دیوانِ میر حسن

شمشاد

لائبریرین

صیاد ہمکو لے تو گیا لالہ زار مین
پردہ قفس کا پر نہ اُٹھایا بہار مین

گنتا نہین جو اپنے غلامون مین مجھکو تو
لاتا نہین مین اپنے تئین بھی شمار مین

دل لیوین جس غریب کا اُس سے نہ پھر ملین
دیکھ عجب خدائی بتون کی دیار مین

آنا جو ہو تو ویسی ہی کہ اور نہین تو خیر
دل کو مرے جلا نہ عبث انتظار مین

تھا ہجر ہی بھلا کہ ہمین تھی امید وصل
پھر ہجر کا خیال بندھا وصل یار مین

دیوانے گاہ رخ کے رہے گاہ زلف کے
یہ عمر کٹ گئی اسی لیل و نہار مین

فرہاد و قیس و وامق و محمود ہون جدھر
ہم بھی رہین الٰہی اُنھون کی قطار مین

سو بار یونہین کہتا رہا ہان بھلا بھلا
سچا ہوا نہ پر کبھی قول و قرار مین

پھر اب جو وعدہ کرتا ہے تو کہہ تو اے عزیز
لاؤن مین کیونکہ بات تری اعتبار مین

ابتو غبار دل سے کہین صاف کر کہ بس
باقی نہین ہے خاک بھی اس خاکسار مین

گلشن مین بھی نہوویگی ایسی بہار تو
جیسے کہ ہے بہار دلِ داغدار مین

کل مین کہا بتان سے کہ دل لے چکو مرا
آوے قرار تا کہین اس بیقرار مین

کہنے لگا دوانا ہے چل چل خبر لے تو
لاتا ہے کون تیرے تئین یان شمار مین

بے اختیار اپنا تو جی لگ پڑے ہے وان
رہتا ہے ہمکو دیکھ کے جو اختیار مین

یون دل جو آپ سے کوئی دیوے تو لطف کیا
آ جائے ہان ہمارے جو کوئی رہگذار مین

تو تو ہم اُسکا دین و دل و صبر لوٹ لین
پھر سو مین خواہ ہوے کہ یا وہ ہزار مین

پوچھا جو مین سبب تو کہا مول لیکے صید
گر ذبح کیجیے تو نہین اعتبار مین

اُڑتے ہوے کو جب تئین لاوین نہ دام مین
تب تک مزا ہمین نہین آتا شکار مین

یہ گرد باد خاک پہ میرے نہین حسن
مین ڈھونڈھتا ہون آپ کو اپنے غبار مین​
 

شمشاد

لائبریرین

دل مرا آج میرے پاس نہین
مجھمین کچھ ہوش اور حواس نہین

دل لگایا جہان جفا دیکھی
کیا بلا عشق مجھکو راس نہین

پاس ہے یاس گرد ہے دل کی
اور اب کوئی آس پاس نہین

آپ تو اپنا عرض کر لے حال
دل ہمین تاب التماس نہین

یون خدا چاہے تو ملا دے اُسے
وصل کی پر ہمین تو آس نہین

مین بھی کچھ ہو گیا ہون پژمردہ
دل ہی میرا فقط اُداس نہین

کیا ملے تجھسے کوئی دالدادہ
آشنائی کی تجھمین باس نہین

ہے غفور رحیم تیری ذات
سب سے ہے یاس تجھسے یاس نہین

ایک ڈر ہے تو دوست کا مجھکو
دشمنون سے تو کچھ ہراس نہین

تیرے خاطر یہ سب سے دور ہوا
تو بھی تجھکو حسن کا پاس نہین​
 

شمشاد

لائبریرین
رہتے ہین خوار کستہ بیمار دل کے ہاتھون
ہم کھینچتے ہین کیا کیا آزار دل کے ہاتھون

جانا نہین کچھ اُسکے کوچہ مین اختیاری
جاتے ہین وان کھنچے ہم ناچار دل کے ہاتھون

شعلہ سے شمع کے جون فانوس جل بجھے ہی
بیٹھے ہین یون جلا ہم گھر بار دل کے ہاتھون

سینے کے داغ میرے مت دیکھ چشم کم سے
بھر لی ہے اس چمن مین گلزار دل کے ہاتھون

احسان ہے یہ تیرا جو اسکو لیگیا تو
اُکتا رہے تھے ہم بھی دلدار دل کے ہاتھون

بھائی نہین مجھے تو دنیا مین زیست اپنی
مین جیسے ہو رہا ہون بیزار دل کے ہاتھون

پہونچے نہ پہونچے اُس تک کہ اے خیال جانان
بھیجے تھے وہ جو لکھ لکھ طومار دل کے ہاتھون

گر دل حسن نہوتا اپنا تو خوب ہوتا
اب جو خرابیان ہین سُ یار دل کے ہاتھون​
 

شمشاد

لائبریرین
چل دل اُسکی گلی مین رو آوین
کچھ تو دل کا غبار دھو آوین

گوا بھی آئے ہین یہ ہے جی مین
پھر بھی ٹک اُسکے پاس ہو آوین

دل کو کھویا ہے کل جہان جا کر
جی مین ہے آج جی بھی کھو آوین

پند گو میرا مغز کھانے کو
کاش آوین تو ایک دو آوین

ہمتو باتون مین رام کر لین اُنھین
یہ بتان اپنے پاس جو آوین

گو خفا ہی ہوا کرے پر ہم
اِک ذرا اسکو دیکھتو آوین

جب ہم آوین تو اپنے دل مین رکو
اور نہ آوین تو پھر کہو آوین

باز آئے ہم ایسے آنے سے
ہان جو واقف نہووین سو آوین

کب تلک اُس گلی مین روز حسن
صبح کو جاوین شام کو آوین​
 

شمشاد

لائبریرین

نظر کرو حدت و کثرت بہم شامل ہین شیشہ مین
اگر شیشہ ہے محفل مین تو یہ محفل ہے شیشہ مین

دلِ نازک مین عاشق کے نہین ہے سخت جانی یہ
فسونِ فکر سے اُتری ہوئی اک سل ہے شیشہ مین

نجا تو جام پر جمشید کے آ دیکھ مینا کو
یہان کیفیت ہر دو جہان حاصل ہے شیشہ مین

لکھا ہے اپنے دل مین نام تیرا مین نے صنعت سے
وگرنہ حرف کا لکھنا بہت مشکل ہے شیشہ مین

نہین ہے داغ یہ دل مین کہ جس سے سینہ روشن ہے
جو دیکھا خوب تو عکسِ مہِ کامل ہے شیشہ مین

پریرو شیشہ دل مین تو ہے پر کیونکہ دیکھون مین
کہ جب دیکھون تو اپنا عکس ہی حائل ہے شیشہ مین

حسن گر پارسا ہون مین تو ناچاری سی ہون ورنہ
نظر ہے جام پر میری سدا اور دل ہے شیشہ مین​
 

شمشاد

لائبریرین

یون جلوہ گر ہے وہ مرے چشمِ پرآب مین
آئے ہے جس طرح سے نظر منھ حباب مین

اپنے دنون کو بیٹھ کے روتا ہون زار زار
پاتا نہین جو تمکو شبِ ماہتاب مین

جس روز پر دیا ہے مجھے وعدہ وصال
شاید وہ روز ہی نہین تیرے حساب مین

ان نو خطون کو مشق رہے کیون نہ قتل کی
سرخی یہی تو پھیلی ہے اُنکی کتاب مین

جو کچھ سمین خیال مین دیکھون ہون مین ترے
دیکھی نہوگی سیر کسی نے یہ خواب مین

گر چشم دوربین ہے تو آنکھ اُٹھا کے دیکھ
بارے یہ کون بولے ہے چنگ و رباب مین

مو سے سپید نے نمک اسمین ملا دیا
کیفیت اب رہی نہین جام شراب مین

گھبرا گیا مین دیکھ کے صورت کو یار کی
جاتے رہے حواس حسن اضطراب مین​
 

شمشاد

لائبریرین

عشق کے جبسے پیچ و تاب مین ہین
تب سے ہمتو نپٹ عذاب مین ہین

سیکڑون ڈھب خراب کرنے کے
اِس دلِ خانمان خراب مین ہین

ہین بہت تیرے طالبِ دیدار
ہم بچارے تو کس حساب مین ہین

ذرہ ذرہ مین دیکھ ہین موجود
وہی جلوے جو آفتاب مین ہین

ہم تمھارے ہی بندے ہین صاحب
آپ ہمسے عبث حجاب مین ہین

نسخہ دل کو صرصری مت دیکھ
سیکڑون علم اس کتاب مین ہین

جاؤ پوچھو اُنھون سے وانکا حال
روز شب اُسکی جو رکاب مین ہین

دوستو پوچھتے ہو کیا ہمسے
اِن دنون ہمتو کُچھ عتاب مین ہین

عاشقی کے حسن مزے جو کُچھ
ہین سو بس عالم شباب مین ہین​
 

شمشاد

لائبریرین

غافل تو آسمان مین جا یا زمین مین
ہو گا وہی جو لکھا ہے لوحِ جبین مین

جو ہے سو حسن ہی کا غرض ہےہ فریفتہ
کیا جانے کسکا جلوا ہے روئےِ حَسِین مین

یونتو خدائی اُسکی ہے معمور پر صنم
تجھسا بھی اور بت نہوا ہو گا چین مین

آنکھون سے ہمتو آوین تمھارے قدم کے پاس
دیکھو جو اک نظر ہمین تم دوربین مین

عیش و نشاط و خرمی و خوشی کے عوض
بھر دی ہین حسرتین مری جانِ حزین مین

کیا جانے عاشقون کی ترے ہے جگہ کہان
دنیا ہی مین ندیکھے ہون انکو نہ دین مین

تو اِس بزرگی اپنی سے جبے کے مت ڈرا
ہین شیخ تجھسے کتنے مری آستین مین

پوچھا کسی نے اُس سے حسن ہے ترا غلام
اسکو بھی گِن تو اپنے کہین و مہین مین

کہنے لگا وہ یونہین جلاتا پھرے ہے دل
تیرہ (13) مین ہے نہ وہ تو مرے اور نہ تین مین​
 

شمشاد

لائبریرین
نہ برگ ہون مین گُل کا نہ لالے کا شجر ہون
مین لختِ دلِ ریش ہون اور داغِ جگر ہون

ہون دیر مین نہ کعبے مین نہ دل ہی مین اپنے
کیا جانون تجسُس مین تری آہ کدھر ہون

پیدا ہوے اور جاتے رہے سیکڑون مجھسے
آتشکدہ دہر مین اِک مین بھی شرر ہون

نہ زیست کا حظ ہے نہ مجھے موت کا آرام
ہون نزع مین جیسے کہ اِدھر ہون نہ اُدھر ہون

وان دھیان کبھی تجھکو گذرتا نہین میرا
مین ہون کہ تری یاد مین یان آٹھ پہر ہون

نہ ودد ہون مجمرکا نہ مین شمع کا شعلہ
مین نالہ شبگیر ہون اور آہِ سحر ہون

خالی نہین مجھسے حرم و دیر و دل و چشم
مین مظہر حق ہون کہ جدھر دیکھو تدھر ہون

پاتا ہی نہین راہ کسی دل مین الٰہی
مین کس دلِ ناکام کی آہونکا اثر ہون

نہ شیشہ مے ہون نہ حسن ساغرِ لبریز
مین اک دلِ پر درد ہون اور دیدہ تر ہون​
 

شمشاد

لائبریرین
کہین جو دل نہ لگاوین تو پھر اُداس پھرین
وگر لگا وین تو مشکل کہ بیحواس پھرین

ہمین بھی ہوئے اجازت کہ شمعر و تجھپر
پتنگ کی نمط اکدم تو آس پاس پھرین

تری گلی مین بھلا اتنی تو ہمین ہو راہ
کہ جبتک اپنا وہان جی ہو بیراس پھرین

اُٹھا دے ہمسے جو بیٹھے ہوون کو ابکی فلک
تو آرزو ہے یہ جیمین کہ بیقیاس پھرین

نہ خط کسی کا پڑھے ہے حسن نہ وہ عرضی
کہا تلک لئے ہم اپنا التماس پھرین​
 

شمشاد

لائبریرین

جی نکلتا ہے اِدھر اور وہ گذر کرتا نہین
مرتے ہین ہم اور اُسے کوئی خبر کرتا نہین

طاقت و صبر و قرار و ہوش سب جاتے رہے
آہ پر دل سے کسیکا غم سفر کرتا نہین

دیکھیو بے اعتنائی ناقہ لیلی کی آہ
کاہ پر بھی خاکِ مجنون کی نظر کرتا نہین

دن بدن غصے ہی پر لاتا تو جاتا ہے اُسے
کون کہتا ہے مرا نالہ اثر کرتا نہین

کونسی وہ رات جاتی ہے کہ جسمین تیرے بن
شام سے چون شمع رو رو مین سحر کرتا نہین

ہو گیا خم آسمان اور بیٹھ گئی ڈر سے زمین
پر مرے نالہ سے اک تو کچھ حذر کرتا نہین

اپنی اپنی سب حکایت کہہ چکے کیا ہے حسن
تو جو قصہ غم کا اپنے مختصر کرتا نہین​
 

شمشاد

لائبریرین

کون کرتا ہے سرِ زلف کی باتین دل مین
جی پہ کٹتی ہین عجب طرح کی راتین دل مین

کوئی ترکیب ملاقات کی بنتی نہین اور
وصل کے روز کیا کرتے ہین گھاتین دل مین

گو ہمین تو نے یہ ظاہر مین نوازا پر ہم
دھیان مین اپنے تری کھاتے ہین لاتین دل مین

طرفہ شطرنج محبت کی ہے غائب بازی
شاطرِ عشق کو ہو رہتی ہین ماتین دل مین

کونسی آن وا وا ہے کہ نہین جی کو لگی
کُھب رہی ہین وہ تری سب حرکاتین دل مین

ذات گر پوچھیے آدم کی تو ہے ایک وہی
لاکھ یون کہنے کو ٹھہرائیے ذاتین دل مین

وصل کا صاد بھی ہوئیگا حسن صبر کرو
دفترِ عشق کی دوڑین ہین براتین دل مین​
 

شمشاد

لائبریرین

اس ضد سے بھلا فائدہ بنتی ہے کہین یون
جو بات مین کہتا ہون سو کہتے ہو نہین یون

اے نور نظر ٹک نظر آہمکو بھی بارے
کبتک رہیگا چشم مین تو گوشہ نشین یون

کیا جانیئے کسکے لئے اِس حجرہ تن سے
گھبرا کے نکل بھاگی تو اے جان حزین یون

کونین کے ہے کام مین یان شرط ریاضت
ملتی ہے نہ دنیا ہی مری جان نہ دین یون

کوچہ مین رہون تیرے کہ یا گھر مین ترے بن
آرام مجھے ہے نہ یہین یون نہ وہین یون

پھرتا تھا کنھین روزون مین دارستہ یہ کیا دل
اب عشق اتالیق ہوا اسپہ تعین یون

ہر چند کہا تمنے کہ آؤنگا و لیکن
جب تک کہ نہ آؤ ت کب آتا ہے یقین یون

آگے بھی یو نہین کہتے رہے اور نہ آئے
باور ہو مجھے کیونکہ پھر اے ماہِ جبین یون

اے شوخ حسن کی تو ہر اک جا پہ ہے عزت
پر ایک ذلیل اُسکو جو دیکھا تو یہین یون​
 

شمشاد

لائبریرین

کیا قیامت ہے کہ تجھسے یار اب بنتی نہین
اور بن دیکھے ترے ناچار اب بنتی نہین

تو نے کیا جانے کیا ہے دل کو میرے سحر کیا
تجھ سوا جو اور سے دلدار اب بنتی نہین

ناصحون کے ہاتھ سے چھوڑینگے رہنا شہر کا
دیکھتے ہین اور دن دوچار اب بنتی نہین

لاکھ بار آگے بگڑ جاتی تو بنتی لاکھ بار
بگڑے ہے سو بار تو اک بار اب بنتی نہین

کب تلک چپکا رہون کوئی تو اُسے سے جا کہے
بن کیے بھی حالِ دل اظہار اب بنتی نہین

اے خوشا وہ دن کہ مین گھیرون تجھے اور تو کہے
بن کیئے تجھسے مجھے اقرار اب بنتی نہین

جب تلک بیٹھے تھے تب تک دل سے بیٹھے تھے حسن
گو کہے کچھ کوئی پر زنہار اب بنتی نہین​
 

شمشاد

لائبریرین
[AYAH][/AYAH]
ہم نہ نکہت ہین نہ گُل ہین جو مہکتے جاوین
آگ کی طرح جدھر جاوین دہکتے جاوین

اے خوشا مست کہ تابوت کے آگے جسکے
آب پاشی کے بدل مے کو چھڑکتے جاوین

جو کوئی آوے ہے نزدیک ہی بیٹھے ہے ترے
ہم کہانتک ترے پہلو سے سرکتے جاوین

غیر کو راہ ہو گھر مین ترے سبحان اللہ
اور ہم دور سے در کو ترے تکتے جاوین

وقت اب وہ ہے کہ اِک ایک حسن ہو کے بتنگ
صبر و تاب و خرد و ہوش کھسکتے جاوین​
 

شمشاد

لائبریرین

دلدار دل اس طرح بہم آئے نظر مین
جس طرح گُہر آب مین اور آب گُہر مین

اکبار بھی دیکھا نہ اُسے پاس سے جا کر
آیا ہی نظر وہ تو کہین راہ گُذر مین

ہر چند کہ ہے شام و سحر وہ ہی پر اُس بن
وہ لُطف نہ اب شام مین ہے اور نہ سحر مین

قسمت سے مدد چاہتا ہون اتنی کہ ہر وقت
مانندِ صبا ساتھ رہون اُسکے سفر مین

اکبار تو نالے کی ہو رخصت ہمین صیاد
پنہان رکھین ہم کب تئین فریاد جگر مین

ہوشؔ و خردؔ و صبرؔ و توان اُٹھ چلے اک ایک
جاتے ہی ترے چال پڑی دل کی نگر مین

کیدھر کو نکل جاوین حسن کیا کرین ہم آہ
باہر ہی۹یہ دل اپنا نہ لگتا ہے نہ گھر مین​
 

شمشاد

لائبریرین

نہ ہم دعا سے اب نہ وفا سے طلب کرین
عشق بتان مین صبر خدا سے طلب کرین

دل خاک ہو گیا ہے تری رہگذار مین
گر جا سکین وہان تو صبا سے طلب کرین

آخر خوشی تو عشق سے حاصل نکچھ ہوئی
ہم اب غم و الم ہی بلا سے طلب کرین

غمزے نے لیکے دل کو ادا کے کیا سپرد
غمزے سے دل کو لین کہ ادا سے طلب کرین

دولت جو فقر کی ہے سو ہے اپنے دل کے پاس
وہ چیز یہ نہین کہ گدا سے طلب کرین

دروازہ گو کھلا ہے اجابت کا پر حسن
ہم کس کس آرزو کو خدا سے طلب کرین​
 

شمشاد

لائبریرین

دل کو اُس شوخ کے کوچہ مین دھرے آتے ہین
شیشہ خالی کیے اور اشک بھرے آتے ہین

سرکشی دلنے سیہ چشم سے کیا کی ہے کہ جو
فوجِ غمزہ کی بندھے اسپہ پرے آتے ہیں

دل جو تو چاہے تو جا بزم مین اُسکی ہمتو
دیکھ اُس صورت مجلس کو ڈرے آتے ہین

کشتہِ زہرِ غمِ ہجر نہین تو تو حسن
لخت دل کیون ترے اشکون مین ہرے آتے ہین​
 

شمشاد

لائبریرین

مزا بیہوشیِ الفت کا ہشیارون سے مت پوچھو
عزیزان خواب کی لذت کو بیدارون سے مت پوچھو

ہمین کچھ دخل ان باتون مین سنتے ہو نہین مطلق
حقیقت بیوفائی کی وفادارون سے مت پوچھو

جو پوچھو تو عزیزان دل سے پوچھو یا کہ تم ہمسے
ہماری اور اسکی بات اغیارون سے مت پوچھو

گئے وے دن جو رہتے تھے جہان آباد مین ہم بھی
خرابی شہر کی صحرا کے آوارون سے مت پوچھو

گلوں کو کب خبر ہے حال زار عندلیبون سے
حقیقت مفلسون کی آہ زردارون سے مت پوچھو

وہ دل رکھتے ہین اپنا پاس اپنے بلکہ غیرون کا
حقیقت بیدلون کی آہ دلدارون سے مت پوچھو

خبر دل کی اگچا ہو مرے اشکون سے تم سُن لو
یہ واقف خوب ہین اس گھر سے ہر کارون سے مت پوچھو

انھونکا جل رہا ہے دل خدا جانے کہ کیا بولین
مَرا احوال کوئی میرے غمخوارون سے مت پوچھو

یہ اپنے حال ہی مین مست ہین انکو کسی سے کیا
خبر دنیا و مافیہا کی میخوارون سے مت پوچھو

ہوا ہے اِن دنون وہ آشناؤن سے بھی بیگانہ
خرابی کو حسن کی آجکل یارون سے مت پوچھو​
 

شمشاد

لائبریرین

غم نے کیا ہے کسکے زار و نزار دل کو
آتا ہے دیکھ رونا بے اختیار دل کو

ہے انتظار کسکا کیا جانیے اسے ہاے
انکھون ہی مین کٹے ہے لیل و نہار دل کو

تڑپے تو تھا ابھی یہ کیون رہگیا تڑپکر
کیا ہو گیا الٰہی اس بیقرار دل کو

زخمون کے گل کھلے اور داغون کے لالے پھولے
غم نے ترے دکھائی کیا کیا بہار دل کو

ہے یہ شکار تیرا مت چھوڑ خاک و خون مین
فتراک سے لگا لے اے شہسوار دل کو

رو رو کے سو گیا ہے اے نالہ کوئی صدمہ
پھر آوے گر تو دیجیو ٹک تو پکار دل کو

آ اے حسن کہ ہم تو کوچہ مین اب کسی کے
رووین گلے سے لگ کر پھر زار زار دل کو​
 
Top