1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

ذو معنیٰ اشعار

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 9, 2007

  1. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,072
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    شب جو مسجد میں جا پھنسے"مومن"
    رات کاٹی " خدا خدا " کر کے
    حکیم مومن خان مومن۔
     
  2. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,306
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    دی شب وصل موزن نے اذاں پچھلے پہر
    ہائے کمبخت کو کس وقت خدا یاد آیا
     
  3. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,738
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    اب آپ نے ٹیگ کر دیا ہے تو پوچھ ہی لیتا ہوں کہ ان سب میں "ذو معنویت" کیا ہے؟
    یہی کیا بلکہ اس لڑی کے چھ آٹھ اشعار کے علاوہ باقی کوئی شعر بھی کم از کم "ذو معنی" کے زمرے میں تو نہیں آتا۔
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 19, 2015
    • متفق متفق × 2
  4. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,306
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مستند ہے آپ کا فرمایا ہوا :shocked:
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,016
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    محبوب کے اعضا کی کھلے کھلے الفاظ میں تعریف کر دینا یا فحش گوئی کر دینا "ذو معنی" کلام کہنا نہیں ہے۔ ذو کا مطلب دو، یعنی وہ شعر جس کے دو مطلب نکلتے ہوں۔

    شاعری کی ایک صنعت ایہام گوئی ہے اُس میں بھی دو مطلب ہوتے ہیں، ایک ظاہری جو فوراً سمجھ میں آ جاتا ہے اور دوسرا انتہائی چُھپا ہوا جو کافی تردد کے بعد سمجھ میں آتا ہے۔ ذو معنویت اور ایہام گوئی میں فرق یہ ہے کہ ذو معنی شعر میں جو دوسرا مطلب ہوتا ہے وہ پہلے ذہن میں آتا ہے جب کہ پہلا اور عام مطلب بھی عام فہم ہوتا ہے جس کی وجہ سے شاعر "حدود آرڈیننس" سے بچ جاتا ہے جبکہ ایہام گوئی میں دوسرا مطلب، جیسا کہ پہلے لکھا، کافی غور و حوض کے بعد سمجھ میں آتا ہے۔

    ذو معنی اشعار زیادہ تر فحش ہوتے ہیں جیسے کہ اس تھریڈ میں دختر درزی اور دختر قصاب والے اشعار ہیں، ذو معنی تو ہیں لیکن فحش بھی ہیں۔ ذو معنی اشعار میں اگر فقط فخاشی ہی ہے تو وہ شعر ہونے سے زیادہ "چَوَل" کہلانے کے زیادہ حقدار ہیں جیسے کہ آج کل کے اسٹیج ڈراموں میں ماری جاتی ہیں۔

    اچھے شاعر، ذو معنی شعر کہتے ہوئے بھی اپنا معیار برقرار رکھتے ہیں، جیسے کہ اس تھریڈ میں ابھی تک کا سب سے اچھا شعر مومن کا ہے، "خدا خدا" کرنے والا۔

    اور آخر میں ایک شعر میری طرف سے بھی، امیر خسرو کا ہے، اس کا پہلا مصرع ضرب المثل بن چکا ہے اور دوسرا مصرع عموماً نہیں لکھا جاتا، شعر پڑھ کر اندازہ کر لیجیے

    زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم
    چہ خوش بودے اگر بودے زبانش در دہانِ من

    میرے محبوب کی زبان ترکی ہے اور میں ترکی نہیں جانتا، کیا ہی اچھا ہو اگر اُس کی زبان میرے منہ میں ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 10
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  6. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,702
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت خوبصورت تجزیہ محمد وارث صاحب

    میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,738
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    محمد حسین آزاد اپنی کتاب "آبِ حیات" میں "نظم اردو کی تاریخ" کے عنوان کے تحت لکھتا ہے:
    ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔​
    نظم اردو کے آغاز میں یہ امر قابل اظہار ہے کہ سنسکرت میں ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنے ہیں۔ اسی واسطے نظمِ اُردو اور برج بھاشا دونوں کی بنیاد ذومعنین الفاظ اور ایہام پر ہوتی تھی، فارسی میں یہ صنعت ہے مگر کم، اُردو میں پہلے پہلے شعر کی بنا، اسی پر رکھی گئی اور دورِ اوّل کے شعرا میں برابر وہی قانون جاری رہا اوراس عہد کے چند اشعار بھی نمونہ کے طور پر لکھتا ہوں :

    لام نستعلیق کا ہے اُس بُتِ خوشخط کی زُلف
    ہم تو کافر ہوں اگر بندے نہ ہوں اسلام کے

    کیوں نہ ہو ہم سے وہ سجن باغی
    قد ہو جس کا نہال کی مانند

    تو جو دریا کے پار جلتا ہے
    دل مرا وار وار جاتا ہے

    تم دیکھو یا نہ دیکھو ہم کو سلام کرنا
    یہ تو قدیم ہی سے سر پر ہمارے کر ہے
    ("کر" ہندی میں محصول کو، سنسکرت میں ہاتھ کو کہتے ہیں، سَر کے بالوں کی جڑوں میں جو خشکی ہو جاتی ہے اسے بھی "کر" کہتے ہیں۔)

    نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا دیوے
    کہ آخر بدنما لگتا ہے دیکھو چاند کو گہنا

    سج دکھا بانکی نہیں چھوڑے گا میرا نقد دل
    آج وہ افغاں پسر آتا یہی ہے دل میں ٹھان

    نہ دیوے لے کے دل وہ جعدہ مشکیں
    اگرباور نہیں تو مانگ دیکھو
    ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  8. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,072
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    رحمتِ حق ۔"بہانہ می جوید"
    رحمتِ حق ۔بہا "نمی جوید"

    اللہ کی رحمت نزول کا بہانہ تلاش کرتی ہے ۔
    رحمت حق بہا یعنی قیمت طلب نہیں کرتی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  9. ثاقب الرحمن

    ثاقب الرحمن محفلین

    مراسلے:
    20
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    جناب واقعتا یہ شعر ذو معنوی ہے ، آپ اپنے ذوق کے مطابق معنی چن رکھیں ۔ :)
     
  10. ملک حبیب

    ملک حبیب محفلین

    مراسلے:
    129
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یہ کلام کس کا ہے،،،،،،،،،، ؟؟
     
  11. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,511
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    نظیر اکبر آبادی
     
  12. ملک حبیب

    ملک حبیب محفلین

    مراسلے:
    129
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت شکریہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر