واصف راہبر ملا ، نہ راہ میں کوئی بھی ہمسفر

سردار محمد نعیم نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 28, 2019

  1. سردار محمد نعیم

    سردار محمد نعیم محفلین

    مراسلے:
    1,838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive

    راہبر ملا ، نہ راہ میں کوئی بھی ہمسفر
    پوچھو نہ ، کس طرح سے ہوئی زندگی بسر

    ہر مرحلے پہ ذہن میں ، یہ کشمکش رہی
    ہستی سے ہو مُفر ، کہ مراحل سے ہو مُفر

    ہم کو خودی نے ، اپنا خدا ہی بنا دیا !
    جب بےخودی ملی ، تو گِرے پائے یار پر !

    وارث ہے میکدے کا وہی رِند تشنہ کام !
    جس کی نظر ہو ، گردشِ لیل و نہار پر

    وہ دن کہاں گئے کہ ، محبت تھی زندگی !
    اب وہ نظر کہاں ہے ، کہاں دل ، کہاں جگر

    آوارگانِ عشق نے ، منزل کو پا لیا
    راہوں میں سر پٹختی رہی ، عقل عمر بھر

    تاثیر ڈھونڈتی تھی ، کبھی آہِ نارسا
    اب ڈھونڈتا ہے ، آہ کو ، روتا ہوا اثر

    دل پہ تیری جفا کے سوا ، اور بھی ہیں داغ
    تاروں کی روشنی بھی رہی ، زینتِ قمر

    واصف کو کس نے ہوش سے بیگانہ کر دیا
    فطرت جنوں پسند تھی ، لیکن نہ اس قدر

    حضرت واصف علی واصف

     
    • زبردست زبردست × 2
  2. ابن جمال

    ابن جمال محفلین

    مراسلے:
    468
    بہت خوب صورت اورمرصع غزل ہے
     
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر