس قزح دیر تک لچکتی رہی
    بہت سے رنگ نکھرتے رہے بکھرتے رہے
    چراغ جلتے رہے کہکشاں کے راہوں میں
    فضا میں نور کے ذرے بھی جھلملاتے رہے
    کسی نے کچھ نہ سنا، نا کسی نے کچھ ہی کہا
    صدائیں لوٹ کے بس آگئیں مسافر کی
    میں تجھ کو دیکھنا چاہتا ہوں اے مرے معبود
    چھپا ہوا ہے کہاں تو میری نگاہوں سے
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یار ب ذوالجلال
    یارب ذوالجلال یہ کیسا مذاق ہے
    ہے زندگی وبال یہ کیسا مذاق ہے
    مشکل ہے عرضِ حال یہ کیسا مذاق ہے
    جینا ہے بس محال یہ کیسا مذاق ہے
    منکر ترے وجو د کے اس کائنات میں
    ہیں شاد اور نہال یہ کیسا مذاق ہے
    کاشانۂ حیات پہ ڈالو جدھر نظر
    ہے جنگ اور جدال یہ کیسا مذاق ہے
    چھوٹی سی بات ہو کہ نکل آئیں ہر طرف
    تلوار اور ڈھال یہ کیسا مذاق ہے
    نومشق لے کے بیٹھ گئے زندگی کا ساز
    سُرہے نہ کوئی تال یہ کیسا مذاق ہے
    تالے پڑے ہوئے ہیں بزرگوں کی عقل پر
    زیرک ہیں نونہال یہ کیسا مذاق ہے
    مفلس کے حالِ زار پہ کچھ اور طعنہ زن
    واعظ کا قیل وقال یہ کیسا مذاق ہے
    روزِجزا کاذکر اگر لے کے بیٹھئے
    کہتے ہیں مہہ جمال یہ کیسا مذاق ہے
    حوروں کی بات ہوتو کہیں اپنی عمر کا
    کچھ کیجئے خیال یہ کیسا مذاق ہے
    ہے زندگی تمام شبِ ہجر کی مثال
    ممکن نہیں وصال یہ کیسا مذاق ہے
    اس اختصارِ زیست پہ سر میں سما ہوا
    ہے عشقِ لازوال یہ کیسا مذاق ہے
    راہِ نجات تو ہی دکھا صاحب الکمال
    یا صاحب الکمال یہ کیسا مذاق ہے
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    حدود

    خلاؤں کی اور کائناتوں کی حد
    ستاروں کی اور آسمانوں کی حد
    زمیں کی زمیں کی فضاؤں کی حد
    سمندر کی حد اور خشکی کی حد
    ممالک کی حد براعظم کی حد
    سیاست کی حد حکمرانوں کی حد
    حسابوں کی حد گوشواروں کی حد
    اصول و قوانین و آئیں کی حد
    ولادت کے اور موت کے درمیاں
    ہر اک سانس لینے والے کی حد
    جرائم کی حد کفر و ایماں کی حد
    کلیسا کی کعبہ کی مسجد کی حد
    مدرسے کی حد درسگاہوں کی حد
    علوم وفنون و مہارت کی حد
    دوکانوں کی حد شاہراہوں کی حد
    مکانوں گھروں قحبہ خانوں کی حد
    خدایا تیری ذات برحق تجھے
    سروکار حد و کراں سے نہیں
    تیری مصلحت تیرے انصاف پر
    تحیّر کا بندہ گنہگار ہے
    عبادت گزاروں میں تیرے کوئی
    شرارت پہ آمادہ کیسے ہوا
    خطاوار جنت میں آدم ہوئے
    گرفتار مخلوق کل ہوگئی
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بارِ امانت


    انجم و کہکشاں پہ خاموشی
    فکر مندی میں غرق شمس و قمر
    آسماں سر جھکائے شرمندہ
    معذرت خواہ سارے ارض و سما
    چار سو محویت کا اک عالم
    اور ملائک تمام سجدے میں
    جو توقع تھی ہوگئی ناکام
    بوجھ سارا تیری امانت کا
    میں نے تنہا اٹھالیا معبود
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تعارف


    قادیانی ہوں نے وہابی ہوں
    اشتراکی نہ انقلابی ہوں
    صرف اتنی سی داستاں ہے میری
    شہرِ لندن کا اک شرابی ہوں
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گجر بجے بٹن دبے
    شراب خانے کھل گئے
    گلاس جگمگا گئے
    نگاہوں میں سما گئے
    وہ ہپی شاہزادیاں
    گلوں میں باندھے گھنٹیاں
    لباس تار تار میں
    نکل کے گھر سے آگئیں
    سماج ہی کی بیویاں
    سماج ہی کی بیٹیاں
    ہنسیں گی اور ہنسائیں گی
    افیم وبھنگ کھائیں گی
    نظارۂ حسین کے
    عظیم چترکار بھی
    کسی طرف چلے گئے
    اکیلا ان کو چھوڑ کے
    تھکے ہوئے نظام کی
    یہ شام بھی کہاں ہوئی
    چلو اب آگے بڑھ چلیں
    یہاں ٹھہر کے کیا کریں
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تارکین وطن کا شکوہ

    کیوں نمک خوار بنوں سود فراموش رہوں
    ذکرِ ماضی نہ کروں محو غم دوش رہوں
    باتیں پاویل کی سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
    ٹوڈی بچہ تو نہیں ہوں جو میں خاموش رہوں
    جرأت آموز میری تاب سخن ہے مجھ کو
    شکوہ افرنگ سے خاکم بہ دہن ہے مجھ کو
    نت نئے ناموں سے اس نگری میں مشہور ہیں ہم
    کیا کریں وقت ہی ایسا ہے کہ معذور ہیں ہم
    غیر بستی میں ہیں اپنوں سے بہت دور ہیں ہم
    قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
    ہم غریب الوطنوں کی یہ صدا بھی سن لے
    زنہ رہا وقت قصیدوں کا گلہ ہی سن لے
    یاد تو ہونگے وہ دن صاحبِ الطاف وعمیم
    حکمراں ہم پہ تھی جب آپ کی ذات قدیم
    ہند و سیلون پہ برما پہ حکومت تھی عظیم
    بوئے گُل چوس کے لے آئی تھی کلیوں کی شمیم
    جانے کیا آپ کی امت کو پریشانی تھی
    سونے چاندی کے خزانوں پہ جو دیوانی تھی
    کس نے میسور کی کانوں کے خزانے لوٹے
    تاج کے قیمتی یاقوت وہیرے لوٹے
    چاک خلعت بھی کئے ان کے بھی لیرے لوٹے
    ہند کو خالی کیا ساتھ جزیرے لوٹے
    تاج تو تاج رہا تخت نہ چھوڑے تم نے
    تخت طاوس پہ دوڑادیے گھوڑے تم نے
    تلخ ہوجائے حقیقت تو بھلادیتے ہیں
    ہوش آجائے تو کچھ اور پلادیتے ہیں
    میری سرکار میرے دل کو ہلادیتے ہیں
    میزبانی کا پرانی یہ صلہ دیتے ہیں
    غل مچارکھا ہے اس دیس سے کالے جائیں
    آکے بیٹھے بھی نہیں ہیں کہ نکالے جائیں
    بس رہے ہیں یہاں اٹلی کے بھی یونانی بھی
    ہیں فرانسیسی بھی کچھ چینی وجاپانی بھی
    عربی بھی ہیں یہاں ترکی وایرانی بھی
    اسی دنیا میں یہودی بھی ہیں نصرانی بھی
    کیوں یہ ہم سے ہی گلہ ہے کہ وفادار نہیں
    ہم وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں
    تیری ریلوں کو زمیں دوز چلایا کس نے
    ڈاک خانوں میں تیرے سر کو کھپایا کس نے
    مدرسوں میں تیرے بچوں کو پڑھایا کس نے
    کارخانوں میں مشینوں کو گھمایا کس نے
    اسپتالوں میں مریضوں کو شفایاب کیا
    خود تو ناشاد رہے اوروں کو شاداب کیا
    ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر
    جی چراتے تھے یہاں کام سے بے حد لوفر
    بیٹھے رہتے تھے شب و روز پبوں میں جاکر
    گالیاں بکتے تھے بس خوب نشے میں آکر
    سخت محنت سے ہماری ہی بنا کام تیرا
    ورنہ لیتا نہیں دنیا میں کوئی نام تیرا
    بات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی ہم نے
    زندگی یاں کی ٹھکانے سے لگائی ہم نے
    غم سہے بھوک کی تکلیف اٹھائی ہم نے
    آج تک مفت کی روٹی نہیں کھائی ہم نے
    تیری سرکار کے چندوں پہ تو کم رہتے ہیں
    اپنی محنت کی کمائی ہی پہ ہم رہتے ہیں
    کاش اس خواب سے غافل کبھی بیدار تو ہوں
    اس تعصب کے نشے سے کبھی ہوشیار تو ہوں
    ان خطرناک مسائل سے خبردار تو ہوں
    کاش اس دیس میں کچھ حق کے طلبگار تو ہوں
    جن کی نظروں میں سبھی ایک ہوں حبشی و فرنگ
    ہو کوئی ان کی نسل اور نہ تفریق نہ رنگ
    نازیوں کو نہ بنے پالنے والی دنیا
    بھائی پاویل سے ہو بس اتنا سوالی دنیا
    مہربانی ہو اگر کردیں جو خالی دنیا
    اور جہنم میں بسائیں وہ خیالی دنیا
    رومل و ہملر و ہٹلر کا سہارا لے کر
    ڈھونڈ لیں ان کو چراغِ رخ زیبا لے کر

    ۔۔۔۔۔
    (پاویل صاحب نے برطانہ سے ہندوستانیوں پاکستانیوں کو نکالے جانے کی بات اٹھائی تھی)
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دوشرابی

    ایک شرابی ہندوستانی
    ایک شرابی پاکستانی
    لندن کے اک مے خانے میں
    دونوں بیٹھے جھوم رہے ہیں

    اکھڑی اکھڑی کچھ باتیں تھیں
    یوں سننے میں جو آتی تھیں
    بارہ من کی دھوبن دیکھو
    تاج محل لاہور کا دیکھو
    جبلپور سے راولپنڈی
    چھے چھے پیسے چھ چھ پیسے
    خان عبدالغفار کی دھوتی
    لال قلعے پر سوکھ رہی ہے
    خود وہ چاندنی چوک میں بیٹھے
    مرغِ مسلّم بھون رہے ہیں
    پنڈت نہرو کل ڈھاکے میں
    دو گز ململ ڈھونڈ رہے ہیں
    اے جی سنوریا
    جاؤ بزریا
    لاؤ چندریا
    اب کھادی کی
    جے ہو مولانا گاندھی کی
    جوش صاحب کی دم کا دھاگا
    جانے کون دباکر بھاگا
    صبح بنارس شام کلفٹن
    پھول کھلے ہیں گلشن گلشن
    لیکن اپنا اپنا دامن
    قائد اعظم چوپاٹی پر
    آج سویرے بھاشن دیں گے
    بھیل پری پر بول رہے ہیں
    باب نیا اک کھول رہے ہیں
    گاندھی جی کی امر کہانی
    آج کراچی کے تھیٹر میں
    سلور جوبلی کرتی ہوگی
    مولانا آزاد کی مرغی
    کلکتے کی چورنگی پر
    بھائی سہر وردی نے پکڑی
    مولانا اب بیٹھے بیٹھے
    خوب غبارِ خاطر لکھیں
    چائے سے یا رس گلوں سے
    جیسے بھی ہو دل بہلائیں
    مرزا غالب رات صدرمیں
    نور جہاں کو چوم رہے تھے
    دونوں بیٹھے جھوم رہے تھے
    دونو ں کے سر گھوم رہے تھے
     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    آخر اس درد کی دواکیا ہے

    جھاڑ جھنکار جھنڈیاں فانوس
    ڈھول تاشے نفیریاں ناقوس
    گھر سے نکلے ہیں لوگ بن کے جھڑوس
    خوب نکلا ہے ہپّیوں کا جلوس
    بال لمبے لباس میلے ہیں
    بھائی طارق علی کے چیلے ہیں
    آچکا ہے شباب پر جوبن
    گھنٹیوں کی گلے میں ہے ٹن ٹن
    سر پہ ان کے یہاں جو چوٹی ہے
    تن پہ ان کے وہاں لنگوٹی ہے
    شوق سنگیت ہے ادھر تشنہ
    جے ہرے رام جے ہرے کرشنا
    ہے گٹاروں پہ پاپ موسیقی
    دے رہے ہیں وہ تھاپ طبلے کی
    ذوق شاہِ سلیم رکھتے ہیں
    جیب میں سب افیم رکھتے ہیں
    لڑکھڑاتے ہیں بے سہارا ہیں
    پر بضد ہیں کہ چی گوارا ہیں
    انقلابات کے بھی قائل ہیں
    کچھ افیمی صفوں میں شامل ہیں
    یہ بھی جوگی ہیں وہ بھی جوگی ہیں
    جن سے ملئے مہیش یوگی ہیں
    باپ دادا کے پاپ سر پہ وبال
    بیٹے تیرتھ کو جائیں گے نیپال
    کیا لکھوں اس جلوس کا اب حال
    سب پراگندہ ہوچکے ہیں خیال
    یہ چلن ہے نئے زمانے کا حال
    خواب ہے یا کسی دیوانے کا
    ساری دنیا پہ راج تھا جن کا
    تخت تھا جن کا تاج تھا جن کا
    ان کی تہذیب کو ہوا کیا ہے
    یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
    لفظ ہپّی کا مدعا کیا ہے
    آخر اس درد کی دوا کیا ہے
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پرانی کار

    اب جو بگڑے ہوئے ہیں جاگیردار
    تھے کبھی ہم رئیس و منصب دار
    زمبیا لے کے آگئی قسمت
    دوست ایسے ملے یہاں دوچار
    شان و شوکت کا واسطہ دے کر
    سب نے ہم کو دلادی موٹر کار
    آئیے آپ کو سنائیں اب
    دکھ بھری اپنی داستاں سرکار
    واقف غم ہیں آپ ہو جو اگر
    کچھ ہنرمند اور تجربے کار
    آپ نے بھی کبھی خریدی ہو
    سستے داموں کوئی پرانی کار
    کرچکی تھی سفر ہزاروں میل
    گز تھے ہر میل میں پچاس ہزار
    لڑکھڑاتا تھا اک اک پرزہ
    عاشقِ سوختہ تنِ بیمار
    ویسے اسٹارٹ ہو تو جاتی تھی
    کیجیے کوشش جو دس یا پندرہ بار
    یوں سمجھئے کہ بیٹری کیا تھی
    دل میں عاشق کے بس بھرا تھا غبار
    لی جو اسٹارٹر نے انگڑائی
    آئے گردش میں اپنے لیل ونہار
    یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
    تہِ بونٹ ہے کوئی ماتم زار
    یوں گیئر کروٹیں بدلتے تھے
    بستر مرگ پہ ہو جوں بیمار
    ریڈی ایٹر سے آرہی تھی صدا
    یا قیامت تھی برسرِ پیکار
    تیل انجن میں کس جگہ ڈالیں
    غور اس مسئلے پہ تھا بیکار
    لیک کرتا تھا اس طرح وہ غریب
    جیسے روتا ہو کوئی زار و قطار
    ایکسل کا وہ دلربا نغمہ
    راہ گیروں کو جو کرے سرشار
    جیسے پنگھٹ پہ اک حسینہ کے
    نقرئی پائلوں کی ہو جھنکار
    ہم نے جس سمت کا ارادہ کیا
    بس سہم سے گئے در و دیوار
    راہ میں لوگ جیسے کہتے ہوں
    باادب باملاحظہ ہوشیار
    چرمراتے تھے اس طرح پہئیے
    کررہے ہوں سڑک پہ بوس و کنار
    ہر طرف شور ایک برپا تھا
    ماسوا ہارن جو تھا کچھ بیمار
    جیسے ملا کی دوڑ مسجد تک
    جاتے گیراج روز پانچوں بار
    تاب باقی نہ تھی مرمت کی
    میکنک ہوچکے تھے سب لاچار
    ایک اپنے جو غمگسار سے تھے
    مشورہ ان کا تھا یہی ناچار
    راہ میں دُن مچانا ٹھیک نہیں
    بند کردے نہ تم کو تھانے دار
    بیچ کر کچھ رقم ملاؤ اور
    جیب میں گر نہ ہو تو لے کے ادھار
    سائیکل کی دوکان پر جاکر
    بارے کوشش یہی کرو اس بار
    کوئی اچھا سائیکل مل جائے
    کار کا تاکہ سر سے اترے بخار
    اس کھٹارے سے سائیکل اچھا
    وقنا ، ربنا عذاب النار
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    نئی زندگی نیاجیون

    پرانا گھر ہے رہنے کو
    چلانے کو کھٹارہ ہے
    نئی ہے زندگی اپنی
    نیا جیون ہمارا ہے
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    حضرتِ داغ

    ایک اس شہر میں ایسے بھی کرم فرما ہیں
    حضرتِ داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے
    آپ ازراہِ تکلف جو لگے خاطر میں
    یہ جہاں آن کے بیٹھے تھے وہیں لیٹ گئے
     
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    زندگی

    بات مکتب کی ہے
    موٹی موٹی کتابوں سے پڑھتے رہے
    پیار ہے زندگی
    دار ہے زندگی
    ذوق پرواز ہے زندگی
    اک حسیں راز ہے زندگی
    اک جہاد مسلسل کا انعام ہے
    زندگی عشق کادوسرانام ہے
    اورپھر ایک دن
    ہم نے مکتب سے باہر رکھا جو قدم
    یاں نظارہ ہی کچھ اور دیکھا گیا
    چند کا غذکے سکوں کے رنگیں ورق
    جن کے چاروں طرف
    نقش فریادی و کاغذی پیرہن
    اس مرقع کا عنوان تھازندگی
     
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غریب الوطنی

    تظمین بر مصرع حفیظ جونپوری

    دھوپ ہوتی ہے نہ کچھ چھاؤں گھنی ہوتی ہے
    روز و شب شام و سحر دل شکنی ہوتی ہے
    مسکرالیتے ہیں گو دل پہ بنی ہوتی ہے
    ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

    دور دنیا سے عزیزوں کے پیام آتے ہیں
    بھائی بہنوں کے اقارب کے سلام آتے ہیں
    اشک اور خون میں ڈوبے ہوئے جام آتے ہیں
    ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

    کوئی لکھتا ہے کہ ہم حرف وفا بھول گئے
    آکے پردیس سلام اور دعا بھول گئے
    کھاکے لندن کی ہوا اپنی ادا بھول گئے
    ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

    یاد کا زہر بہت تلخ مزا ہوتا ہے
    پھر بھی پیتا ہوں کہ وہ نشہ بھی کیا ہوتا ہے
    آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے
    ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

    وہی خوابیدہ سی آنکھیں وہی کاجل کی لکیر
    صندلی ہاتھ پہ ہلکی سی حنا کی تحریر
    ہوچکی اب تو خیالوں میں بھی دھندلی تصویر
    ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

    میں تھکا ہارا بھی تھا گھر کے بھی آئے بادل
    کسی متوالے نے لیکن نہ بڑھائی بوتل
    بن گئے آج کھنڈر سارے خیالوں کے محل
    ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

    بھائی حدّن* کی شکیلہ* کی وفاؤں کی قسم
    نیّر* و راہی** کی معصوم دعاؤں کی قسم
    اف وہ طالب* کی بلانوش اداؤں کی قسم
    ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

    ساجد*** و خالد*** و اعجاز.*** گلہ کرتے ہیں
    شاعری سے ہمیں کیوں بور کیا کرتے ہیں
    کیسے سمجھائیں کہ کیوں شعر کہا کرتے ہیں
    ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے


    * علی گڑھ کے احباب اور ان کا خاندان
    ** راہی معصوم رضا
    *** سید محمد ساجد اور سید محمد خالد دونوں چھوٹے بھائی، ان دنوں علی گڑھ میں

    مقیم، حال،۔ ساجد آبائی وطن جاؤرہ، ضلع رتلام، مدھیہ پردیش، ہند، خالد حال مقیم نیو

    یارک
    ****اعجاز اختر/اعجاز عبید، بھانجے، حال مقیم حیدر آباد، مدیر ’سمت‘، انٹر نیٹ جریدہ
     
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دستک

    سنگریزوں کو پھر سے آب ملی
    ریگ زاروں میں پھر سراب ملی
    کوئی پیاسا تھا جیسے مدت سے
    آج پینے کو پھر شراب ملی
    ہم نے دستک بھی دی مگر دنیا
    مائلِ عیش و مستِ خواب ملی
    سب نے پردے گرالئیے ورنہ
    یاں حقیقت تو بے حجاب ملی
    غم دوراں سے آج جب فرصت
    چند لمحوں کی کچھ جناب ملی
    یونہی ڈالی تھی خود پہ ایک نظر
    اپنی حالت بہت خرا ب ملی
     
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ورثہ

    کبھی کبھی جب بھی دور حاضر کی تلخیوں سے
    فرار کی سوچتا ہے کچھ دل
    ذہن کی جھولی میں ڈھونڈتا ہوں
    کہ مجھ کو ورثے میں کیا ملا ہے
    غلامیوں کے پرانے قصے
    وطن کے جغرافیہ پہ تقسیم کی لکیریں
    فساد وغارت گری کی باتیں
    حقارت ونفرت وذلالت
    وطن سے ہجرت
    نئے وطن کو
    دیار غیر کو اجنبی چمن کو
    مجھے بزرگو ں سے کچھ شکایت نہیں ہے لیکن
    کبھی کبھی جب بھی سوچتا ہوں
    کہ مجھ کو ورثے میں کیا ملا ہے
    تو ہونے لگتی ہے ایک وحشت
    مجھے وطن سے
    کہ اب میرا جو وطن نہیں ہے
    تمام ان دوستوں سے اپنے
    کہ جن کا میں ہم وطن نہیں ہوں
     
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ماتم

    تھکن کے اندھیارے آنگن میں
    ذہن تو سویا چاہتا ہے
    لیکن یا دکی آوازیں کب
    آنکھ ذرا سی لگنے دیں
    آنکھوں میں بینائی بھی ہے
    جو کچھ لیکن دیکھ رہی ہیں
    سب بے معنی تصویریں ہیں
    درد کی لہریں کروٹ کروٹ
    اب تک ہے احساس چبھن کا
    یہ احساس بھی ایک لعنت ہے
    اس ماحول میں خود ہی کہئیے
    نیندکہاں آپائے گی
    جسم نہ ہو ایک ماتم گھر ہو
    دل کہ سینہ پیٹ رہا ہو
    دھڑکن اپنی آہ وبکا سے
    کان کے پردے پھاڑرہی ہو
    خود کو کب تک دھوکہ دوگے
    تم زندہ ہو
    تم زندہ ہو
     
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ٹوٹے ہوئے مندرمیں

    ٹوٹے ہوئے مندر میں
    ہر سمت اندھیرا تھا
    مکڑی کے کئی جالے
    چہرے سے الجھتے تھے
    سنسان فضا ساری
    اور گرد کے بستر تھے
    بھگوان کی اک مورت
    جو فرش پہ اوندھی تھی
    کیا جانئے کیوں میں نے
    جالوں کی صفائی کی
    سب گرد ہٹا ڈالی
    بھگوان کی مورت کو
    پھر پونچھ کے دامن سے
    اک اونچی جگہ رکھا
    ایک طاق کے اندر پھر
    چھوٹا سا دیا پاکر
    روشن ہی کیا ہوگا
    مورت کی طرف دیکھا
    بھگوان کے چہرے پر
    نخوت تھی تکبر تھا
    نفرت تھی حقارت تھی
    ایک پھونک سے فوراً ہی
    وہ روشنی گل کرکے
    بھگوان کی مورت پر
    اک دھول جما ڈالی
    تم اوندھے ہی بہتر ہو
    ٹوٹے ہوئے مندر میں
    اچھا ہے اندھیرا ہو
    مکڑی کے کئی جالے
    اور گرد کے بستر ہوں
     
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    فکر کے موتی

    ذہن میں ہو گھنگھور اندھیرا
    کالی کالی خوب گھٹائیں
    پھر بے تاب تمناؤں کی
    گرج گرج کر چمکے بجلی
    چلنے لگے یوں سوچ کی آندھی
    زن زن کی آوازیں آئیں
    دروازے سے کھڑکی سے بھی
    یوں جذبات پگھل اٹھیں کچھ
    موسلہ دھار ہوں جوں برساتیں
    یادوں کے سارے پرنالے
    روتے روتے تھک سے جائیں
    اس طوفان کے تھمنے پر
    خوب برس کے کھلنے پر
    اولتیوں سے گرتی ہیں
    چھوٹی چھوٹی سی کچھ بوندیں
    فکر کے موتی ننھے منے
    بیچ رہے ہیں
    رخسار کے تل زلف کے خم بیچ رہے ہیں
    کیا خوب تراشے ہیں صنم بیچ رہے ہیں
    یا مفت لٹاتے تھے کبھی خونِ جگر کو
    یا دیکھئے اب لوح و قلم بیچ رہے ہیں
    تزئین کے حامی تھے کبھی سرخیٔ مے سے
    اب خود ہی در و بامِ حرم بیچ رہے ہیں
    انمول تھے آدرش بنے تھے جو ہمارے
    خود کو وہی بے دام و درہم بیچ رہے ہیں
    کیا جانئے کیا ہوگیا اربابِ جنوں کو
    سب زود و ذکا عقل و فہم بیچ رہے ہیں
    شاعر تھے بہت خوب مگر شومیِ قسمت
    بیٹھے ہیں چنا جور گرم بیچ رہے ہیں
     

اس صفحے کی تشہیر